وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سگمنڈ فرائیڈکے کام پر اک نظر

پیر 19 مارچ 2018 سگمنڈ فرائیڈکے کام پر اک نظر

بدقسمتی سے ہمارے معاشرہ میں جب کوئی انسان ہاتھ پائوں ، بولنے یا ہلنے سے معذور ہوجاتا ہے تو ایک زندہ لاش بن جاتا ہے۔ ا سے جینے کا حوصلہ نہیں دیا جاتا ،بلکہ اسے تاریکی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ لیکن ا سٹیفن ہاکنگ کی کہانی قطعاً مختلف ہے۔ اس نے اپنی معذوری کو کمزوری نہیں بننے دیا۔ وہ اتنے بلند عزم و ہمت کا مالک ہوگیا کہ صرف پلکوں کے سہارے 53 برس زندہ رہا۔ اپنی اسی ایک نعمت کے سہارے سائنس پر کتابیں لکھتا اور لیکچر دیتا رہا۔اس کے ساتھیوں اور معاشرے نے بھی اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور ہمت بندھائی۔اس نے ہزاروں افراد کے سامنے کمپیوٹر کے ذریعے لیکچر دیتے ہوئے تاریخی جملہ بولا کہ میرے جیسا انسان جو ہر لحاظ سے معذور ہے ، صرف پلکوں کے ذریعے اتنا کام کرسکتا ہے توآپ کے تو ہاتھ پائوں ہیں ، چل پھر سکتے ہیں ، بول سکتے ہیں ، اتنے اعضا کے مالک ہیں تو آپ کیوں نہیں بڑے کام کرسکتے۔کرسکتے ہیں بس عزم و ہمت ہونی چاہیے۔قدرت نے اسے ایسی ذہانت سے نوازا کہ وہ طبیعات کے شعبہ میں انقلابی کام کرتا رہا۔ اس کا سب سے اہم کام بلیک ہول کی دریافت تھی۔ جس سے ریڈی ایشن کا اخراج ہوتا ہے ، اسے اسٹیفن ہاکنگ کے نام سے ہاکنگ ریڈی ایشن کا نام دیا گیا۔

اسٹیفن ہاکنگ صرف 21 سال کی عمر میں ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہوگیا جس میں انسان کے پٹھے آہستہ آہستہ کمزور ہونے کے بعد ناکارہ ہوجاتے ہیں اور وہ 1965 ء میں ویل چیئر پرچلا گیا۔ پھر اپنی موت تک اس نے ساری زندگی ویل چیئر پر ہی گزاری۔اس کی کتابیں ’’ اے بریف ہسٹری آف ٹائم، بلیک ہول اینڈ بے بی یونیورس، دی یونیورس ان ا ے نٹ شیل، دی گرینڈ ڈیزائن‘‘ سب سے زیادہ فروخت ہونیوالی کتابیں رہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کتابیں اس نے ویل چیئر پر معذوری کی کیفیت میں لکھیں۔ اسے کئی ایوارڈز دیئے گئے ، بڑی بڑی تقاریب میں اس کے کام کو سراہا گیا۔ فلکیاتی طبیعات کے ماہر اس برطانوی سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کے مطابق زمین کے قدرتی ذرائع کا بے دریغ استعمال اور انسان کے ہاتھوں ماحول کی تباہی کے علاوہ دیگر کئی خطرات ایسے ہیں جن کے ہاتھوں مستقبل میں نسل انسانی مکمل طور پر فنا ہوسکتی ہے۔ہاکنگ نے ’بگ تھنک‘نامی ویب سائٹ کو ایک انٹرویو کے دوران انسانی بقا کے لئے مشورہ دیتے ہوئے کہا: ’’نسل انسانی کوتمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں رکھنے چاہئیں یعنی انسان کو محض ایک ہی سیارے تک محدود نہیں رہنا چاہیے‘‘۔ ہاکنگ کا مزید کہنا تھا: ’’لمبے عرصے تک اپنی بقا کے لئے ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم صرف زمین تک ہی خود کو محدود نہ رکھیں بلکہ خلا اور دیگر مقامات پر بھی اپنی آبادیاں بنائیں‘‘۔

ہاکنگ نے خبردار کیا کہ بنی نوع انسان مستقبل میں ایسے بہت سے خطرات کا سامنا کرے گی جس سے اس کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے بطور مثال 1962ء میں کیوبا میں میزائلوں کی تنصیب کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کو پیش کیا۔ سرد جنگ کے دوران سابق سوویت یونین کی جانب سے امریکی ساحلوں کے قریب کیوبا میں ایٹمی میزائلوں کی تنصیب کی وجہ سے دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی تھی۔ہاکنگ نے مزید کہا: ’’ہم اپنی تاریخ کے مزید خطرناک دورانیے میں داخل ہورہے ہیں۔ انسانی آبادی میں اضافہ اور زمین کے قدرتی ذرائع کا استعمال دونوں ہی خطرناک رفتار سے جاری ہیں۔ دوسری طرف اپنے ماحول کو اچھے اور برے دونوں مقاصد کے لئے بدلنے کی ہماری صلاحیت میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔‘‘ اپنے بیان میں ترمیم کرتے ہوئے مزید کہا: ’’اگر اگلی صدی کے بعد بھی ہم اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ہمارا مستقبل خلا ہے۔ اور اسی لیے میں انسان بردار خلائی پروازوں کے حق میں ہوں۔‘‘پھر ساتھ ہی ہاکنگ نے یہ بھی خبردار کیا کہ انسان کو حتی الوسع کوشش کرنی چاہیے کہ اس کا سامنا کسی خلائی مخلوق یعنی ایلینز سے نہ ہو، کیونکہ ان کے خیال میں اس کے نتائج انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

اسٹیفن ہاکنگ کی جانب سے کی جانے والی آخری نصیحت میں انھوں نے کہا تھا کہ انسانوں کو کسی بھی اجنبی مخلوق سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرنے چاہیے۔ ایک ڈاکومنٹری میں سٹیفن ہاکنگ نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انسانوں کے علاوہ یقیناً کوئی نہ کوئی مخلوق کہیں ضرور آباد ہے۔ ان کا موقف تھا کہ ایسی مخلوق بنی نوع انسان کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی مخلوق انسانوں سے زیادہ

چالاک ہوسکتی ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ زمین پر آکر ہمارے وسائل چھین کر لے جائے۔ ا سٹیفن ہاکنگ کے مطابق اگر کوئی ایسی مخلوق زمین پر آتی ہے تو انسانوں کے ساتھ وہی ہوگا جو کولمبس کے امریکا دریافت کرنے کے بعد وہاں کی مقامی آبادی کے ساتھ ہوا تھا، جو یقیناً اچھا نہیں تھا۔ خیال رہے کہ سائنسدانوں کی جانب سے خلا میں ایسے مشن بھیجے گئے ہیں جن پر انسانوں کی تصاویر کے ساتھ زمین تک پہنچنے کے نقشے بھی تھے۔ اس کے ساتھ ممکنہ طور پر دوسرے سیاروں پر آباد مخلوق سے رابطہ کرنے کی نیت سے خلا میں ریڈیو بیمز بھی بھیجی گئی ہیں۔ پروفیسر ہاکنگ کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سوچنا کہ کوئی اور مخلوق بھی کہیں آباد ہے بالکل منطقی ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ کیسی ہے۔ ا سٹیفن ہاکنگ کے معاشرے نے اس کی ذہانت کا فائدہ اٹھایا اور اسے تنہائی کے کنویں میں پھینکنے اور بے کارچیز سمجھنے کی بجائے اس کی سائنسی معلومات سے مستفید ہوا اور جو معلومات اس کے ذہن میں تھیں وہ کمپیوٹر کے ذریعے نکلوا لیں۔ وہ پلکوں کے ذریعے کمپیوٹر پر اپنے نظریات اور معلومات منتقل کرتا اور کمپیوٹر ٹائپ کرتا جاتا ، اسی طرح وہ لیکچر بھی دیتاتھا۔ اس کے ساتھی سائنسدانوں نے اس کے لئے نہ صرف مخصوص کمپیوٹرائزڈ ویل چیئر تیار کررکھی تھی بلکہ اس کی بات انسانوں تک پہنچانے کے لئے ایک انتہائی جدید کمپیوٹر اس کے خیالات کو آواز میں تبدیل کردیتاتھا۔ آج ہمیں بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بھی کتنے ایسے معذور افراد ہیں جنہیں ہم بے کار سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ہو سکتا ہے کہ قدرت نے انہیں کسی اعلیٰ صلاحیت سے نوازا ہو۔ اگر ہم ان کی تربیت کریں اور سہولیات فراہم کریں تو ہوسکتا ہے وہ عام انسانوں سے بھی زیادہ مفید ثابت ہوں۔


متعلقہ خبریں


جاپان ،مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں اپنے جہازوں کے تحفظ کے لیے فوج بھیجنے پرغور وجود - بدھ 23 اکتوبر 2019

جاپان کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاپان سے وابستہ بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سیلف ڈیفنس فورس کے نام سے فوج بھیجنے پر غور کر رہی ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جاپان کا مشرق وسطیٰ میں اس طرح کے کسی آپریشن میں شامل ہونے کا یہ پہلا موقع ہوگا۔ ٹوکیو جہاز رانی کے تحفظ کے امریکا کی قیادت میں قائم ہونے والے اتحاد میں شامل نہیں ہوگا۔جاپانی فوج اپنے طور پر صرف جاپانی جہازوں کے تحفظ کے لیے کام کرے گی۔ جاپانی فوج ان کی سرگرمیوں کا دائرہ آبنائے ہرمزس...

جاپان ،مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں اپنے جہازوں کے تحفظ کے لیے فوج بھیجنے پرغور

ایران سے خطرات ، سعودی عرب کی مدد کے پا بند ہیں،امریکا وجود - بدھ 23 اکتوبر 2019

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ ان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اس ملاقات میں خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایرانی سرگرمیوں پر بات چیت کی گئی۔ ایران کی طرف سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکا سعودی عرب کی امداد کا پابند ہے ۔

ایران سے خطرات ، سعودی عرب کی مدد کے پا بند ہیں،امریکا

کرد فورسز کا سرحدی علاقے میں مجوزہ محفوظ زون خالی کرنے کا اعلان وجود - بدھ 23 اکتوبر 2019

کرد فورسز نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے شام کے ترکی کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں مجوزہ محفوظ زون کو خالی کردیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد فورسز کے کمانڈر نے امریکا کو مطلع کیا کہ انھوں نے جنگ بندی سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا کردیا ہے ۔تاہم ترکی نے فوری طور پر ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے ۔ترکی نے 9اکتوبر کو شام کے سرحدی علاقے میں امریکا اور یورپ کی حمایت یافتہ کرد فورسز کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔اس کا مقصد کرد ملیشیا کوشام کے ...

کرد فورسز کا سرحدی علاقے میں مجوزہ محفوظ زون خالی کرنے کا اعلان

شام میں ترک فوجی آپریشن کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا جائزہ وجود - بدھ 23 اکتوبر 2019

کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال ممانعت پر کام کرنے والی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیوکے ماہرین شام میں حالیہ ایام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے دوران کردوں کے خلاف ممنوعہ آتشیں اسلحے اور کیمیائی ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال کی الزامات کا جائزہ لینا شروع کردیا ۔ عالمی تنظیم کے ماہرین نے شمالی شام میں غیر روایتی اور ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کے واقعات کے بارے میں معلومات جمع کررہے ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تنظیم نے ایک ای میل میں بتایا کہ ماہرین شمالی شام میں کردوں کے خلاف غی...

شام میں ترک فوجی آپریشن کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا جائزہ

امریکا نے خاموشی سے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کم کر دی وجود - بدھ 23 اکتوبر 2019

امریکا نے خاموشی سے افغانستان سے اپنے دو ہزار امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کی ہے، یہ تعداد میں کمی ایک سال کے دوران ہوئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سکاٹ ملر نے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کیساتھ پریس کانفرنس کے دوران کیا، امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر گزشتہ روز افغانستان کے دورہ پر پہنچے تھے۔ نیوز کانفرنس کے دوران افغانستان کے قائم مقام وزیرِ دفاع اور وزارت دفاع کے اعلیٰ عہدے دار بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی اس با...

امریکا نے خاموشی سے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کم کر دی

جاپان میں نئے بادشاہ کی تقریب تاج پوشی وجود - بدھ 23 اکتوبر 2019

جاپان میں نئے بادشاہ ناروہیتو کی تقریب تاج پوشی کا انعقاد کیا گیا، جس کے بعد اب ناروہیتو باقاعدہ تخت نشین ہوگئے ۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جاپان میں بادشاہ ناروہیتو کی تقریب تاجپوشی کی گئی، جہاں بادشاہ کو تاج پہنا دیا گیا ۔تاج پوشی کی تقریب میں 180سے زائد ممالک سے رہنما شریک تھے ۔85سالہ جاپانی بادشاہ اکی ہیتو نے اپریل میں طبیعت کی خرابی کی وجہ سے تخت چھوڑا تھا، جس کے بعد ولی عہد ناروہیتو نے یکم مئی کو نئے بادشاہ کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔جاپان میں بادشاہ تادم مرگ تخت...

جاپان میں نئے بادشاہ کی تقریب تاج پوشی

سعودی عرب سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی شرح 40فیصد ہوگئی وجود - بدھ 23 اکتوبر 2019

سعودی عرب سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی شرح 40فیصد ہوگئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی حکومت نجی کمپنیوں اور اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں میں بھی خواتین کو ملازمت دلانے اور کلیدی عہدوں پر فائز کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے ۔ وزارت شہری خدمات کی سیکرٹری ھند بنت خالد الزاہد نے بتایا کہ سرکاری اداروں میں ملازم خواتین کی شرح 39 فیصد سے بڑھ کر 40.3 فیصد تک پہنچ گئی ،خواتین اور مردوں کے درمیان رتبے کے حوالے سے موجود خلیج 50.3 فیصد سے گھٹ کر 37.8 فیصد رہ گئی ۔ یہ اعداد و شم...

سعودی عرب سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی شرح 40فیصد ہوگئی

برطانوی خاتون کے ہاں 22ویں بچے کی پیدائش متوقع وجود - بدھ 23 اکتوبر 2019

لندن (این این آئی )برطانیہ کی سب سے بڑی فیملی نے ننھے مہمان کی آمد کیلئے تیاریاں مکمل کرلی ہیں، جہاں ان کے گھر 22 ویں بچے کی پیدائش ہونے والی ہے۔برطانوی ٹی وی کے مطابق سیو اور نوئل کی جانب سے الڑا سانڈ کی تصویر کے ساتھ یو ٹیوب پر ویڈیو میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے، کہ ان کے ہاں 22 ویں بچے کی پیدائش ہونے والی ہے اور اس دفعہ ان کہ ہاں بیٹا پیدا ہوگا۔والدہ سیو کی عمر 44 ، جب کہ والد نیوئل کی عمر 48 سال ہیں۔اپنے ہاتھ میں الٹرا سانڈ کی تصویر لیئے ویڈیو میں سیئو کا کہنا تھا کہ ک...

برطانوی خاتون کے ہاں 22ویں بچے کی پیدائش متوقع

شہزادہ ہیری اور ولیم میں دراڑیں ،ایک ساتھ رہنے کا بھی عندیہ دیدیا وجود - بدھ 23 اکتوبر 2019

برطانوی شہزادہ ہیری نے تسلیم کیا ہے کہ وہ اور انکے بھائی ولیم مختلف راہوں پر گامزن ہیں تاہم ہم دونوں بھائیوں کے درمیان اچھے دن بھی ہوتے ہیں اور بُرے بھی ۔ ہم بھائی ہیں، اور ہمیشہ بھائی رہیں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈاکومینٹری میں شہزادہ ہیری نے اپنے بھائی شہزادہ ولیم کے ساتھ تعلقات میں ڈراڑیں پڑنے کے حوالے سے سوالوں کے جواب دیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کے بھائی شہزادہ ولیم مختلف راہوں پر گامزن ہیں۔ایک سوال کے جواب میں اپنی ماں لیڈی ڈیانا کا تذکرہ کرتے ہوئے شہزادہ ہ...

شہزادہ ہیری اور ولیم میں دراڑیں ،ایک ساتھ رہنے کا بھی عندیہ دیدیا

بھارتی سیاستدانوں نے اپنے آرمی چیف کے دعوے پر سوال اٹھا دیے وجود - پیر 21 اکتوبر 2019

بھارتی سیاستدانوں نے اپنے ہی آرمی چیف کے دعوے پر سوال اٹھا دیے ۔کانگریس لیڈر اکلیش سنگھ نے کہا ہے کہ مودی سرکا ر کے سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے انتخابات میں ہی نظر آتے ہیں،لگتا ہے اب سرجیکل اسٹرائیکس پر ہی راج نیتی چلے گی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر اکلیش سنگھ نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیکس ہمیشہ انتخابات سے پہلے ہی کیوں ہوتی ہیں ؟انہوں نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوئوں کا ایک معمول بن گیا ہے ،لگتا ہے اب سرجیکل ا سٹرائیکس پر ہی راج نیتی چلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ...

بھارتی سیاستدانوں نے اپنے آرمی چیف کے دعوے پر سوال اٹھا دیے

ترکی میں ای سگریٹ کی اجازت نہیں دوں گا،ترک صدر وجود - پیر 21 اکتوبر 2019

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ میں کبھی بھی الیکٹرانک (ای) سگریٹ کی کمپنی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ اپنی مصنوعات ترکی میں فروخت کریں۔ استنبول میں تمباکو نوشی کے حوالے سے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر تجارت کو حکم دیا ہے کہ ترکی میں الیکٹرانک سگریٹ کی اجازت نہیں دینی کیوں کہ اس زہر سے تمباکو کی کمپنیاں امیر ہوتی جارہی تھیں۔عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں ترکی کی آبادی کے 27 فیصد 15 سالہ نوجوان سگریٹ پیتے تھے ، جبکہ 2010 میں 31...

ترکی میں ای سگریٹ کی اجازت نہیں دوں گا،ترک صدر

لبنان،عوامی احتجاج کے بعد وزیراعظم سعدا لحریری معاشی اصلاحات پر رضا مند وجود - پیر 21 اکتوبر 2019

لبنان میں عوامی احتجاج کے بعد وزیراعظم سعدا لحریری معاشی اصلاحات پر راضی ہو گئے ، چند حکومتی وزرا نے استعفے بھی دیئے ۔ ابھی بھی ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر موجود ہیں۔وزیراعظم سعد الحریری نے حکومتی اتحادیوں کے ساتھ معاشی بحران کو کم کرنے کے لئے اصلاحات کے ایک پیکیج پر اتفاق کیا ہے ، 4 حکومتی اراکین کے استعفیٰ کے باوجود مظاہرے جاری ہیں۔دارالحکومت بیروت میں احتجاج کے دوران مظاہرین نے قومی پرچم اٹھا رکھے تھے ۔ رات بھر ہونے والے احتجاج میں آتش بازی بھی کی گئی، مظاہرین سڑک...

لبنان،عوامی احتجاج کے بعد وزیراعظم سعدا لحریری معاشی اصلاحات پر رضا مند

مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار