وجود

... loading ...

وجود

آسمانِ ادب کا درخشاں ستارہ ارم زہرا

اتوار 11 مارچ 2018 آسمانِ ادب کا درخشاں ستارہ ارم زہرا

ادب ایک آسمان ہے اس میں ہر ایک ستارہ اپنے حصے کی روشنی سے اس آسمان کی خوبصورتی اور دلکشی میں اضافہ کر رہا ہے۔اس میں ہر روز لاتعدار ستارے ہر شب نمودار ہوتے ہیں اور اپنے محدود وقت تک اپنی روشنی سے اہلِ زمین کو مستفید کرتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ایک ستارے کا وجود چھوٹاسا نظر آتا ہے اس کے باوجود اس کی موجودگی اپنے ہونے کا احساس اجاگر کرتی ہے۔ ستاروں کی روشنی سے ہی آسمان کی جاذبیت برقرار ہے۔ ستاروں کی حرکات سے مسافر اپنے راستے کا تعین کرتے ہیں۔ جس طرح کہا جاتاہے کہ علم ایک سمندر ہے تو سمندر میں راستوں کی تلاش ستاروں کی جگمگاہٹ کی مرہونِ منت ہے۔آج ادبی آسمان کے ایک ایسے ہی درخشندہ ستارے کافن اور شخصیت میرا موضوع ہے۔

ارم زہراادبی فلک کا وہ ستارہ ہے جس کی ضوفشانی آسمان ادب کی خوبصورتی کو چار چاندلگا رہی ہے۔ ان کی شخصیت تہہ در تہہ ہے اور ہر تہہ اپنے اندر ایک بھر پور حوالہ رکھتی ہے۔ ناول نگار،افسانہ نگار،کالم نگار، کہانی کار اور شاعر ہ کی حیثیت سے ہر پہلو مکمل اکائی ہے۔ان کی تخلیقات میں جذبوں کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے ۔ان کی تحریر یں قاری کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے جس کا یہ پوری طرح حق اداکر رہی ہیں ۔ان کے کالموں میں تعلیمی مسائل کو احسن انداز میں اجاگرکیا جاتا ہے۔ اس مضمون میں ارم زہرا کے تین مختلف تخلیقی پہلوئوں کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔ سب سے پہلے ان کے ناول ــ’’چاند میرا منتظر‘‘ پر روشنی ڈالی جائے گی ۔اس کے بعد کہانیوں کے مجموعے ‘‘میرے شہر کی کہانی ‘‘پر اظہارِ خیال ہو گااور سب سے آخرمیں ان کی شعرگوئی پر جائزہ پیش کیا جائے گا۔

’’چاند میرا منتظر‘‘ایسے کرداروں کہانی ہے جو ہمارے معاشرے میں موجود ہیں ۔ارم زہرا کے والدین کا تعلق لکھنؤ سے ہے شاید اسی لئے ان کے ناول میں لکھنؤی تہذیب کی چاشنی اور رکھ رکھائو نظر آتا ہے ۔کہانی میں زبان کی شگفتگی اور سلاست کا حسین امتزاج پیش کیا گیا ہے ۔ مصنفہ نے قدیم تہذیبی ورثے اور فکر جدید کے تغیرو تبدل کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے نسل در نسل سوچ کے مدو جزر کو مختلف زاویوں سے قلم بند کیا ہے۔ ناول کا مرکزی خیال روزمرہ زندگی سے ماخوذ ہے ۔ اس میں ہر کردار ایک نگینے کی طرح جڑا ہوا ہے ۔ ناول کے کردار قاری کو انگلی پکڑ کر اسے ایک ایسی وادی میں لے جاتے ہیں جہاں ہر قدم پر حیرت وہ انبساط کا منظر محوِ انتظار نظر آتا ہے۔

ناول پڑھتے ہوئے قاری کو یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ پردۂ سیمیں پر کرداروں کو چلتا پھرتا دیکھ رہا ہے۔ جہاں ایک منظر ختم ہوکر دوسر ا شروع ہوتا ہے وہاں کہانی کے تسلسل کو اس طرح مربوط کیا گیا ہے کہ ایک کے بعد دوسرا دروازہ خود بخود ہی کھل جاتا ہے۔ رشتوں کے تقدس کو اس سلیقے سے پیش کیا گیا ہے کہ ہر ایک کردار اپنے دائرے میں حرکت کرتاہے۔ جزویات نگاری میں ارم زہرا کو ایک خاص مہارت حاصل ہے ۔ انہوں نے ناول کو اس طرح پیش کیا ہے کہ 400صفحات پر مشتمل ہونے کے باوجود قاری اس کو ایک ہی نشست میں ختم کرنے کی جانب مائل ہونے لگتا ہے ۔ ناول کے کرداروں کو اس طرح کہانی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے کہ کوئی بھی کردار غیر ضروری نہیں لگتا۔

ناول میں جملہ بازی کو خاص اہمیت دی گئی ہے جس سے نہ صرف زبان کی تازگی نکھر کر سامنے آئی ہے بلکہ ارم زہرا کا زبان پر عبور حاصل ہونا بھی ظاہر ہو تاہے۔یہی سب خوبیاں کسی بھی تحریر کو مقبولِ عام کے مقام تک پہچانے میں سیڑھی کا کردار ادا کرتی ہیں۔یہ تمام حوالے ارم زہرا کو ایک بہترین ناول نگار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اب ذرا کہانی کار ارم زہرا کا ذکر ہوجائے۔ ایک حقیقی قلمکار وہی ہے جواپنے قلم سے عصری مسائل کو سطحِ قرطاس پر لاتا ہے جب یہ آلام ومصائب اخبارات ،رسائل اور کتب کے صفحات پر ابھرتے ہیں تو کسی نہ کسی وسیلے سے اربابِ اختیار تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ قلمکار اِن مسائل کو زیر ِبحث لاکر معاشرے کے درد بانٹتا ہے۔

ارم زہرا کی تصنیف’’میرے شہرکی کہانی ‘‘در اصل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں وقوع پذیر واقعات و حادثات کا احاطہ کرتی ہے ۔عروس البلاد کہلانے والا رو شنیو ں کا شہر تقریباًربع صدی سے آگ میں جل رہا ہے۔ کبھی ان واقعات کو لسانی رنگ دیا جاتا ہے تو کبھی فرقہ واریت سے جوڑ دیا جاتا ہے۔لوگ کہتے تھے کہ کراچی ماں کی طرح ہے جو اپنے کسی بچے کو بھوکا نہیں سونے دیتی۔ وہی غریب پرور شہرآج شہرِ بے امان میں تبدیل ہو چکا ہے۔خدا کا شکر ہے آج کراچی کے مسائل حل کرنے کی جانب سنجیدگی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔

ارم زہرا کی یہ کتاب امن کے ہاتھوں وقت کے دروازے پر دستک ہے۔ یہ کتاب ایسے وقت پر شائع ہوئی ہے جب تمام طبقات کراچی کے مسائل حل کرنے کی خاطر سر جوڑ کر بیٹھ رہے ہیں ۔ان حالات میں ارم زہرا کی یہ کاوش روشنیوں کے شہر میں ایک شمع کی حیثیت رکھتی ہے۔ ارم زہرا نے سچے واقعات کو رپورٹنگ سے زیادہ تخلیقی انداز میں رقم کیا ہے ۔ انہوں نے کہانیوں میں مسائل کی نشان دہی کی ہے اور کہانی جب اپنے اختتام کی حد چھونے لگتی ہے تو اس میں حل بھی تجویز کیا گیا ہے۔

مجھے اس کتاب پڑھ کر حیرت ہوئی کی ارم زہرا نے کرائم رپورٹنگ کو کس طرح افسانوی انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کے باوجود کہانی کا اصل واقعہ اور تحقیقی مواد پورے اہتمام کے ساتھ مہیا کیا ہے۔ اس طرح ارم زہرا نے نئے قلمکاروں کے لئے ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ کرائم رپورٹنگ کو افسانوی انداز کا جامہ پہناناایک مشکل کام ہے جسے ارم زہرا نے آسانی سے کر لیا ہے ۔ میںپورے وثوق سے کہتا ہوں کہ ارم زہرا ایک قدرتی قلمکار ہیں ۔ان کی سوچ کا زاویہ منفرد اور بلند ہے جو مقام انہوں نے حاصل کیا ہے وہ صرف ان کی جداگانہ سوچ کا مرہونِ منت ہے۔ ’’میرے شہر کی کہانی‘‘پڑھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اس کتاب کو ضبطِ تحریر میں لانے کے لئے انہوں نے خود کس کرب ناک راستے سے اپنا سفر طے کیا ہے ۔ جہاں ہر قدم پر پائوں کانٹوں سے اُلجھتے ہوں وہاں جہدِ مسلسل سے چلتے رہنا ایک کارنامے سے کم نہیں ۔انہوں نے ہر ایک کہانی کو تحریر کرتے ہوئے کئی دفعہ اپنی پلکوں کی منڈیر ٹشو پیپر سے خشک کی ہو گی۔

اب ارم زہر ا کی شعر ی تخلیقات کا ذکر ہوجائے۔ انہوں نے شعرگوئی کا آغاز نثر نگاری کے ساتھ ہی کیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اُن کی پہچان نثرنگارکی حیثیت سے ابھی تک لوگوں کے سامنے آئی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ابتدا میں انہوں نے نثر نگاری کو زیادہ وقت دیا ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے ار م زہرا تواتر کے ساتھ شاعری سے منسلک ہو چکی ہیں۔انہوں نے محض قافیہ پیمائی نہیں بلکہ ان کے شاعر ی دل سے نکل کر دل میں اُترجاتی ہے۔ انہوں نے غمِ دوراں اور غمِ جاناں کے درمیا ن ایک توازن کے ساتھ اپنا شعری سفر جاری رکھا ہواہے۔ شعری اصناف میں غزل اور نظم دونوں کی جانب ان کا رحجان یکساں نظر آتا ہے۔

ارم زہرا کی غزل اپنے دور کی نمائندہ ہے جس میں گل وبلبل اور لب ورخسار کا تذکرہ اور عصر ی مسائل کا ذکر بھی ہے ۔ ارم زہرا اس بات سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ علامہ اقبال ، فیض احمد فیض اور منیر نیازی جیسے عظیم شعرا نے غزل کے موضوعات کو بند گلی سے نکال کر ایک کھلی فضا میں پھیلنے پھولنے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ آج کی غزل صرف ہجرو وصال تک محدود نہیں ہے بلکہ اب جدید غزل کا اسلوب تبدیل ہوچکاہے۔ ارم زہرا نے بھی اس تبدیلی کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ اس سے استفادہ کرتے ہوئے اس رحجان کو اپنی غزل میں سمویا ہے۔ ارم زہرا نے آزاد نظمیں تخلیق کی ہے ۔ ان کی نظموں کے موضوعات اچھوتے اور دلکش ہیں ۔ ان کی نظم ایک آبشار کی طرح مانوس زمیں سے نکل کر وادیوں کا رخ کرتی ہے اور اپنے راستے میں آنے والی دلوں کی زمیں کو سر سبزو شاداب کرتی ہوئی دور تک چلی جاتی ہے۔

ارم زہرا کا فن ان کی ریاضت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آج جب ہر کوئی پہچان کی دوڑ میں شامل ہے تو میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ارم زہرا اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیا ب نظر آتی ہیں ۔ انہوں نے دوسروں کے خیالات کی جگالی کرنے کی بجائے اپنا ایک الگ راستہ منتخب کیا ہے۔ ان کا فن وقت کے ساتھ سفر کرتا رہے گا۔ ان کو بلاشبہ نئی نسل کی نمائندہ تخلیق کار تسلیم کیا جاتا ہے۔ہماری دُعا ہے کا ارم زہرا کا قلم اسی طرح شاہکار تخلیق کرتا رہے۔


متعلقہ خبریں


نواز شریف اور مریم پر قتل کی سازش کے الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں، اسکاٹ لینڈ یارڈ وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

اسکاٹ لینڈ یارڈ نے لندن میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، مریم نواز اور ناصر بٹ پر قتل کی سازش کے الزامات پر کہا ہے کہ تمام شکایات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم تاحال کوئی گرفتاری کی نہ کسی سے سوال اور نہ تحقیقات شروع کی ہیں۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے اسپیشلسٹ آپریشن کمانڈ یونٹ نے بتایا...

نواز شریف اور مریم پر قتل کی سازش کے الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں، اسکاٹ لینڈ یارڈ

سینیٹراعظم سواتی کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، پولیس کے حوالے وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

کوئٹہ کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کا 5 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ پولیس کی جانب سے اداروں کے خلاف بیان دینے پر گرفتار پی ٹی آئی رہنما کو کوئٹہ میں ڈیوٹی مجسٹریٹ عبدالستار کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ دوران سماعت پولیس کے تفتیشی افسر نے اعظم س...

سینیٹراعظم سواتی کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، پولیس کے حوالے

کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ داعش خراسان نے کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق افغان حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد ہم ان رپورٹس کی سچائی کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ دہشت گردی سے افغا...

کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

لیجنڈ فٹبالر پیلے کی حالت تشویش ناک، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

بڑی آنت کے کینسر میں مبتلا برازیل کے سابق لیجنڈ فٹبالر پیلے کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے اور کیمو تھراپی کے متوقع نتائج نہ آنے پر انہیں خصوصی نگہداشت (پیلیٹو کیئر) کے وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق 82 سالہ عظیم فٹبالر کو گزشتہ منگل کو کینسر کے دوبارہ علاج کے ...

لیجنڈ فٹبالر پیلے کی حالت تشویش ناک، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا

بغیر حجاب عالمی مقابلے میں حصہ لینے والی ایرانی کوہ پیما کا گھر مسمار کردیا گیا وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

بغیر حجاب عالمی مقابلے میں حصہ لینے والی ایرانی کوہ پیما الناز رکابی کا ایران میں گھر مسمار کر دیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی کوہ پیما الناز رکابی نے رواں سال اکتوبر میں جنوبی کوریا میں کوہ پیمائی کے عالمی مقابلے میں بغیر حجاب شرکت کی تھی۔ ان کے اس عمل پر ایران میں مہسا امی...

بغیر حجاب عالمی مقابلے میں حصہ لینے والی ایرانی کوہ پیما کا گھر مسمار کردیا گیا

دنیا کا سب سے طویل عمر والا کچھوا 190 برس کا ہو گیا وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

دنیا میں سب سے طویل العمر زندہ جانور کہلایا جانے والا کچھوا جوناتھن 190 برس کا ہو گیا ہے۔ فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رواں برس گنیز ورلڈ ریکارڈز نے اسے زمین پر سب سے لمبی عمر والا جانور قرار دیا تھا اور اس مہینے اب یہ دنیا کا سب سے پرانا کچھوا بھی قرار دیا گیا ہے۔ یہ ...

دنیا کا سب سے طویل عمر والا کچھوا 190 برس کا ہو گیا

ایم کیو ایم پراپرٹیز کیس، مصطفی عزیز آبادی، قاسم رضا نے گواہی ریکارڈ کرا دی وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

متحدہ قومی موومنٹ پراپرٹیز کیس میں مصطفی عزیز آبادی اور قاسم رضا نے عدالت میں گواہی ریکارڈ کرا دی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے وکیل نے مصطفی عزیز آبادی اور قاسم رضا سے کمپیوٹرز اور ریکارڈنگ سسٹم کے بارے میں سوالات کیے۔ وکیل نے استفسار کیا کہ کیا مقدمے کی سماعت سے قبل جان بوجھ کر اہم ش...

ایم کیو ایم پراپرٹیز کیس، مصطفی عزیز آبادی، قاسم رضا نے گواہی ریکارڈ کرا دی

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دیں وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

اپریل 2022 میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہونے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بار بار الیکشن کے مطالبے اور موجودہ حکومت کی طرف سے مطالبے کو نظر انداز کے باوجود الیکشن کمیشن آف پاکستان(ای سی پی) نے آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر ...

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دیں

ایرانی حکام کا مظاہروں میں 200 افراد کی ہلاکت کا اعتراف وجود - اتوار 04 دسمبر 2022

سرکاری حکام نے ایران میں جاری مظاہروں میں 200 افراد بشمول سیکیورٹی فورسز کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے جبکہ صدر ابراہیم رئیسی نے موجودہ نظام کا دفاع کرتے ہوئے ایران کو انسانی حقوق اور آزادی کا ضامن قرار دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ ...

ایرانی حکام کا مظاہروں میں 200 افراد کی ہلاکت کا اعتراف

عمران خان نے سندھ کے ارکان اسمبلی کو استعفوں سے روک دیا وجود - هفته 03 دسمبر 2022

عمران خان نے پی ٹی آئی اراکین سندھ اسمبلی کو استعفے جمع کرانے سے یروک دیا۔تحریک انصاف سندھ کے صدر علی حیدر زیدی کی قیادت میں سندھ کی پارلیمانی پارٹی نے لاہور میں چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف حلیم عادل شیخ اور سندھ اسمبلی میں پارلیمانی رہنما خرم...

عمران خان نے سندھ کے ارکان اسمبلی کو استعفوں سے روک دیا

جنرل باجوہ نے دُہرا کھیل کھیلا، توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی، عمران خان وجود - هفته 03 دسمبر 2022

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ کو توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی، فوج میں کبھی کسی کو توسیع نہیں ملنی چاہیے، آئندہ سال مارچ یا اس مہینے کے آخر تک الیکشن کیلئے تیار ہیں تو اسمبلیاں تحلیل کرنے سے رک جاتے ہیں، ہم مارچ سے آگے ن...

جنرل باجوہ نے دُہرا کھیل کھیلا، توسیع دے کر بہت بڑی غلطی کی، عمران خان

عام انتخابات کی تاریخ دیں، ورنہ اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے، عمران خان وجود - هفته 03 دسمبر 2022

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر اتحادی حکومت انتخابات کی بات پر آئی تو ٹھیک ہے، ورنہ ہم اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر کے انتخابات کی طرف بڑھیں گے۔ پشاور میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے...

عام انتخابات کی تاریخ دیں، ورنہ اسی ماہ اسمبلیاں تحلیل کر دیں گے، عمران خان

مضامین
عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

ثمربار یا بے ثمر دورہ وجود هفته 03 دسمبر 2022
ثمربار یا بے ثمر دورہ

حاجی کی ربڑی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
حاجی کی ربڑی

پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی وجود جمعرات 01 دسمبر 2022
پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی

اشتہار

تہذیبی جنگ
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا وجود اتوار 13 نومبر 2022
ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا

فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت وجود منگل 08 نومبر 2022
فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود هفته 03 دسمبر 2022
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی وجود هفته 26 نومبر 2022
بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس وجود پیر 21 نومبر 2022
پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس

بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے وجود اتوار 20 نومبر 2022
بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار