وجود

... loading ...

وجود

نوابشاہ ،لاڑکانہ طبی غفلت سیکریٹری صحت کا دوہرا کردار

منگل 20 مارچ 2018 نوابشاہ ،لاڑکانہ طبی غفلت سیکریٹری صحت کا دوہرا کردار

گذشتہ دنوں نواب شاہ میں چار بچے خسرے کی حفاظتی ویکسین کے استعمال سے جاں بحق ہو گئے ۔ سندھ کا یہ شہر سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کا آبائی شہر ہے اور ضلعی طور پر اس شہر کے نام کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ اس سنگین واقعے پر حکومتی مشینری کا فوری متحرک ہونا توقع کے مطابق تھا ۔ لیکن حکومتی غلطی کو چھپانے کیلئے پہلی کارروائی بے قصور لیڈی ہیلتھ ورکر کے خلاف تھی اور دو سر اقدام عوام کے غم وغصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے دیگر متاثرہ بچوں کو فوری طور پر کراچی کے نجی ہسپتال میں سرکاری طور پر منتقل کرنا تھا ۔ لیکن اس اقدام کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جو حکومت سندھ صحت کی سہولیات کی اپنی کارکردگی کو اجاگر کرنے کیلئے ٹیلیویژن پر قومی خزانے سے لاکھوں روپیے کی تشہیری مہم چلاتی ہے ۔ اس حکومت کے پاس طبی غفلت سے متاثرہ بچوں کو ہنگامی طبی امداد دینے کیلئے اس کے پاس کراچی میں بھی کوئی ایسا معیاری ہسپتال نہیں ہے ۔ جہاں ان بچوں کا علاج معالجہ ممکن ہوتا ۔ اس کے بعد نواب شاہ کے شہری اس بات پر حیران تھے کہ ان کی حکومت کے وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو نے ان بچوں کے غمزدہ خاندانوں سے رسمی طور پر تعزیت تک کا بھی اظہار نہیں کیا جو سندھ کی سماجی حیات کا لازمی جز ہے ۔ تاہم معاملے کے ٹھنڈے ہوجانیکے بعد سیکریٹری صحت سندھ ڈاکٹر فضل اللہ پیچوھو نے اپنے دفتر میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کی ۔ ان کے مذکورہ منصب کے حوالے سے یہ پہلی پریس کانفرنس تھی ۔ جو اس خوف کیوجہ سے نہیں تھی کہ کہیں متاثرہ خاندان محکمۂ صحت کی طبی غفلت کے باعث اپنے پھول جیسے بچوں کی اموات کی ایف آئی آر ان کیخلاف درج کرانے کیلئے عدالتوں میں نہ چلے جائیں کیونکہ سیاست زدہ سندھ پولیس میں اتنی طاقت نہیں وہ مظلوم کی کسی شکایت درج کرانے کی کوشیش پر اسے لاک اپ تو کرسکتی ہے لیکن بالادست طبقے کیخلاف کارروائی کا وہ سوچ بھی نہیں سکتی ہے ۔ پہلے نمبر پر یہ دباؤ سیکریٹری صحت پر عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تھا وہ ویکسین کے بارے میں عوام میں پھیلنے والے منفی تاثرات کو فوری ختم کریں ۔ دوسرے نمبر پر خود ان کی اہلیہ ڈاکٹر عذر افضل پیچوھو کی ساتھ داؤ پر لگی ہوئی تھی ۔ یہ درست ہے ای پی آئی سندھ کے ڈأریکٹر ڈاکٹر اشفاق ہیں ۔ لیکن وہ کتنے ،خود مختار ہیں سب کو معلوم ہے ۔ یہ بھی ناقابل ترید و حقیقت ہے کہ سندھ میں حفاظتی ٹیکہ جات کی مہمات کی سیاہ سفید کی اختیار کل ڈاکٹر عذر افضل پیچوھو ہیں ۔ وہ جس افسر یا عملے کو نگل جائیں یا اگل جائیں ان کا کوئی بھی فرمان امروز EPI سندھ میں حرف آخر ہوتا ہے لہٰذا مذکورہ متنازعہ خسرہ ویکسین کے استعمال کے واقعے سے ان کی براہ راست ذمہ داری سے انہیں بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے ۔ یہ درست ہے سیکریٹری صحت نے خدا کا شکر ہے ۔ یہ اعتراف کیا کہ سارا الزام لیڈی ہیلتھ ورکر کو نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اسے کولڈ بکس فراہم نہیں کیا گیا تھا ۔ لیکن سیکریٹری صحت نے یہ نہیں بتایا کہ بغیر تحقیق کے ابتدائی مرحلے میں پولیس نے لیڈی ہیلتھ ورکر ، اس کی بے گناہ بہن اور اہل خانہ کا جو حشر کیا اس کا بھی محکمۂ صحت کی جانب سے کوئی ازالے کا اہتمام کیا گیا ۔ تاہم انہوں نے واقعے میں ڈی پی او نواب شاہ اور محکمۂ صحت کے بعض لوگوں کو اس واقعے کا ذمہ دار بھی قرار دیا اور بتایا کہ استعمال ہونے والی ویکسین کی ایکسپایری 2020ء تک کی تھی ۔ تاہم پریس کانفرنس میں سندھ ایمرجنسی سینٹر کے ترجمان فیاض احمد جتوئی نے یہ حیرت انگیز دعویٰ کیا کہ محکمۂ صحت انسانی غفلت کے واقعے کا تدارک کر چکا ہے ۔ محکمۂ صحت بچوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہے ۔ آپ بتائیے کہ جن گھروں کے آنگن کے پھول بن کھلے ہی مرجھا گئے ان کے دکھوں کا مداوا رسمی جملوں سے ممکن ہے ۔ یعنی یہ غریب گھرانے طبی غفلت کے اس سانحہ پرمالی امداد کے بھی حقدار نہیں حالانکہ یہ مالی امداد والدین کے دکھوں کا مداوا نہیں جیسا کہ سیکریٹری صحت نے ذوالفقار علی بھٹو کے آبائی شہر لاڑکانہ میں طبی غفلت کے نتیجے میں غلط خون لگنے سے 62 گردے کے مریض ایڈز زدہ ہو کر زندہ درگور ہوگئے ان پر تو دبنگ سیکریٹری صحت نے آج تک لب کشائی نہیں کی جن کے مقبروں کیوجہ سے یہ لوگ آج اقتدار کے ایوانوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ اس معاملے کو ہی دریا برد کر دیا گیا۔


متعلقہ خبریں


فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

سیدعاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا وفد کے ہمراہ تہران پہنچنے پر پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا، سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے آرمی چیف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری ...

فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

اساتذہ اور والدین کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ امتحانی مرکز میں پیسوں کے عوض نقل کرائی جا رہی ہے نقل کی روک تھام کیلئیزیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے گی،شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ،غلام حسین سوہو چیئرمین میٹرک بورڈغلام حسین سوہو نے پیسوں کے عوض نقل کی شکایت پر گورن...

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

9لاکھ 73ہزار 900میٹرک ٹن کا مجموعی ہدف مقرر کیا گیاہے،مراد علی شاہ تمام اضلاع اپنے نظام کو فعال بنائیں،بلا تاخیر ہدف حاصل کریں، بریفنگ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم دے دیا۔ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق سید مراد علی شا...

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

افغان طالبان کی کچھ روز سے فتنہ الخوارج کی ایک تشکیل کو پاکستان میں داخل کرانے کی کوشش پاک فوج کی جوابی کارروائی پر افغانستان سے فائر کرنیوالی گن پوزیشن کو تباہ کردیا،سکیورٹی ذرائع افغان طالبان کی باجوڑ میں پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید، 3شدید زخمی ہ...

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

3اور 14سال کے دو بچے شہید، اسرائیلی جنگی طیاروں نے پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا شاطی پناہ گزین کیمپ کے قریب چوک پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد نشانہ بنے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس میں اسرائیل کے غزہ پٹی میں تازہ حملے...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

مضامین
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟

پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید

پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال

اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ

مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر