وجود

... loading ...

وجود

ماہِ رجب المرجب کے فضائل و مسائل

جمعه 16 مارچ 2018 ماہِ رجب المرجب کے فضائل و مسائل

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’ترجمہ: جس روز سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اُسی روز سے اللہ تعالیٰ کے یہاں کتاب اللہ میں (سال بھر کے )مہینوں کی تعداد بارہ ہے ، جن میں سے چار مہینے ( رجب ، ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم الحرام) حرمت ( عظمت و بزرگی) والے ہیں ۔‘‘ (سورۂ توبہ )

ان چار مہینوں میں سے تین مہینے ( ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم الحرام) تو ایک ساتھ پے در پے آتے ہیں البتہ رجب کا مہینہ ان سے علیحدہ اور جدا گانہ طور پر ماہِ جمادی الثانی او ر ماہِ شعبان کے درمیان آتا ہے ۔حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ : ’’ رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری اُمت کا مہینہ ہے ۔ ‘‘حضرت موسیٰ بن عمران رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے خود سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ جنت میں ایک دریا ہے جس کو ’’رجب‘‘ کہا جاتا ہے ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے ، جوشخص ماہِ رجب کا ایک روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اُس دریا کا پانی اُسے پلائے گا ۔‘‘ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ’’جنت میں ایک محل ہے جس میں ماہِ رجب کے روزہ داروں کے علاوہ اور کوئی نہیں جائے گا ۔‘‘ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایاکہ : ’’جس نے ماہِ حرام (رجب) کے تین دنوں (جمعرات ، جمعہ اور ہفتہ )کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے نو سو برس کی عبادت کا ثواب لکھ دیتے ہیں۔‘‘

بعض علماء کا قول ہے کہ :’’ رجب کا مہینہ دوری (یا ظلم) کو ترک کرنے کے لیے ہے اور شعبان کا مہینہ عمل اور ایفائے عہد کے لیے ہے اور رمضان کا مہینہ صدق اور وفاء کے حصول کے لیے ہے ۔ رجب توبہ کا مہینہ ہے ، شعبان محبت کا مہینہ ہے اور رمضان قرب الٰہی کا مہینہ ہے ۔‘‘حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : ’’رجب مصیبتوں (گناہوں) کو ترک کرنے کے لیے ہے ، شعبان اعمال پر طاعت کرنے کے لیے ہے اور رمضان عزت بخشیوں کے انتظار کے لیے ہے ، لہٰذا جس شخص نے گناہ نہ چھوڑے ،طاعت کے کام نہ کیے اور عزت بخشیوں کا اُمید وار نہ ہوا تو وہ بے ہودہ اور خرافات میں مبتلاء ہونے والا شخص ہے ۔‘‘ نیزآپؒ نے فرمایاکہ : ’’ رجب کھیتی بونے کا مہینہ ہے ، شعبان پانی سینچنے کا مہینہ ہے اور رمضان کھیتی کاٹنے کا مہینہ ہے اور ہر شخص وہی کاٹے گا جو اُس نے بویا ہوگا کہ

گندم از گندم بروید و جو زجو
از ’’مکافاتِ عمل‘‘ غافل مشو

یعنی گندم بونے سے گندم ہی نکلتی ہے اور جو بونے سے جو ہی نکلتے ہیں ، لہٰذابندے کو مکافات عمل سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔

امام مازنی رحمۃ اللہ علیہ نے امام حسین رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ : ’’ رجب کے روزے رکھا کرو! کیوں کہ اس کا روزہ اللہ کی طرف سے (نازل کردہ) ایک قسم کی توبہ ہے۔‘‘

ایک حدیث میں آتا ہے کہ : ’’ اگر کوئی شخص ماہِ رجب میں روزانہ روزہ رکھے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی روزی کے ہم وزن صدقہ و خیرات بھی کرتا رہے تو اُس کے کہا ہی کہنے ؟ ( یہ لفظ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا ) اس شخص کو جو ثواب دیا جائے گا اگر ساری مخلوق بھی اُس کے ثواب کا اندازہ لگاناچاہے تو اُس کے عشر عشیر ( دسویں حصے )کا بھی اندازہ نہیں لگاسکتی۔حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ : ’’ماہِ رجب میں جو شخص کسی مؤمن کی سختی دُور کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو جنت الفردوس میں تا حد نگاہ ایک بہت بڑا محل عطا فرمائیں گے ۔ خوب سن لو ! ماہِ رجب کی عزت کیا کرو! اللہ تعالیٰ تمہیں ہزار عزتیں نصیب فرمائیں گے ۔‘‘حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ’’ رجب کا مہینہ جب شروع ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ یہ دُعاء فرماتے : ترجمہ: اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینوں میں ہمیں برکت عطا فرما اور رمضان تک ہم کو پہنچا! ۔‘‘ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایاکہ : ’’جس شخص نے ماہِ رجب کا پہلا روزہ رکھا اُس ( کے ثواب) کو مہینہ بھر کے روزوں کے (ثواب کے )بقدر قرار دیا جائے گا ، اور جس شخص نے سات روزے رکھے اُس پر جہنم کے ساتوں دروازے بند کردیئے جائیں گے ، اور جس شخص نے آٹھ روزے رکھے اُس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے ، اور جس شخص نے دس روزے رکھے اللہ تعالیٰ اُس کے گناہوں کو نیکیوں سے تبدیل فرمادیں گے ، اور جس شخص نے ماہِ رجب کے اٹھارہ روزے رکھے تو ایک پکارنے والا آسمان سے پکارے گا کہ : ’’ اللہ تعالیٰ نے تیرے پچھلے تمام گناہ معاف فرمادیئے ہیں لہٰذا اب نئے سرے سے تو عمل کرنا شروع کر دے ۔‘‘ حضرت سلامہ بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ : ’’جو شخص ماہِ رجب کے پہلے دن کا روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اُس کے ساٹھ برس کے گناہ معاف فرمادیتے ہیں ، اور جو شخص پندرہ دنوں کے روزے رکھے گا اللہ تعالیٰ اُس کا حساب آسانی سے لیں گے اور جو ماہِ رجب کے تمام روزے رکھے گا اللہ تعالیٰ اپنے رضا اور خوش نودی اُس کے لیے لکھ دیتے ہیں اور اُس کو عذاب نہیں دیں گے۔‘‘حضرت ابو ہریرۃرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ : ’’جس شخص نے رجب کی ستائیسویں کو روزہ رکھا اُس کے لیے چھ ماہ کے روزوں کا ثواب لکھا جاتا ہے ۔‘‘ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ’’ رجب کے مہینہ میں ایک دن اور ایک رات ایسی ہیں کہ اگر کوئی شخص خاص اُسی دن کا روزہ رکھے اور خاص اسی رات کی عبادت کرے تو اُس کو ایک سو سال کے روزے رکھنے او ر ایک سو سال رات کی عبادت کرنے کا ثواب ملے گا اور یہ دن اور یہ رات ستائیس رجب ہیں ، اسی تاریخ کو رسول اللہ ؐ کو نبوت عطا کی گئی۔‘‘

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماستائیس رجب کو صبح سے ہی مسجد میں گوشہ نشین ہوکر ظہر کے وقت تک نماز میں مشغول رہتے ، ظہر کے وقت کچھ نوافل وغیرہ پڑھ کر چار رکعتیں ادا فرماتے جن کی ہر ایک رکعت میں سورۂ فاتحہ ایک بار سورۂ فلق اور سورۂ ناس ایک ایک بار ، سورۂ قدر تین بار اورسورۂ اخلاص پچاس بار پڑھتے تھے ، اس کے بعد عصر کے وقت تک دعاء میں مشغول رہتے، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی فرمایا کرتے تھے ۔‘‘روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیزرحمۃ اللہ علیہ نے حجاج بن ارطاۃ (حاکم بصرہ ) یا عدی بن ارطاۃ کو لکھا کہ : ’’سال بھر میں چار راتوں کی عبادت کا التزام رکھا کرو! کہ ان میں اللہ تعالیٰ خاص طور پر اپنی رحمت بہاتے ہیں : رجب کی پہلی رات ، نصف شعبان کی رات ، ستائیس رمضان کی رات اور عید الفطر کی رات ۔‘‘ حضرت خالد بن معدان رحمۃ اللہ علیہ نے فرماتے ہیں کہ : ’’سال میں پانچ راتیں ایسی ہیں کہ جو شخص اُن کے مقررکردہ ثواب کی اُمید کرکے اور مقررکردہ وعدہ کی تصدیق کرکے اُن میں پابندی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کو ضرورجنت میں داخل فرمائیں گے ۔ رجب کی پہلی رات اور پہلا دن ٗ رات کو نماز پڑھے اور دن کو روزہ رکھے ۔ دونوں عیدوں کی راتیں کہ ان میں عبادت تو کرے لیکن اُن کے دنوں میں روزہ نہ رکھے ۔ نصف شعبان کی رات اور اُس کا دن کہ رات میں عبادت کرے اور دن کو روزہ رکھے ۔ عاشورہ ( یعنی دس محرم ) کی رات اور اُس کا دن کہ رات کو عبادت کرے اور دن کو روزہ رکھے۔‘‘

,&€缀丠缂ʼ缆¬㿿羀羃炀羊摤0*€缀丠缂ʼ缆¬㿿缈x砀﫿


متعلقہ خبریں


بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر