وجود

... loading ...

وجود

دنیا کا ہر مذہب اچھے ،بُرے کی تمیز احترامِ انسانیت کی بنیاد پر سکھاتا ہے

پیر 12 مارچ 2018 دنیا کا ہر مذہب اچھے ،بُرے کی تمیز احترامِ انسانیت کی بنیاد پر سکھاتا ہے

دنیا کا ہر مذہب اچھے ،بْرے کی تمیز احترامِ انسانیت کی بنیاد پر سکھاتا ہے۔ احترامِ انسانیت یہ ہے کہ انسان جس روپ میں بھی ہواس کی بقا کے لیے معاشرتی اور مذہبی اصولوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ مرد عورت کسی بھی معاشرے کو بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سماجی اور معاشرتی نظم و ضبط، سیاست، معاشی استحکام اور دیگر شعبوں میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں کیونکہ روئے زمین پر بنی نوع انسان کی بقا کا سفر تنہا کسی ایک صنف کے دائرہ اختیار سے باہر ہے لہٰذا خواتین کی اہمیت سے انکار کا کوئی جواز نہیں۔ عورت کا اصل وصف حیا اور نسوانیت اس کا حسن ہے۔ پھر یہی خوبیاں نمو پا کر ہمدردی، ایثار ، اور مستقل مزاجی جیسے باوقار جذبوں کی شکل میں عیاں ہوتی ہیں۔ اسلام نے عورت کو ایسا باعزت مقام عطا کیا ہے کہ رہتی دنیا تک وہ مقام بلند رہے گا۔ خود خواتین کا احترام دراصل نوع انسانی کے احترام کے مترادف ہے کیونکہ حضرت آدمؓ اور حضرت بی بی حواؓ کے علاوہ دنیا میں کوئی ایسا نہیں جسے ماں نے جنم نہ دیا ہو۔ اگر ہمارے لئے ماں محترم ہے تو دنیا کی ہر خاتون محترم ہونی چاہیے۔ کچھ تنگ نظر حضرات کا کہنا غلط ہے کہ اسلام عورت کو چار دیواری میں زندگی گزارنے پر مجبور کردیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب قرآن پاک اْتارنا شروع کیا تو اولین آیات میں مرد و عورت میں تفریق نہ کی۔ ’’پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا ۔ انسان (مرد اور عورت)کو وہ علم دیا جس سے وہ نہ جانتا تھا۔‘‘یہ آیات آج سے چودہ سو سال پہلے نازل ہوئیںجب علم کی افادیت کچھ خاص نہیں تھی یہاں تک کہ مکہ جیسے شہر میں بھی بہت کم لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ اسلام نے تب عورت و مرد کو علم کی افادیت سکھائی۔

عورت اگر ان حقوق کو اعداد وشمار میں لانا بھی چاہے تو نہیں لا سکے گی چنانچہ آج جہاں بے شمار احادیث کے ماخذ صحابہ کرامؓ ہیں وہاں صحابیاتؓ بھی پیچھے نہیں ہیں۔ حضرت عائشہ کے بارے میں ان کے ممتاز شاگرد عروہ بن زبیرؓ کا کہنا ہے کہ ’’میں نے تفسیرِ قرآن ،فرائض ،حلال وحرام ،ادب و شعر اور تاریخ عرب کا حضرت عائشہ ؓ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں دیکھا‘‘ ہمارے ہاں عورت کے معاملے میں مردانہ حاکمیت کے سوال کو اٹھایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کسی عورت کے ساتھ کتنی بھی عقل ودانش کی بات کریں۔ کیسے بھی دلائل کیوں نہ دیں اگر اس کی مر ضی نہیں ہے تو وہ اس منطق کو کبھی نہیں سمجھے گی اس نے جو فیصلہ کرلیا ہوتا ہے وہی اس کے لیے مسئلے کا واحد حل ہوتا ہے۔ مردانہ حاکمیت کے لیے اسے جواز بنایا جاتا ہے۔ بلا شبہ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ معاشرے پر مرد کی حاکمیت کو یک طرفہ طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہر معاملے میں مردوں کا قصور تلاش کرنا دانش مندی نہیں۔ عورت اور مرد دونوں معاشرے کا حصہ ہیں اور غلطیاں دونوں سے ہو سکتی ہیں تاہم عورتوں سے کیے جانے والے امتیازی سلوک سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے عورتوں کے حقوق کے لئے بہت سے تنظیمیں کام کر رہی ہیں، قانون اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں مگر پھر بھی ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں بڑی تعداد میں عورتوں کو گھریلو تشدد اور عزت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔

عورتوں کی ایک بڑی تعداد غیر رسمی شعبے میں میں انتہائی نا مساعد حالات میں معمولی اجرتوں پر کام کررہی ہیں۔ عورتیں مردوں کی نسبت دگنا کام کرتی ہیں۔ بچوں اور خاندان کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ انہیں کام کرنا پڑتا ہے۔ ان پر دہری ذمہ داری ہوتی ہے مگر انہیں مردوں کے مقابلے میں 20 سے 40 فیصد کم اجرت ملتی ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی آدھی آبادی کے ساتھ ترقی نہیں کرسکتا۔ صنفی تفریق ختم کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کی خواتین کو مکمل قومی دھارے میں شامل کرنا اس دورمیں قومی ترقی کے لیے ایک حقیقی ضرورت ہے۔ حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی آوازوں کو دبانے کی نہیں، بلکہ اس پکار کو سننے کی ضرورت ہے۔ اسلامی معاشرے کا خوبصورت اور روشن چہرہ دنیا کو دکھانے کے لیے ہمیں ان کرداروں کو بھی سامنے لانا ہوگا جنہوں نے روایات شکن اقدامات کر کے عورت کو ان کے حقوق دلائے۔ عصرِحاضر میں مسلم رول ماڈل خواتین کے حوالے سے آگاہی لازمی ہے، ایسے اداروں کا قیام ضروری ہے جہاں اسلامی معاشرہ قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے والی امہات المومنینؓکے طرز زندگی کے عین مطابق تربیت دی جائے۔ ہمیں اس امر کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا کہ عورت معاشرے کی بناوٹ، ترقی اور استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...

ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور جمعہ کو ہوسکتا ہے، امریکی صدر

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...

سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...

پی ٹی اے ، غیر رجسٹرڈ ادویات کی آن لائن تشہیر کیخلاف ایکشن

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید وجود - جمعرات 23 اپریل 2026

جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...

لبنان میں چلتی کار پر اسرائیل کا ڈرون حملہ، 2 افراد شہید

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی وجود - بدھ 22 اپریل 2026

امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...

معاہدہ نہ کیا تو ایران پر حملہ کر دیں گے،ٹرمپ کی نئی دھمکی

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان وجود - بدھ 22 اپریل 2026

ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...

عمران خان کو رہا کرکے سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، مولانا فضل الرحمان

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد وجود - بدھ 22 اپریل 2026

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد ساڑھے چار لاکھ بچوں کے مستقبل سے کھیلا جارہا، اسکول اور اساتذہ بکے ہوئے ہیں،چیئرمین مہاجرقومی موومنٹ مہاجر قوم، قوم پرست بنے، ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے، خدارا خود کو مہاجر تحریک سے جوڑیں،عید ملن پارٹی سے خطا...

مہاجر ایک قوم، ملکی وسائل پر مہاجروں کا حق تسلیم کیا جائے،آفاق احمد

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم وجود - بدھ 22 اپریل 2026

شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس،پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی بنانے کی منظوری دیدی وزیرِ اعظم نے نئے منظور شدہ نظام کے حوالے سے عملدردآمد پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی ل...

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ وجود - منگل 21 اپریل 2026

ڈیڈ لائن سے پہلے ڈیل نہ ہوئی تو تب بھی وہ نہ تو جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور نہ ہی ایرانی سمندروں کی ناکہ بندی ختم کریں گے، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم کرے،امریکی صدر تہران کا وفد امریکا سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں جا رہا ،صدرٹرمپ سنجیدہ نہیں ، دھمکیوں سے باز ...

جنگ بندی مذاکرات ،ایران کا انکار، امریکا تیار، مذاکرات کامیاب ہوئے تو ایرانی قیادت سے ملوں گا،ٹرمپ

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو وجود - منگل 21 اپریل 2026

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایرانمذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف وجود - منگل 21 اپریل 2026

وزیراعلیٰ سندھ نے گندم خریداری مہم تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنانے کی ہدایت کردی فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا،مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گندم فروخت کی حد ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے گ...

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،گندم فروخت کی حد ختم، آبادگاروں کو مکمل ریلیف

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان وجود - منگل 21 اپریل 2026

عہد کی پاسداری ہی بامعنی مکالمے کی بنیاد ہے، ایرانی عوام جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ایران میں امریکا کی حکومتی کارکردگی کے پس منظر میں گہرا تاریخی عدم اعتماد موجود ہے،ایرانی صدر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکہ ایران سے سرنڈر کرانا چاہتا ہے، تاہم ایرانی عوام ک...

امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایران سرنڈر نہیں کریگا،صدر پزشکیان

مضامین
انسان خوش فہمیوں کا قید ی! وجود جمعرات 23 اپریل 2026
انسان خوش فہمیوں کا قید ی!

یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری وجود جمعرات 23 اپریل 2026
یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

بھارت بنگلہ دیش تعلقات وجود جمعرات 23 اپریل 2026
بھارت بنگلہ دیش تعلقات

ایران امریکہ معاہدہ ؟ وجود بدھ 22 اپریل 2026
ایران امریکہ معاہدہ ؟

سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ وجود بدھ 22 اپریل 2026
سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر