وجود

... loading ...

وجود

بڑھاپے کوخودپرسوارنہ کریں ۔۔صحت مندزندگی اپنائیں

منگل 20 مارچ 2018 بڑھاپے کوخودپرسوارنہ کریں ۔۔صحت مندزندگی اپنائیں

وقت سے پہلے بڑھاپا طاری ہونے کا خوف اکثر لوگوں کے لیے تشویش کا باعث ہوتا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف ہمارے چہرے مہرے اور جسمانی خدوخال میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیںبلکہ مجموعی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ گزشتہ عشروں کے دوران طب کی دنیا میں انقلابی ترقی ہوئی ہے۔ جس کے نتیجے میں قبل از وقت بڑھاپے کی آمد نہ صرف سست کرنا بلکہ بعض معاملات میں جسمانی علامتوں کو ٹالنا بھی ممکن ہو گیا ہے۔ بڑھاپا ایک حقیقت ہے اور اسے ہم چاہیں بھی تو دیر تک روک نہیں سکتے۔ البتہ ہمیں چاہیے کہ زندگی گزارنے کے طور طریقوں میں کچھ مثبت تبدیلیاں لے آئیں تاکہ وقت سے پہلے بڑھاپے کی منزل میں داخل نہ ہوں۔ ذیل میں ان غیر صحت مند عادات کا تذکرہ پیش ہے، جو بے خبری میں آپ کو تیزی سے بڑھاپے کی طرف لے جا سکتی ہیں

: حد سے زیادہ فکر مندی اور ذہنی دبائو حقیقی معنوں میں انسان کی دماغی، جذباتی اور جسمانی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس لیے ہر ممکن کوشش کیجیے کہ ذہنی دبائو آپ کی زندگی میں مداخلت نہ کرے۔ کیا آپ ان لوگوں میں شامل ہیں، جو ذرا سی بات پر پریشان ہو جاتے ہیں؟ کیا آپ ہر پیش آمدہ معاملے پر ذہن کو دبائو میں لے آتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان معاملات میں بھی، جن کا آپ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا؟ اگر ایسا ہے، تو آپ زندگی کے نشیب و فراز کو بہت زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ یہ عادت بلاشبہ بڑھاپا طاری ہونے کی رفتار تیز کر دے گی۔ ذہنی دبائو بڑھاپے کو ہوا کیوں دیتا ہے؟ اس کا جواب بہت آسان ہے۔ جب عمر میں اضافہ ہونے لگے، تو دو ’’منفی‘‘ ہارمونوںنورپائن فیرین اور کورٹیسول کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔ ان کے باعث جسم کا مدافعتی نظام متاثر ہوتا ہے اور فشار خون بڑھنے لگتا ہے۔ نتیجتاً سوچنے سمجھنے کی صلاحیت زوال پذیر ہوتی اور امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ ہفتے میں کم از کم دوبار خود کو پرسکون کرنے کی کوئی تکنیک آزمائیے، جس میں خوشبو سے علاج (Aromatherapy) سے لے کر یوگا کی مشقیں تک شامل ہیں۔ کوئی ایسا کام بھی کیجیے، جس سے آپ کے ذہن کو سکون ملے اور دماغی بوجھ دور ہوسکے۔

جلد کی حفاظت کیجیے۔ ہمارے جسم میںجلد ایک اہم اور حساس حصہ ہے۔ اس کی جانب سے غفلت بھی بڑھاپے کو قبل از وقت لانے میں مددگار بنتی ہے۔ جلد کی حفاظت کا مطلب یہی نہیں کہ آپ چہرے پر اور آنکھوں کے حلقوں کے گرد روزانہ کی بنیاد پرکریمیںلگائیں بلکہ یہ ہے کہ ہمارے جسم کو ضرورت کے مطابق پانی ملتا رہے۔ آپ روزانہ کم ازکم آٹھ گلاس پانی پینا معمول بنا لیں، نیزآنکھوں اور چہرے پر کوئی معیاری کریم اعتدال کے ساتھ اس مقصد کے لیے لگائیں کہ جھریاں نہ پڑیں، تو یقینا بڑھاپے کا عمل سست پڑ سکتا ہے۔ جلد کی قسم سے مطابقت رکھنے والے موئسچرائزر کے استعمال سے بھی جلد کم عمر نظر آتی ہے۔ جلد کی اچھی طرح دیکھ بھال اگر آپ اپنا معمول بنا لیں، تو اس سے کولا جن اور ایلاسٹن کی قدرتی پیداوار کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ قدرتی پروٹین جلد کو شگفتہ اور شاداب رکھتے ہیں۔ ان کی کمی سے جلد پر جھریاں اور شکنیں نمودار ہونے لگتی ہیں۔ بچپن میں والدین اگر ہمیں سبزیاں کھانے کی تلقین کیا کرتے، تو اس میں بڑی حکمت تھی۔ اگر آپ کی غذا میں وافر پھل اور سبزیاں شامل نہیں تو لازم ہے کہ اس مسئلے پر توجہ دیں۔ انہیں استعمال نہ کرنے کے نتیجے میں جھریاں بنتی ہیں اور مختلف اقسام کے سرطان چمٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ آپ یہ خطرہ روزانہ پھل اور سبزیاں کھانے سے ٹال سکتے ہیں۔ غیر متحرک طرز زندگی اور ورزش سے گریز کرنے سے جو طبی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، وہ اب راز نہیں رہے۔ ورزش کے بغیر زندگی گزاری جائے، تو نہ صرف موٹاپے کی شکایت پیدا ہوتی ہے، جس کے ضمنی مضر اثرات بھی بہت واضح ہیں، بلکہ قلب، شریانوں اور گردے کے امراض بھی بڑھ جاتے ہیں۔آپ کو جوان، صحت مند اور تازہ دم نظر آنے کے لیے صرف یہ کرنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر کم از کم 30 منٹ ایسی ورزش کریں، جس سے دل معمول سے زیادہ دھڑکنے لگے۔ ورزش سے نہ صرف بڑھاپے کی آمد کو کسی حد تک موخر کیا جا سکتا ہے، بلکہ اس میں باقاعدگی اختیار کر کے زندگی کے دورانیے میں کم از کم ’’ایک عشرے‘‘ کا اضافہ کرنا بھی ممکن ہے۔

نیند کو نظر انداز مت کریں۔ جب ہم چھوٹے تھے، تو والدین کہتے کہ جلد سو جائو۔ ہم اکثر ان کی تاکید نظر انداز کر دیا کرتے۔ اب جب کہ ہم بالغ ہو چکے، ہمیں نیند بہت زیادہ آ بھی رہی ہو، تو مصروفیت کی وجہ سے سو نہیں پاتے، تاہم یہ انتہائی ضروری ہے کہ رات کے وقت آپ اپنی نیند اچھی اور پوری کریں۔ نیند کی کمی سے متعلق عام غلط فہمی یہ ہے کہ اس سے صرف آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے پڑ جاتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ نیند پوری نہ ہو، تو آپ خود کو تھکا ہارا محسوس کرتے ہیں۔ لیکن نیند سے محرومی پر صرف جمالیاتی نقصان نہیں ہوتا۔ اوسطاً ایک صحت مند بالغ شخص کو ہر رات لگ بھگ سات آٹھ گھنٹے کی نیند لینی چاہیے، تاکہ وہ دن میں کام کے لیے ذہنی طور پر چوکس ہو۔ اگر آپ نے نیند مکمل نہ کی، تو ممکن ہے آپ دن بھر تھکاوٹ اور سستی کا شکار ر ہیں۔ نیند کی کمی سے یہ بھی ممکن ہے کہ آپ معمول سے زیادہ کھانے لگیں۔

اکثر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ تیز دھوپ میں نکلتے ہوئے اپنا چہرہ اور بازو نہیںڈھکتے اور نہ ان پہ سن اسکرین لوشن لگاتے ہیں۔ یہ کریم یا لوشن ہمیں دھوپ کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔ بہت سی خواتین دھوپ سے حفاظت کے لیے اپنی میک اپ کی مصنوعات پر بھروسہ کرتی ہیں۔ زیادہ تر فائونڈیشن کریموں میں ’’سن پروٹیکشن‘‘ کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے، لیکن اس کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ اس لیے چلچلاتی دھوپ میں گھر سے باہر جاتے ہوئے جسم ڈھک کر رکھیں یا پھر سن اسکرین لگانا نہ بھولیں تاکہ جلد پر بھورے دھبے اور شکنیں نموار نہ ہوں۔

سگریٹ نوشی انتہائی مضر صحت عادت ہے۔ سگریٹ نوشی بلاشبہ بڑھاپے کی آمد میں تیزی لاتی ہے۔ طویل عرصے تک سگریٹ پینے والے افراد کے دانت پیلے اور سیاہ ہو جاتے ہیں۔ سگریٹ کا دھواں نگلنے سے جلد پر اس کے بھیانک اثرات پڑتے ہیں۔مثال کے طور پر نہ صرف جھریاں پڑتی ہیں بلکہ سرطان کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر منہ اور پھیپھڑے کے سرطان میں سگریٹ نوشوں کے مبتلا ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی ثابت ہے کہ سگریٹ نوشی امراض قلب کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ خوشگوار ازدواجی تعلقات سے جسم و ذہن ،دونوں پرسکون رہتے ہیں۔ متعدد جائزے اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ متوازن ازدواجی زندگی گزارنے والے افراد صحت مند رہتے ہیں۔ ان سرگرمیوں سے جسم میں ’’انڈورفین‘‘ اور دیگر ضروری کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں۔ ان کی بدولت مدافعتی نظام کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ ذہنی دبائو گھٹتا اور بعض مخصوص امراض بشمول سرطان کاخطرہ بھی ٹل جاتا ہے۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر