... loading ...
بزمِ جہانِ حمد و نعت کا طرحی حمدیہ مشاعرہ
بزمِ جہانِ حمد کے زیرِ اہتمام طرحی حمدیہ سلسلے کا ماہانہ مشاعرہ گزشتہ دنوں مدرسۂ حضرت علیؓ لیاقت آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت خیام العصر محسن اعظم محسن ملیح آبادی نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی آرٹس کونسل گورننگ باڈی کے رکن اور ممتاز افسانہ نگار رضوان صدیقی تھے۔ نظامت کے فرائض جناب طاہر سلطانی نے ادا کیے۔ تلاوت اور نعتِ رسول کی سعادت (وزیر اعظم ایوارڈ یافتہ قاری) حافظ نعمان طاہر نے حاصل کی۔ اس روح پرور حمدیہ مشاعرے کا آغاز طاہر سلطانی نے اپنے طرحی کلام سے کیا جب کہ عبید اللہ ساگر، اکرام الحق اورنگ، شارق رشید، جمال احمد جمال، محمد نعیم انصاری، عارف زیبائی، حامد علی سید، پروفیسر اقبال شاہین، آسی سلطانی، حاجی یوسف اسمٰعیل، نجیب قاصر، تنویر سخن، غلام حیدر پرواز، محمد وسیم اور ڈاکٹر عقیل رشید لکھنوی نے بھی اپنا طرحی حمدیہ کلام پیش کیا۔ صاحبِ صدر نے اپنے حمدیہ کلام کے بعد صدارتی خطاب میں حمدیہ مشاعروں کے سلسلے میں طاہر سلطانی کی کوششوں کو سراہا ۔اُنھوں نے کہا یہ ایک نیک اور مقصدی کام ہے جسے طاہر سلطانی تسلسل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مہمانِ خصوصی رضوان صدیقی نے اپنے خطاب میں ایک تسلسل کے ساتھ طرحی حمدیہ مشاعروں کے انعقاد پر طاہر سلطانی کو مبارک باد دی آپ نے کہا: یہ بڑا اور نیک کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو آیندہ بھی ایسی محفلوں میں شرکت کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔ غوثیہ مسجد کے امام صاحب کی دعائے خیر کے بعد طعام پر یہ حمدیہ مشاعرہ اختتام پزیر ہوا جس میں میجر عزیز شکیل احمد اور دیگر سامعین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی جو ذوق و شوق کے ساتھ تادیر اس حمدیہ مشاعرے میں موجود رہے۔
انجمن ترقی اُردو پاکستان کے زیرِ اہتمام بیرونِ ممالک سے آئے ہوئے شبی فاروقی، یونس ہمدم (امریکا) اورپروفیسر شاہدہ حسن (کینیڈا) کے اعزاز میں تقریبِ ملاقات
لسانیات کے جدید نظریہ کے مطابق زبان ایک سماجی ضرورت ہے۔ زبان کا سماج سے رشتہ مستحکم ہوتا ہے اور آج کی تقریبات جیسے اجتماعات سے مل بیٹھنے کی سبیل نکلتی ہے۔ شبی فاروقی، شاہدہ حسن اور یونس ہمدم ایسی شخصیات ہیں جنھوں نے ساری زندگی کام کیا ہے اور ان کا گراف اوپر سے اوپر جا رہا رہا ہے وہ سب ہماری نگاہ میںہے۔ انھوں نے بیرونِ ملک رہ کر بھی تخلیقی ضرورت کو سنجیدگی سے جاری رکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سحر انصاری نے انجمن ترقی اُردو پاکستان کے زیرِ اہتمام بہ تعاون محمد ابراہیم خان، صدر ہیپی ہوم المنائی بیرونِ ممالک سے آئے ہوئے شبی فاروقی، یونس ہمدم (امریکا) اور شاہدہ حسن (کینیڈا) کے اعزاز میں تقریبِ ملاقات کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ شبی فاروقی سے قلبی تعلق رہا ہے۔ شاہدہ حسن نے اپنے کام سے بہتر نام پیدا کیا ہے اور یونس ہمدم مقبول شاعر ہیں اب نیوجرسی میں ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اخباری کالم لکھ رہے ہیں۔ انھوں نے سامعین کے اصرار پر اپنی چند غزلیں اور نظمیں بھی سنائیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹرپیرزادہ قاسم نے کہا کہ وقت اور زمانے کے ساتھ بعض لمحے باعثِ اعزاز ہو جاتے ہیں جس سے تقویت ملتی ہے اور پریشانیاں بھی کم ہوجاتی ہیں۔ شبی فاروقی، شاہدہ حسن اور یونس ہمدم کے لیے انجمن کی اس تقریب ملاقات میں آنا میرے لیے باعث سعادت ہے۔ یہ شخصیات دلوں سے بہت قریب ہیں بلکہ ہم میں سمائی ہوئی ہیں۔ انجمن کا اپنے قیام سے اب تک کا سفر تاریخ کا روشن حصہ ہے اور آج یہ سفر اپنے معنوی لحاظ سے آگے بڑھ ہا ہے۔ صدر انجمن ذوالقرنین جمیل، ڈاکٹر فاطمہ حسن، پروفیسرسحر انصاری نے اپنے آپ کو اس کے لیے وقف کر دیا ہے۔ آپ یقینا ان کی محنت شاقہ ’’اُردو باغ‘‘ کی شکل میں دیکھ کر تحسین کریں گے۔ اب ہماری بھی ترجیحات ہونی چاہییں کہ ادب، اُردو زبان، اپنی ثقافت اور اعلیٰ اقدار کے لیے خاص جدوجہد کریں اور نئی نسل کو اس سے جوڑدیں۔ انھوں نے اپنا تازہ کلام نذرِ سامعین کیا۔ اس سے قبل ڈاکٹر فاطمہ حسن نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان تینوں شخصیات کا تعلق اس شہر کے نام سے وابستہ ہے یہ وہ چہرے ہیں جو بیرونِ ملک رہ کر بھی لوٹ کر واپس آتے ہیں۔ ان کا ایک معیار ہے انھوں نے شبی فاروقی، شاہد حسن یونس ہمد م کا مختصر تعارف بھی کرایا اور انجمن ترقی اُردو پاکستان کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ صاحب اعزاز شبی فاروقی نے اپنے مختصر تعارف میں بتایا کہ ساتویں جماعت سے شاعری کر رہا ہوں اور تمام اصناف سخن میں شاعری کی ہے کتنا کامیاب ہوں میں نہیں جانتا۔ چھ ماہ امریکا اور چھ ماہ اپنے وطن پاکستان میں گزارتا ہوں۔ انھوں نے بھی اپنا خوب صورت کلام سنایا۔ پروفیسر شاہدہ حسن نے کہا دل کانپتا ہے کہ جب کوئی کہتا ہے کہ میں کینیڈا سے آئی ہوئی ہوں۔ یہ ملک اور یہ شہر میرا بھی ہے زندگی میں مہاجرت بڑا دکھ ہوتا ہے۔ فاطمہ حسن اور میرا ساتھ زمانۂ طالب علمی سے ہے میں محبتوں کی قائل بلکہ اس کی اسیر ہوں۔ انھوں نے ہجرت کے موضوع پر ایک فارسی نظم کا اُردو ترجمہ سنایا اور اپنی چند نظمیں اور غزلیں سنا کر خوب داد سمیٹی۔ یونس ہمدم نے اپنے ابتدائی شعری اور فلمی گیت نگاری کے سفر کے بارے میں دل چسپ واقعات سنائے اور اپنی تازہ غزلیں سنا کر بھی داد وصول کی۔ تقریب سے صدرِ انجمن ذوالقرنین جمیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات میں آ کر میں بہت پیچھے چلا جاتا ہوں اور آج والد صاحب جمیل الدین عالی بہت یاد آ رہے ہیں۔ یونس ہمدم کو ریڈیو کے زمانے سے جانتا ہوں۔ شبی فاروقی اور شاہدہ حسن کو خوب سنا ہے۔ میں کوئی ادیب و شاعر نہیں لیکن انجمن آ کر لکھنا شروع کر دیا ہے جلد ہی انگریزی میں کتاب آ رہی ہے جس میں چونکا دینے والے انکشافات ہوں گے اور اب اُردو میں بھی لکھنا شروع کروں گا انھوں نے بتایا کہ اب ایسی تقاریب اُردو باغ کے وسیع اور جدید ہال میں منعقد ہوں گی۔ تقریب کے آغاز میں پروفیسر ہارون رشید نے مرحومین منو بھائی، ساقی فاروقی اور اداکار و شاعر قاضی واجد کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ ہیپی ہوم المنائی کے صدر محمد ابراہیم نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جب کہ تقریب کی نظامت کے فرائض عنبریں حسیب عنبر نے انجام دیے۔ آخر میں مہمانوں کو تحائف اور انجمن کی کتابوں کا تحفہ پیش کیا گیا۔
کراچی جیم خانہ کلب کے زیر اہتمام ادبی شام
معروف شاعرہ ذکیہ غزل کچھ عرصے سے کراچی میں ہیں، ان کے اعزاز میں محفلیں سجائی جا رہی ہیں۔ اب تک کئی محفلیں ان کے لیے منعقد ہو چکی ہیں، جس میں کراچی جیم خانہ کی تقریب بھی اہمیت کی حامل تھی۔ ادیبوں، شاعروں کے علاوہ ذکیہ غزل کے مداحوں کی بھی اچھی تعداد موجود تھی۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کی جب کہ مہمان خصوصی سابق سینیٹر عبدالحسیب خان تھے۔ مقررین میں ذکیہ غزل کے حوالے سے گفتگو کرنے والے ادیب و شعرا و شاعرات نے ذکیہ غزل کی شخصیت، شاعری اور مختلف حوالوں سے گفتگو کی۔ مقررین میں ڈاکٹر شاداب احسانی، وضاحت نسیم، جاوید صبا، اختر سعیدی اور ڈاکٹر اوجِ کمال شامل تھے۔ راشد نور نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ہاں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جیم خانہ لائبریری و ادبی کمیٹی کے سینئر ممبر پروفیسر ایس بی حسن نے استقبالیہ اظہار خیال کیا لیکن انھوں نے ویلکم ایڈریس کو رسمی گفتگو قرار دے کر ذکیہ غزل کی شاعری پر بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ ذکیہ غزل کی شاعری میں کشش، ندرت اور نیا پن شامل ہے۔
اختر سعیدی مائیک پر آئے تو بتانے لگے کہ ذکیہ غزل کا دور طالب علمی ہنگامہ خیز تھا۔ انھوں نے کراچی میں ’’اظہار‘‘ کو قائم کیا اور 4 ضرورت مند شاعروں کا ماہانہ وظیفہ مقر رکیا۔ ان کی آرزوئوں اور امنگوں کا مرکز پاکستان ہی ہے۔ ڈاکٹر اوجِ کمال نے کہا کہ جن شعرا کا طوطی بولتا تھا ان میں میرے والد حمایت علی شاعر، احمد فراز، پیرزادہ قاسم، جون ایلیا وغیرہ شامل تھے۔ ایسے میں نئی شاعرہ ذکیہ غزل اس منظر نامے میں داخل ہوئی ایسے میں کسی شاعرہ کا جگہ بنا لینا آسان نہ تھا اور یوں ذکیہ غزل نے نامور شاعروں کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ۔جاوید صبا نے کہا کہ ذکیہ غزل نے اپنا مقام بنا لیا ہے اور وہ بھلا دینے والی شاعرہ نہیں ہے۔
وضاحت نسیم نے بھی ایک مضمون پڑھا اور بتایا کہ شاعری کے ساتھ ذکیہ غزل کی شخصیت کو بھی سراہا جاتا ہے وہ ہلکی پھلکی دل داریوں کے ساتھ اپنا کمال بھی رکھتی ہے۔ ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا: ان کی شاعری میں سلاست اور روانی ہے، جب بھی وہ کراچی آئیں گی انھیں اہمیت حاصل رہے گی۔ اُردو زبان اور اُردو شاعری آگے بڑھ رہی ہے۔
اب باری تھی کلام شاعر بہ زبان شاعر کی، ذکیہ غزل نے کلام سنانے سے قبل کہا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرا دورہ کراچی میں ہو اور جیم خانہ میں میرا پروگرام نہ ہو۔ بہت سی تنظیموں اور اداروں نے میرے اعزاز میں پروگرام ترتیب دیے ہیں، اس موقع پر ذکیہ غزل نے بیشتر تازہ کلام سنایا اور خوب داد لی۔ تحت کے ساتھ ترنم کا بھی جادو جگایا۔
بعد ازاں ذکیہ غزل کا فرمائشی پروگرام بھی چلتا رہا، مہمانِ خصوصی عبدالحسیب خان آئے تو کہنے لگے کہ بڑے وقار اور تہذیب کے ساتھ ذکیہ غزل نے اپنا سفر شروع کیا ہے، انتہا مربوط اور خوب صورت اشعار کی ادائیگی میں کمال رکھنے والی شاعرہ ہیں۔ وہ ترنم اور تحت اللفظ میں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ آخر میں صدر تقریب ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کہا کہ ذکیہ غزل شعری سفر کی دنیا میں آئیں اور خود کو رچا بسا لیا۔ ان کے عاشقانہ اور دلیرانہ موضوعات بھی ہو سکتے تھے لیکن ذکیہ غزل نے لمحۂ موجود میں موجود رہ کر اپنے وقت کی گواہی کو ریکارڈ کرایا ہے۔
نیشنل بک فائونڈیشن کے 2018ء
کلینڈر میں نعتوں کی اشاعت
نیشنل بک فائونڈیشن کے تحت سال 2018ء کا کلینڈر ایک قابل ذکر دستاویزی حیثیت رکھتا ہے، جس میں پاکستان کے نامور اور معروف شعرا کی نعتیں شامل اشاعت کی گئی ہیں۔ ہر تاریخ کے صفحے پر ایک شاعر کی نعت شایع کی گئی ہے۔ اس کلینڈر کی ترتیب میں ہمارے ہر دل عزیز شاعر اور دوست محبوب ظفر کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے نعتوں کا انتخاب کیا ہے جس میں زیادہ تر معروف شعراکی مشہور نعتیں منتخب کی گئی ہیں،(راقم الحروف ’’شاعرعلی شاعر‘‘بھی ادب دوست جناب محبوب ظفر کے شکرگزار ہیں کہ انھوں نے اس نعت کلینڈر میں ان کی نعت بھی شامل کی) یہ ایک منفرد اور مشکل کام تھا جسے این بی ایف کے تحت کیا گیا۔
میر عثمان علی خان کی یاد میں بہادر یار جنگ
اکادمی کے زیراہتمام محفل مشاعرہ
بہادر یار جنگ اکیڈمی کے زیر اہتمام خاصے عرصے بعد ایک محفل مشاعرہ منعقد کی گئی جو نواب میر عثمان علی خان دکن کی یاد میں تھی۔ صدارت ممتاز شاعر پروفیسر سحر انصاری کی تھی جب کہ مہمان خصوصی ذکیہ غزل تھیں۔ مشاعرے میں معروف شعرا اور شاعرات نے شرکت کی۔ ابتدا میں خواجہ قطب الدین سیکرٹری بہادر یار جنگ نے مہمان شعرا سے اظہار تشکر کیا اورپروفیسر سحر انصاری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مہمان خاص ذکیہ غزل کی شاعری کو سراہا۔ یہ ایک اچھا مشاعرہ تھا جس میں شعرا کی تعداد زیادہ نہ تھی لیکن سامعین اہلِ ذوق موجود تھے۔ جو شعرا شریک سخن ہوئے ان میں مذکورہ بالا کے علاوہ پروفیسر منظر ایوبی (مہمان توقیری)، فراست رضوی، غالب عرفان، تبسم صدیقی، سعید آغا، حکیم ناصف، ڈاکٹر نزہت عباسی، سحر علی، حامد علی سید، ریحانہ بھٹو اور دیگر شامل تھے۔ پروفیسر وسیم الدین وسیم بھی پیش پیش رہے۔ اس موقع پر فراست رضوی نے نواب میر عثمان کو خراج تحسین پیش کیا اور اپنی خصوصی نظم پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج نظم کی محفل ہے تاہم شعرا و شاعرات نے غزلیں بھی پڑھیں ذکیہ غزل نے دوہے بھی سنائے ان کو فرمائش کے ساتھ بھی سنا گیا۔
ֱ됀
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...