وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 11 مارچ 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

گزشتہ دنوں معرو ف شاعر ہ و ادیبہ شگفتہ شفیق نے ایک نئی بز م، بز مِ شگفتہ شفیق کی بنیا د ر کھی جس کے تحت شگفتہ شفیق صا حبہ نے اپنے ہا ں گلستا نِ جوہر ، کراچی میں ایک عمدہ شعر ی نشست کا ا ہتما م کیا ۔ جس میں چنیدہ ادبی شخصیا ت اور شعرا نے شر کت کی، معرو ف شاعر و اد یب جنا ب فیروز ناطق خسرو نے صدارت کی جنا ب ا کر م کنجا ہی کو مہما نِ ا عزازی بنا یا گیا۔ اکا د می ا د بیا ت سند ھ کے ر یجنل ڈا ئر یکٹر جنا ب قادر بخش سو مرو مہما نِ اعزازی تھے ۔ تقریب کی نظا مت کا فر یضہ قادرالکلا م شاعر جنا ب ا لحا ج نجمی نے سر ا نجا م دیا ۔ اس شعر ی نشست میں سا معین نے شعرا کو تو جہ سے جی بھر کے سنا ۔ جناب فیروز ناطق خسرو ، جنا ب ا کر م کنجا ہی ، جنا ب قادر بخش سو مرو ، محتر مہ صبیحہ صبا ، جنا ب صغیر ا حمد جعفر ی ، جنا ب شاعر علی شاعر ، جنا ب وقار ز یدی ، محتر مہ شگفتہ شفیق ( میز با ن ) اور الحا ج نجمی نے کلا م پیش کیا ۔ تقر یب میں مشاعر ے کے علاوہ معا صر اردو ادب پر بھر پو ر گفتگو ہو ئی کہ ادبی تنظیمو ں کو غیر سیا سی ہو نا چا ہیے ۔ کہا گیا کہ تخلیق کار کے مقا م کا تعین اس کی تخلیقات سے ہو تا ہے ۔ صدارت اور مہما نِ خصو صی کی کر سیا ں رسمی ہو تی ہیں جس کے لئے کئی ادبی تنظیمو ں نے ریٹ متعین کیے ہوئے ہیں لہٰذ ا بے لو ث ا نداز میں ادب کی خد مت کر نے والی تنظیمو ں کے کا م اور ان کے ہا ں صدارت اور مہما ن خصو صی کی نشستو ں کو متنا ز عہ نہیں بنا نا چاہیے۔آ خر میں شگفتہ شفیق نے بھی شکریہ کے کلما ت میں کہا کہ میں بز م شگفتہ کے ذریعے ادب کی ترو یج میں اپنا حصہ ڈا لو ں گی او ر اپنی ساری کو ششیں ادب کی ترقی کے لیے کرو ں گی ، میرے کو ئی سیا سی عزائم نہیں ہیں اور نہ ہی کسی سے کو ئی مقابلہ ہے یہ سب کر کے میرے دل کو تسلی ملتی ہے سو میں ادب کی خد مت کرتی رہو ں گی۔
اس موقعے پر شاعرعلی شاعر نے اپنے اشاعتی ادارے رنگ ادب پبلی کیشنز،کراچی کی مطبوعہ کتاب’’شاعرات ارضِ پاک‘‘ تمام شعرکائے محفل کو تحفے میں پیش کیں۔
٭٭٭
اکادمی ادبیات پاکستان کہ ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید اور کراچی کے ریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے سندھی زبان اور ملک کے نامور دانشور جام ساقی کی وفات پر دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جام ساقی پاکستانی ادب کا بڑا سرمایا تھے ان کی رحلت سے ادب میں خلا پیدا ہو گیا ہے جس کو پر کرنے میں بڑی مدت لگے گی ۔ اس موقعے پر اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے اراکین نے کہا کہ ہم مرحوم کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
٭٭٭
اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تخلیق ادب اور معاشرے پر مذاکرے اور مشاعرے کا انعقادکیا گیا جس کی صدارت کینیڈا سے آئی ہوئی معروف شاعرہ گلنار آفرین نے کی۔ مہمانان خاص کینیڈا سے آئے ہوئی شاعرہ صبیحہ خان ، سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی راحیلہ ٹوانہ ، ڈاکٹر پروفیسر نزہت عباسی ، ہما بیگ تھی، اس موقع پر گلنار آفرین نے صدارتی خطاب میںکہاکہ میرے نزدیک بین الاقوامی سطح پر خاتون قلمکار وں کی تخلیق اہمیت کا پیمانہ اور اس میں جاری وساری ایک مشترکہ احساساتی تجربہ جو تمام نسائی دنیا کو ہمدم بناتا ہے اور ایک ناقابل شکستہ رشتہ میں پروتا ہے ۔ یوں تو ادب ہے ہی انسانی یگانگت کا فورم اس میں تذکیر و تانیث کی تقسیم محض ایک مفروضہ ہے، دیکھا جائے تو مرد بھی وہ ہی اعلیٰ ادب تخلیق کررہے ہیں جن میں کچھ نسائی ظہور کرتی ہے۔ مسئلہ تحریر کی ادبی قدرو قیمت کا ہے اور یہ کھانیاںمضامین اور شاعری آگاہ متحرک ذہن اور اعلیٰ تخلیقی صلاحیت کا مظہر ہیںجو تقریبا ً نصف صدی کا منظر نامہ بناتی ہیں ۔ ڈاکٹرنزہت عباسی نے اپنے مقالے میں کہا کہ عالمی یومِ خواتین کے دن خواتین کو ان کی علمی ، ادبی،سماجی، سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ادب کے میدان میں خواتین نے ہر صنف میں اپنے نسانی شعور کا بھرپور اظہار کیااپنے احساسات ، جذبات خیالات کو زبان دی معاشرے میںخواتین کے مسائل اوران پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی عہد حاضر میںشاعرات بدلتے ہوئے ادبی ، فکری ، معاشرتی رجحانات کو بیان کررہی ہیں ، وہ جوکچھ تخلیق کررہی ہیں وہ ان کے آزاد ذہن کی تخلیق ہے۔راحیلہ ٹوانہ سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ معاشرہ کو ادب اور قلم نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ جرأت مندماں کی صورت میںعورت نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ جس کوآج کے دن سلام پیش کریں گے۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادربخش سومرو نے کہا کہ عورت کی ایک اپنی دنیا ہے انسان کے عمومی مسائل کے ساتھ ساتھ اس کے اپنے مسائل بھی ہیں جو صرف وہ ہی جانتی ہیں، خون میں رچاتی اور انکے فنی اظہار کیلئے مضطرب رہتی ہے نسائی حسیت کوئی فارمولانہیں ہے کہ سامنے رکھ کے وہ ادب تخلیق کردے یہ تو اس کے زندگی کے منفرد تجربے اور طرز احساس ہی کا نام ہے۔لیکن ابھی تک عورت کے بارے میںعورت کے لئے مرد کا نقطہ نظرہی بیان ہورہا تھا۔ عورت کو نہ تو اس قابل سمجھاجاتا ہے ۔کہ وہ اپنی رائے دے اور نہ ہی صدیوں کی محکومی اور تعلیم سے دوری کے سبب وہ اس قابل تھی کہ اپنا نقطۂ نظر بیان کرسکے تاہم یہ صورت حال اب زیادہ دیر قائم نہیںرہ سکتی تھی۔ آخر میں مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔ تھے جن شعرا ئے کرام نے کلام سنایا۔ ان میں گلنار آفرین ، صبیحہ خان، ہمابیگ، راحیلہ ٹونہ ، عرفان علی عابدی، ڈاکٹر نزہت عباسی، ڈاکٹر زینت کوثرلاکھانی، ظفر محمد خان ظفر، نصیر سومرو، اظہر بابنھن، ڈاکٹر حسین کھٹی، اقبال افسر غوری، عشرت حبیب، اوسط علی جعفری، عامرحسین راھو، صغیر احمد جعفری،دلشاد احمد دہلوی، صدیق راز، طاہر سلیم سوز، سیماناز، نیل امجد،فرح دیبا،نجیب عمر،محمد علی زیدی، نشاط غوری، اختر علی خان ، عارف شیخ، امیدطئی وفا ،پروین حیدر، تنویر حسین سخن، اقبال سہیوانی،الطاف احمدنے اپنا پیش کیا۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر