وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ٹی بی ۔۔۔۔ علاج ممکن ہے!

منگل 20 مارچ 2018 ٹی بی ۔۔۔۔ علاج ممکن ہے!

24 مارچ ۔ دنیا بھر میں ٹی بی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں آگاہی اور ترقی پذ یر ممالک میں اس جان لیوا بیماری سے پیدا ہونے والی مختلف پیچیدگیوں اور دنیا بھر میں اس بیماری سے لوگوں کو آگاہ کرنے کی کوشش ہے۔

24 مار1882کو جرمنی کے سائنسدان رابرٹ کاکس (Robert Koch)نے ٹی بی کے مہلک جرثومے کی تشخیص کی۔ٹی بی جسے تپ دق بھی کہتے ہیں ایک قدیم ترین مرض ہے جو پچھلی کئی صدیوں سے بنی نوع انسان کے لئے صحت عا مہ کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے ۔ یہ ایک مہلک بیماری ہے جو مائیکو بیکٹریم ٹیوبر کلوسسز (Mycobacterium tuberculosis ) نامی بیکٹریا سے پیدا ہوتی ہے جو عموماََ پھیپھڑوں کے لمف نوڈز کو متاثر کرتا ہے اور اس کو Pulmonary TB کہتے ہیں۔ لیکن یہ بیماری جسم کے مختلف حصوں تک بھی پھیل سکتی ہے مثلاََ لمفی غدود، آنتوں، گلے اور ہڈی، جوڑوغیرہ کو متاثر کرتے ہیں اور اسے Extrapulmonary tuberculosis کہتے ہیں ۔

ٹی بی کامرض چھپا ہوا یا پوشیدہ بھی ہو سکتا ہے جسے (Latent) ٹی بی کہتے ہیں اور فعال اور سر گرم بھی جو Active ٹی بی ہو تا ہے ۔ مخفی ٹی بی میں مریض کے جسم میں ٹی بی کے جراثیم موجود ہو تے ہیں، لیکن اس مریض سے دوسرے لوگوں تک یہ مرض نہیں پھیلتا ہے جبکہ فعال ٹی بی میںمریض دوسرے افراد تک اس بیماری کے جراثیم پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ ٹی بی مریض کے کھانسنے ، چھینکنے ،تھوکنے اور اس کے قریب بیٹھ کر سانس لینے سے بھی پھیلتی ہے اور یہ مرض تندرست انسان میں منتقل ہو جاتا ہے ۔پاکستان میں تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد ہر سا ل ٹی بی میںمبتلا ہو جاتے ہیں۔عام طور پر غربت میں زندگی گزارنے کی وجہ سے لوگ زیادہ تر اس موذی مرض کی لپیٹ میں آتے ہیں کیونکہ ان کے لئے مناسب اور ضرورت کے مطابق خوراک ، صاف پانی اور مناسب رہائش کا انتظام بھی نہیں ہوتاہے ۔ جہاں لوگوں کو اگر کوئی وبائی مرض لاحق ہو جائے تو درست علاج ہونا بھی بہت مشکل ہو تا ہے ۔ کیونکہ ایسے جگہوں میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور اندھیرے اور گٹھن زدہ ماحول میں ٹی بی کے مرض کو پھلنے پھولنے کا مواقع زیادہ میسر آتے ہیں۔ پرانے اور گندے گھر، حفصان ِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی اور غیر معیاری خوراک کا استعمال بھی ٹی بی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ گر دو غبار اور دھول مٹی والے ماحول میں بھی اس مرض کے پھیلنے کے امکانات زیا دہ ہو جاتے ہیں۔

اگر کسی میں مخفی ٹی بی ہو تواس وقت تک کوئی علامات دیکھنے میں نہیں آتے ہیں جب تک مرض فعال نہ ہو جائے۔فعال ٹی بی کی علامات میں مسلسل تین ہفتے سے زائدبلغم کے ساتھ ہو نے والی کھانسی جس کے ساتھ گاڑھے اور بدبو دار بلغم کے ساتھ خون کا اخراج ، بخار، بھوک کی کمی ، جسمانی کمزوری ، تھکا وٹ اور نڈھال رہنا، وزن میں کمی، سینے میں درد ، ، رات کو پسینے کی زیادتی ، کھانسی کے ساتھ ساتھ جھاگ اور بلغم کا رنگ زرد ہو جاتا ہے ۔ گلے کی سوزش، خاص طور پر لمفی گلینڈ کا سوج جانا اس انفیکشن کی ایک اہم علامت ہے۔ اکثر اوقات پیشاب میں خون کی آمیزش بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔

ٹی بی کا مرض متاثرہ اور فعال ٹی بی والے شخص کے کھانسنے ،چھینکنے ،ا تھوکنے یا ہنسنے سے بھی پھیلتا ہے جس میں متاثرہ شخص کے منہ سے ایسے بخارات یا قطروں کا اخراج ہو تا ہے جس میں ٹی بی کے جراثیم موجود ہو تے ہیںاور پھر یہ جراثیم ہوا میں شامل ہو کر صحت مند افراد کی سانس کی ذریعے منتقل ہو کر ٹی بی کا باعث بنتے ہیں ۔ پھیپھڑوں کے علاوہ جسم کے دیگر اعضاء کو متاثر کرنے والی ٹی بی دوسروں تک آسانی سے نہیں پھیلتی ہے ۔

ٹی بی کا جراثیم اکثر لوگوں کے جسم میں داخل ہوتا ہے لیکن جسم کا نظام دفاع بخوبی اسکا مقابلہ کرکے اس انسان کو ٹی بی میں مبتلا ہونے سے بچا تا ہے ۔ ٹی بی کے جراثیم غیر فعال مگر زندہ رہتے ہیں اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر انسان کی قوت مدافعت کمزور پڑنے کے سبب اُس پر حملہ آور ہو کر ٹی بی میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔جب ٹی بی کا انفیکشن کسی شخص کو ہوتا ہے تو لازمی نہیں ہے کہ اس کو کوئی علامت بھی ظاہر ہوں مگر زندگی کے کسی بھی مرحلے میں یہ عنصر بہت زیادہ کمزور ہو کر جراثیم کو غلبہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتاہے ۔

چھپی ہوئی ٹی بی کی تشخیص ٹیو برکسن ٹیسٹ جسے ٹی بی اسکن ٹیسٹ کہتے ہیں،ذریعے ہوتی ہے جبکہ فعال ٹی بی کی تشخیص یا معالج کو ٹی بی کی موجودگی پر شک ہوتو پھیپھڑے سے خارج ہو نے والے بلغم کے ٹیسٹ ، ایکسرے اور ایف این اے سی (FNAC) یعنی گردن کے کسی حصے میں گلٹیاں نمودار ہوتی ہوں ، پی سی آر(PCR) وغیرہ کروا تے ہیں ۔ جس کے بعد وہ تشخیص کے مراحل سے گزرنے کے بعد ٹی بی جیسے موذی مرض کا علاج شروع کرتے ہیں ۔ لہذا ٹی بی کی کسی بھی قسم کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اپنے قریبی مرکز صحت یا منتخب پرائیوٹ لیبارٹری سے بلغم (Sputum) کا معائنہ کروائیں ۔اور اگر ٹی بی کا مرض لاحق ہو جائے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے زیر نگرانی طریقہ علاج کے ذریعے اب مسلسل علاج سے ٹی بی جیسے موذی مرض سے مکمل صحت یابی ممکن ہے ۔ نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اورعالمی ادارہ صحت نے ٍDOTS طر یقہ علاج وضع کیا ہے جس میں مرض کی تشخیص ہو جا نے کے بعدایک ذمہ دار فرد کی زیر نگرانی ڈاکٹر کی تجو یز کر دہ ادویات بغیر کسی وقفے کے مسلسل آٹھ مہینے تک استعمال کی جاتی ہیں۔

ٹی بی ایک متعدی لیکن سو فیصد قابل علاج مرض ہے اور ٹی بی کو ابتدائی مرحلہ میں ہی بر وقت اور باآسانی کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔ اس موذی مرض پر قابو پانے کے لئے ہم جن اقدامات پر عمل درآمد کر سکتے ہیں ان میں سب سے پہلے پیدائش کے بعد بچوں کو بروقت بی سی جی کے ٹیکے لگوانے چاہیئے ۔ اس مرض کے معلوم ہوتے ہی اپنے معالج کے مشورے کے بعد مناسب ادویات کا استعمال شر و ع کر دینا چاہیئے اور مرض کے خاتمے تک علاج جاری رکھنا چاہیئے ۔ ٹی بی کی تشخیص کے بعد علاج کے ابتدائی دنوں میں مریض طبیعت میں بہتری محسوس کر نے لگتا ہے، لیکن علاج سے غفلت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اور ٹی بی کے مرض میں اضافہ کی اہم وجوہات میں اس کے بارے میں آگہی نہ ہونا اور علاج مکمل ہونے سے پہلے ہی چھوڑ دینا ہے۔

گھروں کو صاف سترارکھنا چاہیئے اور معیاری خوراک استعمال کرنی چاہیئے ۔ ہر وقت مسائل کواپنے ذہن پر سوار نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ یہ بیماری ڈپریشن اور ہروقت پریشان رہنے سے بھی لاحق ہو جاتی ہے ۔ مریض کو آرام دہ اور پر فضاء پرسکون ماحول میں رکھنا چاہیئے ۔

یہ بیماری جونکہ مریض کے کھانسنے ، چھینکنے اور تھوکنے سے پھیلتی ہے لہذا مریض کے کھانے پینے کا سامان گھر کے دیگر افراد سے الگ رکھنا چاہیئے تاکہ دوسرے تندرست افراد اس جان لیوا مرض سے محفوظ رہ سکیں ۔ مگر مریض کا ادویات استعمال کرنے اور علاج کروانے میں حوصلہ بڑھا نا چاہیئے اور مریض کوا س بات کا یقین دلانا چاہیئے کہ یہ بیماری قابل علاج ہے ۔ اور مریض کو کھانستے ، چھینکتے وقت منہ پر رومال یا کوئی کپڑا رکھنا چاہیئے اور جگہ جگہ تھوکنے سے گریز کرنا چاہیئے ۔ ٹی بی کے علاج کے دوران ماں اپنے بچے کو اپنا دودھ پلا سکتی ہے اس سے بچے کی صحت پر کوئی مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے ہیں ۔

مریض کو اس بیماری میںجسمانی اور ذہنی سکون وآرام کی بہت ضرورت ہوتی ہے ۔ ابتداء میں جب تک بخار کم نہ ہوجائے مریض کو آرام کا مشورہ دینا چاہیئے اور عمدہ اور ہلکی غذا جس میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہو استعمال کروانی چاہیئے ۔ انڈا ، دودھ ، یخنی ، بہترین غذا ہیں ۔

ٹی بی کی بیماری کسی کو بھی لگ سکتی ہے مگر وہ افراد جو دوسروں کے مقابلے میں اس موذی مرض کے زیادہ قریب ہوتے ہیں ان میں وہ افراد شامل ہیں جوا یک ہی کنبے یا گھر میں ٹی بی سے متاثرہ شخص کے ساتھ رہ چکے ہوں یا طویل عرصے تک گہرے رابطے میں رہے ہوں ۔ وہ افراد جو غیرصحت مندیا زیادہ ہجوم کی جگہوں میں رہ رہے ہوں ۔ وہ لوگ جو ایسے ممالک میں رہ چکے ہوں جہاں ٹی بی کی شرح نسبتاََ زیادہ ہو مثلاََ جنوب مشرقی ایشیاء ، اور مشرق یورپ کے بعض ممالک ، ان والدین کے بچے بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں جن کے اصل وطن میں ٹی بی کی شرح زیادہ رہ چکی ہوں ۔ HIV بیماری یا علاج کی وجہ سے جن کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور منشیات کے عادی افراد جو غیر صحت مند ماحول میںرہتے ہیں ۔

اس بیماری میں ہمیں ٹی بی جیسے مرض سے نفرت کرنی چاہیے ناکہ مریض سے ۔مریض کے ساتھ ہمدردانہ اور دوستانہ رویہ ٹی بی جیسے مرض کی روک تھام کے لئے بے حد ضروری ہے۔ مریض کو خو شگوار ماحول اور عمدہ غذائیں فراہم کر کے ہم اس مرض سے جلداز جلد چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


مقبوضہ جموں و کشمیر،سابق وزرا ئے اعلیٰ کی مراعات ختم وجود - بدھ 01 اپریل 2020

مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزرا اعلی کو حاصل خصوصی مراعات والے قانون کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 کے تحت اختیارات کے ذریعے منسوخ کر دیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مرکزی حکومت نے سٹیٹ لیجسلیٹر ممبرز پنشن ایکٹ 1984 کے سیکشن 3 کو منسوخ کر دیا ہے جس سے اب سابق وزرا اعلی کو ملنے والی مراعات حاصل نہیں ہوں گی۔اس سیکشن کے تحت سابق وزرا اعلی کو بغیر کرایہ سرکاری رہائش گاہ، مفت ٹیلیفون سروس، مفت بجلی، گاڑی، پٹرول اور طبی سہولیات ملتی تھیں۔ اس کے علاوہ ان کو سرکار...

مقبوضہ جموں و کشمیر،سابق وزرا ئے اعلیٰ کی مراعات ختم

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی وجود - بدھ 01 اپریل 2020

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی ،کورونا وائرس نے جہاں دنیا کے جدید ترین ممالک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے وہیں سپرپاور امریکا کی فوج بھی اس وائرس کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ۔کورونا وائرس کے باعث اب تک دنیا میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد کیسز امریکا سے سامنے آ چکے ہیں جب کہ امریکا میں اموات بھی چین اور اسپین سے زیادہ ہو گئی ہیں جہاں اب تک 4 ہزار سے زائد لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں وبا سے دو لاکھ...

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی

امریکا میں کورونا سے دو پاکستانی جاں بحق وجود - بدھ 01 اپریل 2020

امریکی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس میں مبتلا دو پاکستانی جان کی بازی ہار گئے ۔ یک میڈیا رپورٹ کے مطابق انتقال ہونے والے سید عطاالرحمان کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے تھے جن کا تعلق کراچی سے تھا۔ان کے علاوہ کورونا سے جنگ لڑتے ہوئے پاکستانی امریکن روحیل خان بھی نیویارک میں دم توڑ گئے ۔ ریاست ٹیکساس میں بھی ایک پاکستانی ڈاکٹر اور تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص میں بھی کورونا کی علامات پائی گئی ہیں اور دونوں کا تعلق بھی کراچی سے ہے ۔واضح رہے کہ امریکی ریاست نیو یارک کورونا...

امریکا میں کورونا سے دو پاکستانی جاں بحق

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا وجود - بدھ 01 اپریل 2020

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں جہاں طبی آلات کی قلت پیدا ہوگئی ہے ، وہیں طبی عملہ بھی کم پڑ گیا ہے جب کہ ہسپتالوں سمیت کئی دیگر جگہوں کو عارضی آئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ میں تبدیل کردیا گیا ہے لیکن اس باوجود کئی ممالک میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے ۔عام ہسپتالوں میں قرنطینہ سینٹرز بنانے اور وہاں پر دیگر مریضوں کے علاوہ زیادہ تر کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے سمیت دنیا بھر میں دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض پریشانیوں کا شکار ہیں، یہاں تک کہ امریکا اور برطانیہ جیسے مما...

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا

کورونا وائرس 202 ممالک تک پھیل گیا ،ہلاکتیں 42 ہزار سے تجاوز وجود - بدھ 01 اپریل 2020

کورونا وائرس نے 202ممالک میں پنجے گاڑ لئے ، دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد 42 ہزار 156 ہو گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کی مہلک وبا نے 202ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اٹلی میں صورتحال سب سے خوفناک ہے جہاں 12448 افراد ہلاک اور 1 لاکھ 5 ہزار 7 سو92 افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔اسپین میں کورونا سے 8 ہزار چار سو چونسٹھ افراد ہلاک ہو گئے ۔ چین میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد 3 ہزار تین سو پانچ ہے ۔ جرمنی میں کورونا سے سات سو پچھتر افراد ہلاک، فرانس میں...

کورونا وائرس 202 ممالک تک پھیل گیا ،ہلاکتیں 42 ہزار سے تجاوز

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دیدیا وجود - بدھ 01 اپریل 2020

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کو جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دے دیا۔ترجمان اقوام متحدہ نے کہا کہ کورونا وائرس سے دنیا کے ہر ملک کو عدم استحکام، بدامنی اور تنازعات کھڑے ہونے کا خطرہ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کورونا کے ثرات سے دنیا میں ڈھائی کروڑ افراد بیروزگار ہو جائیں گے ۔ا نہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک غریب ملکوں کی مدد کریں ورنہ وبا جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دیدیا

کورونا وائرس، ایتھوپیا میں عام انتخابات ملتوی وجود - بدھ 01 اپریل 2020

افریقی ملک ایتھوپیا میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کی وجہ سے عام انتخابات ملتوی کر دیے گئے ۔ایتھوپیا کے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ملک میں رواں سال اگست میں ہونے والے انتخابات کا انعقاد کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے پیدا ہونے والے حالات میں ممکن نہیں رہا،عام انتخابات کے انعقاد کے لئے نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ایتھوپیا میں نوبل امن انعام یافتہ ابہی احمد وزیر اعظم ہیں جو ایکبار پھر وزیر اعظم بننے کے امیدوار ہیں۔ایتھوپین الیکشن کمیشن کے مطابق انت...

کورونا وائرس، ایتھوپیا میں عام انتخابات ملتوی

بھارت میں ریاستی مشینری کورونا وباسے بڑا خطرہ بن چکی ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ وجود - پیر 30 مارچ 2020

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھارت پر کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے دوران ضبط و تحمل سے کام لینے پر زوردیتے ہوئے کہاہے کہ ریاستی مشینری کورونا وائر کی وباسے کہیں بڑا خطرہ بن چکی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اویناش کمار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے لاکھوں افراد پھنسے ہوئے ہیں جو خوراک اور پانی کی تلاش میں جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے ان افراد کیلئے ریاستی م...

بھارت میں ریاستی مشینری کورونا وباسے بڑا خطرہ بن چکی ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ

کرونا وائرس کی ماسکو پر یلغار، دارالحکومت سے لوگوں کی نقل مکانی وجود - پیر 30 مارچ 2020

روس کے دارالحکومت ماسکو میں کرونا وائرس نے ایک نیا حملہ کیا ہے جس کے بعد حکومت کی طرف سے گھروں میں رہنے کے احکامات کے برخلاف لوگوں کی بڑی تعداد کو وہاں سے نکلتے دیکھا گیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق دارالحکومت ماسکو کے میئر سیرگی سوبیانین نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ کرونا کی وبا ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے ۔ دارالحکومت میں کرونا کے متاثرین کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی ہے ۔ حکومت کی طرف سے شہریوں سے گھروں کے اندر رہنے کو کہا گیا مگر اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ پارکوں...

کرونا وائرس کی ماسکو پر یلغار، دارالحکومت سے لوگوں کی نقل مکانی

کورونا وائرس ،دنیا کے مختلف ممالک میں شیڈول عالمی نمائشیں بھی ملتوی وجود - پیر 30 مارچ 2020

کورونا وائرس کے پھیلائو کی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں شیڈول عالمی نمائشیں بھی ملتوی کردی گئیں ، خریداروں اور مندوبین کی جانب سے اپریل کے بعد منعقدہ نمائشوں میں بھی شرکت کے حوالے سے دلچسپی کا اظہارنہیں کیا جارہا۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں ہر ماہ مختلف مصنوعات کی عالمی نمائشوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں دنیا بھر سے خریدار اور مندوبین شریک ہوتے ہیں ۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق تیاری کے باوجود فروری ،مارچ او راپریل میں شیڈول متعدد عالمی نمائشیں منسوخ کر د...

کورونا وائرس ،دنیا کے مختلف ممالک میں شیڈول عالمی نمائشیں بھی ملتوی

امریکا میں دولاکھ تک ہلاکتوں کا خدشہ ہے ،رکن کرونا وائرس ٹاسک فورس وجود - پیر 30 مارچ 2020

امریکا کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے ایک اہم رکن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک میں کئی ملین لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کی کورونا ٹاسک فورس کے اہم رکن اور متعدی امراض کے ماہر اننتھونی فاؤچی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ملک میں کئی ملین افراد کووِڈ انیس میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ گفتگو کرتے ہوئے فاؤچی نے کہا امریکا 100,000 سے 200,000 ہلاکتوں کی توقع رکھے ۔ امریکا میں اس وقت دنیا بھر میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے کیس سامنے آ چکے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت...

امریکا میں دولاکھ تک ہلاکتوں کا خدشہ ہے ،رکن کرونا وائرس ٹاسک فورس

طالبان نے افغان حکومت کا تجویز کردہ مذاکراتی وفد مسترد کر دیا وجود - اتوار 29 مارچ 2020

طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے 21 رکنی وفد کو امن معاہدے سے متضاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔افغان حکومت نے طالبان سے بات چیت کے لیے اکیس رکنی وفد کا اعلان کیا تھا جس پر طالبان کے ترجمان نے بیان جاری کیا کہ افغان حکومتی وفد میں تمام فریقوں کی نمائندگی نہیں ہے اس لیے مخصوص گروہ کی نمائندگی کرنے والے سے مذاکرات طالبان امریکہ امن ڈیل کی خلاف ورزی ہے ۔واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے مابین گذشتہ ماہ امن معاہدہ ہوا تھا جو طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے ایک دوسرے پر حملوں ...

طالبان نے افغان حکومت کا تجویز کردہ مذاکراتی وفد مسترد کر دیا