وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 11 مارچ 2018 استقبال کتب

کتاب:منزلِ مراد(ناول)
ناول نگار:پروفیسر ہارون الرشید
قیمت:300/- روپے
ناشر:میڈیا گرافکس، کراچی
پروفیسر ہارون الرشید کثیر التصانیف اور کثیر الجہات شخصیت ہیں۔ ان کی اب تک اُردو ادب (تاریخ و تنقید) کی 9؍ جب کہ دبستانِ مشرق پر 4 ؍اور ذہنی اور فکری جائزوں کی 9، شاعری کی 6 ؍کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ ’’زندگی نامہ‘‘ خود نوشت اور ’’اپنے لہو کی آگ میں‘‘،’’ منزل ہے کہاں تیری‘‘ کے بعد ’’منزلِ مراد‘‘ تیسرا ناول ہے جو کراچی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کوئی خوش نصیب ہوگا جو کراچی کے خراب حالات سے متاثر نہ ہوا ہو۔ لوگوں کے کاروبار تباہ ہو گئے۔ عورتوں کی عزتیں پامال ہو گئیں، تجارت تباہ و برباد ہو گئی۔ گھر کا واحد سہارا چھن گیا، ٹاچر سیل کی وجہ سے لوگ نہ صرف اپاہج ہو گئے بلکہ صحت و تن درستی اور یہاں تک کہ زندگی سے محروم کر دیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کے معاشی، ادبی، سماجی اور سیاسی پس منظر میں بہت سی کتابیں لکھی گئیں۔ ’’منزلِ مراد‘‘ بھی ایک ایسا ہی ناول ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
٭٭٭
کتاب:کچوکے(نثر پارے)
مصنف:جسٹس ایس اے ربّانی
قیمت:280/- روپے
ناشر:قرطاس۔ کراچی
جسٹس ایس اے ربّانی صاحب کی متعدد کتب زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں اُردو اور انگریزی زبان کی کتابیں شامل ہیں۔ جسٹس ایس اے ربانی ایک قابل اور قد آور شخصیت کا نام ہے جو ایک طویل عرصے تک قانون اور شرعی عدالت کی خدمات سر انجام دیتے رہے اور اپنی تعلیمی صلاحیت، علمی استعداد اور ذہنی قابلیت سے عوام و خواص کو فائدہ پہنچاتے رہے۔ ’’کچوکے ‘‘کے نام سے ان کی کتاب منظر عام پر آئی ہے جس میں مختصر جملے لکھے گئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ جملے کوئی اخلاقی درس نہیں، نہ کوئی مستند اصول ہے، یہ صرف پڑھنے والے کو سوچنے پر آمادہ کرتے ہیں، ہر شخص اس کا مفہوم اپنی دانش کے مطابق نکال سکتا ہے۔ اس کتاب کا ہر جملہ فکر انگیز ہے اور سعادت حسن منٹو کے سیاہ حاشیوں کی یاد دلاتا ہے۔
٭٭٭
کتاب:وقت میرے حصّے کا
مصنف:جسٹس ایس اے ربّانی
صفحات:196
ناشر:فضلی بک سپر مارکیٹ، کراچی
’’وقت میرے حصّے کا‘‘ جناب جسٹس ایس اے ربّانی کی خود نوشت ہے جس میں انھوں نے اپنی زندگی میں ہونے والے تلخ و شیریں تجربات، عمیق مشاہدات، نازک احساسات اور شدید جذبات کا اظہار کیا ہے۔ آپ نے جو 1947ء کے وقت تقسیم برصغیر سے ہجرت میں مصائب برداشت کیے ، صعوبتیں جھیلیں اور پریشانیوں سے دوچار ہوئے اس خودنوشت میں ان کا برملا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے آزادی، پاکستان روانگی، کراچی آمد، نئے لوگ نیا ماحول، صحافت، مارشل لاء، کراچی پورٹ ٹرسٹ، سندھ کے مختلف اضلاع میں تعیناتی، مختلف اسمبلیوں کی روداد، سندھ ہائی کورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ کا ذکر کیا ہے۔ کسی جسٹس کی زندگی کا مطالعہ کرنے کے لیے یہ کتاب انتہائی اہم ہے۔اس سے ہمیں جسٹس ایس اے ربانی صاحب کے قلمی ہنر کا پتا بھی چلتاہے اور ان کی زندگی سے آگاہی بھی ہوتی ہے۔
٭٭٭
کتاب:سخن آئینہ(شعری مجموعہ)
شاعرہ:اسما ناز وارثی
قیمت:400/- روپے
ناشر:ادارئہ رموز، کراچی
’’سخن آئینہ‘‘ محترمہ اسما ناز وارثی کا شعری مجموعہ ہے جس میں ان کی اُردو اور انگریزی زبان میں کی گئی شاعری کو شاملِ اشاعت کیا گیا ہے۔ اس کتاب پر تسلیم الٰہی زلفی اور رفیع الدین راز صاحبان نے اپنی مثبت آرا کا اظہار کیا ہے۔ کتاب میں حمد، نعت، ہدیۂ عقیدت، غزل، نظم، طنز و مزاح، قطعات، متاعِ درد کے عنوانات سے تخلیقات شامل کی گئی ہیں۔’’ متاعِ درد‘‘ اسما ناز وارثی کا شعری مجموعہ تھا جو اس سے قبل پاکستان کے معروف اشاعتی ادارے رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی نے شایع کیا تھا۔ زیر نظر کتاب میں متاع درد پر لکھے جانے والی آرا کو شامل کیا گیا ہے۔سید افتخار حیدر، نسرین سید، ڈاکٹر خالد سہیل، سید حسین حیدر اور پروفیسر رحمان خاور کی آرا شامل ہیں۔ یہ کتاب رنگِ ادب پبلی کیشنز کراچی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
٭٭٭
کتاب:بولتی آنکھیں(نظمیں)
شاعر:خواجہ رحمت اللہ جری
قیمت:600/- روپے
ناشر: الحمد پبلی کیشنز، کراچی
خواجہ رحمت اللہ جری ایک طویل عرصے سے دشتِ سخن کی سیاحی میں مصروف ہیں ۔ ان کی چار کتابیں ’’ضرب لطیف‘‘، ’’ صقیلِ دل‘‘،’’ رقص قندیل‘‘ اور’’ بولتی آنکھیں‘‘ شایع ہو چکی ہیں جب کہ پانچ کتابیں زیر طبع ہیں جن میں غزل، معریٰ غزل، قطعات، ہائیکو، نثری مضامین اور احادیثِ نبوی کا منظوم ترجمہ شامل ہوگا۔ خواجہ رحمت اللہ جری کی جائے پیدائش حیدر آباد دکن ہے۔ وہیں انھوں نے بی ای سول کی ڈگری حاصل کی اور بمبئی میں بہ حیثیت لیکچرار خدمات انجام دیں۔ 1968ء میں پاکستان ہجرت کر آئے اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ انھوں نے کافی عرصے کراچی اور سعودی عریبہ میں سول انجینئر کی حیثیت سے کام کیا۔ ’’خواجۂ سخن‘‘ اور’’ مسیحائے بزمِ شاب‘‘ کے خطابات پانے والے شاعر کی کتاب ’’بولتی آنکھیں ‘‘فکر انگیز، عالمی حالات اور شخصیات پر لکھی گئی نظموں کا مجموعہ ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر