... loading ...
پاکستان سپر لیگ دیارِ غیر سے اپنے وطن پاکستان واپس منتقل ہوگیاپی ایس ایل کا پہلا سیزن مکمل طور پر متحدہ عرب امارات میں ہوا تھا جبکہ پچھلے سال کا محض فائنل لاہور میں کھیلا گیا تھا لیکن اس بار نہ صرف فائنل بلکہ دونوں ایلی منیٹرز بھی پاکستان ہی کے میدانوں پر ہوں گے۔ ایلی منیٹرز کے لیے قذافی اسٹیڈیم کا انتخاب کیا گیا ہے جبکہ فائنل کے لیے کراچی کے تاریخی نیشنل اسٹیڈیم کا کہ جہاں تیاریاں اپنے آخری مراحل میں ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں پی ایس ایل 3 کے کْل 31 میچز کھیلے گئے جن میں پہلا کوالیفائر بھی شامل تھا، جس میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز کے خلاف ایک ناقابلِ یقین کامیابی حاصل کی اور دوسری بار فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔
تادم تحریرلاہورمیں ہونے والے دونوں مقابلے اختتام کوپہنچ چکے ہوں گے اوراتوارکوکراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیل جمے گا۔ فائنل میں کون سی ٹیم اسلام آبادکے مدمقابل آئے اس سے قطع نظرہم یہا ں اب تک ہونے والے مقابلوںنمایا ںکارکردگی کامظاہرہ کرنے کھلاڑیوں کاایک جائزہ پیش کررہے۔
بہترین بیٹسمین
پی ایس ایل 3 کے اماراتی مرحلے میں جو بیٹسمین ابھر کر سامنے آئے، ان میں سب سے نمایاں نام پہلی بار پی ایس ایل کھیلنے والے لیوک رونکی کا ہے۔اسلام آباد یونائیٹڈ کے رونکی نے رواں سیزن میں اب تک 10 میچز کھیلے ہیں اور 4 نصف سنچریوں کی مدد سے سب سے زیادہ 383 رنز بنا چکے ہیں۔ کراچی کنگز کے خلاف کوالیفائر میں کھیلی گئی 94 رنز کی اننگز تو ایک شاہکار تھی۔ اگر ہدف زیادہ ہوتا تو شاید وہ سنچری بھی بنا ڈالتے۔ بہرحال، اب تک کھیلے گئے مقابلوں میں رونکی کا بیٹنگ اوسط 42 سے زیادہ ہے اور اسٹرائیک ریٹ 180 کے قریب۔ دونوں لحاظ سے وہ سیزن کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کراچی میں ان کا جادو کیسے چلتا ہے؟
اس سیزن میں دوسرے نمبر پر پشاور زلمی کے کامران اکمل ہیں۔ ’کامی‘ نے اب تک 10 میچوں میں 43 سے زیادہ کی اوسط اور 146 کے اسٹرائیک ریٹ سے 347 رنز بنائے ہیں۔ اس میں سیزن کی واحد سنچری بھی شامل ہے جو کامران اکمل نے لاہور قلندرز کے خلاف بنائی تھی۔ 107 رنز کی اس ناٹ آؤٹ اننگز کی بدولت کامران اکمل پی ایس ایل تاریخ میں 2 سنچریاں بنانے والے پہلے بیٹسمین بھی بنے۔ ان کی ٹیم کوالیفائررائونڈمیں پہنچ چکی ہے جہاں اس کامقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرزسے ہے ۔ امکان یہی ہے کہ کامران اکمل اپنی شاندارکارکردگی کاتسلسل برقراررکھتے ہوئے مزید عمدہ اننگزکھیل کراپنے اسکورمیں اضافہ کریں گے۔
اس کے بعد نام آتا ہے کراچی کنگز کے بابر اعظم کا، جو اب تک 339 رنز بنا چکے ہیں۔ اوسط اور اسٹرائیک ریٹ کے اعتبار سے تو شاید وہ رونکی اور کامران کا مقابلہ نہ کرسکیں لیکن ایک اینڈ سے اگر تسلسل کے ساتھ اچھے رنز بنیں تو باقی کھلاڑی اس کمی کو پورا کرسکتے ہیں۔ بابر اعظم نے رواں سیزن میں 4 نصف سنچریاں بنائی ہیں۔ ان کے رنز بنانے کا اوسط 37 سے زیادہ ہے اور اسٹرائیک ریٹ بھی 119 ہے۔
اس فہرست میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے شین واٹسن بھی ہیں جنہوں نے سیزن میں سب سے زیادہ 22 چھکے لگائے، لیکن افسوس کہ اب وہ مزید ایکشن میں نظر نہیں آئیں گے۔ انھوں نے پاکستان آنے سے قبل ہی اپنی ٹیم کاساتھ چھوڑدیاہے ۔ واٹسن بھی سیزن میں 300 سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں میں شامل ہیں۔ واٹسن نے 10 میچز کھیلے اور 35 کی اوسط اور 135 کے اسٹرائیک ریٹ سے 319 رنز بنائے۔ 90 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز بھی اس میں شامل تھی۔
یہ بات یادرہے کہ انفرادی سطح پر نمایاں ترین بلے باز انہی ٹیموں کے ہیں جو پلے-آف تک پہنچی ہیں۔ ملتان کے کمار سنگاکارا اور فخر زمان نے گو کہ بہت اچھی کارکردگی دکھائی لیکن وہ 300 رنز کا سنگ میل عبور نہ کرسکے۔
بہترین باؤلرز
ٹورنامنٹ کے دوران اگر باؤلرز کی طرف نظر دوڑائیں تو سب سے اوپر ایسا نام نظر آتا ہے جو حیران کن ہے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے فہیم اشرف۔ 11 میچوں میں اب تک 17 وکٹیں، صرف 16 کی اوسط کے ساتھ حاصل کی ہیں ۔ جو اس ٹورنامنٹ میں اس کی شاندارکارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔فہیم اشرف نے کراچی، لاہور اور کوئٹہ کے خلاف 3 اہم میچوں میں 3، 3 شکار کیے۔
دوسرے نمبر پر کراچی کنگز کے عثمان شنواری ہیں۔ اگر کسی ایک باؤلر نے اپنی رفتار، یارکرز پھینکنے اور وکٹیں لینے کی صلاحیت سے متاثر کیا ہے تو وہ عثمان شنواری ہیں۔ انہوں نے 9 میچوں میں 15 وکٹیں لی ہیں، وہ بھی صرف 14 کی اوسط کے ساتھ۔ راؤنڈ مرحلے کے آخری مقابلے میں اسلام آباد کے خلاف اہم کامیابی میں عثمان خان کا کردار بہت اہم تھا جنہوں نے صرف 17 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ایک ایسے موقع پر جب محمد عامر بجھے بجھے نظر آ رہے تھے، تو عثمان نے کراچی کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔
پشاور زلمی کے وہاب ریاض نے 10 میچوں میں 18 کی اوسط سے 14 وکٹیں لی ہیں اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ ان کی مونچھیں اور پھر وکٹ لینے کے بعد ان پر انگلیاں پھیر کر جشن منانا پی ایس ایل کے دلچسپ ترین لمحات میں سے ایک ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے ناک آؤٹ مقابلے میں وہ مونچھوں پر کتنی بار ہاتھ پھیرتے ہیں۔
کامیاب باؤلرز کی فہرست میں ابتدائی تینوں نمبرز پر تیز گیندبازوں کا قبضہ ہے جس کے بعد 2 اسپنرز ہیں۔ پہلے کراچی کنگز کے بوم بوم شاہد آفریدی اور پھر ملتان سلطانز کے عمران طاہر۔ ’لالا‘ نے صرف 9 میچز کھیلے ہیں اور 16 کی اوسط سے 13 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔ عمران طاہر نے 10 میچوں میں اتنی ہی وکٹیں لی ہیں البتہ ان کا اوسط بھی زیادہ رہا اور فی اوور رنز بھی زیادہ دیے۔
بہترین وکٹ کیپرز
ملتان سلطانز دوسرے مرحلے تک تو نہیں پہنچ پائے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس ٹیم نے آغاز بہترین لیا تھا۔ پی ایس ایل 3 کے نصف مرحلے تک تو اس کے کھلاڑی انفرادی سطح پر چھائے ہوئے تھے۔ سب سے زیادہ رنز کمار سنگاکارا کے تھے، سب سے زیادہ وکٹیں عمران طاہر کی، بلکہ وکٹوں کے پیچھے شکار تو سب سے زیادہ اب بھی سنگاکارا ہی کے ہیں۔ انہوں نے 10 میچوں میں 10 کھلاڑیوں کو اپنا شکار بنایا تھا، جن میں 9 کیچز اور ایک اسٹمپنگ شامل ہے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد 8 شکاروں کے ساتھ دوسرے جبکہ کراچی کے محمد رضوان 7 شکاروں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
بہترین فیلڈرز
اگر فیلڈ کیچز کا ذکر کریں تو ملتان سلطانز کے احمد شہزاد سب سے آگے نظر آتے ہیں۔ احمد شہزاد نے 10 مقابلوں میں کل 7 مرتبہ گیند کو جھپٹا، جن میں چند تو بہت عمدہ کیچز تھے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے جے پی دومنی نے صرف 9 میچوں میں اتنے ہی کیچز لیے ہیں جبکہ فائنل ابھی باقی ہے۔ ملتان کے کیرون پولارڈ، کوئٹہ کے حسان خان، اسلام آباد کے آصف علی نے سیزن میں 6، 6 کیچز لیے ہیں۔
بہترین شراکت داریاں
اگر شراکت داریوں کی بات کریں تو پی ایس ایل 3 کے اماراتی مرحلے کی بہترین پارٹنرشپ کراچی کے جو ڈینلی اور بابر اعظم نے بنائی۔ ملتان سلطانز کے خلاف مقابلے میں دونوں نے دوسری وکٹ پر 118 رنز کا اضافہ کیا تھا۔
اس کے علاوہ مجموعی طور پر سیزن میں 4 ایسی شراکت داریاں قائم ہوئی ہیں جو 100 رنز سے بھی اوپر گئیں۔ جن میں پشاور زلمی کے تمیم اقبال اور کامران اکمل نے لاہور قلندرز کے خلاف ناٹ آؤٹ 104 رنز اسکور کیے۔ اسلام آباد کے جے پی دومنی اور لیوک رونکی نے کراچی کنگز کے خلاف اتنے ہی رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ دی جبکہ کراچی کے خرم منظور اور بابر اعظم نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف اسی مقابلے میں 101 رنز کی شراکت داری سے آغاز لیا تھا۔ مجموعی طور پر اب تک سیزن میں 90 یا اس سے زیادہ رنز کی کْل 6 شراکت داریاں بن چکی ہیں، جن میں سے 4 پہلی وکٹ پر جبکہ 2 دوسری وکٹ پر بنائی گئیں۔
بہترین کیچز
بیٹنگ دیکھیں یا باؤلنگ، وکٹ کیپنگ دیکھیں یا پھر فیلڈنگ، ہر لحاظ سے پاکستان سپر لیگ کا تیسرا سیزن بہترین رہا ہے۔ بلے بازی میں کامران اکمل، لیوک رونکی، فخر زمان اور شین واٹسن کی چند یادگار اننگز ہیں تو باؤلنگ میں انفرادی سطح پر عمر گل، شاہین آفریدی، عثمان شنواری اور عمید آصف نے حریفوں کی گلیاں اڑا دیں لیکن جو پہلو سب سے حیران کن تھا، وہ تھا کیچز کا۔پاکستان کرکٹ، جو اپنی بدترین فیلڈنگ کی وجہ سے بدنام ہے، اس کی لیگ میں اتنے شاندار کیچز لیے جائیں گے؟ یہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ صرف غیر ملکی کھلاڑیوں نے ہی نہیں بلکہ نوجوان پاکستانیوں نے بھی ایسے ایسے کیچز پکڑے جو مدتوں یاد رکھے جائیں گے۔ پھر چاہے بات ہو پشاور کے خلاف جنید خان کے کیچ کی، کوئٹہ کے خلاف شاہد آفریدی کے کیچ کی یا پھر لاہور کے خلاف جو ڈینلی کی۔
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...