وجود

... loading ...

وجود

دین اسلام اور بیوی کے فرائض

جمعه 16 مارچ 2018 دین اسلام اور بیوی کے فرائض

جب ہم ا ن پڑھ قوم کہلاتے تھے ،پڑھے لکھے بہت کم تھے ،بچے اپنے والدین کی کتنی عزت واحترام کیاکرتے تھے ،جب شہروں اورگاؤں کے مکان کچے تھے رشتے ناطے کتنے سچے اورپکے ہواکرتے تھے ،جب مسجد کا مولوی اورا سکول کا استاد باپ کے رتبے سے پڑھایا کرتا تھا توسارے لوگ کتنی عزت اوراحترام کیا کرتے تھے ،جب تہجد پڑھ کر اماں قرآن کی مدھم تلاوت کے ساتھ ہاتھ والی چکی سے ا ٓٹا پیساکرتی تھی توسارا سال گندم ختم نہیں ہواکرتی تھی،جب گھر کے بڑے فجرکی نماز پڑھ کر آتے اور مال مویشیوں کا دودھ نکالا کرتے تھے تو گھر کے برتن دودھ سے بھرے رہا کرتے تھے،جب ناشتہ کروا کرمائیں بچوں کو سپارہ پڑھنے مساجد بھیجا کرتیں تھیں معصوم بچے توتلی زبانوں سے قرآن کے نام پر اللہ کریم کی پاکی.بزرگی اورشان کے قصے پڑھا کرتے تھے وہ بچے اپنے والدین کے کتنے فرمانبردارہوا کرتے تھے،جب عورت نے فیشن کے نام پر لباس نہیں اتارا تھا نسلیں کیسے اتفاق سے شاد وآباد رہا کرتیں تھیں،جب مرد حرام کے قریب نہیں جاتے تھے عورتیں کتنی پاکدامن اور وفا شعار ہوا کرتیں تھیں ،بیو یاں اپنے شوہر وںکے حکم کی فرمانبردارہوا کرتی تھی ۔بیوی اپنے شوہر کی ایک آواز پر پرخلوص انداز میں ہاں جی کہتی تھی،مگر اب تو دیکھتی آنکھوں سے الٹی گنگا بہہ رہی ہے سب کچھ بدلا بدلا لگتا ہے ،بچوں کی اپنے والدین سے نا فرمانی بیوی کی اپنے شوہر سے نافرمانی ہر دوسرے گھر میں بربادی کا باعث بنی ہوئی ہے ، یہ سب اس وجہ سے ہے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی سے دور ہوتے جا رہے ہیں ہم پڑھے لکھے ان پڑ ھ بنے ہوے ہیں، اگر ہم قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوے زندگی گزاریں تو زندگی بہت عمدہ خوشگوار و گلزار بن جائے گی۔

ازدواجی حقوق میں کوتاہی گھریلو زندگی کے لیے سوہانِ روح ہے،معاشرے کے ارتقاء ، باہمی محبت و رواداری، ایک دوسرے کے مابین مفاہمت و اعتماد، حقوق کی مساویانہ تقسیم اور اس پر عملا ً قایم رہنا ایک مستحکم اور مضبوط گھرانے کی بنیاد ہو تا ہے۔حقوق: (۱)اطاعت: اسلام نے عورت کو شوہر کا مطیع وفرمانبر دار بننے کا حکم دیا ہے اور اس کی نافرمانی سے روکا ہے. نافرمان عورت کے لیے سخت وعید سنائی ہے. البتہ اگر شوہرکا حکم شریعت کے احکام سے متصاد م ہو تو شریعت کا حکم شوہر کے حکم سے برترسمجھاجائے گا. شوہر کا حکم ٹھکرادیا جائے گا اور شریعت کی پیروی کی جائے گی. شوہر کا حق ہے کہ بیوی اس کی اطاعت وفرمانبرداری کرے. (۲) قلبی طمانیت اور ذہنی سکون: بیوی کو اللہ نے سکون کا ذریعہ بنایا ہے. اس لیے عورت کا یہ فرض ہے کہ وہ مرد کے لیے ایسا ماحول فراہم کرے جس میں اس کو ذہنی سکون اور قلبی طمانیت حاصل ہوشوہر کو ذہنی سکون تب حاصل ہوگا جب بیوی اس کی پسندیدگی وناپسندیدگی کا لحاظ رکھے۔

نیز ارشاد باری تعالی ہے : الرِّجَالْ قَوَّامْونَ عَلَی النِّسَاء ِ بِمَا فَضَّلَ اللَّہْ بَعضَھْم عَلَی بَعضٍ وَبِمَا اَنفَقْوا مِن اَموَالِھِم فَالصَّالِحَاتْ قَانِتَات حَافِظَات لِلغَیبِ بِمَا حَفِظَ اللَّہ وَاللَّاتِی تَخَافْونَ نْشْوزَھْنَّ فَعِظْوھنَّ وَا حجْرْوھْنَّ فِی المَضَاجِعِ وَاضرِبْوھْنَّ فَاِن اَطَعنَکْم فَلَا تَبغْوا عَلیھِنَّ سَبِیلًا اِنَّ اللََّہ َانَ عَلِیًّا کَبِیرًا

مرد عورت پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالٰی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے مال خرچ کیے ہیں (۱) پس نیک فرمانبردار عورتیں خاوند کی عدم موجودگی میں یہ حفاظت الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وہ تابعداری کریں تو ان پر راستہ تلاش نہ کرو (۲) بیشک اللہ تعالٰی بڑی بلندی اور بڑائی والا ہے”۔

حضرت حصین بن محصن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انکی ایک پھوپھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی ضرورت سے آئیں ، ضرورت پوری ہونے پر جانے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا تم شادی شدہ ہو انھوں نے کہا ، ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، اپنے شوہر کے ساتھ تمھارا رکھ رکھاؤ کیسا ہے، انھوں نے فرمایا میں حتی الامکان کوئی کسر باقی نہیں رکھتی ہوں ، آپ صلی االلہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں ان کا پورا خیال رکھنا ، وہی تمھاری جنت بھی ہیں اوروہی دوزخ بھی ہیں۔ ( مسند احمد : 19002 ، حاکم نے اس کو مستدرک 189/2 میں روایت کیا ہے ور صحیح کہا ہے )۔

اجمالی مفہوم :مذکورہ بالا احادیث سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے ، کہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات کی خوشگواری و استواری اور اعلی ظرفی و خوش اخلاقی کا برتاؤ ان زریں اسلامی تعلیمات میں سے ہے جو خاندان کی استواری اور پائیداری اور اس کے بقاء اور تحفظ کی نگہبان ہیں ، چنانچہ اسلام نے ازدواجی تعلق کو محکم و منّظم کیا ، اور شوہر و بیوی پر ایک دوسرے کے کچھ حقوق عائد کیے ہیں شوہر کا حق بیوی پر یہ ہے کہ بیوی اپنے خاندان کی فرمانبردار بن کے رہے ، اسکی نافرمانی نہ کرے ، اس پر بڑائی نہ جتائے ، اس کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم نہ رکھے ، اس کے گھر میں کسی کو پھٹکنے نہ دے ، شوہر اگر موجود ہو تو اسکی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے ، اس کی مرضی کے بغیر اس ک مال خرچ نہ کرے ، وہ کہیں چلا جائے تو اسکی غیر موجودگی میں اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرے ، اور اس کے مال و اولاد کی نگہداشت میں مکمل خیر خواہی اور وفاداری کا ثبوت دے ، شوہر کا احسان مانے ، اس کی شکر گذار رہے ، اس کے احسانات اور اسکی کاوشوں کو بھی فراموش نہ کرے ، اس کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرے ، اس کے ساتھ فراخ دل اور خوش طبعی کا معاملہ کرے ، اس کے لیے بناؤ سنگھار اور ارائش و زیبائش کا بھی پورا پورا اہتمام کرے ، شوہر کے والدین اور اقرباء کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے۔

بے شمار حدیث پاک موجود ہیں جن میں فرمایا گیا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی اجازت بغیر گھر سے باہر جائے تو جب تک وہ واپس نہیں آتی اور اپنے شوہر سے معافی نہیں مانگ لیتی ،اس وقت تک فرشتے اْس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں،عورت اپنے شوہر کی بغیر اجازت کے گھر سے کسی کو کوئی چیز نہیں دے سکتیں اور ہی کسی کو اپنے میں داخل کر سکتیں ہیں ،بیوی شوہر کے ماتحت ہوتی ہے اور بیوی پر شوہر کی اطاعت شرعاً لازم ہے،اس لیے بیویوں کو چاہیئے کہ شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سمجھ کراس میں سبقت کریں ، اگر انھوں نے یہ کام دل سوزی ، خلوص اور یکسوئی سے کر لیا تو نہ صرف عائلاتی امور میں خوشگواری او استواری پیدا ہو گی ، اور گھریلو زندگی پیار و محبت اور خیرو برکت سے مالا مال ہو گی بلکہ ایک بیوی کے لیے اپنی عاقبت بنانے اور خدا کو خوش کرنے کا بھی یہی ذریعہ ہے ،مرد حضرات بھی اس بات کو اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں کہ بیشک مرد عورت کے لیے قوام یعنی امیر کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ساتھ ہی دونوں کے درمیان دوستی کا بھی تعلق ہے، یعنی انتظامی طور پر تو مرد قوام یعنی امیر ہے لیکن باہمی تعلق دوستی جیسا ہے، ایسا تعلق نہیں ہے جیسا مالک اور نوکرانی کے درمیان ہوتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ مومنوں میں کامل ترین وہ ہے جو سب سے زیادہ حسن اخلاق والا ہو اور تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘ (ابن ماجہ )یاد رکھیں ، میاں بیوی کی چپقلش گھر کو جہنم بنادیتی ہے، جس میں وہ خود بھی جلتے ہیں اور اولاد کو بھی جلاتے ہیں، یہ تو دْنیا کی سزا ہوئی، آخرت کی سزا ابھی سر پر ہے۔دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائیں ،آمین۔

⑐琀


متعلقہ خبریں


پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

اپوزیشن کی اے پی سی اتوار کو لاہور میں بلائی جائے گی،ترکیہ، تھائی لینڈ، چین، افغانستان میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ قیمت اور لیوی دونوں بڑھا رہے ہیں، تحریک انصاف حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی،شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، بیرسٹر گ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 04 اپریل 2026

پاکستان کوبڑا معاشی اور خارجی دھچکا،قرض واپسی مؤخر کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام، متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 17 اپریل تک 2ارب ڈالرز کا قرضہ واپس مانگ لیا 2 ارب ڈالر اسی مہینے کے آخر میں ابوظہبی کو واپس کرینگے، رقم اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طورپر موجود تھی، رقم پر 6 فیصد کی شر...

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف وجود - هفته 04 اپریل 2026

باقی رقم ڈیوٹی ٹیکسوں اور آئی کمپنیوں و ڈیلر مارجن کی مد میں وصول کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لاگو نہیں کیا گیا ،ذرائع وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271۔27 جبکہ ڈیزل 496۔97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہ...

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

جماعت اسلامی کا پیٹرول قیمتوں میں اضافہ مسترد، عوام پر پیٹرول بم قرار حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، مہنگے جہاز اور گاڑیاں عوام پر بوجھ ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم ...

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب وجود - هفته 04 اپریل 2026

افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں طالبان دہشت گردوں کوتحفظ اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کررہی ہیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی...

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 20لیٹر پیٹرول100 روپے قیمت پر دینے کا اعلان،نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا، ٹرک، گڈز اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر سبسڈی ملے گی وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے،وزیرپیٹرولیم، وزیر خزانہ...

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ وجود - جمعه 03 اپریل 2026

ایرانی اعلیٰ کمانڈر کی ممکنہ زمینی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر فوج کو سخت ہدایات جاری ، دشمن کی نقل و حرکت پر انتہائی باریکی سے نظر رکھی جائے، ہر لمحے کی صورتحال سے آگاہ رہا جائے دشمن نے زمینی حملے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا، امریکا ، اسرائیل کی کسی بھی ممکنہ زمی...

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم وجود - جمعه 03 اپریل 2026

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار عمران خان ، بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر پابندی سوالیہ نشان قرار،پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشت گردی، سیاسی صورتحال اور پیٹرول بحران سمیت متع...

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی وجود - جمعه 03 اپریل 2026

شہدا کی تعداد 1 ہزار 318 ہوگئی، حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں پر تاڑ توڑ حملے کئے 48 فوجی زخمی ہونے کی اسرائیلی تصدیق، مجتبیٰ خامنہ ای کی حزب اللہ کو خراج تحسین پیش اسرائیل نے لبنان پر مزید فضائی حملے کئے، بیروت سمیت مختلف علاقوں میں بمباری سے سولہ افراد شہید جبکہ چھبیس زخمی ہو...

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

کیس میں 2 مزید ملزمان اور 1 گواہ کا اضافہ ،آئندہ سماعت پر کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا جائے گا چالان میں بانی پی ٹی آئی ودیگر ملزم نامزد ،تفتیشی افسر طبعیت ناسازی کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکا ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کیخلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ ک...

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، دنیا میں کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا انٹرویو ایران کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعوی مسترد کر دیاگیا۔ترجمان ایرانی وز...

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا

مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

ایک سوال۔۔۔۔؟ وجود هفته 04 اپریل 2026
ایک سوال۔۔۔۔؟

4اپریل جب آتا ہے ! وجود هفته 04 اپریل 2026
4اپریل جب آتا ہے !

بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام وجود جمعه 03 اپریل 2026
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر