وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 18 مارچ 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

بزمِ جہانِ حمد و نعت کا طرحی حمدیہ مشاعرہ
بزمِ جہانِ حمد کے زیرِ اہتمام طرحی حمدیہ سلسلے کا ماہانہ مشاعرہ گزشتہ دنوں مدرسۂ حضرت علیؓ لیاقت آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت خیام العصر محسن اعظم محسن ملیح آبادی نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی آرٹس کونسل گورننگ باڈی کے رکن اور ممتاز افسانہ نگار رضوان صدیقی تھے۔ نظامت کے فرائض جناب طاہر سلطانی نے ادا کیے۔ تلاوت اور نعتِ رسول کی سعادت (وزیر اعظم ایوارڈ یافتہ قاری) حافظ نعمان طاہر نے حاصل کی۔ اس روح پرور حمدیہ مشاعرے کا آغاز طاہر سلطانی نے اپنے طرحی کلام سے کیا جب کہ عبید اللہ ساگر، اکرام الحق اورنگ، شارق رشید، جمال احمد جمال، محمد نعیم انصاری، عارف زیبائی، حامد علی سید، پروفیسر اقبال شاہین، آسی سلطانی، حاجی یوسف اسمٰعیل، نجیب قاصر، تنویر سخن، غلام حیدر پرواز، محمد وسیم اور ڈاکٹر عقیل رشید لکھنوی نے بھی اپنا طرحی حمدیہ کلام پیش کیا۔ صاحبِ صدر نے اپنے حمدیہ کلام کے بعد صدارتی خطاب میں حمدیہ مشاعروں کے سلسلے میں طاہر سلطانی کی کوششوں کو سراہا ۔اُنھوں نے کہا یہ ایک نیک اور مقصدی کام ہے جسے طاہر سلطانی تسلسل کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مہمانِ خصوصی رضوان صدیقی نے اپنے خطاب میں ایک تسلسل کے ساتھ طرحی حمدیہ مشاعروں کے انعقاد پر طاہر سلطانی کو مبارک باد دی آپ نے کہا: یہ بڑا اور نیک کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو آیندہ بھی ایسی محفلوں میں شرکت کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔ غوثیہ مسجد کے امام صاحب کی دعائے خیر کے بعد طعام پر یہ حمدیہ مشاعرہ اختتام پزیر ہوا جس میں میجر عزیز شکیل احمد اور دیگر سامعین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی جو ذوق و شوق کے ساتھ تادیر اس حمدیہ مشاعرے میں موجود رہے۔

انجمن ترقی اُردو پاکستان کے زیرِ اہتمام بیرونِ ممالک سے آئے ہوئے شبی فاروقی، یونس ہمدم (امریکا) اورپروفیسر شاہدہ حسن (کینیڈا) کے اعزاز میں تقریبِ ملاقات

لسانیات کے جدید نظریہ کے مطابق زبان ایک سماجی ضرورت ہے۔ زبان کا سماج سے رشتہ مستحکم ہوتا ہے اور آج کی تقریبات جیسے اجتماعات سے مل بیٹھنے کی سبیل نکلتی ہے۔ شبی فاروقی، شاہدہ حسن اور یونس ہمدم ایسی شخصیات ہیں جنھوں نے ساری زندگی کام کیا ہے اور ان کا گراف اوپر سے اوپر جا رہا رہا ہے وہ سب ہماری نگاہ میںہے۔ انھوں نے بیرونِ ملک رہ کر بھی تخلیقی ضرورت کو سنجیدگی سے جاری رکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سحر انصاری نے انجمن ترقی اُردو پاکستان کے زیرِ اہتمام بہ تعاون محمد ابراہیم خان، صدر ہیپی ہوم المنائی بیرونِ ممالک سے آئے ہوئے شبی فاروقی، یونس ہمدم (امریکا) اور شاہدہ حسن (کینیڈا) کے اعزاز میں تقریبِ ملاقات کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ انھوں نے کہا کہ شبی فاروقی سے قلبی تعلق رہا ہے۔ شاہدہ حسن نے اپنے کام سے بہتر نام پیدا کیا ہے اور یونس ہمدم مقبول شاعر ہیں اب نیوجرسی میں ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اخباری کالم لکھ رہے ہیں۔ انھوں نے سامعین کے اصرار پر اپنی چند غزلیں اور نظمیں بھی سنائیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹرپیرزادہ قاسم نے کہا کہ وقت اور زمانے کے ساتھ بعض لمحے باعثِ اعزاز ہو جاتے ہیں جس سے تقویت ملتی ہے اور پریشانیاں بھی کم ہوجاتی ہیں۔ شبی فاروقی، شاہدہ حسن اور یونس ہمدم کے لیے انجمن کی اس تقریب ملاقات میں آنا میرے لیے باعث سعادت ہے۔ یہ شخصیات دلوں سے بہت قریب ہیں بلکہ ہم میں سمائی ہوئی ہیں۔ انجمن کا اپنے قیام سے اب تک کا سفر تاریخ کا روشن حصہ ہے اور آج یہ سفر اپنے معنوی لحاظ سے آگے بڑھ ہا ہے۔ صدر انجمن ذوالقرنین جمیل، ڈاکٹر فاطمہ حسن، پروفیسرسحر انصاری نے اپنے آپ کو اس کے لیے وقف کر دیا ہے۔ آپ یقینا ان کی محنت شاقہ ’’اُردو باغ‘‘ کی شکل میں دیکھ کر تحسین کریں گے۔ اب ہماری بھی ترجیحات ہونی چاہییں کہ ادب، اُردو زبان، اپنی ثقافت اور اعلیٰ اقدار کے لیے خاص جدوجہد کریں اور نئی نسل کو اس سے جوڑدیں۔ انھوں نے اپنا تازہ کلام نذرِ سامعین کیا۔ اس سے قبل ڈاکٹر فاطمہ حسن نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان تینوں شخصیات کا تعلق اس شہر کے نام سے وابستہ ہے یہ وہ چہرے ہیں جو بیرونِ ملک رہ کر بھی لوٹ کر واپس آتے ہیں۔ ان کا ایک معیار ہے انھوں نے شبی فاروقی، شاہد حسن یونس ہمد م کا مختصر تعارف بھی کرایا اور انجمن ترقی اُردو پاکستان کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ صاحب اعزاز شبی فاروقی نے اپنے مختصر تعارف میں بتایا کہ ساتویں جماعت سے شاعری کر رہا ہوں اور تمام اصناف سخن میں شاعری کی ہے کتنا کامیاب ہوں میں نہیں جانتا۔ چھ ماہ امریکا اور چھ ماہ اپنے وطن پاکستان میں گزارتا ہوں۔ انھوں نے بھی اپنا خوب صورت کلام سنایا۔ پروفیسر شاہدہ حسن نے کہا دل کانپتا ہے کہ جب کوئی کہتا ہے کہ میں کینیڈا سے آئی ہوئی ہوں۔ یہ ملک اور یہ شہر میرا بھی ہے زندگی میں مہاجرت بڑا دکھ ہوتا ہے۔ فاطمہ حسن اور میرا ساتھ زمانۂ طالب علمی سے ہے میں محبتوں کی قائل بلکہ اس کی اسیر ہوں۔ انھوں نے ہجرت کے موضوع پر ایک فارسی نظم کا اُردو ترجمہ سنایا اور اپنی چند نظمیں اور غزلیں سنا کر خوب داد سمیٹی۔ یونس ہمدم نے اپنے ابتدائی شعری اور فلمی گیت نگاری کے سفر کے بارے میں دل چسپ واقعات سنائے اور اپنی تازہ غزلیں سنا کر بھی داد وصول کی۔ تقریب سے صدرِ انجمن ذوالقرنین جمیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات میں آ کر میں بہت پیچھے چلا جاتا ہوں اور آج والد صاحب جمیل الدین عالی بہت یاد آ رہے ہیں۔ یونس ہمدم کو ریڈیو کے زمانے سے جانتا ہوں۔ شبی فاروقی اور شاہدہ حسن کو خوب سنا ہے۔ میں کوئی ادیب و شاعر نہیں لیکن انجمن آ کر لکھنا شروع کر دیا ہے جلد ہی انگریزی میں کتاب آ رہی ہے جس میں چونکا دینے والے انکشافات ہوں گے اور اب اُردو میں بھی لکھنا شروع کروں گا انھوں نے بتایا کہ اب ایسی تقاریب اُردو باغ کے وسیع اور جدید ہال میں منعقد ہوں گی۔ تقریب کے آغاز میں پروفیسر ہارون رشید نے مرحومین منو بھائی، ساقی فاروقی اور اداکار و شاعر قاضی واجد کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ ہیپی ہوم المنائی کے صدر محمد ابراہیم نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جب کہ تقریب کی نظامت کے فرائض عنبریں حسیب عنبر نے انجام دیے۔ آخر میں مہمانوں کو تحائف اور انجمن کی کتابوں کا تحفہ پیش کیا گیا۔

کراچی جیم خانہ کلب کے زیر اہتمام ادبی شام
معروف شاعرہ ذکیہ غزل کچھ عرصے سے کراچی میں ہیں، ان کے اعزاز میں محفلیں سجائی جا رہی ہیں۔ اب تک کئی محفلیں ان کے لیے منعقد ہو چکی ہیں، جس میں کراچی جیم خانہ کی تقریب بھی اہمیت کی حامل تھی۔ ادیبوں، شاعروں کے علاوہ ذکیہ غزل کے مداحوں کی بھی اچھی تعداد موجود تھی۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کی جب کہ مہمان خصوصی سابق سینیٹر عبدالحسیب خان تھے۔ مقررین میں ذکیہ غزل کے حوالے سے گفتگو کرنے والے ادیب و شعرا و شاعرات نے ذکیہ غزل کی شخصیت، شاعری اور مختلف حوالوں سے گفتگو کی۔ مقررین میں ڈاکٹر شاداب احسانی، وضاحت نسیم، جاوید صبا، اختر سعیدی اور ڈاکٹر اوجِ کمال شامل تھے۔ راشد نور نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ہاں یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جیم خانہ لائبریری و ادبی کمیٹی کے سینئر ممبر پروفیسر ایس بی حسن نے استقبالیہ اظہار خیال کیا لیکن انھوں نے ویلکم ایڈریس کو رسمی گفتگو قرار دے کر ذکیہ غزل کی شاعری پر بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ ذکیہ غزل کی شاعری میں کشش، ندرت اور نیا پن شامل ہے۔

اختر سعیدی مائیک پر آئے تو بتانے لگے کہ ذکیہ غزل کا دور طالب علمی ہنگامہ خیز تھا۔ انھوں نے کراچی میں ’’اظہار‘‘ کو قائم کیا اور 4 ضرورت مند شاعروں کا ماہانہ وظیفہ مقر رکیا۔ ان کی آرزوئوں اور امنگوں کا مرکز پاکستان ہی ہے۔ ڈاکٹر اوجِ کمال نے کہا کہ جن شعرا کا طوطی بولتا تھا ان میں میرے والد حمایت علی شاعر، احمد فراز، پیرزادہ قاسم، جون ایلیا وغیرہ شامل تھے۔ ایسے میں نئی شاعرہ ذکیہ غزل اس منظر نامے میں داخل ہوئی ایسے میں کسی شاعرہ کا جگہ بنا لینا آسان نہ تھا اور یوں ذکیہ غزل نے نامور شاعروں کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ۔جاوید صبا نے کہا کہ ذکیہ غزل نے اپنا مقام بنا لیا ہے اور وہ بھلا دینے والی شاعرہ نہیں ہے۔

وضاحت نسیم نے بھی ایک مضمون پڑھا اور بتایا کہ شاعری کے ساتھ ذکیہ غزل کی شخصیت کو بھی سراہا جاتا ہے وہ ہلکی پھلکی دل داریوں کے ساتھ اپنا کمال بھی رکھتی ہے۔ ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا: ان کی شاعری میں سلاست اور روانی ہے، جب بھی وہ کراچی آئیں گی انھیں اہمیت حاصل رہے گی۔ اُردو زبان اور اُردو شاعری آگے بڑھ رہی ہے۔

اب باری تھی کلام شاعر بہ زبان شاعر کی، ذکیہ غزل نے کلام سنانے سے قبل کہا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میرا دورہ کراچی میں ہو اور جیم خانہ میں میرا پروگرام نہ ہو۔ بہت سی تنظیموں اور اداروں نے میرے اعزاز میں پروگرام ترتیب دیے ہیں، اس موقع پر ذکیہ غزل نے بیشتر تازہ کلام سنایا اور خوب داد لی۔ تحت کے ساتھ ترنم کا بھی جادو جگایا۔

بعد ازاں ذکیہ غزل کا فرمائشی پروگرام بھی چلتا رہا، مہمانِ خصوصی عبدالحسیب خان آئے تو کہنے لگے کہ بڑے وقار اور تہذیب کے ساتھ ذکیہ غزل نے اپنا سفر شروع کیا ہے، انتہا مربوط اور خوب صورت اشعار کی ادائیگی میں کمال رکھنے والی شاعرہ ہیں۔ وہ ترنم اور تحت اللفظ میں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ آخر میں صدر تقریب ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کہا کہ ذکیہ غزل شعری سفر کی دنیا میں آئیں اور خود کو رچا بسا لیا۔ ان کے عاشقانہ اور دلیرانہ موضوعات بھی ہو سکتے تھے لیکن ذکیہ غزل نے لمحۂ موجود میں موجود رہ کر اپنے وقت کی گواہی کو ریکارڈ کرایا ہے۔

نیشنل بک فائونڈیشن کے 2018ء
کلینڈر میں نعتوں کی اشاعت
نیشنل بک فائونڈیشن کے تحت سال 2018ء کا کلینڈر ایک قابل ذکر دستاویزی حیثیت رکھتا ہے، جس میں پاکستان کے نامور اور معروف شعرا کی نعتیں شامل اشاعت کی گئی ہیں۔ ہر تاریخ کے صفحے پر ایک شاعر کی نعت شایع کی گئی ہے۔ اس کلینڈر کی ترتیب میں ہمارے ہر دل عزیز شاعر اور دوست محبوب ظفر کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے نعتوں کا انتخاب کیا ہے جس میں زیادہ تر معروف شعراکی مشہور نعتیں منتخب کی گئی ہیں،(راقم الحروف ’’شاعرعلی شاعر‘‘بھی ادب دوست جناب محبوب ظفر کے شکرگزار ہیں کہ انھوں نے اس نعت کلینڈر میں ان کی نعت بھی شامل کی) یہ ایک منفرد اور مشکل کام تھا جسے این بی ایف کے تحت کیا گیا۔

میر عثمان علی خان کی یاد میں بہادر یار جنگ
اکادمی کے زیراہتمام محفل مشاعرہ
بہادر یار جنگ اکیڈمی کے زیر اہتمام خاصے عرصے بعد ایک محفل مشاعرہ منعقد کی گئی جو نواب میر عثمان علی خان دکن کی یاد میں تھی۔ صدارت ممتاز شاعر پروفیسر سحر انصاری کی تھی جب کہ مہمان خصوصی ذکیہ غزل تھیں۔ مشاعرے میں معروف شعرا اور شاعرات نے شرکت کی۔ ابتدا میں خواجہ قطب الدین سیکرٹری بہادر یار جنگ نے مہمان شعرا سے اظہار تشکر کیا اورپروفیسر سحر انصاری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مہمان خاص ذکیہ غزل کی شاعری کو سراہا۔ یہ ایک اچھا مشاعرہ تھا جس میں شعرا کی تعداد زیادہ نہ تھی لیکن سامعین اہلِ ذوق موجود تھے۔ جو شعرا شریک سخن ہوئے ان میں مذکورہ بالا کے علاوہ پروفیسر منظر ایوبی (مہمان توقیری)، فراست رضوی، غالب عرفان، تبسم صدیقی، سعید آغا، حکیم ناصف، ڈاکٹر نزہت عباسی، سحر علی، حامد علی سید، ریحانہ بھٹو اور دیگر شامل تھے۔ پروفیسر وسیم الدین وسیم بھی پیش پیش رہے۔ اس موقع پر فراست رضوی نے نواب میر عثمان کو خراج تحسین پیش کیا اور اپنی خصوصی نظم پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج نظم کی محفل ہے تاہم شعرا و شاعرات نے غزلیں بھی پڑھیں ذکیہ غزل نے دوہے بھی سنائے ان کو فرمائش کے ساتھ بھی سنا گیا۔

ֱ됀


متعلقہ خبریں


ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی وجود - منگل 14 اپریل 2026

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...

امریکا کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی،قریب آنے والے جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 14 اپریل 2026

مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...

عمران خان کی ہدایت، تحریک انصاف کا19 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان، کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کرنے کا فیصلہ

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 14 اپریل 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...

عدالت کا سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید وجود - منگل 14 اپریل 2026

دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...

پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں مثبت پیشرفت کیلئے پُرامید

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری وجود - منگل 14 اپریل 2026

واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...

امریکا، ایران میں معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

مضامین
مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ وجود بدھ 15 اپریل 2026
بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ

خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست وجود بدھ 15 اپریل 2026
خلیج ِ فارس کی جغرافیائی حقیقت اورتوانائی کی عالمی سیاست

اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات ، خطہ پھر بے یقینی کے سائے میں

اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر وجود منگل 14 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات:اسرائیل دودھ میں مکھی کی طرح باہر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر