وجود

... loading ...

وجود

آسمانِ ادب کا درخشاں ستارہ ارم زہرا

اتوار 11 مارچ 2018 آسمانِ ادب کا درخشاں ستارہ ارم زہرا

ادب ایک آسمان ہے اس میں ہر ایک ستارہ اپنے حصے کی روشنی سے اس آسمان کی خوبصورتی اور دلکشی میں اضافہ کر رہا ہے۔اس میں ہر روز لاتعدار ستارے ہر شب نمودار ہوتے ہیں اور اپنے محدود وقت تک اپنی روشنی سے اہلِ زمین کو مستفید کرتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو ایک ستارے کا وجود چھوٹاسا نظر آتا ہے اس کے باوجود اس کی موجودگی اپنے ہونے کا احساس اجاگر کرتی ہے۔ ستاروں کی روشنی سے ہی آسمان کی جاذبیت برقرار ہے۔ ستاروں کی حرکات سے مسافر اپنے راستے کا تعین کرتے ہیں۔ جس طرح کہا جاتاہے کہ علم ایک سمندر ہے تو سمندر میں راستوں کی تلاش ستاروں کی جگمگاہٹ کی مرہونِ منت ہے۔آج ادبی آسمان کے ایک ایسے ہی درخشندہ ستارے کافن اور شخصیت میرا موضوع ہے۔

ارم زہراادبی فلک کا وہ ستارہ ہے جس کی ضوفشانی آسمان ادب کی خوبصورتی کو چار چاندلگا رہی ہے۔ ان کی شخصیت تہہ در تہہ ہے اور ہر تہہ اپنے اندر ایک بھر پور حوالہ رکھتی ہے۔ ناول نگار،افسانہ نگار،کالم نگار، کہانی کار اور شاعر ہ کی حیثیت سے ہر پہلو مکمل اکائی ہے۔ان کی تخلیقات میں جذبوں کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے ۔ان کی تحریر یں قاری کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے جس کا یہ پوری طرح حق اداکر رہی ہیں ۔ان کے کالموں میں تعلیمی مسائل کو احسن انداز میں اجاگرکیا جاتا ہے۔ اس مضمون میں ارم زہرا کے تین مختلف تخلیقی پہلوئوں کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔ سب سے پہلے ان کے ناول ــ’’چاند میرا منتظر‘‘ پر روشنی ڈالی جائے گی ۔اس کے بعد کہانیوں کے مجموعے ‘‘میرے شہر کی کہانی ‘‘پر اظہارِ خیال ہو گااور سب سے آخرمیں ان کی شعرگوئی پر جائزہ پیش کیا جائے گا۔

’’چاند میرا منتظر‘‘ایسے کرداروں کہانی ہے جو ہمارے معاشرے میں موجود ہیں ۔ارم زہرا کے والدین کا تعلق لکھنؤ سے ہے شاید اسی لئے ان کے ناول میں لکھنؤی تہذیب کی چاشنی اور رکھ رکھائو نظر آتا ہے ۔کہانی میں زبان کی شگفتگی اور سلاست کا حسین امتزاج پیش کیا گیا ہے ۔ مصنفہ نے قدیم تہذیبی ورثے اور فکر جدید کے تغیرو تبدل کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے نسل در نسل سوچ کے مدو جزر کو مختلف زاویوں سے قلم بند کیا ہے۔ ناول کا مرکزی خیال روزمرہ زندگی سے ماخوذ ہے ۔ اس میں ہر کردار ایک نگینے کی طرح جڑا ہوا ہے ۔ ناول کے کردار قاری کو انگلی پکڑ کر اسے ایک ایسی وادی میں لے جاتے ہیں جہاں ہر قدم پر حیرت وہ انبساط کا منظر محوِ انتظار نظر آتا ہے۔

ناول پڑھتے ہوئے قاری کو یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ پردۂ سیمیں پر کرداروں کو چلتا پھرتا دیکھ رہا ہے۔ جہاں ایک منظر ختم ہوکر دوسر ا شروع ہوتا ہے وہاں کہانی کے تسلسل کو اس طرح مربوط کیا گیا ہے کہ ایک کے بعد دوسرا دروازہ خود بخود ہی کھل جاتا ہے۔ رشتوں کے تقدس کو اس سلیقے سے پیش کیا گیا ہے کہ ہر ایک کردار اپنے دائرے میں حرکت کرتاہے۔ جزویات نگاری میں ارم زہرا کو ایک خاص مہارت حاصل ہے ۔ انہوں نے ناول کو اس طرح پیش کیا ہے کہ 400صفحات پر مشتمل ہونے کے باوجود قاری اس کو ایک ہی نشست میں ختم کرنے کی جانب مائل ہونے لگتا ہے ۔ ناول کے کرداروں کو اس طرح کہانی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے کہ کوئی بھی کردار غیر ضروری نہیں لگتا۔

ناول میں جملہ بازی کو خاص اہمیت دی گئی ہے جس سے نہ صرف زبان کی تازگی نکھر کر سامنے آئی ہے بلکہ ارم زہرا کا زبان پر عبور حاصل ہونا بھی ظاہر ہو تاہے۔یہی سب خوبیاں کسی بھی تحریر کو مقبولِ عام کے مقام تک پہچانے میں سیڑھی کا کردار ادا کرتی ہیں۔یہ تمام حوالے ارم زہرا کو ایک بہترین ناول نگار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اب ذرا کہانی کار ارم زہرا کا ذکر ہوجائے۔ ایک حقیقی قلمکار وہی ہے جواپنے قلم سے عصری مسائل کو سطحِ قرطاس پر لاتا ہے جب یہ آلام ومصائب اخبارات ،رسائل اور کتب کے صفحات پر ابھرتے ہیں تو کسی نہ کسی وسیلے سے اربابِ اختیار تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ قلمکار اِن مسائل کو زیر ِبحث لاکر معاشرے کے درد بانٹتا ہے۔

ارم زہرا کی تصنیف’’میرے شہرکی کہانی ‘‘در اصل پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں وقوع پذیر واقعات و حادثات کا احاطہ کرتی ہے ۔عروس البلاد کہلانے والا رو شنیو ں کا شہر تقریباًربع صدی سے آگ میں جل رہا ہے۔ کبھی ان واقعات کو لسانی رنگ دیا جاتا ہے تو کبھی فرقہ واریت سے جوڑ دیا جاتا ہے۔لوگ کہتے تھے کہ کراچی ماں کی طرح ہے جو اپنے کسی بچے کو بھوکا نہیں سونے دیتی۔ وہی غریب پرور شہرآج شہرِ بے امان میں تبدیل ہو چکا ہے۔خدا کا شکر ہے آج کراچی کے مسائل حل کرنے کی جانب سنجیدگی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔

ارم زہرا کی یہ کتاب امن کے ہاتھوں وقت کے دروازے پر دستک ہے۔ یہ کتاب ایسے وقت پر شائع ہوئی ہے جب تمام طبقات کراچی کے مسائل حل کرنے کی خاطر سر جوڑ کر بیٹھ رہے ہیں ۔ان حالات میں ارم زہرا کی یہ کاوش روشنیوں کے شہر میں ایک شمع کی حیثیت رکھتی ہے۔ ارم زہرا نے سچے واقعات کو رپورٹنگ سے زیادہ تخلیقی انداز میں رقم کیا ہے ۔ انہوں نے کہانیوں میں مسائل کی نشان دہی کی ہے اور کہانی جب اپنے اختتام کی حد چھونے لگتی ہے تو اس میں حل بھی تجویز کیا گیا ہے۔

مجھے اس کتاب پڑھ کر حیرت ہوئی کی ارم زہرا نے کرائم رپورٹنگ کو کس طرح افسانوی انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کے باوجود کہانی کا اصل واقعہ اور تحقیقی مواد پورے اہتمام کے ساتھ مہیا کیا ہے۔ اس طرح ارم زہرا نے نئے قلمکاروں کے لئے ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ کرائم رپورٹنگ کو افسانوی انداز کا جامہ پہناناایک مشکل کام ہے جسے ارم زہرا نے آسانی سے کر لیا ہے ۔ میںپورے وثوق سے کہتا ہوں کہ ارم زہرا ایک قدرتی قلمکار ہیں ۔ان کی سوچ کا زاویہ منفرد اور بلند ہے جو مقام انہوں نے حاصل کیا ہے وہ صرف ان کی جداگانہ سوچ کا مرہونِ منت ہے۔ ’’میرے شہر کی کہانی‘‘پڑھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اس کتاب کو ضبطِ تحریر میں لانے کے لئے انہوں نے خود کس کرب ناک راستے سے اپنا سفر طے کیا ہے ۔ جہاں ہر قدم پر پائوں کانٹوں سے اُلجھتے ہوں وہاں جہدِ مسلسل سے چلتے رہنا ایک کارنامے سے کم نہیں ۔انہوں نے ہر ایک کہانی کو تحریر کرتے ہوئے کئی دفعہ اپنی پلکوں کی منڈیر ٹشو پیپر سے خشک کی ہو گی۔

اب ارم زہر ا کی شعر ی تخلیقات کا ذکر ہوجائے۔ انہوں نے شعرگوئی کا آغاز نثر نگاری کے ساتھ ہی کیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اُن کی پہچان نثرنگارکی حیثیت سے ابھی تک لوگوں کے سامنے آئی ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ابتدا میں انہوں نے نثر نگاری کو زیادہ وقت دیا ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے ار م زہرا تواتر کے ساتھ شاعری سے منسلک ہو چکی ہیں۔انہوں نے محض قافیہ پیمائی نہیں بلکہ ان کے شاعر ی دل سے نکل کر دل میں اُترجاتی ہے۔ انہوں نے غمِ دوراں اور غمِ جاناں کے درمیا ن ایک توازن کے ساتھ اپنا شعری سفر جاری رکھا ہواہے۔ شعری اصناف میں غزل اور نظم دونوں کی جانب ان کا رحجان یکساں نظر آتا ہے۔

ارم زہرا کی غزل اپنے دور کی نمائندہ ہے جس میں گل وبلبل اور لب ورخسار کا تذکرہ اور عصر ی مسائل کا ذکر بھی ہے ۔ ارم زہرا اس بات سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ علامہ اقبال ، فیض احمد فیض اور منیر نیازی جیسے عظیم شعرا نے غزل کے موضوعات کو بند گلی سے نکال کر ایک کھلی فضا میں پھیلنے پھولنے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ آج کی غزل صرف ہجرو وصال تک محدود نہیں ہے بلکہ اب جدید غزل کا اسلوب تبدیل ہوچکاہے۔ ارم زہرا نے بھی اس تبدیلی کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ اس سے استفادہ کرتے ہوئے اس رحجان کو اپنی غزل میں سمویا ہے۔ ارم زہرا نے آزاد نظمیں تخلیق کی ہے ۔ ان کی نظموں کے موضوعات اچھوتے اور دلکش ہیں ۔ ان کی نظم ایک آبشار کی طرح مانوس زمیں سے نکل کر وادیوں کا رخ کرتی ہے اور اپنے راستے میں آنے والی دلوں کی زمیں کو سر سبزو شاداب کرتی ہوئی دور تک چلی جاتی ہے۔

ارم زہرا کا فن ان کی ریاضت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آج جب ہر کوئی پہچان کی دوڑ میں شامل ہے تو میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ارم زہرا اپنی الگ پہچان بنانے میں کامیا ب نظر آتی ہیں ۔ انہوں نے دوسروں کے خیالات کی جگالی کرنے کی بجائے اپنا ایک الگ راستہ منتخب کیا ہے۔ ان کا فن وقت کے ساتھ سفر کرتا رہے گا۔ ان کو بلاشبہ نئی نسل کی نمائندہ تخلیق کار تسلیم کیا جاتا ہے۔ہماری دُعا ہے کا ارم زہرا کا قلم اسی طرح شاہکار تخلیق کرتا رہے۔


متعلقہ خبریں


بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 25 جون 2026

ایک وفاقی وزیر نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکایا، وہ وزیر اب تک معافی مانگنے کیلئے بھی تیار نہیں، کچھ وزیر ایسے مشورے دیتے ہیں کام میں مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں وزیراعظم جس نیت کے ساتھ اتحادیوں اور اپوزیشن کو انگیج کرتے ہیں اسے سراہتا ہوں، چاہتا ہوں وزیراعظم کامیاب ہوں تو صو...

وزیراعظم وزراء کو کنٹرول کریں ورنہ مشکلات ہوں گی ،بلاول بھٹو

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن وجود - جمعرات 25 جون 2026

عوامی ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد کی طرف آج کا مارچ مؤخر کر دیا ، کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے،حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار رہی تو میں ثالثی نہیں کرواؤں گا عوامی ایکشن کمیٹی سے بات چیت ہونی چاہیے،خواجہ آصف کے اشتعال انگیزبیانات نے آگ بھڑکائی، حکومت کو کمی...

فوج کو سرحدوں پر ہونا چاہیے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمن

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ وجود - جمعرات 25 جون 2026

پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی تکنیکی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی پاکستانیوں کی بازیابی کیلئے صومالیہ کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،طاہر حسین اندرابی ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ مختلف ملکوں نے خطے میں قیامِ امن کیلئے کردار ادا کر...

پاکستان امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، دفتر خارجہ

مضامین
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی وجود اتوار 28 جون 2026
بھارت کی بدترین خارجہ پالیسی

واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟ وجود اتوار 28 جون 2026
واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟

اپنے خوف پر حکومت نہیں کی جاسکتی! وجود اتوار 28 جون 2026
اپنے خوف پر حکومت نہیں کی جاسکتی!

بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری وجود اتوار 28 جون 2026
بنگلہ دیش وچین کی شراکت داری

تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم وجود اتوار 28 جون 2026
تہران کا جشن اور تل ابیب کا ماتم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر