... loading ...
افغانستان میں امریکا نے اب تک دستیاب تمام طریقوں کو استعمال کر لیا ہے۔ مگر تاحال وہ اپنی مرضی کا افغانستان تخلیق کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عام طور پر افغانستان میں طالبان کی مزاحمت میں شدت آتے ہی امریکا اپنا دباؤ پاکستان پر بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان دنوں ایک مرتبہ پھر باربار دہرائے جانے والا یہی منظر افغانستان کے افق پر اُبھر رہا ہے۔ کابل میں دھماکوںاور ہلاکتوں کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ اس تناظر میںامریکی صدر کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوںنے پاکستان کو نشانا بنایا ہے۔ کابل میں کار بم دھماکے کے بعد ہونے والی ہلاکتوں پر امریکی صد رنے کہا کہ ’’اب تمام ملکوں کو طالبان اور ان کی حمایت کرنے والے دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کے خلاف فیصلہ کن اقدام اُٹھانا چاہئے‘‘۔ عام طور پر غیرسنجیدگی کی شہرت رکھنے والے اور ریاستی امور کی انجام دہی کی نزاکتوں سے نابلد امریکی صدر ٹرمپ کو خود امریکا میں بھی اب زیادہ پریشانی سے دیکھا جانے لگا ہے اور یہی ایک خطرناک بات ہے۔ امریکی فیصلہ سازی میں توازن ساز قوتیں بہت تیزی سے امریکی صدر کی ضد ، بددماغی اور چرچراہٹ کے باعث کمزور ہوتی جارہی ہیں۔ اس تناظر میں 2013-17 تک امریکا کی قومی سلامتی کی مشیررہنے والی سوسان ای رائس نے نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون لکھا ہے جس میں امریکا کے پاس افغانستان میںموجود آپشنز پر غور کیا گیا ہے۔
سوسان ای رائس کا مضمون دراصل افغانستان کے صد ر اشرف غنی کی طالبان کو تازہ پیشکش کے تناظر میں تحریر کیا ہے۔ جس میں اُنہوں نے لکھا ہے کہ اگر طالبان افغانستان کے صدر اشرف غنی کی غیرمشروط پیشکش کو مسترد کردیتے ہیں تو یہ سوال کرنا بروقت ہوگا کہ کیا افغانستان میںنامعلوم مدت تک امریکی فوج کی موجودگی کا کوئی متبادل موجود ہے؟حقیقت یہ ہے کہ طالبان طاقتور ہیں اور ملک کے ایک تہائی حصے پر ان کو کنٹرول حاصل ہے۔ اوبامہ نے امریکی فوجوں کی تعداد ایک لاکھ تک بڑھادی تھی اور نیٹو ممالک کے 40 ہزار اضافی دستے مل کر بھی طالبان کو شکست یا کمزور نہیں کر سکے۔بعد ازاں اوباما نے یہ تعداد 10 ہزار سے کم کردی اور اپنی توجہ انسداد دہشت گردی ،القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ سے لڑائی پر مرکوز کردی۔ انہوں نے طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کے خلاف مہلک حملے کا حکم دیا اس امید پرکہ ان کے منظر عام سے ہٹ جانے سے طالبان کمزور ہو جائیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔
گزشتہ سال صدر ٹرمپ نے امریکی فضائی حملوں میںاضافہ کردیا، زمینی موجودگی میں 50 فیصد اضافہ کیا اور امریکی کمانڈروں کو طالبان سے جنگ کرنے کے لا محدود اختیارات دے دیے لیکن طا لبان کمزور نہ ہوئے۔تاریخ بتاتی ہے کہ نیٹو کے فوجی دستوں کی لگاتار تعداد اس فوجی توازن کو تبدیل نہیںکریگی جو افغان حکومت کی فتح کو یقینی بنا سکے۔ طالبان کابل حکومت کے نقصان پر بتدریج قبضہ حاصل کر رہے ہیں۔ اشرف غنی کی کوششوں کے باوجود امن میں کامیابی کا کوئی امکان نہیں ۔طالبان کے ساتھ مذاکرات کی یکے بعد دیگرے کوششیں ناکام رہیں جن کی وجوہ میں میدان جنگ میں طالبان کی مضبوطی اوربعض دیہی آبادی میںان کی حمایت،طالبان کے اندر پالیسی تنازعات،کمزور افغان حکومت جس میں مذاکرات کی اہمیت پر اتفاق رائے موجود نہیں ہے اور مذاکرات کی حمایت میں بقول سوسان رائس پاکستان کا دوغلا کردار اور ساتھ ہی طالبان کی حمایت شامل ہیں۔ان میں سے کوئی بھی عامل تبدیل نہیں ہوا۔
امریکہ کے پاس موجود تین
نا پسندیدہ آپشنزرائس کی نظر میں
اول۔ ٹرمپ انتظامیہ اپنے مقاصد پر دوبارہ توجہ مرکوز کرے۔ غیر ملکی دہشت گروں سے جنگ کرنے کا گزشتہ انتظامیہ کا زیادہ محدود مقصد اور تربیت ،اکیوپمنٹ اور مشورہ فراہم کرنا لیکن براہ راست جنگ میں حصہ نہ لینا تاکہ افغان حکومت کابل ا ور دوسرے شہروں کو کنٹرول کرسکے۔ اس سے امریکی فوجوں میں کمی آسکے گی جبکہ کابل میں امریکی سفارتی موجودگی کی حفاظت کی جا سکے گی اور افغانستان کو دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بننے سے روکا جا سکے گا۔ اس طریقے سے طالبان کی پیش رفت سست ہو جائے گی لیکن رکے گی نہیں۔
دوم۔امریکا اس مفروضے پر اپنی فوجیں واپس بلالے کہ وہ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکتا۔ اس کے نتیجہ میں امریکا زیادہ طاقتور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہوگا اور شاید امریکاکی جگہ روس، ایران، چین یا بھارت لے لے گا۔اس منظر میں کابل حکومت علاقے طالبان کو کھو بیٹھے گی اور آخر کار اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس طرح 2400 سے زائد فوجیوں کی اموات رائیگاں جائیں گی۔ یہ انتخاب 1975میں ویتنام سے امریکی شکست کی یاد دلاتی ہے اور کوئی امریکی صدر اس منظرکو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔
سوم۔ آخر میں امریکایہ عزم کرے کہ افغانستان میں اس کی موجودگی مستقل ہوجائے لیکن ایسا کرنے میں اسے لاگت کا اندازہ لگانا ہوگا۔ امریکا قیام کریگا خواہ ہمارے کمانڈر کتنے ہی فوجی دستے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری سمجھیںاور کابل حکومت کو سہارا دیں۔
ٹرمپ نے دراصل اس آپشن کا انتخاب کیا جس کی سالانہ لاگت45 بلین ڈالر اور15 ہزار فوجی دستے ہیں لیکن اس طریقے سے طالبان کو فوجی شکست نہیں دی جا سکے گی۔
یہ امر حیران کن نہیںکہ ٹرمپ نے امریکی عوام کو وضاحت نہیں کی ہے کی انہوں نے استحکام برقرار رکھنے کے لیے افغانستان میں کوریا طرز کے لامحدود قیام کی راہ اپنا لی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے آیا امریکی عوام اور کانگریس اس کو قبول کریں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی عوام کو صدر کے فیصلوں کے خطرات اور لاگت کا حقیقت پسندانہ انداز سے آگاہ کرنا ہوگا۔ انہیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری طویل ترین جنگ زیادہ طویل ہوجائیگی۔
قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...
ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...
ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...
فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...
پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...
امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...
محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...