وجود

... loading ...

وجود

اختلاج قلب یا دل کی دھڑکن

منگل 13 مارچ 2018 اختلاج قلب یا دل کی دھڑکن

ایک صحت مند آدمی کو اپنے دل کی دھڑکن کا احساس نہیں ہوتا،لیکن اگر دل زور زور سے دھڑک رہا ہو تو ہر بار اسے بیماری کی علامت بھی قرار نہیں دیا جاسکتادل کی دھڑکن بے ضرر توجہ طلب یا خطرناک ہوسکتی ہے اور ہم اس اعتبار سے دل کی اس خرابی کی تین قسموں کا ذکر کرتے ہیں پہلی قسم فطری دھڑکن ہے دھڑکن سے مراد زور دار دھڑکن ہے مثلاً ورزش یا سانس پھولنے سے دل کا زور زور سے دھڑکنا فطری عمل ہے کیونکہ دل کو زیادہ خون سپلائی کرنا پڑتا ہے دوسری قسم فعلی بیماریوں Functional Disorders کی ہے ان میں دل کے عضو میں کوئی خرابی نہیں ہوتی البتہ بیرونی عوامل کے زیر اثر دھڑکن کا احساس بڑھ جاتا ہے ان میں بدہضمی انیمیا خون کی کمی فرط جذبات جذبات کی نوعیت خواہ کچھ ہو حیض کی باقاعدگی بخار چائے تمباک یا کافی کا زیادہ استعمال کمزوری صحت وغیرہ شامل ہیں تیسری قسم داخلی یا عضوی بیماریوں Organic Diseases کی ہے اس صورت میں دھڑکن خود دل کی بیماری کی وجہ سے ہوتی ہے ان میں جوڑوں کے درد اور خود دل کی کئی بیماریاں شامل ہے دل کی دھڑکن زیادہ تر فطری یا فعلی نوعیت کی ہوتی ہے دل کی بیماریاں نسبتاً بہت دیکھنے میں آتی ہے علاج کے نقطہ نظر سے فعلی اور عضوی بیماری میں تمیز کرنا ضروری ہے فعلی خرابی کی وجہ سے دل کی دھڑکن اچانک تیز ہو جاتی ہے اور پھر کچھ دیر بعد خود بخود سنبھالنے بھی لگتی ہے یہ بیماری اکثر اوقات عورتوں میں پائی جاتی ہے دل کی دھڑکن بہت نمایاں اور زور دار ہوتی ہے بیٹھے یا لیٹے رہنے سے اس دھڑکن میں اضافہ ہوجاتا ہے اور کام کاج یا ورزش کرنے سے یہ کم ہوجاتی ہے اس کے برعکس دل کی عضوی خرابی کی وجہ سے ہونے والی دھڑکن آہستہ آہستہ تیز ہوجاتی ہے اور مسلسل جاری رہتی ہے یہ بیماری عموماًصرف مردوں کو لگتی ہے اور عورتوں میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے اور عموماً اس کا سبب کبھی پہلے ہونے والا جوڑوں کا درد ہوتا ہے بیٹھنے یا لیٹنے سے یہ کم ہوجاتی ہے اور ورزش کرنے سے بڑھ جاتی ہے یہ زیادہ نمایاں اور زور دار نہیں ہوتی ان کے علاوہ مریض کو ہاتھ پاؤں شل ہونے ٹخنوں پر ورم آنے یا ہاتھ پاؤں نیلے اور ٹھنڈے پڑنے کی شکایت ہوتی ہے ان میں تمیز کرنے سے آپ کے لیے علاج میں سہولت رہے گی،

علاج:فطری دھڑکن کو اس کے حال پر چھوڑدیجیے اس کے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی اگر دھڑکن فعلی نوعیت کی ہے تو بھی زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں یہ مہلک ثابت نہیں ہوسکتی البتہ اگر آپ اس کا سبب جانتے رہیں تو اسے دور کرنے کی کوشش کیجیے یاد رکھیے اگر فعلی خرابی دل پر مسلسل دباؤ ڈالتی رہے تو دل بالآخر کسی عضوی خرابی کا شکار ہوجاتا ہے نفسیاتی تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں اس مقصد کے لیے آپ لارجیکٹل سٹیلازین ڈراماسین یا اے وومن وغیرہ ایک یا دو گولیاں جب آپ تکلیف محسوس کریں استعمال کرسکتے ہیں لیکن آپ کی قوت ارادی دواؤں سے زیادہ موثر کردار ادا کرسکتی ہے اپنے آپ کو یقین دلائیے کہ آپ قطعاً کسی خطرناک مرض میں مبتلا نہیں ہیں نشہ آور اشیا کا استعمال وقتی طور پر ختم کردیںاگر اسے پھر شروع کرنا پڑے تو بھی احتیاط سے شروع کریں اور اگر تکلیف پھر ہونے لگے تو پرہیزکریں بدہضمی کا علاج کریں اور اگر ہاضمے کی خرابی کی وجہ سے آپ کا جی متلا رہا ہو تو منہ میں سوڈا منٹ یا پیپر منٹ کی گولی رکھ کر چوسیں اپنے آپ کوک مطالعے یا کسی دوسرے شغل میں مشغول رکھ کر آپ فعلی دھڑکن کا احساس کم کرسکتے ہیں صحت کو بہتر بنائیں اگر فعلی دھڑکن کا سبب انیمیا یا کوئی دوسری بیماری ہے تو اس کا علاج کریں اگر آپ فعلی بیماری کے متعلق بلاوجہ پریشان ہوتے رہے ہو تو یہ عضوی بیماری کا روپ دھار سکتی ہے بعض اوقات آپ پرسکون اورہواد ار کمرے میں لیٹ کر چند لمبے لمبے سانس لینے سے دل کی دھڑکن کم کرسکیں گے بلاوجہ اپنے اندر بیماری تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں بعض اوقات آپ کو یہ تلاش آپ کو سچ مچ بیماربناسکتی ہے اگر آپ اوپر بیان کی گئی علامت کی روسے کسی عضوی بیماری کا شکار ہیں یا آپ کے دل کی دھڑکن بڑھنے سے پہلے کبھی جوڑوں کا درد ہوتا رہا ہے توفوراً ڈاکٹر سے ملیے زیادہ متفکر نہ ہوں اس سے آپ کی بیماری اور بڑھ جائے گی یاد رکھیے دل کی اکثر عضوی بیماریوں کا اگر بروقت علاج شروع کردیا جائے تو وہ مہلک ثابت نہیں ہوتیں اور دل کی اکثر بیماریاں صرف اسی صورت میں مہلک ثابت ہوتی ہیں جب مریض خود ہمت ہار بیٹھتا ہے اگر آپ واقعی جینا چاہتے ہیں تو آپ دل کی اکثر بیماریوں کو شکست دے سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر