ہیرسوہوکی پیپلزپارٹی میں شمولیت،فاروق ستارکی بے بسی

22اگست کی پاکستان مخالف تقریرکے بعد وجودمیں آنے یالائی جانے والی ایم کیوایم پاکستان کم وپیش دیڑھ سال کاعرصہ گزرنے کے باوجودٹوٹ پھوٹ کے عمل سے دوچارہے اس کے کئی اراکین قومی وصوبائی اسمبلی پارٹی چھوڑکردیگر جماعتوں کوپیارے ہوگئے ۔ ایم کیوایم پاکستان کوسب سے زیادہ نقصان پاک سرزمین پارٹی نے پہنچایا جس نے ایک درجن سے زائد اراکین قومی وصوبائی اسمبلیوں کوتوڑابلکہ شہر کا ڈپٹی میئربھی چھین لیا۔قطع نظراس بات کے کہ ایم کیوایم پاکستان اس وقت اندرونی خلفشارسے دوچارہے اورواضح طورپرپی آئی بی اور بہادر آباد گروپوں میں بٹی ہوئی نظرآتی ہے ۔اس کاسب سے زیادہ نقصان پارٹی کوسینیٹ کے حالیہ انتخابات میں پہنچا۔یہی نہیں اس جماعت کے کئی اراکین صوبائی اسمبلی جن میں خواتین کی اکثریت تھی نے پیپلزپارٹی کے امیدوارکوووٹ دیا۔بات یہیں تک رہتی تو فاروق ستار اینڈکمپنی کے لیے کسی حد تک قابل برداشت تھی۔لیکن ایم کیو ایم کی رکن سندھ اسمبلی ہیر سوہو نے پیپلز پارٹی کے امیدوارکوووٹ ہی نہیں دیا بکلہ خود بھی پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئی ہیں۔

اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو نے ایم کیو ایم کی ایک اورخاتون رکن اسمبلی نائلہ منیر کی بھی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔حالیہ سینیٹ انتخابات میں بھی چاروں صوبائی اسمبلیوں میں متعددارکان پرپارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ نہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔کیا پارلیمانی پالیسی سے انحراف پر ان کے خلاف نااہلی کی کارروائی ہوسکتی ہے ؟ جہاں تک اپنی پارلیمانی جماعت کو چھوڑ کر کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا تعلق ہے ،ایسے ارکان کے خلاف آئین کے آرٹیکل63(اے)کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے جبکہ سینیٹ الیکشن میں پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے پر اس آرٹیکل کے تحت کسی رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔

وفاداریاں اور سیاسی جماعت تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف بھی اس وقت تک نااہلی کی کارروائی نہیں ہوسکتی جب تک کہ ان کی سابقہ جماعت کا سربراہ ان کے خلاف کارروائی کا آغاز نہ کرے۔الیکشن کمیشن اور ا سپیکر اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ از خود ایسے کسی رکن کے خلاف نوٹس لینے اور کارروائی کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔اگر کوئی شخص اپنی سیاسی جماعت کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیتا ہے یا پھر وہ کسی دیگر پارلیمانی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلیتا ہے تو وہ ایوان کی رکنیت کے لیے نااہل ہوسکتا ہے ،اس کی سابق پارٹی کا سربراہ (جو پارٹی رکن اسمبلی نے چھوڑی ہے )تحریری طورپر ا سپیکر یا چیئرمین اور چیف الیکشن کمشنر کو ریفرنس بھیجے گا ،لیکن اس سے قبل ضروری ہے کہ وہ متعلقہ رکن کو شوکاز نوٹس جاری کرے۔ اسپیکر اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ پر لازم ہے کہ وہ آرٹیکل 63 (اے)3کے تحت دو یوم کے اندر نااہلی کا یہ ریفرنس چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گا ،اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو آئینی طور پر چیف الیکشن کمشنر کو بھیجا گیا تصور کیا جائے گا۔اگرالیکشن کمیشن ریفرنس کی توثیق کردے تو متعلقہ رکن اسمبلی ایوان کی نشست سے محروم ہوجائے گا اور اس کی نشست خالی ہوجائے گی۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف 30یوم کے اندر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ ایسی اپیل کا 90روز میں فیصلہ کرے گی۔

اس آرٹیکل میں یہ دلچسپ بات بھی موجود ہے کہ کسی اسمبلی کے ا سپیکر یا چیئرمین سینیٹ پر نااہلی کے آرٹیکل63 (اے)کا اطلاق نہیں ہوگا۔پارٹی پالیسی سے انحراف پر دیگر قابل گرفت اقدامات میں وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخاب اوران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر کسی رکن کا پارٹی پالیسی سے انحراف کرنا شامل ہے۔اسی طرح بجٹ یا آئین میں ترمیم کے مسودہ پر اگر کوئی رکن اسمبلی اپنی پارٹی پالیسی سے انحراف کرتا ہے تو اس کے خلاف نااہلی کی کارروائی ہوسکتی ہے۔سینیٹ کے ارکان اور چیئر مین یا پھر ا سپیکر اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے آئین ایوان کے ممبران پر پارٹی پالیسی کی پابندی کی کوئی شرط عائد نہیں کرتا ،اس لیے اگر سینیٹ کے انتخابات میں کسی ایم پی اے نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کسی امیدوار کو ووٹ دیا ہے تو اس کے خلاف مذکورہ آرٹیکل کے تحت نااہلی کی کارروائی نہیں ہوسکتی۔

Electrolux