متناسب انتخابی نظام ۔۔۔۔۔ موجود حالات کا تقاضا

حالیہ سینیٹ الیکشن نے جس طرح سے لوٹ مار کی سیاست کا شور مچایا ہے اور سیاستدان بشمول عمران خان جو تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے تھے اور ن لیگ زرداری سب پارٹیاں ووٹوں کی خرید فرو خت میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لیے کوشاں رہیں اور سینیٹ کے چیئرمین کے لیے بھی یہ گھنائونا کھیل جاری ہے۔ جس انداز میںپاکستان کے ایوان بالا کے ممبران کے چنائو کے لیے گندا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ یقینی طور پر پاکستانی نوجوان نسل کو سیاست دان مایوس کر رہے ہیں۔ آئیے متناسب نمائندگی کے نظام پر بات کرتے ہیں۔

متناسب نمائندگی کا نظریہ ایک ایسے ووٹنگ سسٹم پر مبنی انتخابی نظام ہے جس میں اسمبلی یا کونسل کو منتخب کیا جا تا ہے۔متناسب نمائندگی سے مراد یہ ہے کہ جوسیاسی پارٹیا ں یا گروپ جتنے ووٹ حاصل کرتے ہیں اُسی تنا سب سے پارٹیوں میں سیٹوں کی تعداد تقسیم کردی جاتی ہے مثال کے طور متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت اگر 30%ووٹروں نے کسی خاص پارٹی کی حمایت کی ہے تو 30%سیٹوں کی جیت اُ س پا رٹی کی ہو گی۔

متناسب نمائندگی کا نظام درحقیت سنگل ممبر ووٹنگ سسٹم کا متبادل ہے۔

متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام کی کئی اقسام ہیں کچھ نظاموں میں صرف مختلف پارٹیوں کی متنا سب نمائندگی ہے،جب کہ کچھ نظاموں میں ووٹرز امیدوار وں میں سے انفرادی طور پر امیدوار کو چُنتے ہیں متناسب نمائندگی کے نظام کی شرح میں فرق ہے۔ یہ اُن عوامل کی بنا پر ہے جس میں سیٹوں کے تعین کا فارمولا ترتیب دیا جاتا ہے۔جس میں ایک حلقے میں سیٹوں کی تعداد یا منتخب شدہ با ڈ ی بحثیت مجموعی کا فارمولا شا مل ہے

متناسب نمائندگی کا نظام اکثر سنگل ووٹر الیکٹوریل نظاموں کی ضد سمجھا جاتا ہے ان میں سب سے عام جو ہے وہ سنگل ممبر pluralityکا نظا م ہے۔یہ نظا م سابقہ تاج برطا نیہ کے زیر اثر ممالک جن میں امریکا،کینیڈا،انڈیا وغیرہ میں موجودہ ہے۔

متنا سب نما ئندگی کے نظا م میں سیا سی جما عتوں کے سیا سی منشور پر خا ص طور پر زور دیا جاتا ہے۔سیا سی جما عتیں متنا سب نمائندگی کے نظا م میں دل یعنی مرکز کے طور پر کام کرتی ہیں۔مثال کے طور جو جماعتیں کل ووٹوں کا 15%حا صل کرتی ہیں تو اِس نظا م کے تحت وہ اپنے امیدراروں کے لیے 15%نشستیں حاصل کر لیتی ہیں۔تا ہم جن اقوام میں متنا سب نمائندگی کا نظا م رائج ہے وہا ں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امیدوار کی انفرادی حثیت تو دیکھا جا ئے جیساکہ نیدرلینڈ کے انتخا بی نظا م میں ہے یا پھرایسی اقوام بھی ہیں جہا ں صرف پارٹی کو ووٹ دینے کی اجا زت ہے جیسے کہ اٹلی کی پا رلیمنٹ ہے۔زیا دہ تر جو بحث انتخابی نظام کے حوالے سے کی جا تی ہے وہ یہ کہ زیا دہ سے زیا دہ متناسب نما ئندگی کے طرف رجو ع کیا جا ئے۔یہ اس وجہ سے ہے کہ موجودہ دور میں امریکا اور برطانیا میں جومضبوط پارٹیا ں ہیں وہ صرف 20%سے 25%تک اہل وؤٹروں کی حمایت سے پارلیمنٹ میں کنٹرول حاصل کر لیتی ہیں جس سے چھوٹی پارٹیا ں نظراندازہوجا تی ہیں۔کینڈامیں صورتحال اور زیا دہ خراب ہے کہ صرف40%ووٹروں کی حما یت سے پا رٹیا ں مکمل چار سال کے لیے اقتدار حاصل کر لیتی ہیں۔ اس طرح صرف 60%پڑ نے والے ٹوٹل ووٹوں میں سے صرف ایک چوتھائی ووٹ حاصل پارٹی حکومت کی تشکیل کرلیتی ہے۔بیان کردہ متنا سب نمائندگی کے نظام کے حوالے سے بحث عرصہ سے وطن عزیزمیں چل رہی ہے۔پاکستان کے جغرافیا ئی اور سما جی خدوخال اِ س طرح کے ہیں کہ ایک ایسا مربو ط انتخابی نظام جس میں ہر طبقہ فکر،خواہ اُس میں قوم پر ست شامل ہوں یا کسی خاص طبقہ فکر کی سوچ کے حامل افراد ہوں۔تمام segment آف سوسا ئٹی کو جمہوریت کے ثمرات سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔پاکستان میں زبان نسل اور مذہب کی بنیاد پر الیکشن میں حِصہ لینا آئین پاکستان کی نفی ہے۔لیکن اگر کوئی بھی گروہ یا جماعت آئین پاکستان کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے منشور کی بنیاد پر انتخابی عمل میں حصہ لیتی ہے تواُسکی سوچ کو پذیرائی ملنے کی صورت میں ارباب اختیار کو بھی خودا احتسابی کرنے کی عادت پڑسکتی ہے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں تعلیمی صورت حال تشویش ناک حد تک خراب ہے۔تعلیمی ماحول نہ ہونے کی بناء پر جمہوریت کو بھی پنپنے کا موقع نہیں مل سکا۔ہم انگریز اور انگریزی نظام کو اپنے ملک کے سماجی ڈھا نچے کے لیے زہرِقاتل توگردانتے ہیں لیکن گزشتہ62سالوں سے کون سے شعبے میں ہم نے قابِل فخرترقی کی ہے۔

اِس ملک کے 70%لوگ صاف پانی سے محروم ہیں بجلی گیس کا بحران ہماری معیشت کو نگل چکاہے۔مذہبی منافرت ہونے کا ڈھنڈوراتوخوب پیٹاجاتا ہے۔لیکن پاکستان میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی موجود ہے اگر کہیں فرقہ ورانہ فسادات ماضی میں ہوئے بھی ہیں یا ابھی ہوئے ہیں تواِس میں ہمارے دشمنِ ممالک کی سازش کارفرما ہوتی ہے۔اسی طرح پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی بھی قابلِ اطمینا ن حدتک موجودہ ہے۔اسلیے یہ استدلال کے متناسب نمائندگی کی بناء پر اس طرح کی منفی سوچ اور یِک جہتی کی مخالف قوتیں سراُٹھا سکتی ہیں اس میں وزن نہیں ہے۔وڈ یرہ شاہی،جاگیردانہ سوچ،اور مختلف گروپوں کے زیر اثر عوام کو اگر اپنی سوچ کا اظہار اِس طرح کرنے کا موقع ملے کہ ایک ایک ووٹ مناسب طور پر طاقت کا عامل ثابت ہو موجودہ انتخابی نظا م کی وجہ سے کم ووٹ حاصل کرنے والی جما عت نمائندہ جماعت بن کر اقتدارپر براجمان ہے۔مثلا اگر دس سیاسی جماعتیں ایک حلقے میں اپنے امیدوارں کو الیکشن کے لیے اُتارتی ہیں تو ووٹ 10امیدوارں میں تقسیم ہوکر رہ جاتا ہے۔اس طرح اگرکوئی جماعت10فی صد کوئی12فی صد یا9فی صد ووٹ حاصل کرتی ہے اور ایسی جماعت جوکہ اِن دس جماعتوں میں زیادہ فی صد ووٹ لے لیتی ہے خواہ اُس نے کل ووٹوں کا 20%حا صل کیا ہو تو اُس کا امیدوار اسمبلی میں پہنچ جا تا ہے۔جوباقی جو80%ووٹ دوسری جماعتوں کے امیدواروں تقسیم ہوئے ہوتے ہیں وہ ضائع جائے ہیں یعنی 80%لوگوں کی نمائندگی اسمبلی میں نہیں ہوتی باقی اُسکے مقابلے میں 20%ووٹ لینے والا کا میاب گردانا جاتاہے۔ (جاری ہے )

Electrolux