دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہونے کوہے

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل امور منصور پیش نہ ہوئے تاہم ان کی جگہ پی ٹی آئی کے فنانس سیکریٹری سردار اظہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار اکبر ایس بابر بھی سماعت کے دوران موجود تھے۔الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا جو ایک ماہ میں پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کے بعد ایک ماہ میں رپورٹ کمیشن کو پیش کرے گی۔

کمیشن کی جانب سے قائم کی جانے والی 3 رکنی کمیٹی کی سربراہی الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) برائے قانون محمد ارشد کریں گے، تاہم کمیٹی کے دیگر افراد کے ناموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

کمیٹی کے سامنے دونوں فریق اور ان کے وکلا پیش ہوں گے جہاں وہ تمام ثبوت اور دستاویزات کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے جبکہ کمیٹی وکلا اور فریقین کی موجودگی میں ہی دستاویزات کی جانچ پڑتال کرے گی۔

الیکشن کمیشن نے دونوں فریقین کو غیر ملکی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی کے سامنے 19 مارچ کو پیش ہونے کا حکم بھی دیا۔الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سابق بانی رہنما اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ آج الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس پر اہم پیش رفت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ توقع کرتا ہوں پی ٹی آئی اس حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں نہ جائے کیونکہ تحریک انصاف کا رویہ رہا ہے کہ وہ اپنے خلاف آنے والے ہر حکم کے کے لیے عدالتِ عالیہ کے حکمِ امتناع کے پیچھے جاتے ہیں۔اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ باقی سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی چھان بین کا بھی یہی طریقہ اپنایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے 80 کروڑ سے ایک ارب روپے تک لگائے تھے۔یاد رہے کہ اکبر ایس بابر نے ہی نومبر 2014 میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ لینے کے معاملے پر درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کی تھی۔اور 8 فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل نے پی ٹی آئی کے تاخیری حربوں پر نقطہ اعتراض اٹھایا کہ ای سی پی کے پاس متعدد ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ پی ٹی آئی نے بیرون ملک سے فنڈنگ جمع کی اور کمیشن کے سامنے پیش نہیں کی اس لیے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف پر غیر ملکی فنڈنگ کیس میں مزید تاخیری حربے استعمال کرنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔

یاردرہے کہ عمران خان کی نااہلی کے لیے سپریم کورٹ میں دائرحنیف عباسی کی درخواست کے دوران تحریک انصاف فارن فنڈنگ سمیت دیگر معاملات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام پرآمادگی ظاہرکرچکی ہے ۔ اس دوران دلائل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل انورمنصورکاکہناتھاکہ اگر کسی سیاسی جماعت کا بیرون ممالک یا ملٹی نیشنل کمپنیوں سے فنڈنگ لینا ثابت ہو جائے تو وفاقی حکومت اس کے خلاف 15 دن کے اندر ریفرنس سپریم کورٹ بھیجوانے کی پابند ہے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا تھا کہ ’کیا غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق تحقیقات کے لیے الیکشن کمیشن کو اختیار حاصل ہے؟ کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ غیر ملکی فنڈنگ کا تعین کرنے کے لیے الیکشن کمیشن ہی مجاز اتھارٹی ہے؟‘چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل سے یہ بھی پوچھا کہ ’کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کے بعد فارن فنڈنگ کی تحقیقات کا اختیار نہیں رہتا؟ ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں، کیا ساڑھے چار سال کے دوران شکایت کی صورت میں الیکشن کمیشن تحقیقات کا اختیار نہیں رکھتا؟‘پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ اکاؤنٹس کی تفصیلات ہر سال جمع ہوتی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سال گزرنے کے بعد الیکشن کمشن سابقہ فارن فنڈنگ سے متعلق سوال نہیں اٹھا سکتی؟‘بینچ میں شامل جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے انعقاد کا اختیار رکھتی ہے اسے تحقیقات کا بھی مکمل اختیار ہے۔

اس دوران تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کی جانچ پڑتال کے لیے کمیشن بنادیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’کمیشن کیوں بنائیں، الیکشن کمیشن کو کیوں نہ بھجوا دیں۔وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ سپریم کورٹ تحقیقات کے لیے کمیشن بنائے ہم تیار ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ سیاسی جماعت کی نمائندگی کر رہے ہیں، اس طرح کا بیان ہدایات لے کر دیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کو ہی کمیشن کا درجہ دے دیں تو شاید آپ کو تب بھی اعتراض نہیں ہو گا۔

علاوہ ازیں عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں 35 صفحات پر مشتمل جواب بھی جمع کرادیا گیا جس میں لندن فلیٹ سے متعلق خریدو فروخت کے معاہدے کی بیان حلفی بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ دستاویز میں جمائما خان کے ساتھ شادی اور طلاق تک کے واقعات پر بیان حلفی، آف شور کمپنی نیازی لمیٹڈ سروس کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات،عمران خان اور جمائما خان کے درمیان بینک اکائونٹس کے ذریعے سیٹلمنٹ پر بیان حلفی اور تفصیلات شامل ہیں۔

9 صفحات پر مشتمل بیان حلفی میں عمران خان نے موقف اپنایا کہ 1971 سے 1982 تک کمائی گئی رقم کرکٹ کے کھیل سے حاصل کی اور اس پر تمام ٹیکس ادا کیے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کرکٹ سے کمائی گئی رقم کے ذریعے 1983 میں ایک بیڈروم پر مشتمل فلیٹ خریدا اور نیازی سروسز لمیٹد کا صرف ایک فلیٹ ہے۔عمران خان نے یہ بھی کہا کہ جب برطانوی فلیٹ بیچا گیا تو وہ وہاں کے رہائشی نہیں تھے اسی لیے ٹیکس ادا نہیں کیا۔عمران خان کے مطابق انہوں نے 1995 میں جمائمہ سے شادی کی، طلاق کے وقت برطانوی قانون کے مطابق مشترکہ اثاثے برابر تقسیم ہوتے ہیں جبکہ شرعی قانون کے تحت سابقہ شوہر سابقہ بیوی کے اثاثوں کا حق نہیں رکھتا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ جمائمہ سے طلاق کے بعد انہوں نے بیوی سے اثاثے لینے سے انکار کیا جبکہ جمائمہ نے بنی گالہ کی جائیداد اپنے اور بچوں کے لیے لی تھی۔بیان حلفی میں چیئرمین تحریک انصاف نے بتایا کہ 2002 کے انتخابات میں انہوں نے کاغذات نامزدگی میں 65 لاکھ ایڈوانس ٹیکس ظاہر کیا۔

ᐁDzంǧ䰬솰羅¶š騀٬

Electrolux