وجود

... loading ...

وجود

سورج کی روشنی کئی امراض میں مبتلاافرادکے لیے ٹانک

پیر 12 مارچ 2018 سورج کی روشنی کئی امراض میں مبتلاافرادکے لیے ٹانک

سائنس دانوں نے 1930ء کے لگ بھگ ایسی دوائیاں دریافت کیں جو بیماری پھیلانے والے جراثیم کی روک تھام کرتی ہیں۔ اِن دوائیوں کو اینٹی بائیوٹکس کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کو امید تھی کہ اِن سے کچھ بیماریاں بالکل ختم ہو جائیں گی۔ شروع شروع میں تو انہیں لگا کہ یہ دوائیاں ان کی امیدوں پر پوری اتر رہی ہیں۔ لیکن انہوں نے دیکھا کہ اِن کے بہت زیادہ اِستعمال سے ایسے جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں جن پر یہ دوائیاں اثر نہیں کرتیں۔اِس لیے بعض سائنس دان بیماریوں کی روک تھام کے سلسلے میں ان طریقوں پر دوبارہ غور کر رہے ہیں جو ماضی میں اِستعمال کیے جاتے تھے۔ اِن میں سے ایک طریقہ تازہ ہوا اور سورج کی روشنی کا اِستعمال ہے۔ دو تین صدیاں پہلے اِنگلینڈ کے کچھ ڈاکٹر اِس بات پر زور دیتے تھے کہ علاج کے لیے سورج کی روشنی اور تازہ ہوا مفید ہے۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر جان لیٹ سم (1744ء -1815ء) یہ مشورہ دیتے تھے کہ ٹی بی میں مبتلا بچوں کے لیے سمندر کی ہوا اور سورج کی روشنی بہت فائدہ مند ہے۔ 1840ء میں سرجن جارج بوڈینگٹن نے دیکھا کہ جو لوگ کھلی فضا میں کام کرتے ہیں، جیسے کسان، چرواہے وغیرہ، یہ لوگ عموماً ٹی بی کا شکار نہیں ہوتے۔ لیکن جو لوگ زیادہ تر وقت عمارت کے اندر کام کرتے ہیں، انہیں ٹی بی لگنے کا اِمکان زیادہ ہوتا ہے۔ فلورنس نائٹ انگیل (1820ء￿ -1910ء ) ایک نرس تھیں جنہوں نے برطانیا کے ان فوجیوں کی دیکھ بھال کی جو کریمیا میں ہونے والی جنگ میں زخمی ہو گئے تھے۔ اِس دوران انہوں نے نرسنگ کے حوالے سے کچھ نت نئے طریقے متعارف کرائے۔

انہوں نے ڈاکٹروں سے کہا: ’’جب آپ رات کے وقت یا پھر صبح کو کھڑکی کھلنے سے پہلے کسی شخص کے کمرے میں جاتے ہیں تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایسے کمرے سے بہت بو آتی ہے اور اِس میں حبس ہوتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے مشورہ دیا کہ مریض کے کمرے میں تازہ ہوا کا ہونا بہت ضروری ہے لیکن یہ ہوا اِتنی حد تک ہونی چاہیے کہ مریض کو ٹھنڈ نہ لگے۔ انہوں نے مزید کہا: ’’مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران مَیں نے دو اہم باتیں سیکھیں۔ پہلی تو یہ کہ ان کے کمرے میں تازہ ہوا کا ہونا لازمی ہے اور دوسری یہ کہ انہیں روشنی کی بھی ضرورت ہے۔ کسی ایسی ویسی روشنی کی نہیں بلکہ سورج کی روشنی کی۔‘‘ اس زمانے میں بہت سے لوگ بھی یہ مانتے تھے کہ بستر کی چادروں اور کپڑوں کو دھوپ میں لٹکانے سے مریض کی صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ انیسویں صدی سے سائنس کے میدان میں بہت ترقی تو ہوئی ہے لیکن جدید تحقیق سے یہی ثابت ہوا ہے کہ سورج کی روشنی اور تازہ ہوا صحت کے لیے اچھی ہے۔ مثال کے طور پر 2011ء میں چین میں کی گئی تحقیق سے ظاہر ہوا کہ جن کالجوں کے ہاسٹلوں میں ہوا کے آنے جانے کا اِنتظام اِتنا اچھا نہیں ہوتا، وہاں ’’ زیادہ لوگ سانس کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ بیماریوں کی روک تھام کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ عمارتوں میں ایسا اِنتظام موجود ہو جس کے ذریعے تازہ ہوا عمارت کے ہر حصے میں داخل ہو سکے۔

2009ء میں اِس اِدارے کی طرف سے شائع ہونے والی رپورٹ میں یہ مشورہ دیا گیا کہ ہسپتالوں میں ہوا کی آمدورفت کے مناسب اِنتظامات کیے جائیں تاکہ بیماریوں کے پھیلنے کا اِمکان کم ہو جائے۔ شاید آپ کہیں کہ ’’یہ بات سننے میں تو اچھی ہے لیکن کیا یہ نظریہ سائنسی لحاظ سے درست ہے؟ سورج کی روشنی اور تازہ ہوا بیماریوں کو پھیلنے سے کیسے روکتی ہیں؟‘‘ اِن سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے آئیں،اس تحقیق پر غور کریں جو برطانیہ کی وزارتِ دِفاع نے کی۔ سائنس دانوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر لندن میں خطرناک جراثیم کا بنا ہوا بم پھوڑا جائے تو یہ جراثیم کتنی دیر تک ہوا میں موجود رہیں گے۔ اِس کے لیے انہوں نے ایک تجربہ کِیا۔ انہوں نے جراثیموں کو مکڑی کے جالے کی تاروں پر لگایا اور اِنہیں کھلی ہوا میں چھوڑ دیا۔ انہوں نے یہ تجربہ رات کے وقت کِیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سورج کی روشنی میں ایسے جراثیم مر جاتے ہیں۔ اِس تجربے کے کیا نتائج نکلے؟ کوئی دو گھنٹے بعد تقریباً سارے کے سارے جراثیم مر گئے۔ لیکن جب اِسی جگہ پر اور اِسی درجہ حرارت پر جراثیموں کو بکس کے اندر رکھا گیا تو اِن میں سے زیادہ تر جراثیم دو گھنٹے کے بعد بھی زندہ رہے۔ اِس کی کیا وجہ تھی؟ لگتا ہے کہ کسی وجہ سے کھلی فضا میں جراثیم مر جاتے ہیں۔ سائنس دان پوری طرح سے یہ نہیں سمجھتے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ لیکن تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تازہ ہوا میں ایسے قدرتی کیمیائی اجزا ہوتے ہیں جو جراثیم کش دوا کا کام کرتے ہیں۔ سورج کی روشنی میں بھی جراثیم کش دوا کی خاصیت پائی جاتی ہے۔ رسالہ جرنل آف ہاسپیٹل اِنفیکشن (انگریزی میں دستیاب) میں بتایا گیا ہے کہ ’’ بیماریوں کو پھیلانے والے زیادہ تر جراثیم سورج کی روشنی میں مر جاتے ہیں۔‘‘ لہٰذا آپ تازہ ہوا اور سورج کی روشنی جیسے قدرتی اینٹی بائیوٹکس سے کیسے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں؟ اِس کے لیے آپ باہر جا کر تازہ ہوا لے سکتے ہیں اور مناسب وقت تک سورج کی روشنی سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔ بیشک یہ آپ کی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہوگا۔


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر