پاکستان کی بین الاقوامی اہمیت

بدھ 7 فروری 2018 کو وطن عزیز کی بین الاقوامی اہمیت کا اعتراف و اظہار ایک سے زیادہ صورتوں میں سامنے آیا۔اس روز واشنگٹن میں دی گئی ایک بریفنگ میں امریکا کی ڈپٹی وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ایلس ویلز نے تصدیق کی کہ افغانستان میں استحکام کے لیے پاکستان کا اہم کردار امریکا کو مدد فراہم کرسکتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے پر مجبور کرنے کے لیے دبائو کے جو طریقے استعمال کئے گئے ان میں واشنگٹن کو ناکامی ہوئی۔ امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کے سربراہ جنرل رابرٹ پی ایشلے نے بھی اسی روز عالمی صورتحال پر کانگریس کی ا?رمڈ سروسز کمیٹی میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف پاکستانی کوششوں کی کامیابی کے اعتراف کے ساتھ پاکستانی سرزمین پر باہر سے در اندازی کے خلاف آپریشنوں اور مغربی افغان سرحدپر باڈر مینجمنٹ کی کاوشوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پچھلے مہینوں کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو الزامات کا ہدف بناتے ہوئیسیکورٹی امداد کی معطلی سمیت جو کچھ کیا اس کے باوجود پاکستان کی حکومت اور عوام اپنے اس موقف پر قائم ہیں کہ وطن عزیز کی سرزمین پر تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہورہی ہے اور یہاں کسی افغان گروپ کے محفوظ ٹھکانے نہیں۔ اس لیے افغان گروپوں کے خلاف انہی فورسز کو کارروائی کرنی چاہئے جو افغانستان میں موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد دوبارہ رابطوں اور بات چیت کا عمل پچھلے ہفتے اس وقت شروع ہوا جب امریکا کی سینئر ڈائریکٹر برائے جنوبی و وسطی ایشیا لیزاکرٹس نے ہفتے کے روز پاکستان کا دورہ کیا۔ چنانچہ ان سطور کی اشاعت کے وقت پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ واشنگٹن میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کررہی ہیں۔امریکی حکومتیں اگرچہ اپنے حلیف ملک پاکستان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی اور مشکل حالات میں ساتھ چھوڑتی بلکہ پابندیوں اور الزامات کا نشانہ بناتی رہی ہیں مگر موجودہ امریکی حکومت کے لیے جو چیز سب سے زیادہ گراں باری کا سبب بن رہی ہے وہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر کا کام ہے۔ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کے وجود کے دشمن اور واشنگٹن کے نئے حلیف ملک بھارت کی طرف سے بحریہ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی سرگرمی میں دہشت گردی نیٹ ورک کے قیام سمیت بہت کچھ کیا گیا مگر پاک چین اقتصادی راہداری کے مختلف مراحل پر تیزی سے کام جاری ہے اور 7 فروری 2018 کی تاریخ اس اعتبار سے بھی خاص اہمیت کی حامل ہے کہ اس روز گوادر بندرگاہ سے تجارتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔گوادر جنوبی اور وسطی ایشیا کو باقی دنیا سے ملانے والی وہ بندرگاہ ہے جہاں کٹے پھٹے ساحل اور گہرے پانیوں کے باعث بڑے بحری جہازوں کا لنگرانداز ہونا اور مال کا اتارنا یا چڑھانا دوسری بہت سی بندرگاہوں کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔بدھ کے روز اس بندرگاہ سے پہلا کمرشل بحری جہاز ایم ایس ٹائیگر سمندری خوراک سے بھرے کنٹینرز لیکر عرب امارات کی بندرگاہ جبل علی کے لیے روانہ کردیا گیا۔ قبل ازیں یہ جہاز پاک بحریہ کے جہازوں کی سیکورٹی میں گوادر پہنچا تھا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور چین کے قونصل جنرل کے علاوہ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔ جیسا کہ بتایا گیا، ابتدائی مرحلے میں ہر بدھ کو گوادر پورٹ سے کمرشل بحری جہاز عرب امارات بھیجے جائیں گے۔ اس بندرگاہ میں ہزاروں کنٹینرز کو 48 گھنٹے سے بھی پہلے کلیئر کردیا جائے گا اور تاجروں کو کولڈ اسٹوریج میں بھی جگہ کی کمی کا سامنا نہیں ہوگا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے چین اور روس سمیت مختلف ممالک سے بڑھتے ہوئے تعاون کو یہ بندرگاہ مہمیز کرے گی جبکہ واشنگٹن کے تازہ رابطوںسے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا سی پیک کی افادیت کو جلد یا بدیر تسلیم کرلے گا اور مغربی دنیا کے ملکوں تک بھی اس تجارتی راہداری کے ثمرات پہنچ سکیں گے۔

ऀ̦ࠀ̥ᬁ̈́ሁŽ斟

Electrolux