... loading ...
گوشت پروٹین کا ایک مکمل ماخذ ہے جس میں تمام ضروری امائنو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو ہمارا جسم ازخود نہیں بنا سکتا ۔ اور یہ امائنو ایسڈز ہمارے جسم کی نشوونما کے لئے بے حد ضروری ہوتے ہیں ۔ اور یہ مختلف بافتوں (Tissues) مثلاََ عضلات اور ہماری جلد کو بنانے میں اہم کرادار ادا کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ گوشت انسانی جسم کو مختلف ، و ٹامنز اور نمکیات خصوصاََ وٹامن B ، آئرن ، زنک اور فاسفورس وغیرہ بھی مہیا کرتے ہیں ۔ ان سب و جوہات کی بناء پر گوشت کو لازمی طور پر ہماری روزمرہ خوراک کا حصہ ہونا چاہیئے مگر اسکا بہت زیادہ اور مسلسل استعمال کولیسٹرول ، یورک ایسڈ ، ہائی بلڈ پریشر اور مختلف دل کی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق ایک شخص کو ایک دن میں تقریباََ 70 گرام سے زیادہ گوشت نہیں استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے مختلف پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں گوشت کے روزانہ استعمال کو امارت کی نشانی اور فخریہ طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں تو گوشت کے بغیر کوئی کھانا ہی نہیں کھاتا اور پھر کسی تقریب یا تہوار وغیرہ پر تو گوشت کا استعمال وہ بھی روزانہ لازم و ملزوم بن جاتا ہے ۔
سرخ گوشت کا زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ گوشت میں موجود پروٹین کی زیادہ مقدار سے بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے اور اس کے علاوہ گوشت میں چربی اور کولیسٹرول کی بڑی مقدار دل کی مختلف بیماریوں حتٰی کہ دل کے دورے کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔کیونکہ یہ چربی دل کی شریانوں میں جمع ہو کر ان کو بلاک کر دیتی ہیں اور پھر مریض دل کی مختلف بیماریاں سمیت ہارٹ ماہر کا رخ کرتے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں کو یرقان اور ہیپاٹائیٹس کا مرض لاحق ہوتا ہے انہیں بھی سرخ گوشت کا زیادہ استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے کیونکہ گوشت کے زیادہ استعمال سے جگر پر دبائو پڑنے کی وجہ سے مریض کی حالت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ دمے یا سانس کے مریضوں کو بھی سرخ گوشت کے کم استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے ، سرخ گوشت کو ہضم کرنے کے لئے زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے لہذا سانس کے مریضوں کے لئے اسکا زیادہ استعمال بے حد مضر ثابت ہوسکتا ہے ۔ ایک حالیہ ریسرچ کے مطابق وہ لوگ جو سرخ گوشت کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں کینسر کے امکانات دوسرے لوگوں سے 20 فیصد زیادہ ہوتے ہیں جس میں جگر کا کینسر ، کولون اور بریسٹ کینسر وغیرہ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ سرخ گوشت کا زیادہ استعمال یورک ایسڈ کو بڑھنے میں معاونت کرتا ہے جو کہ جوڑوں کے درد(Arthiritis) کا باعث بنتا ہے ۔
تحقیق کے مطابق باربی کیوگوشت جو کہ کوئلے کے دھوئیں سے بنا یا جاتا ہے وہ دھواں اس گوشت کو Carcinogenic بنا دیتا ہے جس سے معدے کی تیزا بیت ا ور جلن کی شکایت ہو سکتی ہے اور جلے ہوئے گوشت سے نظام انہضام بھی متاثر ہوسکتا ہے ۔
ہمارے معاشرے میں گوشت کے زیادہ استعمال کے ساتھ ساتھ گوشت کو لمبے عرصے کے لئے فریز یا جمانے کا رجحان بھی عام ہے جو ہماری صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہے ۔ اور لوگ اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ گوشت کو زیادہ عرصے تک جمانے سے فوڈ پو ائیزنگ (Food Poisiening) اور گردے ، دل اور معدے کی مختلف بیماریاں جنم لے سکتی ہیں ۔ ماہرین کے مطابق گوشت کو تقریباََ 10 دن سے زیادہ ذخیرہ ، نہیں کرنا چاہیئے اور اس کو تازہ حالت میں ہی استعمال کر لینا چاہیئے اور ذخیرہ کئے ہوئے گوشت کو فریزر سے نکالنے کے بعد زیادہ عرصے تک باہر نہیں رکھنا چاہیئے کیونکہ اس سے گوشت میں مختلف بیکٹریا کی نشوونما شروع ہو جاتی ہے جو ہماری صحت کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتے ہیں لہذا گوشت کو فوراََ اچھی طرح پکا لینا چاہیئے اور گوشت کو پکانے سے پہلے صاف پانی سے باقاعدہ طریقے سے دھونا چاہیئے۔ اور بوقت ضرورت گوشت کو فریز کرتے ہوئے چھوٹے بیگز استعمال کرنے چاہیئے ناکہ اخبارات ، اخبارات میں انک یعنی لیڈ موجود ہوتا ہے جو ہماری صحت کے لئے بے حد مضر ہوتا ہے ۔
کھانا کھانے کے فوراََ بعد سونا نہیں چاہیئے کیونکہ اس طرح کھانا ٹھیک سے ہضم نہیں ہوپاتا ہے اور جس کے باعث معدے کی مختلف بیماریاں اور انفیکشن ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح کھانا کھانے کے بعد یا صبح یا شام چہل قدمی کو اپنے روزمرہ کے شیڈول کا ایک لازمی جزو بنا لینا چاہیئے ۔ چہل قدمی ہمارے معدے اور دیگر جسمانی حصوں کو ٹھیک اور باقاعدہ کام کرنے میں مدد کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کھانا کھانے کا ایک ٹائم مقرر کرلینا چاہیئے ۔ کیونکہ وقت بے وقت کھانا کھانے سے نظام ہضم بگڑ سکتا ہے اور ہم بیمار پڑسکتے ہیں لہذا دو کھانوں کے درمیان چھ گھنٹوں کا وقفہ ہونا چاہیئے اور ایک اور اہم بات یہ کہ ہمارے ہاں بیشتر گھرانوں میں سبزیوں اور پھلوں کے بجائے گوشت زیادہ رغبت سے کھایا جاتا ہے یہ طریقہ مناسب نہیں ہے کوشش کرنی چاہیئے کہ اپنی روزمرہ کی غذا میں گوشت کی مقدار کو کم کرکے پھلوں اور سبزیوں کی مقدار کو بڑھایا جائے۔
پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں گوشت دیر سے ہضم ہوتا ہے اور زیادہ گوشت کھانے سے معدے پر گرانی بھی بڑھ جاتی ہے ۔لہذا گوشت کے ایک مناسب استعمال کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور سلاد کا استعمال بھی مناسب اور زیادہ مقدار میں کریں ۔ اور جانوروں کی چربی والا تیل جو کہ بے حد مضر صحت ہے ،کے بجائے سبزیوں کا تیل (Vegetable Oil) استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ جانوروں کی چربی والے تیل میں سیر شدہ چکنائیاں (Saturated Fats) اور Trans Fats کی زائد مقدارہوتی ہے جبکہ اس کے برخلاف جو لوگ Polyum Saturated Acids استعمال کرتے ہیں ان کی صحت پر مضر اثرات کا خطرہ کم ہوتا ہے یہ چکنائیاں مچھلی ، سبزیوں اور سبزی جاتی تیلوں یعنی VEgetable Oil میں پائی جاتی ہیں ۔
سرخ گوشت چونکہ پروٹین اور دیگر وٹامنز اور معدنیات کا ایک بہتر ذریعہ ہے اور لازمی طور پر ہماری خوراک کا حصہ ہونا چاہیئے مگر ان سب کے حصول کے لئے مکمل طور پر گوشت پر ا نحصار کرنے کے بجائے ایک صحت مند طرز زندگی اپناتے ہوئے اپنی روزمرہ کی خوراک میں مختلف موسمی سبزیوں اور پھلوں کو بھی جزو لازم بنانا چاہیئے جوکہ بذات خود پروٹین کا ایک اچھا منبع ہیں ۔
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...