وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

حضرت ابوبکر صدیق اور خدمت خلق

جمعه 16 مارچ 2018 حضرت ابوبکر صدیق اور خدمت خلق

انسانیت کی بلا تفریق خدمت کا جو درس ہمیں حضور علیہ السلام کی تعلیم وسیرت سے ملتا ہے ایسا درس دنیا کے کسی اور مذہبی رہنما سے نہیں ملتا ،آپ علیہ السلام نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کے حقوق کوبھی تحفظ دیا ۔حتیٰ کے جان کے دشمنوں کے ساتھ بھی اس طرح حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے کہ وہ سب کے سب آپ کے گرویدہ ہوگئے ،انسان تو انسان جانوروں کے حقوق کا بھی ایسا لحاظ رکھا کہ اسکی نظیرتاریخ انسانیت میں محال ہے ۔نگاہ نبوت میں تربیت پانے والے حضرت ابوبکر صدیقص کی ذات عکس مصطفیٰ نظر آتی ہے ،آپ صنے بھی خدمت خلق جیسے عظیم مشن کو مقدم رکھا یہی وجہ ہے کہ خدمت خلق کے معاملہ میں حضرت ابوبکر صدیق صہمیشہ پیش پیش رہا کرتے تھے اور کوشش کرتے کہ دوسروں پر سبقت لے جائیں ۔

یہ آپ ہی کے دور خلافت کا واقعہ ہے کہ مدینہ طیبہ کے اطراف میں ایک بوڑھی عورت رہا کرتی آنکھوں سے نابینا تھی اور بڑھیا کی خدمت کرنے والاکوئی نہ تھا ۔کوئی رشتہ دار ،عزیز واقارب نہ تھا حضرت عمر صہر روزرات کے وقت اس بڑھیا کے گھر تشریف لاتے اور اس کے گھر کا تما م کام اپنے ہاتھو ں سے کرنے کے بعد پانی بھی رکھ کر جاتے ،ایک مرتبہ حضرت عمر فارو ق صاپنے معمول کے مطابق رات کے وقت اس بڑھیا کے گھر تشریف لے گئے کیا دیکھتے ہیں کہ اس بڑھیا کے گھر کا سارا کام ان سے پہلے ہی کوئی اور کرکے چلا گیا ۔آپ واپس آگئے دوسرے دن معمول کے مطابق رات کو تشریف لے گئے دیکھا تو پھر پہلے کی طرح کوئی گھر کاکام کرکے چلا گیا تھا ۔اس طرح حضرت عمر فاروق صچند دن تک مزید آتے رہے اور یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے کہ اس بڑھیا کاکام کوئی اور کرکے چلا گیا ہے ،آخر ان کو جستجو ہو ئی کہ یہ کون ہے جو مجھ سے سبقت لے جاتا ہے مجھ سے پہلے ہی بڑھیا کے پاس آجا تا ہے اور اس کے کام کرکے چلا جاتا ہے ۔انہوں نے اس معمہ کو حل کرنے کا ارادہ کرلیا اور اگلے دن بہت جلد ی آکر انتظار کیا کہ دیکھیں کون آتا ہے اور بڑھیا کی خدمت کرکے جاتا ہے ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ حضرت عمر فاروقصنے دیکھا خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق صچپکے سے تشریف لائے اور اس بڑھیا کے گھر کا کام کرنا شروع کردیا ۔یہ دیکھ کر حضرت عمر صبہت حیران ہوئے ۔(تاریخ الخلفاء ،کنزالعمال )

دودھ دوہنا:۔آپ گھر کے کام اپنے ہاتھوں سے کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرتے تھے اکثربھیڑ بکریا ں خود ہی چرالیتے تھے محلہ میں اگر کسی کاکوئی کام ہوتاتو وہ بھی کردیا کرتے تھے ۔بعض اوقات محلہ داروں کی بکریا ں بھی دوھ دیا کرتے منصب خلافت پرفائز کیے گئے تو محلہ میں ایک لڑکی کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ حضرت ابوبکر صدیق صتو اب منتخب ہوگئے ہیں ،لہٰذا اَب ہما ری بکریا ں کو ن دوہے گا ؟حضرت ابوبکر صدیق صنے یہ بات سنی تو یہ فرمایا :۔اﷲکی قسم !میں بکریاں دوہوں گا اور مجھے امید ہے کہ مخلو ق کی خدمت مجھے باز نہ رکھے گی ۔‘‘(طبقات ابن سعد )یہ آپ ہی کی صفت تھی کہ خلیفۃ ُالمسلمین ہونے کے باوجود دوسروں کی خدمت کرتے ۔

والد کا مشورہ :۔حضرت عبد اﷲبن زبیر ص سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق صکامکہ مکرمہ میں دستور تھا کہ آپ بوڑھے مردوں اور بوڑھی عورتوں کو جب وہ اسلام قبول کرلیتے توان کو خرید کرآزاد فرمادیتے تھے ،ایک دن حضرت ابوبکر صدیق صکے والد محترم نے کہا ،اے بیٹے !میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بوڑھے لوگوں کو خریدکر غلامی سے آزادکررہے ہواگر تم بوڑھو ں کے بجائے قوی اور جوان لوگوں کو خرید کر آزاد کروتووہ تمہا را ساتھ دیں گے ،تم کو نقصان سے محفوظ رکھیںگے اور تمہاری مدافعت کریں گے ،یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیقص نے فرمایا ،اے والد محترم !میرا مقصد اس سے اﷲکی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے ۔(سیرت ابن ہشام )

عامر بن فہیرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ :۔حضرت ابوبکر صدیق صنے حضرت عامر بن فہیرہ صکوبھی آزاد کرایا ۔جوایک مشرک کے غلام تھے اسلام قبول کرنے کی پاداش میں وہ مشرک ان پر ظلم وستم کیا کرتا تھا ۔حضرت عامر بن فہیرہ صہجرت مدینہ کے سفراور اسلام میں آپ صکے ہمراہ تھے ،غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں شریک بیئر معونہ کی جنگ میں جام شہادت نوش فرمائی ۔

نھدیہ اور بنت نھدیہ :۔آپ صنے نہدیہ اور ان کی بیٹی کو بھی کفار سے نجات دلائی ،یہ دونوں بنی عبد الدارکی ایک عورت کی ملک میں تھیں ۔ملکہ نے نہدیہ اور ان کی بیٹی کو آٹا پیسنے کے لیے دیا اور قسم کھاتے ہوئے کہا ،ربّ کعبہ کی قسم !میں تمہیں کبھی آزاد نہ کروں گی حضرت ابوبکر صدیق صوہاں سے گزر رہے تھے ،فرمانے لگے ،اے فلاں شخص کی ماں !اپنی قسم توڑ دے کفار ہ ادا کردے ،اُس عورت نے کہا تم ہی نے توان کو بگاڑا ہے ۔تم ہی ان کو آزاد کراؤ ۔حضرت ابوبکر صدیق صنے فرمایا توان کو کتنے میں دے گی ؟اس نے رقم بتائی توحضرت ابوبکر صدیق صنے فرمایا میں نے انہیں خرید لیا ہے اور اب وہ آزاد ہیں ۔اس کے ساتھ ہی نہدیہ اور ان کی بیٹی سے فرمایاکہ اس کی چیز واپس کردو۔انہوں نے عرض کیاکہ اے ابوبکر (ص)!ابھی واپس کردیں یا کام پورا کرکے یعنی پیس کردیں ۔ارشاد فرمایا،جس طرح تمہاری مرضی ۔(سیرت ابن ہشام)اس کے علاوہ بھی حضرت ابوبکر صدیق صنے بہت سے مظلوم مسلمانوں کی اعانت فرمائی جن میں اُم عبیس رضی اﷲتعالیٰ عنہا،حضرت زنیرہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا اور بنی مومل کی ایک لونڈی شامل ہیں ۔

حضرت بلال صکی اعانت :۔حضرت بلال صکے اسلام قبول کرلینے کے بعد اُمیہ بن خلف اور اس کے چیلے ایک مدت تک حضرت بلال صپر تشدد کرتے رہے ،ظلم وتشدد کا یہ سلسلہ کسی دن بھی نہ ٹوٹتاتھا ہر روز تشدد واذیت کا عمل دہرایا جاتا تھا ،حضرت بلال ص کو دین حق سے باز رکھنے کی خاطر اذیت کا ہر حربہ استعمال کیاجاتا تھا ،حضرت بلال صپرہونے والے ظلم وتشدد کی مکمل خبر حضور نبی کریم ﷺکو تھی اور آپ ﷺاس بارے میں سخت بے چین تھے ،حضرت ابوبکرصدیقص کاگھربنوجمح کے محلہ میں ہی تھا اسی لیے آپ ہر روز حضرت بلال ص پرہونے والے مظالم کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور بہت بے تاب ہوتے ،حضرت بلال صکو اُمیہ بن خلف کے ظلم سے بچانے کے لیے کافی سوچ بیچا ر کی ،ایک دن جبکہ اُمیہ بن خلف نے ظلم وتشدد کی انتہا کردی تو حضرت ابوبکر صدیق صسے مزید برداشت نہ ہوسکا اور اُمیہ کے پاس جا پہنچے اور اس سے فرمایا ،اے اُمیہ !اس بے چارے غلام پر اس قدر ظلم نہ کرواس میں تمہا را کیا نقصان ہے کہ وہ خدائے واحد کی عبادت کرتا ہے اگر تو اس پر مہربانی کرے گا تو یہ مہربانی قیامت کے دن تیرے کام آئے گی اُمیہ بن خلف انتہائی حقارت آمیزانداز میں بولا ،میں تمہا رے قیامت کے دن کو نہیں مانتا ،میرے دل میں جو آئے گا میں کرونگا ،غلام میرا ہے میں جو مرضی اس کے ساتھ سلوک کروں ۔

حضرت ابو بکر صدیق صنے امیہ کو پھر نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تم قوت والے ہو یہ غلام تو بے بس ہے اس پر اس قدر ظلم وتشدد کرنا تمہاری شان کے خلاف ہے تم ایسا کرکے عربوں کی قومی روایات کو داغدارنہ کرو۔غرضیکہ حضرت ابوبکرصدیق اسی طرح اُمیہ بن خلف کے ساتھ بحث کرتے رہے ،آخرکا ر اُمیہ بن خلف اس بحث سے تنگ آکر بولا اے قحافہ کے بیٹے ! اگر اس غلام کے تم اتنے ہی خیر خواہ ہوتو مجھ سے اسے خرید کیوں نہیں لیتے ،حضرت ابوبکر صدیق صنے موقع غنیمت جانا فوراً ارشاد فرمایا ،کیا قیمت لوگے ؟اُمیہ بن خلف بڑا چالاک تھا اس نے خیال کیا کہ حضرت ابوبکر صکے پاس ایک ایسا غلام ہے جس کی قیمت اہل مکہ کے نزدیک بہت زیادہ ہے ۔فسطاس نامی یہ غلام بڑے کام کاہے،اور بلال صکے بدلے میں ابوبکر صدیق صکبھی بھی فسطاس کو دینے میں رضا مند نہیں ہوں گے اس طرح اس بحث مباحثہ سے خلاصی ہوجائیگی ۔چنانچہ اس خیال کے مدنظر رکھتے ہوئے جھٹ سے بولا،تم اپنا رومی غلام فسطاس دے دواور بلال صکو لے جاؤادھر اُمیہ بن خلف کے منہ سے یہ بات نکلی اُدھر فوراًہی حضرت ابوبکر صدیق صنے اس سودے کو منظور فرمالیا اور حضرت بلال صکے بدلے میں اپنا غلام فسطاس دینے پر تیار ہوگئے ،امیہ نے جب یہ دیکھا کہ بات اتنی جلدی بن گئی ہے تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی اب اس نے پینترابدلااور کہنے لگا کہ میں فسطاس بھی لوں گا اور اس کے بعد چالیس اوقیہ چاندی بھی لوں گا ۔اُمیہ کا خیال تھا کہ اس مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق صنہیںمانیںگے ،مگر وہ یہ سن کر حیران رہ گیا کہ حضرت ابوبکر صدیق صاس بات پر کیسے رضا مند ہوگئے اس طرح سودا طے ہوگیا ۔اُمیہ اس زعم میں مبتلا تھاکہ اس نے بڑے ہی نفع کا سودا کیا ہے ،حضرت بلال صکوحضرت ابوبکر صدیق صکے سپر د کرکے چالیس اوقیہ چاندی اور فسطاس غلام لے لیا ،اس سودے پر امیہ خوش تھا ،گھمنڈ میں آکر ہنسا اور بولا اے قحافہ کے بیٹے !اگر تمہاری جگہ میں ہوتا تواس غلام کو ایک درہم کے چھٹے حصے کے بدلے میں بھی کبھی نہ خریدتا۔حضرت ابوبکرصدیق نے بھی اس کی طرف دیکھا اور فرمایا ،اے اُمیہ !تو اس غلام کی قدروقیمت کونہیں جانتا ا س کی قدر مجھ سے پوچھ ،یمن کی بادشاہی بھی اس کے عوض میں کم ہے ۔یہ فرما کر حضرت ابوبکر صدیق صحضرت بلال صکو لے کر چل پڑے ۔حضور نبی کریم ﷺبہت خوش ہوئے اور ارشاد فرمایا ،ابوبکر (ص)!مجھے بھی اس نیک کام میں شریک کرلو۔حضرت ابوبکر صدیق صنے کہا ،یا رسول اﷲﷺ!گواہ رہئے کہ میں نے بلال (ص) کو آزاد کرلیا ہے ۔اس پر حضور رؤف الرحیم ﷺنے حضرت ابوبکر صدیق صکے حق میں دعائے خیر فرمائی ۔

اُس دور میں غلام اپنے آقا کے تابع ہوتا تھا جس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی تھی ،حضرت ابوبکر صدیق صان مجبور غلاموں کو خریدکر آزاد کردیتے تاکہ یہ لوگ آزاد فضا میں سانس لے سکیں اور اﷲکی بندگی کھل کر کرسکیں اور اپنے مشرک آقاؤں کی ایذا ء رسانی سے محفوظ ہوجائیں اور ان کا آزاد کرنا اس وجہ سے ہر گزنہ تھا کہ وہ احسان مان کرمسلمان ہوجائیں بلکہ وہ غلام پہلے ہی سے مسلمان ہوتے تھے اور اپنے مشرک وکافرآقا کے تابع ہونے کی وجہ سے مختلف قسم کی تکلیفوں اور مظالم میں مبتلا رہتے ۔حضرت ابوبکر صدیق صان کو خرید کر آزاد کردیتے ۔ دورحاضر میں اگرچہ غلاموں کوآزادکرانے کا طریقہ ختم ہوچکاہے ،اسکے بدلے فقہا ء کرام نے فرمایا اگرکوئی ناحق مسلمان قیدی کی مددکرے،یعنی اگر اسکے پاس وکیل نہیں ہے تو وکیل کا انتظام کردے یا جرمانے کی مددمیں سزاپارہاہے تواس کا جرمانہ اداکرکے اسے رہائی دلائے ،اسی طرح اگر کوئی غریب شخص مقروض ہے تو اس کا قرض اَداکردے،ان تمام کاموں میں غلام آزادکرانے کے برابراﷲتعالیٰ اَجراداکرے گا۔

بیت المال کھولو:۔حضرت ابوبکر صدیق صکا عوالی مدینہ میں مشہور گھر تھا جس کا کوئی چوکیدار نہیں تھا ۔کسی نے آپ صسے عرض کیا :اے خلیفہ رسول ﷺ!آپ ص بیت المال کے لیے کوئی پہرے دار مقرر کیوں نہیں کرتے ؟آپ صنے فرمایا :وہاں کو ئی خطرہ نہیں ،پوچھا گیا وہ کیوں ؟فرمایا کہ اس پر قفل (تالا ) لگاہوا ہے ۔درحقیقت حضرت ابوبکر صدیق صبیت المال کا سار امال (ضرورت مندوں ) میں تقسیم کردیا کرتے تھے یہاں اس میں کچھ باقی نہ رہتا ۔حضرت صدیق اکبرص کی جب وفات ہوگئی اور آپ صکی تدفین بھی عمل میں آگئی تو حضرت عمر صنے خزانچیوں کو طلب کیا اور ان کے ہمرہ ابوبکر صدیق صکے بیت المال میں تشریف لے گئے ،آپ صکے ساتھ عبدالرحمٰن بن عوف صاور عثمان بن عفان صبھی تھے ،بیت المال کھولاتو اس میں نہ دینار ملا اورنہ درہم ،ایک بوری ملی ،اس کو جھٹکا تو اس سے ایک درہم نکلا ،(یہ حالت دیکھ کر ) ان کو ابوبکر صپر رحم آگیا ۔(طبقات ابن سعد ۳/۳۱۲)

حضرت ابوبکر صدیق کا صدقہ کرنا :۔حضرت ابوبکر صدیق صکچھ مال بطور صدقہ کے چھپا کر لائے اور دھیمی آواز میں عرض کیا :یا رسول اﷲﷺ!یہ میرا صدقہ ہے ،اور اﷲ کے لیے میرے ذمہ ایک اور صدقہ بھی ہے ۔پھر حضرت عمر ص،اپنا صدقہ بطور اظہا ر کے ساتھ لائے اور عرض کیا :یا رسول اﷲﷺ!یہ میرا صدقہ ہے ،اور اﷲکے ہاں میرے لیے اس کا بدلہ ہے ۔نبی کریم ﷺنے فرمایا :اے عمر ص! تو نے کمان کو تانت لگائی بغیر تانت کے (یعنی تو نے ابوبکر صپرسبقت لے جانے کی کوشش تو کی مگر کامیاب نہ ہوسکے )پھر حضور ﷺنے فرمایا :تم دونوں کے صدقات میں وہی فرق ہے جو تمہا رے کلمات میں فرق ہے ۔(’’ابونعیم ‘‘۱/۲۳)

ابوبکر رضی اﷲعنہ خیر الناس ہیں :۔حضرت عمرص،حضرت ابوبکر صدیقص کے پاس آئے اور صدیق اکبرص کو یوں مخاطب کیا ۔
یاخیرا لناس بعد رسول اﷲﷺ
’’یعنی رسول اﷲﷺکے بعد تمام لوگوں میں بہترین انسان !‘‘

کل کاکل مال خرچ کرنا:۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے اپنی جان ومال سے دین اسلام کی خدمت کی وہ اپنی مثال آپ ہے ،حضرت عمررضی اﷲتعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے ہمیں صدقہ کاحکم دیا ،اس وقت میرے پاس کافی مال تھا ،میں نے کہاکہ اگر کسی روزمیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہ سے سبقت لے جاسکا توآج کادن ہوگا۔پس میں نصف مال لے کر حاضرہوا،رسول اﷲﷺنے پوچھا گھروالوں کے لیے کتنا چھوڑاہے؟عرض کیااسکے برابر،حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہ اپنا سارامال لے آئے ،توفرمایااے ابوبکر اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ عرض گذارہوئے ،ان کے لیے اﷲاور اسکے رسول کوچھوڑآیاہوں ،میں نے کہامیں ان سے کبھی نہیں بڑھ سکتا۔(ترمذی )اﷲتعالیٰ ہمیں بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲتعالیٰ عنہ جیسی سخاوت اور ایثارکاجذبہ نصیب فرمائے ۔

῱


متعلقہ خبریں


اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات وجود - هفته 30 مئی 2020

بھارت میں اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ،دوول کی غلط پالیسیوں نے بھارت کو بند گلی میں لا کھڑا کیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق چائنا پالیسی اور جھوٹ پر جھوٹ نے بھارت کی بْنیادیں ہلا دیں،بھارت اقوامِ عالم میں تنہا ہو گیا،پہلے پلوامہ ڈرامے میں اپنے 40سپاہی مروائے ۔رپورٹ کے مطابق بالاکوٹ میں ہزیمت اْٹھانا پڑی،بھارتی ائیر فورس کی ناکامی سے بھارتی خواب چکنا چور ہو گئے ،کشمیر پالیسی بْری طرح ناکام،چائنہ نے بھارتی ملٹری کو بے نقاب ک...

اجیت دوول کی پالیسی ناکام،بھارتی ملٹری قیادت اور دوول گروپ میں اختلافات

ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکا مداخلت سے باز رہیں، چین وجود - هفته 30 مئی 2020

چین نے ہانگ کانگ میں نیشنل سیکیورٹی بل کے معاملے میں امریکا پر اقوام متحدہ کو یرغمال بنانے کا الزام عائد کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیجنگ نے مغربی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔واضح رہے کہ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے نیشنل سیکیورٹی بل پر کڑی تنقید کی ہے جس کے تحت چین کی سیکیورٹی ایجنسیاں ہانگ کانگ میں کھلے عام کارروائیاں کرسکیں گی۔چاروں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ بیجنگ کا نیشنل سیکیورٹی کا قانون...

ہانگ کانگ کے معاملے پر برطانیہ، امریکا مداخلت سے باز رہیں، چین

لداخ میں غیرقانونی بھارتی تعمیرات، چین نے فوجی قوت مزید بڑھا دی وجود - هفته 30 مئی 2020

لداخ میں غیر قانونی تعمیرات پربھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے ، چین نے کشمیر کے علاقے اکسائے چن پر بھی فوجی قوت بڑھا دی۔بھارتی میڈیا کے مطابق لداخ میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے ، چین لداخ میں متنازع سڑک پر پل کی تعمیر روکنا چاہتا ہے ، چین نے ائیرپورٹ پر ملٹری قوت میں اضافہ کر لیا۔لداخ میں بھارتی فوجیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کر دیا گیا، گولوان وادی کے تین پوائنٹس اور پینگانگ جھیل پر بھارتی اور چینی فوجی آمنے سامنے ہیں۔واضح رہے کہ لداخ کے علاقے میں بھارت اور چین تنازع شروع ہوئے ایک...

لداخ میں غیرقانونی بھارتی تعمیرات، چین نے فوجی قوت مزید بڑھا دی

تمباکو کمپنیاں بچوں کو راغب کرنے کے لیے خطرناک ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - هفته 30 مئی 2020

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تمباکو کمپنیاں بچوں کو تمباکو نوشی کی طرف راغب کرنے کے لیے خطرناک اور جان لیوا ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے بتایاکہ یہ حیرانی کی بات نہیں کہ سگریٹ نوشی شروع کرنے والے زیادہ تر افراد کی عمر اٹھارہ برس سے بھی کم ہوتی ہے ۔ اس ادارے نے مزید بتایا کہ تیرہ سے پندرہ برس تک کی عمر کے درمیان چوالیس ملین بچے اس وقت سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ اس بارے میں عالمی ادارہ صحت نے اپنی ایک رپورٹ اتوار اکتیس مئی کو منا...

تمباکو کمپنیاں بچوں کو راغب کرنے کے لیے خطرناک ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہیں، ڈبلیو ایچ او

کورونا وائرس، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 30 مئی 2020

ذیابیطس کا ہر دس میں سے ایک مریض کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی صورت میں ہسپتال جانے کے سات دن بعد ہی اپنی زندگی کی بازی ہار سکتا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ انکشاف ایک تازہ سائنسی مطالعے کے نتائج میں کیا گیا ہے ، جو جمعے کے روز ایک جریدے میں شائع ہوئے ۔ اس مطالعے کے دوران ذیابیطس کے تیرہ سو مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ پچھتر برس سے زائد عمر کے مریضوں میں پچپن برس سے کم عمر کے مریضوں کے مقابلے میں شرح اموات چودہ فیصد زیادہ رہی۔ دل، بلڈ پریشر اور پھیپھڑوں کے امراض میں مب...

کورونا وائرس، ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

کورونا وائرس کے کیسز اور اموات، بھارت چین سے آگے نکل گیا وجود - هفته 30 مئی 2020

بھارت میں نئے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چین میں اسی وائرس کے باعث اموات سے زیادہ ہو گئی ہے ۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران بھارت میں مزید 175 افراد ہلاک ہو گئے اور یوں ایسی اموات کی مجموعی تعداد 4,706 ہو گئی۔ بھارت میں نئے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 165,799 ہو گئی ہے ۔ مہاراشٹر سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے ۔ دوسری جانب چین میں جمعے کو کووڈ انیس کا کوئی ایک بھی نیا مریض سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس بیماری کے باعث کوئی موت ہوئی۔ چین میں متاثرین کی تعداد 82,995 ...

کورونا وائرس کے کیسز اور اموات، بھارت چین سے آگے نکل گیا

ملائیشین سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو ان کی اپنی سیاسی جماعت سے نکال دیا گیا وجود - هفته 30 مئی 2020

ملائیشیا کی سیاسی جماعت یونائیٹڈ پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو انہی کی پارٹی سے نکال دیا گیا۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق پارٹی چیئرمین مہاتیر محمد نے اپنی ہی جماعت کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کی اور وہ 18 مئی کو ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے تھے ۔ملائیشیا کی یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مہاتیر محمد کی پارٹی رکنیت کو فوری طور پر منسوخ کردیا گیا ہے ۔عرب میڈیا کا بتانا ہیکہ پارٹی چیئرمین مہاتیر محمد کو ان کی اپن...

ملائیشین سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کو ان کی اپنی سیاسی جماعت سے نکال دیا گیا

لاک ڈائون،بھارت میں لوگ مردار جانور کا گوشت کھانے پر مجبور وجود - هفته 30 مئی 2020

بھارت میں لاک ڈاؤن کے دوران بھوک و افلاس کا عالم دیکھ کر انسانیت شرما گئی، کوئی ننگے پیر سیکڑوں میل پیدل سفر کرکے گھر پہنچا تو کسی کو بھوک نے مردار کھانے پر مجبور کر دیا۔بھارتی میڈیارپورٹس کے مطابق چلچلاتی دھوپ، تپتی زمین اور ننگے پیر میلوں کا سفر، ایسے میں عورتوں اور بچوں کا بھی ساتھ ہو تو غربت کا کیا عالم ہوگا، لاک ڈاؤن میں مودی کی ناکام منصوبہ بندی نے غریبوں کو دربدر رلنے پر مجبور کر دیا۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود مودی سرکار غریبوں کی پروا کے بجائے ہندوتوا کے پرچار اور ...

لاک ڈائون،بھارت میں لوگ مردار جانور کا گوشت کھانے پر مجبور

ٹرمپ کی سیاہ فام قتل کے خلاف مظاہروں پر فوجی کارروائی کی تنبیہ وجود - هفته 30 مئی 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیریاست مینیسوٹا میں جارج فلائیڈ کے قتل کے خلاف مظاہرے ختم نہ ہونے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج ختم نہ ہوا تو فوج بھیج کر معاملے کو صاف کردیاجائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں اپنے طویل بیان میں کہا کہمیں امریکا کے عظیم شہر مینیاپولیس میں یہ ہوتے ہوئے دیکھ نہیں سکتا، یہ مکمل طور پر قیادت کا فقدان ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بائیں بازو کے بنیاد پرست بہت کمزورمیئر جیکب فیری یا تو متحدہ ہو کر کارروائی کر...

ٹرمپ کی سیاہ فام قتل کے خلاف مظاہروں پر فوجی کارروائی کی تنبیہ

بھارت میں 376 تبلیغی ارکان کے خلاف چارج شیٹ داخل وجود - جمعه 29 مئی 2020

تبلیغی ارکان کے خلاف کورونا پھیلانے، ویزا شرائط کی خلاف ورزی کے الزامات نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں دہلی پولیس نے نظام الدین مرکز میں مذہبی اجتماعات میں شرکت کے لیے آئے 34 ممالک کے 376 غیرملکی تبلیغی ارکان کے خلاف کورونا پھیلانے، ویزا شرائط کی خلاف ورزی اور مشنری سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مجموعی طور پر 35 چارج شیٹ داخل کردیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی پولیس نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران 26 تاریخ کو 20 ممالک کے 82 غیر ملکیوں تبلیغی شرکا کے خلاف 20 چارج ...

بھارت میں 376 تبلیغی ارکان کے خلاف چارج شیٹ داخل

پاکستان کی بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی مذمت وجود - جمعه 29 مئی 2020

پاکستان نے بھارت میں بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کورونا وبا کا مقابلہ کررہی ہے اور بھارت ہندتوا ایجنڈے پرعمل پیرا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ 26 مئی کو بابری مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی پاکستانی حکومت اور عوام سخت مذمت کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ مندر کی تعمیر 9 نومبر 2019 کے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے سلسلے کی کڑی ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا، بھارتی...

پاکستان کی بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے آغاز کی مذمت

کورونا کیخلاف مودی سرکار کی پالیسیاں ناکام قرار ، نیویارک ٹائمز وجود - جمعرات 28 مئی 2020

نیو یارک ٹائمز نے کورونا کے خلاف مودی سرکار کی پالیسیوں کا پول کھولتے ہوئے کہا ہے کہ سخت لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت میں کورونا کیسز اور اموات زیادہ ہیں۔نیویارک ٹائمز کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی عوام حکومت پر اعتماد کھونے لگے ہیں، سخت لاک ڈاؤن کے باوجود بھارت میں کورونا کیسز اور اموات زیادہ ہیں جب کہ پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں کیسز کم ہیں، جنوبی ایشیاء میں لاک ڈاؤن ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل بھی اہم تھے، جنہیں مودی حکومت نے نظر انداز کیا۔رپورٹ میں کہا گیا...

کورونا کیخلاف مودی سرکار کی پالیسیاں ناکام قرار ، نیویارک ٹائمز