وجود

... loading ...

وجود

فرحت اللہ بابرسے لاتعلقی ‘پیپلزپارٹی کاسلیم مانڈوی والاپردست شفقت

جمعه 09 مارچ 2018 فرحت اللہ بابرسے لاتعلقی ‘پیپلزپارٹی کاسلیم مانڈوی والاپردست شفقت

لگتا ہے فرحت اللہ بابر نے بال دھوپ میں سفید کرلیے ہیں اور ساری عمر پیپلز پارٹی کی زلف گرہ گیر کا اسیر رہنے کے باوجود انہیں اپنی اس پارٹی کی سیاست کی سمجھ ہی نہ آسکی۔ جب وہ سرکاری افسر تھے تو بھی اس پارٹی کی محبت میں گرفتار تھے۔ ریٹائر ہوکر سیاست میں آئے تو ان کا انتخاب یہی پارٹی تھی۔ براہ راست الیکشن لڑنے کی ان میں سکت نہیں تھی کہ ساری عمر سرکاری ملازمت کی تھی۔ کوئی حلقہ تھا نہ ووٹروں سے براہ راست رابطہ۔ اس لیے پارٹی نے ان پر مہربانی کی اور ایوان بالا کا رکن بنا دیا، لیکن جب عقل پر پردہ پڑتا ہے تو پھر انسان سے ایسی حرکت سرزد ہو جاتی ہے جو فرحت اللہ بابر سے ہوئی۔ یہ اجلاس جس میں انہوں نے آخری تقریر کی بنیادی طور پر الوداع ہونے والے ارکان کو سلیقے اور قرینے سے رخصت کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جو ارکان ریٹائر ہو رہے تھے، انہوں نے چیئرمین رضا ربانی کی خدمات کو سراہا، ان کے کردار کی تعریف کی، ساتھیوں کی تعریفیں بھی کی گئیں، جنہوں نے بہت اچھا وقت گزارا۔ نسرین جلیل تو جذباتی تقریر کرتے ہوئے آبدیدہ بھی ہوگئیں۔ ممکن ہے انہیں اس الوداعی تقریب سے زیادہ ان حالات کا صدمہ ہو جن سے ان کی پارٹی گزر رہی ہے۔

لیکن حیرت ہے فرحت اللہ بابر کو کیا سوجھی کہ انہوں نے جاتے جاتے اپنے خطاب میں بے موسمی سچی باتیں کر دیں۔ جو کچھ انہوں نے کہا عمومی طور پر اس سے اختلاف کی بہت کم گنجائش ہے اور اگر ہو بھی تو جنہیں اختلاف ہے وہ اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی نے فرحت اللہ بابر کو جس انداز میں سینیٹ سے الوداع کیا ہے، سچی بات ہے یہ پارٹی سے ان کی محبت کا بہت برا صلہ ہے۔ فرحت اللہ بابر نے سینیٹ میں جو کچھ کہا، یہ ایسا نہیں تھا کہ ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جاتا۔ پارٹی کی جانب سے یہ وضاحت تو کل ہاتھ کے ہاتھ ہی آگئی تھی کہ بابر نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ ان کے ذاتی ہیں۔ پارٹی ان سے متفق نہیں، لیکن کیا یہ ضروری تھا کہ لاتعلقی کا یہ اعلان کرنے کے ساتھ ہی انہیں ترجمان کے منصب سے بھی ہٹا دیا جاتا۔ حالانکہ اب تک وہ پارٹی کے قائد اور پارٹی کی ترجمانی کا فریضہ بطریق احسن ادا کرتے رہے ہیں۔ انگریزی ان کی اچھی تھی اور اگر کسی انگریزی اخبار میں ’’خصوصی مضمون‘‘ چھپوانے کی ضرورت پڑتی تو ان کی خدمات حاصل کی جاتیں۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ ’’گھوسٹ رائٹنگ‘‘ تو جدید دور کے تحریری کلچر کا لازمی حصہ ہے۔ بڑے بڑے نامور لوگوں کے نام سے جو کتابیں اور مضامین چھپتے ہیں، انہیں لکھنے والے پس چلمن بیٹھے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار تو مصنف اپنا مدعا لکھنے والے کے روبرو بول دیتا ہے۔ وہ اسے لکھ لیتا ہے اور بعد میں مرتب کرکے کتابی شکل دے دیتا ہے، جیسے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی کتاب ’’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘‘ املا کرا دی تھی، اور ان املا شدہ صفحات کا حجم بہت زیادہ تھا، جنہیں بعد میں الطاف گوہر نے ایڈٹ کرکے اپنی خوبصورت زبان میں لکھ دیا۔ اس طرح بہت سے نامور مصنفین بھی یہ طریق کار اختیار کرتے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد اردو زبان کے سب سے بڑے انشاپرداز تھے اور ان کے بارے میں ایک بار بھارتی صدر ڈاکٹر ذاکر حسین نے کہا تھا کہ اردو زبان ہمیشہ اس بات پر فخر کرتی رہے گی کہ وہ ابوالکلام کے قلم سے لکھی اور ان کی زبان سے بولی گئی اس ابوالکلام نے بھی اپنی سیاسی خود نوشت اپنے ایک رفیق کار پروفیسر ہمایوں کبیر کو املا کرائی تھی۔ طریق کار یہ تھا کہ مولانا اردو بولتے جاتے اور ہمایوں کبیر اس کے نوٹس انگریزی میں بناتے جاتے۔ پھر ایک ایک باب کا مسودہ لکھ کر مولانا کو پیش کرتے جو بار بار کی تصحیح و تدوین کے بعد حتمی شکل اختیار کرتا۔ یہ کتاب ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ کے نام سے مولانا آزاد کی وفات کے چند ماہ بعد چھپی، لیکن بعض مصنف ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ جو کچھ ان کے نام سے چھپ رہا ہے، اس میں لکھا کیا ہے۔

بات ہو رہی تھی فرحت اللہ بابر کی انگریزی مضمون نگاری کی، جن حضرات کو اوپر والے دو پیراگراف غیر متعلقہ نظر آئیں، ان سے پیشگی معذرت، بتانا یہ تھا کہ فرحت اللہ بابر کی تمام تر خدمات کو ایک ہی لمحے میں بھلا دیا گیا اور ترجمان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔ غالباً یہ محسوس کیا گیا ہوگا کہ جس شخص کے خیالات عالیہ وہ ہیں جس کا اظہار اس نے سینیٹ کے الوداعی خطاب میں کیا ہے۔ وہ پارٹی ترجمان رہنے کا حق نہیں رکھتا، جو پارٹی بلوچستان میں ایک بھی رکن اسمبلی نہ رکھنے کے باوجود صوبے کے آزاد ارکان کے تعاون سے سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین بنانے کے لیے پاپڑ بیل رہی ہے اور پرامید بھی ہے خدا لگتی کہیئے کہ فرحت اللہ بابر جیسا آدمی اس کے لیے بیکار محض ہے کہ نہیں، جس کا خطاب بنا بنایا کھیل بگاڑ بھی سکتا ہے۔ پارٹی کی اتنی مہربانی کیا کم ہے کہ اس نے رضا ربانی کو دوبارہ سینیٹ کارکن بنوا دیا۔ اب اگر کوئی انہیں دوبارہ چیئرمین بنانے کی سوچ رکھتا ہے تو پیپلز پارٹی اس سے بری الذمہ ہے، کیونکہ رضا ربانی نے بھی دوچار بار پارٹی کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔ یاد پڑتا ہے اس وقت بھی پارٹی نے رضا ربانی کے خیالات سے لاتعلقی ظاہر کر دی تھی۔ اب انہیں دوبارہ چیئرمین بنوانے سے توبہ کرلی ہے، ان کے سر سے شفقت کا ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ غالباً اسی لیے رضا ربانی نے کل ہی ایک خطاب میں کہہ دیا تھا کہ ان کی زبان بند تھی، اب وہ کھل کر بولیں گے۔ لیکن بعید نہیں کل کو رضا ربانی کے خیالات سے بھی پارٹی دستبردار ہو جائے۔


متعلقہ خبریں


ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی وجود - پیر 16 مارچ 2026

کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی وجود - پیر 16 مارچ 2026

اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ وجود - پیر 16 مارچ 2026

مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ

مضامین
پاک افغان بگڑتے تعلقات وجود بدھ 18 مارچ 2026
پاک افغان بگڑتے تعلقات

نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟ وجود بدھ 18 مارچ 2026
نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟

کفن چور وجود منگل 17 مارچ 2026
کفن چور

پاکستان ، افغانستان کشیدگی وجود منگل 17 مارچ 2026
پاکستان ، افغانستان کشیدگی

عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے! وجود پیر 16 مارچ 2026
عدل کی بنیا د پر ریاست کی عمارت کھڑی رہتی ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر