وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ٹی بی ۔۔۔۔ علاج ممکن ہے!

منگل 20 مارچ 2018 ٹی بی ۔۔۔۔ علاج ممکن ہے!

24 مارچ ۔ دنیا بھر میں ٹی بی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں آگاہی اور ترقی پذ یر ممالک میں اس جان لیوا بیماری سے پیدا ہونے والی مختلف پیچیدگیوں اور دنیا بھر میں اس بیماری سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی کوشش ہے۔

24 مار1882کو جرمنی کے سائنسدان رابرٹ کاکس (Robert Koch)نے ٹی بی کے مہلک جرثومے کی تشخیص کی۔ٹی بی جسے تپ دق بھی کہتے ہیں ایک قدیم ترین مرض ہے جو پچھلی کئی صدیوں سے بنی نوع انسان کے لئے صحت عا مہ کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ یہ ایک مہلک بیماری ہے جو مائیکو بیکٹریم ٹیوبر کلوسسز (Mycobacterium tuberculosis ) نامی بیکٹریا سے پیدا ہوتی ہے جو عموماََ پھیپھڑوں کے لمف نوڈز کو متاثر کرتا ہے اور اس کو Pulmonary TB کہتے ہیں۔ لیکن یہ بیماری جسم کے مختلف حصوں تک بھی پھیل سکتی ہے مثلاََ لمفی غدود، آنتوں، گلے اور ہڈی، جوڑوغیرہ کو متاثر کرتے ہیں اور اسے Extrapulmonary tuberculosis کہتے ہیں ۔

ٹی بی کامرض چھپا ہوا یا پوشیدہ بھی ہو سکتا ہے جسے (Latent) ٹی بی کہتے ہیں اور فعال اور سر گرم بھی جو Active ٹی بی ہو تا ہے ۔ مخفی ٹی بی میں مریض کے جسم میں ٹی بی کے جراثیم موجود ہو تے ہیں، لیکن اس مریض سے دوسرے لوگوں تک یہ مرض نہیں پھیلتا ہے جبکہ فعال ٹی بی میںمریض دوسرے افراد تک اس بیماری کے جراثیم پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ ٹی بی مریض کے کھانسنے ، چھینکنے ،تھوکنے اور اس کے قریب بیٹھ کر سانس لینے سے بھی پھیلتی ہے اور یہ مرض تندرست انسان میں منتقل ہو جاتا ہے ۔پاکستان میں تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد ہر سا ل ٹی بی میںمبتلا ہو جاتے ہیں۔عام طور پر غربت میں زندگی گزارنے کی وجہ سے لوگ زیادہ تر اس موذی مرض کی لپیٹ میں آتے ہیں کیونکہ ان کے لئے مناسب اور ضرورت کے مطابق خوراک ، صاف پانی اور مناسب رہائش کا انتظام بھی نہیں ہوتاہے ۔ جہاں لوگوں کو اگر کوئی وبائی مرض لاحق ہو جائے تو درست علاج ہونا بھی بہت مشکل ہو تا ہے ۔ کیونکہ ایسے جگہوں میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور اندھیرے اور گٹھن زدہ ماحول میں ٹی بی کے مرض کو پھلنے پھولنے کا مواقع زیادہ میسر آتے ہیں۔ پرانے اور گندے گھر، حفصان ِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی اور غیر معیاری خوراک کا استعمال بھی ٹی بی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ گر دو غبار اور دھول مٹی والے ماحول میں بھی اس مرض کے پھیلنے کے امکانات زیا دہ ہو جاتے ہیں۔

اگر کسی میں مخفی ٹی بی ہو تواس وقت تک کوئی علامات دیکھنے میں نہیں آتے ہیں جب تک مرض فعال نہ ہو جائے۔فعال ٹی بی کی علامات میں مسلسل تین ہفتے سے زائدبلغم کے ساتھ ہو نے والی کھانسی جس کے ساتھ گاڑھے اور بدبو دار بلغم کے ساتھ خون کا اخراج ، بخار، بھوک کی کمی ، جسمانی کمزوری ، تھکا وٹ اور نڈھال رہنا، وزن میں کمی، سینے میں درد ، ، رات کو پسینے کی زیادتی ، کھانسی کے ساتھ ساتھ جھاگ اور بلغم کا رنگ زرد ہو جاتا ہے ۔ گلے کی سوزش، خاص طور پر لمفی گلینڈ کا سوج جانا اس انفیکشن کی ایک اہم علامت ہے۔ اکثر اوقات پیشاب میں خون کی آمیزش بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔

ٹی بی کا مرض متاثرہ اور فعال ٹی بی والے شخص کے کھانسنے ،چھینکنے ،ا تھوکنے یا ہنسنے سے بھی پھیلتا ہے جس میں متاثرہ شخص کے منہ سے ایسے بخارات یا قطروں کا اخراج ہو تا ہے جس میں ٹی بی کے جراثیم موجود ہو تے ہیںاور پھر یہ جراثیم ہوا میں شامل ہو کر صحت مند افراد کی سانس کی ذریعے منتقل ہو کر ٹی بی کا باعث بنتے ہیں ۔ پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کے دیگر اعضاء کو متاثر کرنے والی ٹی بی دوسروں تک آسانی سے نہیں پھیلتی ہے ۔

ٹی بی کا جراثیم اکثر لوگوں کے جسم میں داخل ہوتا ہے لیکن جسم کا نظام دفاع بخوبی اسکا مقابلہ کرکے اس انسان کو ٹی بی میں مبتلا ہونے سے بچا تا ہے ۔ ٹی بی کے جراثیم غیر فعال مگر زندہ رہتے ہیں اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر انسان کی قوت مدافعت کمزور پڑنے کے سبب اُس پر حملہ آور ہو کر ٹی بی میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔جب ٹی بی کا انفیکشن کسی شخص کو ہوتا ہے تو لازمی نہیں ہے کہ اس کو کوئی علامت بھی ظاہر ہوں مگر زندگی کے کسی بھی مرحلے میں یہ عنصر بہت زیادہ کمزور ہو کر جراثیم کو غلبہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتاہے ۔

چھپی ہوئی ٹی بی کی تشخیص ٹیو برکسن ٹیسٹ جسے ٹی بی اسکن ٹیسٹ کہتے ہیں،ذریعے ہوتی ہے جبکہ فعال ٹی بی کی تشخیص یا معالج کو ٹی بی کی موجودگی پر شک ہوتو پھیپھڑے سے خارج ہو نے والے بلغم کے ٹیسٹ ، ایکسرے اور ایف این اے سی (FNAC) یعنی گردن کے کسی حصے میں گلٹیاں نمودار ہوتی ہوں ، پی سی آر(PCR) وغیرہ کروا تے ہیں ۔ جس کے بعد وہ تشخیص کے مراحل سے گزرنے کے بعد ٹی بی جیسے موذی مرض کا علاج شروع کرتے ہیں ۔ لہذا ٹی بی کی کسی بھی قسم کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اپنے قریبی مرکز صحت یا منتخب پرائیوٹ لیبارٹری سے بلغم (Sputum) کا معائنہ کروائیں ۔اور اگر ٹی بی کا مرض لاحق ہو جائے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے زیر نگرانی طریقہ علاج کے ذریعے اب مسلسل علاج سے ٹی بی جیسے موذی مرض سے مکمل صحت یابی ممکن ہے ۔ نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اورعالمی ادارہ صحت نے ٍDOTS طر یقہ علاج وضع کیا ہے جس میں مرض کی تشخیص ہو جا نے کے بعدایک ذمہ دار فرد کی زیر نگرانی ڈاکٹر کی تجو یز کر دہ ادویات بغیر کسی وقفے کے مسلسل آٹھ مہینے تک استعمال کی جاتی ہیں۔

ٹی بی ایک متعدی لیکن سو فیصد قابل علاج مرض ہے اور ٹی بی کو ابتدائی مرحلہ میں ہی بر وقت اور باآسانی کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ اس موذی مرض پر قابو پانے کے لئے ہم جن اقدامات پر عمل درآمد کر سکتے ہیں ان میں سب سے پہلے پیدائش کے بعد بچوں کو بروقت بی سی جی کے ٹیکے لگوانے چاہیئے ۔ اس مرض کے معلوم ہوتے ہی اپنے معالج کے مشورے کے بعد مناسب ادویات کا استعمال شر و ع کر دینا چاہیئے اور مرض کے خاتمے تک علاج جاری رکھنا چاہیئے ۔ ٹی بی کی تشخیص کے بعد علاج کے ابتدائی دنوں میں مریض طبیعت میں بہتری محسوس کر نے لگتا ہے، لیکن علاج سے غفلت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اور ٹی بی کے مرض میں اضافہ کی اہم وجوہات میں اس کے بارے میں آگہی نہ ہونا اور علاج مکمل ہونے سے پہلے ہی چھوڑ دینا ہے۔

گھروں کو صاف سترارکھنا چاہیئے اور معیاری خوراک استعمال کرنی چاہیئے ۔ ہر وقت مسائل کواپنے ذہن پر سوار نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ یہ بیماری ڈپریشن اور ہروقت پریشان رہنے سے بھی لاحق ہو جاتی ہے ۔ مریض کو آرام دہ اور پر فضاء پرسکون ماحول میں رکھنا چاہیئے ۔

یہ بیماری جونکہ مریض کے کھانسنے ، چھینکنے اور تھوکنے سے پھیلتی ہے لہذا مریض کے کھانے پینے کا سامان گھر کے دیگر افراد سے الگ رکھنا چاہیئے تاکہ دوسرے تندرست افراد اس جان لیوا مرض سے محفوظ رہ سکیں ۔ مگر مریض کا ادویات استعمال کرنے اور علاج کروانے میں حوصلہ بڑھا نا چاہیئے اور مریض کوا س بات کا یقین دلانا چاہیئے کہ یہ بیماری قابل علاج ہے ۔ اور مریض کو کھانستے ، چھینکتے وقت منہ پر رومال یا کوئی کپڑا رکھنا چاہیئے اور جگہ جگہ تھوکنے سے گریز کرنا چاہیئے ۔ ٹی بی کے علاج کے دوران ماں اپنے بچے کو اپنا دودھ پلا سکتی ہے اس سے بچے کی صحت پر کوئی مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں ۔

مریض کو اس بیماری میںجسمانی اور ذہنی سکون وآرام کی بہت ضرورت ہوتی ہے ۔ ابتداء میں جب تک بخار کم نہ ہوجائے مریض کو آرام کا مشورہ دینا چاہیئے اور عمدہ اور ہلکی غذا جس میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہو استعمال کروانی چاہیئے ۔ انڈا ، دودھ ، یخنی ، بہترین غذا ہیں ۔

ٹی بی کی بیماری کسی کو بھی لگ سکتی ہے مگر وہ افراد جو دوسروں کے مقابلے میں اس موذی مرض کے زیادہ قریب ہوتے ہیں ان میں وہ افراد شامل ہیں جوا یک ہی کنبے یا گھر میں ٹی بی سے متاثرہ شخص کے ساتھ رہ چکے ہوں یا طویل عرصے تک گہرے رابطے میں رہے ہوں ۔ وہ افراد جو غیرصحت مندیا زیادہ ہجوم کی جگہوں میں رہ رہے ہوں ۔ وہ لوگ جو ایسے ممالک میں رہ چکے ہوں جہاں ٹی بی کی شرح نسبتاََ زیادہ ہو مثلاََ جنوب مشرقی ایشیاء ، اور مشرق یورپ کے بعض ممالک ، ان والدین کے بچے بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں جن کے اصل وطن میں ٹی بی کی شرح زیادہ رہ چکی ہوں ۔ HIV بیماری یا علاج کی وجہ سے جن کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور منشیات کے عادی افراد جو غیر صحت مند ماحول میںرہتے ہیں ۔

اس بیماری میں ہمیں ٹی بی جیسے مرض سے نفرت کرنی چاہیے ناکہ مریض سے ۔مریض کے ساتھ ہمدردانہ اور دوستانہ رویہ ٹی بی جیسے مرض کی روک تھام کے لئے بے حد ضروری ہے۔ مریض کو خو شگوار ماحول اور عمدہ غذائیں فراہم کر کے ہم اس مرض سے جلداز جلد چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


نئی دہلی میں فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق بیگ بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی کا واقعہ نئی دہلی کے علاقے اناج منڈی میں پیش آیا۔حکام کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات کا تاحال علم نہیں ہو سکا ہے تاہم اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آگ فیکٹری کی ورک شاپ میں لگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ صبح 5 بجے اس وقت پیش آیا جب زیادہ تر ملازمین سو رہے تھے ، واقعہ میں 43 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ۔ریسکیو حکام کے مطا...

نئی دہلی میں فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک

ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے ، ایران نے چینی نژاد امریکی سکالر زیو وانگ جبکہ امریکا نے ایک ایرانی سائنس دان مسعود سلیمانی کو رہا کیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کا یہ تبادلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں شدید تنا ئوپایا جاتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وانگ کی رہائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ قیدیوں کے معاملے پر زیاہ اہمیت دیتے ہیں۔ ایران میں قید دوسرے امریکیوں کی رہائی کے ب...

ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ

شمالی کوریا کا امریکا کے ساتھ جوہری معاملے پر مذکرات سے انکار وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

شمالی کوریا نے امریکا کے ساتھ اپنے متنازع جوہری پروگرام پر مزید بات چیت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے سفیر کِم سانگ نے کہا کہ جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق امریکا سے مزید کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ا نہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ طویل مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں۔کِم سانگ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے مستقل اور ٹھوس بات چیت کی کوشش اس کے اندرونی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور وقت بچانے کی ایک چال ہے ۔بیان میں مزید کہ...

شمالی کوریا کا امریکا کے ساتھ جوہری معاملے پر مذکرات سے انکار

بھارت ، ڈانس کرتے کرتے رکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی وجود - اتوار 08 دسمبر 2019

ریاست اتر پردیش میں شادی کی تقریب میں ڈانس روکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی۔ لڑکی ہسپتا ل میں زیرعلاج ہے ۔ انتہا پسند بھارتی وزیراعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ناروا سلوک اور زیادتی کے واقعات میں حد درجہ اضافہ ہو گیا ہے ۔ انسانیت سوز واقعہ پیش آیا یکم دسمبر کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک گائوں میں جہاں شادی کی تقریب کے دوران اسٹیج پر ایک ڈانسرکو درندوں نے گولی اس لیے مار دی کیونکہ وہ ڈانس کرتے کرتے رک گئی تھی۔ پولیس نے کہا کہ گولی مارنے والے کی...

بھارت ، ڈانس کرتے کرتے رکنے پر لڑکی کو گولی مار دی گئی

کمیٹی ٹرمپ کے مواخذے کے لیے آئینی دفعات وضع کرے،اسپیکرکانگریس وجود - هفته 07 دسمبر 2019

امریکی ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے ہاؤس کی عدلیہ کمیٹی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے دفعات وضع اور مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔امریکی صدر کا یوکرین پراپنے ڈیموکریٹک سیاسی حریف کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش پر مواخذہ کیا جارہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیلوسی نے ایک نشری بیان میں کہا کہ حقائق ناقابل تردید ہیں۔صدر نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔انھوں نے اوول آفس میں ایک اہم اجلاس کو مو...

کمیٹی ٹرمپ کے مواخذے کے لیے آئینی دفعات وضع کرے،اسپیکرکانگریس

چینی شہری چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے خلاف ہیں،سروے وجود - هفته 07 دسمبر 2019

بیجنگ کے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں کہاگیا ہے کہ چین میں شہری، چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف ہیں۔سروے میں شامل تقریباً 74 فیصد افراد نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کی بجائے روایتی شناختی طریقوں کو استعمال کیا جانا چاہیے۔سروے میں شامل چھ ہزار سے زائد افراد کو بنیادی طور پر بائیو میٹرک ڈیٹا کے ہیک کیے جانے یا بصورت دیگر لیک ہونے کے خدشات تھے۔ ملک بھر کے سٹیشنوں، سکولوں او...

چینی شہری چہرے کی شناخت والی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے خلاف ہیں،سروے

ایرانی فورسز نے 1000سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کردیا،امریکاکادعویٰ وجود - هفته 07 دسمبر 2019

امریکا کے خصوصی نمایندہ برائے ایران برائن ہْک نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فورسز نے ملک میں وسط نومبر کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز ایک خصوصی گفتگومیں بتایاکہ اب کہ ایران سے سچائی باہرآرہی ہے تو یہ لگ رہا ہے کہ نظام نے مظاہروں کیا آغاز کے بعد سے ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کو ماردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا نے ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش ا...

ایرانی فورسز نے 1000سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کردیا،امریکاکادعویٰ

افغانستان میں 88.5 فیصد لوگ امن مذاکرات کے حامی ہیں،تازہ سروے وجود - هفته 07 دسمبر 2019

ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں اکثریت یعنی 88.5 فیصد لوگ، طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششوں کی پرزور یا کسی حد تک حمایت کرتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق 2019 کے لیے ایشیا فاؤنڈیشن کے سروے میں افغانستان بھر سے 18 سال اور اسے زیادہ کے 17 ہزار 812 مرد و خواتین نے حصہ لیا۔اس سروے کے نتائج میں یہ سامنے آیا کہ 64 فیصد جواب دہندگان سمجھتے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمت ممکن تھی۔علاقائی طور پر مشرقی افغانستان میں 76.9 فیصد اور جنوب مغربی حص...

افغانستان میں 88.5 فیصد لوگ امن مذاکرات کے حامی ہیں،تازہ سروے

داعش نے اجتماعی قتل عام اور قیدیوں کو ذبح کرنے کا بھیانک سلسلہ پھر شروع کردیا وجود - هفته 07 دسمبر 2019

شدت پسند گروپ داعش یرغمال بنائے گئے لوگوں کو بے دردی اور بھیانک طریقے سے موت کے گھاٹ اتارنے کی وجہ سے مشہور ہے مگر عراق اور شام میں اس گروپ کی شکست کے بعد لوگوں کو ذبح کرنے یا اجتماعی طور پر قتل کرنے کے واقعات تقریبا ختم ہوگئے تھے۔عرب ٹی وی کے مطابق داعش نے ایک بارپھر قیدیوں کو ذبح کرنے اور انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کا بھیانک سلسلہ شروع کردیا ۔لیبیا میں داعش سے وابستہ گروپ نے ایک نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں سرکاری ملازمین اور دیگر یرغمال بنائے گئے افراد کو بے دردی کے ساتھ موت ...

داعش نے اجتماعی قتل عام اور قیدیوں کو ذبح کرنے کا بھیانک سلسلہ پھر شروع کردیا

انوکھی بیماری نے 15 سالہ چینی بچی کو بوڑھی خاتون بنا دیا وجود - هفته 07 دسمبر 2019

شمال مشرقی چین میں ہیشان کاؤنٹی کی رہائشی 15 سالہ نوجوان لڑکی ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے کہ وہ دکھنے میں ایک بوڑھی خاتون کی طرح نظر آتی ہے اور اس بیماری نے اس کے روز مرہ معاملات زندگی کو بری طرح متاثر کر کے رکھ دیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق 15سالہ چینی لڑکی ایک سال کی عمر سے ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس کا نام ہٹچنسن گلفورڈ پروگیرہ سینڈروم ہے اور یہ بیماری بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔چینی میڈیا کے مطابق شیاؤ فینگ نامی لڑکی کی بیماری کی وجہ سے اس کے چہرے پر جھریاں ...

انوکھی بیماری نے 15 سالہ چینی بچی کو بوڑھی خاتون بنا دیا

امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

امریکاکی ریاست منی سوٹا میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گرنے سے 3 فوجی ہلاک ہوگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹیسٹ فلائٹ کے دوران حادثے سے قبل ہیلی کاپٹر کا ائیر کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔حکام کا کہنا تھا کہ واقعہ مقامی وقت دوپہر دو بجے پیش آیا اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام تین فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کا ملبہ کھلے میدان میں گرا اور اس کو تلاش کرنے میں دو گھنٹے کا وقت لگا۔متعلقہ حکام نے حادثے کی وجہ اور ہلاک ہونے والوں کے نام نہیں بتائے تاہم واقعہ کی تحقیقات...

امریکا، بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 3 فوجی ہلاک

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک وجود - جمعه 06 دسمبر 2019

بھارت میں لیڈی ڈاکٹر کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنے والے چاروں ملزمان پولیس مقابلے میں مارے گئے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے شہر حیدر آباد میں لیڈی ڈاکٹر سے اجتماعی زیادتی اور قتل میں ملوث چاروں ملزمان اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔ پولیس ملزمان کو لاش ملنے کی جگہ پر تفتیش کے لیے لے کر گئی جہاں انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر چاروں ملزمان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔لیڈی ڈاکٹر کو اٹھائیس نومبر کو 4 افراد نے ویرانے میں لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا او...

بھارت، لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کرنے والے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک