... loading ...
گزشتہ دنوں معرو ف شاعر ہ و ادیبہ شگفتہ شفیق نے ایک نئی بز م، بز مِ شگفتہ شفیق کی بنیا د ر کھی جس کے تحت شگفتہ شفیق صا حبہ نے اپنے ہا ں گلستا نِ جوہر ، کراچی میں ایک عمدہ شعر ی نشست کا ا ہتما م کیا ۔ جس میں چنیدہ ادبی شخصیا ت اور شعرا نے شر کت کی، معرو ف شاعر و اد یب جنا ب فیروز ناطق خسرو نے صدارت کی جنا ب ا کر م کنجا ہی کو مہما نِ ا عزازی بنا یا گیا۔ اکا د می ا د بیا ت سند ھ کے ر یجنل ڈا ئر یکٹر جنا ب قادر بخش سو مرو مہما نِ اعزازی تھے ۔ تقریب کی نظا مت کا فر یضہ قادرالکلا م شاعر جنا ب ا لحا ج نجمی نے سر ا نجا م دیا ۔ اس شعر ی نشست میں سا معین نے شعرا کو تو جہ سے جی بھر کے سنا ۔ جناب فیروز ناطق خسرو ، جنا ب ا کر م کنجا ہی ، جنا ب قادر بخش سو مرو ، محتر مہ صبیحہ صبا ، جنا ب صغیر ا حمد جعفر ی ، جنا ب شاعر علی شاعر ، جنا ب وقار ز یدی ، محتر مہ شگفتہ شفیق ( میز با ن ) اور الحا ج نجمی نے کلا م پیش کیا ۔ تقر یب میں مشاعر ے کے علاوہ معا صر اردو ادب پر بھر پو ر گفتگو ہو ئی کہ ادبی تنظیمو ں کو غیر سیا سی ہو نا چا ہیے ۔ کہا گیا کہ تخلیق کار کے مقا م کا تعین اس کی تخلیقات سے ہو تا ہے ۔ صدارت اور مہما نِ خصو صی کی کر سیا ں رسمی ہو تی ہیں جس کے لئے کئی ادبی تنظیمو ں نے ریٹ متعین کیے ہوئے ہیں لہٰذ ا بے لو ث ا نداز میں ادب کی خد مت کر نے والی تنظیمو ں کے کا م اور ان کے ہا ں صدارت اور مہما ن خصو صی کی نشستو ں کو متنا ز عہ نہیں بنا نا چاہیے۔آ خر میں شگفتہ شفیق نے بھی شکریہ کے کلما ت میں کہا کہ میں بز م شگفتہ کے ذریعے ادب کی ترو یج میں اپنا حصہ ڈا لو ں گی او ر اپنی ساری کو ششیں ادب کی ترقی کے لیے کرو ں گی ، میرے کو ئی سیا سی عزائم نہیں ہیں اور نہ ہی کسی سے کو ئی مقابلہ ہے یہ سب کر کے میرے دل کو تسلی ملتی ہے سو میں ادب کی خد مت کرتی رہو ں گی۔
اس موقعے پر شاعرعلی شاعر نے اپنے اشاعتی ادارے رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی کی مطبوعہ کتاب’’شاعرات ارضِ پاک‘‘ تمام شعرکائے محفل کو تحفے میں پیش کیں۔
٭٭٭
اکادمی ادبیات پاکستان کہ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید اور کراچی کے ریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے سندھی زبان اور ملک کے نامور دانشور جام ساقی کی وفات پر دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جام ساقی پاکستانی ادب کا بڑا سرمایا تھے ان کی رحلت سے ادب میں خلا پیدا ہو گیا ہے جس کو پر کرنے میں بڑی مدت لگے گی ۔ اس موقعے پر اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے اراکین نے کہا کہ ہم مرحوم کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
٭٭٭
اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تخلیق ادب اور معاشرے پر مذاکرے اور مشاعرے کا انعقادکیا گیا جس کی صدارت کینیڈا سے آئی ہوئی معروف شاعرہ گلنار آفرین نے کی۔ مہمانان خاص کینیڈا سے آئے ہوئی شاعرہ صبیحہ خان ، سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی راحیلہ ٹوانہ ، ڈاکٹر پروفیسر نزہت عباسی ، ہما بیگ تھی، اس موقع پر گلنار آفرین نے صدارتی خطاب میںکہاکہ میرے نزدیک بین الاقوامی سطح پر خاتون قلمکار وں کی تخلیق اہمیت کا پیمانہ اور اس میں جاری وساری ایک مشترکہ احساساتی تجربہ جو تمام نسائی دنیا کو ہمدم بناتا ہے اور ایک ناقابل شکستہ رشتہ میں پروتا ہے ۔ یوں تو ادب ہے ہی انسانی یگانگت کا فورم اس میں تذکیر و تانیث کی تقسیم محض ایک مفروضہ ہے، دیکھا جائے تو مرد بھی وہ ہی اعلیٰ ادب تخلیق کررہے ہیں جن میں کچھ نسائی ظہور کرتی ہے۔ مسئلہ تحریر کی ادبی قدرو قیمت کا ہے اور یہ کھانیاںمضامین اور شاعری آگاہ متحرک ذہن اور اعلیٰ تخلیقی صلاحیت کا مظہر ہیںجو تقریبا ً نصف صدی کا منظر نامہ بناتی ہیں ۔ ڈاکٹرنزہت عباسی نے اپنے مقالے میں کہا کہ عالمی یومِ خواتین کے دن خواتین کو ان کی علمی ، ادبی،سماجی، سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ادب کے میدان میں خواتین نے ہر صنف میں اپنے نسانی شعور کا بھرپور اظہار کیااپنے احساسات ، جذبات خیالات کو زبان دی معاشرے میںخواتین کے مسائل اوران پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی عہد حاضر میںشاعرات بدلتے ہوئے ادبی ، فکری ، معاشرتی رجحانات کو بیان کررہی ہیں ، وہ جوکچھ تخلیق کررہی ہیں وہ ان کے آزاد ذہن کی تخلیق ہے۔راحیلہ ٹوانہ سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ معاشرہ کو ادب اور قلم نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ جرأت مندماں کی صورت میںعورت نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ جس کوآج کے دن سلام پیش کریں گے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ عورت کی ایک اپنی دنیا ہے انسان کے عمومی مسائل کے ساتھ ساتھ اس کے اپنے مسائل بھی ہیں جو صرف وہ ہی جانتی ہیں، خون میں رچاتی اور انکے فنی اظہار کیلئے مضطرب رہتی ہے نسائی حسیت کوئی فارمولانہیں ہے کہ سامنے رکھ کے وہ ادب تخلیق کردے یہ تو اس کے زندگی کے منفرد تجربے اور طرز احساس ہی کا نام ہے۔لیکن ابھی تک عورت کے بارے میںعورت کے لئے مرد کا نقطہ نظرہی بیان ہورہا تھا۔ عورت کو نہ تو اس قابل سمجھاجاتا ہے ۔کہ وہ اپنی رائے دے اور نہ ہی صدیوں کی محکومی اور تعلیم سے دوری کے سبب وہ اس قابل تھی کہ اپنا نقطۂ نظر بیان کرسکے تاہم یہ صورت حال اب زیادہ دیر قائم نہیںرہ سکتی تھی۔ آخر میں مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ تھے جن شعرا ئے کرام نے کلام سنایا۔ ان میں گلنار آفرین ، صبیحہ خان، ہمابیگ، راحیلہ ٹونہ ، عرفان علی عابدی، ڈاکٹر نزہت عباسی، ڈاکٹر زینت کوثرلاکھانی، ظفر محمد خان ظفر، نصیر سومرو، اظہر بابنھن، ڈاکٹر حسین کھٹی، اقبال افسر غوری، عشرت حبیب، اوسط علی جعفری، عامرحسین راھو، صغیر احمد جعفری،دلشاد احمد دہلوی، صدیق راز، طاہر سلیم سوز، سیماناز، نیل امجد،فرح دیبا،نجیب عمر،محمد علی زیدی، نشاط غوری، اختر علی خان ، عارف شیخ، امیدطئی وفا ،پروین حیدر، تنویر حسین سخن، اقبال سہیوانی،الطاف احمدنے اپنا پیش کیا۔
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...
عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...
آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...
میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...
ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...
شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...
ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...