وجود

... loading ...

وجود

سگمنڈ فرائیڈکے کام پر اک نظر

پیر 19 مارچ 2018 سگمنڈ فرائیڈکے کام پر اک نظر

بدقسمتی سے ہمارے معاشرہ میں جب کوئی انسان ہاتھ پائوں ، بولنے یا ہلنے سے معذور ہوجاتا ہے تو ایک زندہ لاش بن جاتا ہے۔ ا سے جینے کا حوصلہ نہیں دیا جاتا ،بلکہ اسے تاریکی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ لیکن ا سٹیفن ہاکنگ کی کہانی قطعاً مختلف ہے۔ اس نے اپنی معذوری کو کمزوری نہیں بننے دیا۔ وہ اتنے بلند عزم و ہمت کا مالک ہوگیا کہ صرف پلکوں کے سہارے 53 برس زندہ رہا۔ اپنی اسی ایک نعمت کے سہارے سائنس پر کتابیں لکھتا اور لیکچر دیتا رہا۔اس کے ساتھیوں اور معاشرے نے بھی اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور ہمت بندھائی۔اس نے ہزاروں افراد کے سامنے کمپیوٹر کے ذریعے لیکچر دیتے ہوئے تاریخی جملہ بولا کہ میرے جیسا انسان جو ہر لحاظ سے معذور ہے ، صرف پلکوں کے ذریعے اتنا کام کرسکتا ہے توآپ کے تو ہاتھ پائوں ہیں ، چل پھر سکتے ہیں ، بول سکتے ہیں ، اتنے اعضا کے مالک ہیں تو آپ کیوں نہیں بڑے کام کرسکتے۔کرسکتے ہیں بس عزم و ہمت ہونی چاہیے۔قدرت نے اسے ایسی ذہانت سے نوازا کہ وہ طبیعات کے شعبہ میں انقلابی کام کرتا رہا۔ اس کا سب سے اہم کام بلیک ہول کی دریافت تھی۔ جس سے ریڈی ایشن کا اخراج ہوتا ہے ، اسے اسٹیفن ہاکنگ کے نام سے ہاکنگ ریڈی ایشن کا نام دیا گیا۔

اسٹیفن ہاکنگ صرف 21 سال کی عمر میں ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہوگیا جس میں انسان کے پٹھے آہستہ آہستہ کمزور ہونے کے بعد ناکارہ ہوجاتے ہیں اور وہ 1965 ء میں ویل چیئر پرچلا گیا۔ پھر اپنی موت تک اس نے ساری زندگی ویل چیئر پر ہی گزاری۔اس کی کتابیں ’’ اے بریف ہسٹری آف ٹائم، بلیک ہول اینڈ بے بی یونیورس، دی یونیورس ان ا ے نٹ شیل، دی گرینڈ ڈیزائن‘‘ سب سے زیادہ فروخت ہونیوالی کتابیں رہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کتابیں اس نے ویل چیئر پر معذوری کی کیفیت میں لکھیں۔ اسے کئی ایوارڈز دیئے گئے ، بڑی بڑی تقاریب میں اس کے کام کو سراہا گیا۔ فلکیاتی طبیعات کے ماہر اس برطانوی سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کے مطابق زمین کے قدرتی ذرائع کا بے دریغ استعمال اور انسان کے ہاتھوں ماحول کی تباہی کے علاوہ دیگر کئی خطرات ایسے ہیں جن کے ہاتھوں مستقبل میں نسل انسانی مکمل طور پر فنا ہوسکتی ہے۔ہاکنگ نے ’بگ تھنک‘نامی ویب سائٹ کو ایک انٹرویو کے دوران انسانی بقا کے لئے مشورہ دیتے ہوئے کہا: ’’نسل انسانی کوتمام انڈے ایک ہی ٹوکری میں نہیں رکھنے چاہئیں یعنی انسان کو محض ایک ہی سیارے تک محدود نہیں رہنا چاہیے‘‘۔ ہاکنگ کا مزید کہنا تھا: ’’لمبے عرصے تک اپنی بقا کے لئے ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم صرف زمین تک ہی خود کو محدود نہ رکھیں بلکہ خلا اور دیگر مقامات پر بھی اپنی آبادیاں بنائیں‘‘۔

ہاکنگ نے خبردار کیا کہ بنی نوع انسان مستقبل میں ایسے بہت سے خطرات کا سامنا کرے گی جس سے اس کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے بطور مثال 1962ء میں کیوبا میں میزائلوں کی تنصیب کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کو پیش کیا۔ سرد جنگ کے دوران سابق سوویت یونین کی جانب سے امریکی ساحلوں کے قریب کیوبا میں ایٹمی میزائلوں کی تنصیب کی وجہ سے دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی تھی۔ہاکنگ نے مزید کہا: ’’ہم اپنی تاریخ کے مزید خطرناک دورانیے میں داخل ہورہے ہیں۔ انسانی آبادی میں اضافہ اور زمین کے قدرتی ذرائع کا استعمال دونوں ہی خطرناک رفتار سے جاری ہیں۔ دوسری طرف اپنے ماحول کو اچھے اور برے دونوں مقاصد کے لئے بدلنے کی ہماری صلاحیت میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔‘‘ اپنے بیان میں ترمیم کرتے ہوئے مزید کہا: ’’اگر اگلی صدی کے بعد بھی ہم اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ہمارا مستقبل خلا ہے۔ اور اسی لیے میں انسان بردار خلائی پروازوں کے حق میں ہوں۔‘‘پھر ساتھ ہی ہاکنگ نے یہ بھی خبردار کیا کہ انسان کو حتی الوسع کوشش کرنی چاہیے کہ اس کا سامنا کسی خلائی مخلوق یعنی ایلینز سے نہ ہو، کیونکہ ان کے خیال میں اس کے نتائج انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

اسٹیفن ہاکنگ کی جانب سے کی جانے والی آخری نصیحت میں انھوں نے کہا تھا کہ انسانوں کو کسی بھی اجنبی مخلوق سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرنے چاہیے۔ ایک ڈاکومنٹری میں سٹیفن ہاکنگ نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انسانوں کے علاوہ یقیناً کوئی نہ کوئی مخلوق کہیں ضرور آباد ہے۔ ان کا موقف تھا کہ ایسی مخلوق بنی نوع انسان کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی مخلوق انسانوں سے زیادہ

چالاک ہوسکتی ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ زمین پر آکر ہمارے وسائل چھین کر لے جائے۔ ا سٹیفن ہاکنگ کے مطابق اگر کوئی ایسی مخلوق زمین پر آتی ہے تو انسانوں کے ساتھ وہی ہوگا جو کولمبس کے امریکا دریافت کرنے کے بعد وہاں کی مقامی آبادی کے ساتھ ہوا تھا، جو یقیناً اچھا نہیں تھا۔ خیال رہے کہ سائنسدانوں کی جانب سے خلا میں ایسے مشن بھیجے گئے ہیں جن پر انسانوں کی تصاویر کے ساتھ زمین تک پہنچنے کے نقشے بھی تھے۔ اس کے ساتھ ممکنہ طور پر دوسرے سیاروں پر آباد مخلوق سے رابطہ کرنے کی نیت سے خلا میں ریڈیو بیمز بھی بھیجی گئی ہیں۔ پروفیسر ہاکنگ کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سوچنا کہ کوئی اور مخلوق بھی کہیں آباد ہے بالکل منطقی ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ کیسی ہے۔ ا سٹیفن ہاکنگ کے معاشرے نے اس کی ذہانت کا فائدہ اٹھایا اور اسے تنہائی کے کنویں میں پھینکنے اور بے کارچیز سمجھنے کی بجائے اس کی سائنسی معلومات سے مستفید ہوا اور جو معلومات اس کے ذہن میں تھیں وہ کمپیوٹر کے ذریعے نکلوا لیں۔ وہ پلکوں کے ذریعے کمپیوٹر پر اپنے نظریات اور معلومات منتقل کرتا اور کمپیوٹر ٹائپ کرتا جاتا ، اسی طرح وہ لیکچر بھی دیتاتھا۔ اس کے ساتھی سائنسدانوں نے اس کے لئے نہ صرف مخصوص کمپیوٹرائزڈ ویل چیئر تیار کررکھی تھی بلکہ اس کی بات انسانوں تک پہنچانے کے لئے ایک انتہائی جدید کمپیوٹر اس کے خیالات کو آواز میں تبدیل کردیتاتھا۔ آج ہمیں بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرے میں بھی کتنے ایسے معذور افراد ہیں جنہیں ہم بے کار سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ہو سکتا ہے کہ قدرت نے انہیں کسی اعلیٰ صلاحیت سے نوازا ہو۔ اگر ہم ان کی تربیت کریں اور سہولیات فراہم کریں تو ہوسکتا ہے وہ عام انسانوں سے بھی زیادہ مفید ثابت ہوں۔


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر