وجود

... loading ...

وجود

حضرت ابو بکر؄ کا جذبۂ خدمتِ خلق

جمعه 09 مارچ 2018 حضرت ابو بکر؄ کا جذبۂ خدمتِ خلق

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ہر باب چودہویں کے چاند کی مانندروشن و تاب ناک ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد حضور ﷺ کی بے مثال محبت اور سچی نیابت کا حق ادا کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو افضل البشر بعد الانبیاء کا بلند مقام عطا ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی خدمتِ خلق اور خدمت اسلام کے لیے وقف تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے خدمت خلق کے واقعات ہر دور کے حکمرانوں کے لیے مثالی نمونہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اس صفت سے قریش کے لوگ بھی انکار نہیں کرتے تھے۔ ایک موقع پر جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کفار کی سختیوں سے تنگ آکر مکہ چھوڑنے لگے تو ابن دغنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کا راستہ روک لیا اور کہنے لگا:
إن مثلک لا یخرج ولا یخرج فإنک تکسب المعدوم وتصل الرحم وتحمل الکل وتقری الضیف وتعین علی نوائب الحق۔(صحیح البخاری : ۲۲۹۸)

آپ جیسے شخص کو یہاں سے نہیں جانا چاہیے، نہ ہم جانے دیںگے، کیوں کہ آپ ناداروں کی مدد کرتے ہیں ، کمزوروں کا بوجھ اٹھا تے ہیں ،مہمان نواز ہیں اور مصیبت زدہ لوگوں کے کام آ تے ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایسے خاندانوں کی مدد کرتے تھے جو معاشی لحاط سے غریب اور نادار ہوں۔ ان میں سے ایک حضرت مِسطح جو آپ رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے۔ یہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تو ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ لہٰذا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کا ماہانہ وظیفہ مقرر کردیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ذاتی طور پر بھی گھر گھر جاکر غریبوں ، ناداروں اور بیواؤں کی خدمت کیا کرتے تھے۔ لوگوں کے لیے بازار سے سامان خرید کر لایا کرتے تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتے تھے کہ وہ نماز ختم کرتے ہی جلدی سے چپکے سے باہر نکل جاتے اور مدینہ شریف کے مضافاتی علاقوں کے ایک دیہات کی جانب رختِ سفر باندھ لیتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کئی بار ارادہ کیا کہ اس کا سبب پوچھ لیں لیکن نہیں پوچھ سکے۔ ایک دن وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک خیمے میں داخل ہوئے ، کافی دیر بعد جب وہ باہر نکل کر دوبارہ مدینے کی جانب روانہ ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس خیمے میں داخل ہوئے اور وہاں یہ منظر دیکھا کہ ایک نابینا بوڑھی عورت دو چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس بڑھیا سے پوچھا : اے اللہ کی بندی تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں ایک مفلس و نادار اور نابینا عورت ہوں۔ میرے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر دنیا سے گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔حضرت عمر فا روق رضی اللہ عنہ نے دوبارہ سوال کیا : یہ شیخ کون ہے جو تمہارے گھر میں آتا ہے؟ بوڑھی عورت جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناواقف تھی ‘ اس نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے، ہمارے لیے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لیے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔(روضۃ المحبین)

خدمتِ خلق کے معاملے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمیشہ پیش پیش رہا کرتے تھے۔ ہر نیکی میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ آپ نے دورِ خلافت میں بھی نیکی کا کوئی موقع نہیں گنوایا ۔ وہ نیکی چاہے کسی کی مالی مدد کرنے سے متعلق ہو یا کسی کے گھر میں کام کاج کرنے کے متعلق ہو، آپ اس سے نہیں کتراتے تھے۔ ہمیشہ خدمتِ خلق کا جذبہ ہوتا تھا ۔ آپ کے دور ِ خلافت کا واقعہ ہے کہ مدینہ منورہ کے اطراف میں ایک نابینا بوڑھی عورت رہا کرتی تھی۔ اس کے کوئی رشتہ دار، عزیز و اقارب نہیں تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ روزانہ رات کے وقت اس بڑھیا کے گھر تشریف لے جاتے اس کے گھر کا تما م کام اپنے ہاتھوں سے کرنے کے بعد پانی بھر کر چلے جاتے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے معمول کے مطابق رات کے وقت اس بڑھیا کے گھر تشریف لے گئے ۔ آپ نے دیکھا کہ اس بڑھیا کے گھر کا سارا کام کوئی اور کر کے چلا گیا ۔کچھ دنوں تک یہی معمول رہاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب بڑھیا کے گھر پہنچتے تو اس کے گھر کا کام پہلے ہی کوئی اور کرکے جاچکا ہوتا تھا۔ اس بات پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جستجو ہوئی یہ کون ہے جو مجھ سے پہلے ہی یہ کام کرکے چلا جاتا ہے ۔ اس بات کا کھوج لگانے کے لیے وہ اگلے دن اس بڑھیا کے گھر جلدی پہنچے اور ایک جگہ چھپ کر انتظار کرنے لگے۔ تھو ڑا وقت ہی گزرا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اورچپکے سے اس بڑھیا کے گھر میں داخل ہوکر کام کرنا شروع کردیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بڑے حیران ہوئے کہ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود آپ اس بوڑھی خاتون کے تمام امور خوش دلی سے انجام دے رہے ہیں۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ سے نیکیوں میں سبقت لے جاتے ہیں۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا کام اپنے ہاتھوں سے کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ اکثر بھیڑ بکریاں خود ہی چَرالیتے تھے۔ محلہ میں اگر کسی کاکوئی کام ہوتا تو وہ بھی کردیا کرتے تھے۔ ناداروں کی مدد کرنے میں آپ رضی اللہ عنہ قلبی و روحانی سکون محسوس کیا کرتے تھے۔ کمزوروں کا بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ مصیبت زدہ لوگوں کے کام آیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جب آپ خلیفہ بنادیے گئے تو پھر بھی آپ کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔جب آپ رضی اللہ مصنبِ خلافت پر فائز ہوئے تو محلہ میں ایک لڑکی کو یہ فکر ہوئی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو ا ب خلیفہ منتخب ہوگئے ہیں ۔ اب ہماری مدد کون کرے گا؟ ہمارے کام کون انجام دے گا؟ ہماری بکریوں کا دودھ کون دوہے گا؟ اس لڑکی نے یہ گمان کیا کہ اپنے کام خود کرنا یا کسی اور کے کام کرنا خلیفۂ وقت کے شایان شان نہیں ہے ۔ خلیفہ یا بادشاہ کے سارے کام اس کے نوکر چاکر اور درباری کرتے ہیں۔ چہ جائے کہ وہ اپنے کام خود کرے یا دوسروں کی بکریوں کا دودھ نکالے۔ لیکن قربان جائیے خلیفہ اول پر جب آپ رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی بات سنی تو ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم میں بکریاں دوہوں گا اور مجھے امید ہے کہ خلافت کا منصب مخلوق کی خدمت کرنے سے باز نہیں رکھے گا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نظام ِ خلافت سنبھا لا تو آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ با قاعدگی کے ساتھ فلاں علاقہ میں ایک غریب بوڑھی عورت کواپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا یا کرتے تھے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ فریضہ انجام دینے کا ارادہ کیا اور جب آپ پہلے دن اُس نا بینابوڑھی عورت کو کھانا کھلانے لگے اور آپ نے روٹی کا لقمہ توڑ کر اُس کے منہ میں ڈالا تو اُس بوڑھی نا بینا عورت کی چیخ نکل گئی اور وہ عورت رونے لگی اور کہا کہ لگتا ہے کہ امیر المومنین (حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ )اس دنیا میں نہیں رہے کیونکہ جب وہ روٹی کا لقمہ میرے منہ میں ڈالتے تھے تو منہ میں ڈالنے سے پہلے وہ اس کو اچھی طرح چبا کر میرے منہ میں ڈالا کرتے تھے کیونکہ میرے منہ میں دانت نہیں ہیں اور وہ مجھے چبا چبا کر کھلاتے تھے آج کیونکہ آپ نے سالم لقمہ میرے منہ میں ڈالا ہے تو میں نے محسوس کیا ہے کہ آج مجھے کھا نا کھلانے والا کوئی اور ہے۔ الغرض خلیفہ اول کی پوری زندگی خدمت اسلام اور خدمتِ خلق کے لیے وقف تھی ۔ خلافت کی بہت بڑی ذمہ داری ہونے کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ رفاہِ عامہ اور خدمت خلق میں پیش پیش رہتے تھے۔ درحقیقت آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی کے گوشے گوشے میں رہتی دنیا تک کے حکمرانوں کے لیے پیغا م ہے۔ ہمیں بھی ملک کی بقا کے لیے اسلام کے خدمت ِخلق کے تصور کو عملی جامہ پہنانا ہوگا کیونکہ زندگی کا مقصد دوسروں کے کام آنا بھی ہے۔اسلام میں حقوق اللہ کی طرح حقوق العباد پر بہت زور دیا گیا ہے۔ خدمت خلق اور رفاہی کام اسلام کی نگاہ میں عظیم نیکی ہیں۔ خدمت خلق انسانیت کی معراج اور ایمان کا تقاضا ہے۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اندازِ خلافت اور جذبۂ خدمتِ خلق موجودہ دور کے حکمرانوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔


متعلقہ خبریں


پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار وجود - هفته 21 فروری 2026

ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

مضامین
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری وجود پیر 23 فروری 2026
مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری

نا شکرے عوام وجود پیر 23 فروری 2026
نا شکرے عوام

زندگی بدل گئی! وجود اتوار 22 فروری 2026
زندگی بدل گئی!

بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث وجود اتوار 22 فروری 2026
بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر