وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

حضرت ابو بکر؄ کا جذبۂ خدمتِ خلق

جمعه 09 مارچ 2018 حضرت ابو بکر؄ کا جذبۂ خدمتِ خلق

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ہر باب چودہویں کے چاند کی مانندروشن و تاب ناک ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد حضور ﷺ کی بے مثال محبت اور سچی نیابت کا حق ادا کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو افضل البشر بعد الانبیاء کا بلند مقام عطا ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی خدمتِ خلق اور خدمت اسلام کے لیے وقف تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے خدمت خلق کے واقعات ہر دور کے حکمرانوں کے لیے مثالی نمونہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اس صفت سے قریش کے لوگ بھی انکار نہیں کرتے تھے۔ ایک موقع پر جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کفار کی سختیوں سے تنگ آکر مکہ چھوڑنے لگے تو ابن دغنہ نے آپ رضی اللہ عنہ کا راستہ روک لیا اور کہنے لگا:
إن مثلک لا یخرج ولا یخرج فإنک تکسب المعدوم وتصل الرحم وتحمل الکل وتقری الضیف وتعین علی نوائب الحق۔(صحیح البخاری : ۲۲۹۸)

آپ جیسے شخص کو یہاں سے نہیں جانا چاہیے، نہ ہم جانے دیںگے، کیوں کہ آپ ناداروں کی مدد کرتے ہیں ، کمزوروں کا بوجھ اٹھا تے ہیں ،مہمان نواز ہیں اور مصیبت زدہ لوگوں کے کام آ تے ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایسے خاندانوں کی مدد کرتے تھے جو معاشی لحاط سے غریب اور نادار ہوں۔ ان میں سے ایک حضرت مِسطح جو آپ رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے۔ یہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تو ان کے پاس کچھ نہ تھا۔ لہٰذا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کا ماہانہ وظیفہ مقرر کردیا۔ آپ رضی اللہ عنہ ذاتی طور پر بھی گھر گھر جاکر غریبوں ، ناداروں اور بیواؤں کی خدمت کیا کرتے تھے۔ لوگوں کے لیے بازار سے سامان خرید کر لایا کرتے تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتے تھے کہ وہ نماز ختم کرتے ہی جلدی سے چپکے سے باہر نکل جاتے اور مدینہ شریف کے مضافاتی علاقوں کے ایک دیہات کی جانب رختِ سفر باندھ لیتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کئی بار ارادہ کیا کہ اس کا سبب پوچھ لیں لیکن نہیں پوچھ سکے۔ ایک دن وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک خیمے میں داخل ہوئے ، کافی دیر بعد جب وہ باہر نکل کر دوبارہ مدینے کی جانب روانہ ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس خیمے میں داخل ہوئے اور وہاں یہ منظر دیکھا کہ ایک نابینا بوڑھی عورت دو چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس بڑھیا سے پوچھا : اے اللہ کی بندی تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں ایک مفلس و نادار اور نابینا عورت ہوں۔ میرے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر دنیا سے گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔حضرت عمر فا روق رضی اللہ عنہ نے دوبارہ سوال کیا : یہ شیخ کون ہے جو تمہارے گھر میں آتا ہے؟ بوڑھی عورت جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ناواقف تھی ‘ اس نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے، ہمارے لیے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لیے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔(روضۃ المحبین)

خدمتِ خلق کے معاملے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمیشہ پیش پیش رہا کرتے تھے۔ ہر نیکی میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ آپ نے دورِ خلافت میں بھی نیکی کا کوئی موقع نہیں گنوایا ۔ وہ نیکی چاہے کسی کی مالی مدد کرنے سے متعلق ہو یا کسی کے گھر میں کام کاج کرنے کے متعلق ہو، آپ اس سے نہیں کتراتے تھے۔ ہمیشہ خدمتِ خلق کا جذبہ ہوتا تھا ۔ آپ کے دور ِ خلافت کا واقعہ ہے کہ مدینہ منورہ کے اطراف میں ایک نابینا بوڑھی عورت رہا کرتی تھی۔ اس کے کوئی رشتہ دار، عزیز و اقارب نہیں تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ روزانہ رات کے وقت اس بڑھیا کے گھر تشریف لے جاتے اس کے گھر کا تما م کام اپنے ہاتھوں سے کرنے کے بعد پانی بھر کر چلے جاتے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے معمول کے مطابق رات کے وقت اس بڑھیا کے گھر تشریف لے گئے ۔ آپ نے دیکھا کہ اس بڑھیا کے گھر کا سارا کام کوئی اور کر کے چلا گیا ۔کچھ دنوں تک یہی معمول رہاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب بڑھیا کے گھر پہنچتے تو اس کے گھر کا کام پہلے ہی کوئی اور کرکے جاچکا ہوتا تھا۔ اس بات پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جستجو ہوئی یہ کون ہے جو مجھ سے پہلے ہی یہ کام کرکے چلا جاتا ہے ۔ اس بات کا کھوج لگانے کے لیے وہ اگلے دن اس بڑھیا کے گھر جلدی پہنچے اور ایک جگہ چھپ کر انتظار کرنے لگے۔ تھو ڑا وقت ہی گزرا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے اورچپکے سے اس بڑھیا کے گھر میں داخل ہوکر کام کرنا شروع کردیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بڑے حیران ہوئے کہ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود آپ اس بوڑھی خاتون کے تمام امور خوش دلی سے انجام دے رہے ہیں۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ سے نیکیوں میں سبقت لے جاتے ہیں۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا کام اپنے ہاتھوں سے کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ اکثر بھیڑ بکریاں خود ہی چَرالیتے تھے۔ محلہ میں اگر کسی کاکوئی کام ہوتا تو وہ بھی کردیا کرتے تھے۔ ناداروں کی مدد کرنے میں آپ رضی اللہ عنہ قلبی و روحانی سکون محسوس کیا کرتے تھے۔ کمزوروں کا بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ مصیبت زدہ لوگوں کے کام آیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جب آپ خلیفہ بنادیے گئے تو پھر بھی آپ کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔جب آپ رضی اللہ مصنبِ خلافت پر فائز ہوئے تو محلہ میں ایک لڑکی کو یہ فکر ہوئی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو ا ب خلیفہ منتخب ہوگئے ہیں ۔ اب ہماری مدد کون کرے گا؟ ہمارے کام کون انجام دے گا؟ ہماری بکریوں کا دودھ کون دوہے گا؟ اس لڑکی نے یہ گمان کیا کہ اپنے کام خود کرنا یا کسی اور کے کام کرنا خلیفۂ وقت کے شایان شان نہیں ہے ۔ خلیفہ یا بادشاہ کے سارے کام اس کے نوکر چاکر اور درباری کرتے ہیں۔ چہ جائے کہ وہ اپنے کام خود کرے یا دوسروں کی بکریوں کا دودھ نکالے۔ لیکن قربان جائیے خلیفہ اول پر جب آپ رضی اللہ عنہ نے اس قسم کی بات سنی تو ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم میں بکریاں دوہوں گا اور مجھے امید ہے کہ خلافت کا منصب مخلوق کی خدمت کرنے سے باز نہیں رکھے گا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نظام ِ خلافت سنبھا لا تو آپ کو معلوم ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ با قاعدگی کے ساتھ فلاں علاقہ میں ایک غریب بوڑھی عورت کواپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا یا کرتے تھے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ فریضہ انجام دینے کا ارادہ کیا اور جب آپ پہلے دن اُس نا بینابوڑھی عورت کو کھانا کھلانے لگے اور آپ نے روٹی کا لقمہ توڑ کر اُس کے منہ میں ڈالا تو اُس بوڑھی نا بینا عورت کی چیخ نکل گئی اور وہ عورت رونے لگی اور کہا کہ لگتا ہے کہ امیر المومنین (حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ )اس دنیا میں نہیں رہے کیونکہ جب وہ روٹی کا لقمہ میرے منہ میں ڈالتے تھے تو منہ میں ڈالنے سے پہلے وہ اس کو اچھی طرح چبا کر میرے منہ میں ڈالا کرتے تھے کیونکہ میرے منہ میں دانت نہیں ہیں اور وہ مجھے چبا چبا کر کھلاتے تھے آج کیونکہ آپ نے سالم لقمہ میرے منہ میں ڈالا ہے تو میں نے محسوس کیا ہے کہ آج مجھے کھا نا کھلانے والا کوئی اور ہے۔ الغرض خلیفہ اول کی پوری زندگی خدمت اسلام اور خدمتِ خلق کے لیے وقف تھی ۔ خلافت کی بہت بڑی ذمہ داری ہونے کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ رفاہِ عامہ اور خدمت خلق میں پیش پیش رہتے تھے۔ درحقیقت آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی کے گوشے گوشے میں رہتی دنیا تک کے حکمرانوں کے لیے پیغا م ہے۔ ہمیں بھی ملک کی بقا کے لیے اسلام کے خدمت ِخلق کے تصور کو عملی جامہ پہنانا ہوگا کیونکہ زندگی کا مقصد دوسروں کے کام آنا بھی ہے۔اسلام میں حقوق اللہ کی طرح حقوق العباد پر بہت زور دیا گیا ہے۔ خدمت خلق اور رفاہی کام اسلام کی نگاہ میں عظیم نیکی ہیں۔ خدمت خلق انسانیت کی معراج اور ایمان کا تقاضا ہے۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اندازِ خلافت اور جذبۂ خدمتِ خلق موجودہ دور کے حکمرانوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔


متعلقہ خبریں


کورونا وائرس ، دنیا بھر میں مزید 44افراد ہلاک،تعداد 2858ہو گئی وجود - جمعه 28 فروری 2020

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اموات کا سلسلہ رک نہ سکا اور پچھلے 24 گھنٹوں میں 44 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 2858 ہوگئی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 52 ممالک میں متاثرین کی تعداد 83 ہزار 105ہوگئی جبکہ 36 ہزار 525 بیمار صحت یاب ہوگئے ۔کورونا وائرس سے چین میں مزید 43 افراد ہلاک جبکہ اٹلی میں اموات کی تعداد 14 سے بڑھ کر 17ہو گئی، اسی طرح جنوبی کوریا میں تعداد 12 سے 13 ہو گئی۔چین میں اموات اور بیماروں کی تعداد کم ہو نے لگی مگر دنیا بھر میں کورونا وا...

کورونا وائرس ، دنیا بھر میں مزید 44افراد ہلاک،تعداد 2858ہو گئی

کورونا وائرس عالمی وبا قراردیے جانے کا امکان وجود - جمعه 28 فروری 2020

عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس عالمی و با بن سکتی ہے ،چین کے بعد اٹلی اور ایران میں یہ انفیکشن سب سے زیادہ پھیلا ہے وہاں لوگ سفر کر کے یہ وائرس مزید پھیلانے کا باعث بن رہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی ادار صحت کے سربراہ ٹیڈروس گیبرییسس نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا فیصلہ کن نقطے پر پہنچ چکی ہے اور عالمی وبا بن سکتی ہے ۔ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک اس وائرس کے پھیلا ئو سے بچنے کی کوشش کر رہے ۔جمعرات کو دوسرے دن ب...

کورونا وائرس عالمی وبا قراردیے جانے کا امکان

کورونا وائرس کے باعث تاجر، مزدور تفتان چھوڑنے لگے ، ماسک بلیک میں فروخت وجود - جمعه 28 فروری 2020

کورونا وائرس کے باعث پاک ایران سرحد پر تجارتی بندش کی وجہ سے تفتان میں کاروباری سرگرمیاں ختم ہو گئیں، جس کے بعد تاجر برادری اور مزدور شہر چھوڑ کر جانے لگے جبکہ کورونا سے بچائوکے لیے ملک بھر میں ماسک مہنگے داموں فروخت ہونے لگے یا مارکیٹ سے غائب ہی ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق ایران میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے تفتان میں اس کے ممکنہ اثرات سے بچنے کے لیے حکام نے بارڈر ٹریڈ بند کر دی جس سے تفتان میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئیں ،کام کی بندش کی وجہ سے مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں اور...

کورونا وائرس کے باعث تاجر، مزدور تفتان چھوڑنے لگے ، ماسک بلیک میں فروخت

کرونا وائرس، روس کا ایرانیوں کے لیے ویزے بند کرنے کا اعلان وجود - جمعرات 27 فروری 2020

روس نے ایران میں مہلک وائرس کرونا پھیلنے کے بعد اس کے شہریوں کو آج(جمعہ 28 فروری) سے ویزے جاری نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق روسی حکام نے اب تک ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ صرف دو مریضوں کی اطلاع دی ہے۔روس نے یکم اپریل تک کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بعض پابندیاں بھی عاید کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یکم مارچ سے روس اور جنوبی کوریا کے درمیان بعض پروازیں معطل کی جارہی ہیں۔واضح رہے کہ چین کے وسطی شہر ووہان میں یہ مہلک وائرس دسمبر کے آخر میں نمودار ہوا...

کرونا وائرس، روس کا ایرانیوں کے لیے ویزے بند کرنے کا اعلان

امریکا کا اپنے شہریوں کو ایران، اٹلی اور منگولیا کا سفر اختیار نہ کرنے کا مشورہ وجود - جمعرات 27 فروری 2020

امریکا نے دنیا کے مختلف ملکوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ایران ، اٹلی اور منگولیا کے لیے سفری انتباہ جاری کیے ہیں اور امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان ممالک کے سفر کے وقت احتیاط کا مظاہرہ کریں۔میڈیارپورٹس کے مطابق محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں امریکی شہریوں پر زوردیا کہ وہ اٹلی کے سفر کے وقت زیادہ محتاط رہیں۔ جو لوگ ایران میں ہیں، انھیں بھی مکمل احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ان دونوں ملکوں میں روزانہ کرونا وائرس کے نئے کیس سامنے آرہے ہیں...

امریکا کا اپنے شہریوں کو ایران، اٹلی اور منگولیا کا سفر اختیار نہ کرنے کا مشورہ

جرمن خاتون چانسلر کا جانشین بننے کے لیے مردوں کا مقابلہ وجود - جمعرات 27 فروری 2020

لاشیٹ، میرس، روئٹگن اب تین امیدوار سی ڈی یو کی صدارتی کرسی کے لیے انتخاب لڑیں گے اور اس طرح چانسلر کے امیدوار کے لیے بھی انہی کے مابین مقابلہ ہو گا۔ امریکا اور برطانیہ کے برعکس جرمنی کی سیاست میں کسی ڈرامائی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔ اس بات کا ثبوت اگلے جرمن چانسلر کے عہدے کے امیدواروں کے ناموں کے اعلان کے بعد ایک بار پھر سامنے آ گیا ۔میڈیارپورٹس کے مطابق برلن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران 54 سالہ نوربرٹ روئٹگن، 59 سالہ آرمین لاشیٹ اور 64 سالہ فریڈرش میرس کے نام...

جرمن خاتون چانسلر کا جانشین بننے کے لیے مردوں کا مقابلہ

کرونا کا خطرہ، سعودی شہریوں کو ترکی کے سفر سے گریز کی ہدایت وجود - جمعرات 27 فروری 2020

ترکی میں سعودی سفارت خانے نے حال ہی میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر سعودی شہریوں کو ترکی کے لیے غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔دوسری طرف ترکی نے کرونا سے متاثرہ ملکوں سے لوگوں کی آمد وفت کے حوالے سے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی میں قائم سعودی سفارت خانے کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ سعودی شہری کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ترکی کے سفر سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ترکی میں موجود سعودی باشندوں ...

کرونا کا خطرہ، سعودی شہریوں کو ترکی کے سفر سے گریز کی ہدایت

سعودی عرب کرونا وائرس سے محفوظ ہے، وزارت صحت وجود - جمعرات 27 فروری 2020

سعودی وزارت صحت کے ترجمان نے مملکت میں کرونا وائرس کے معاملے کی تشخیص کے بارے میں افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت صحت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دمام میں کرونا وائرس کی موجودگی کے بارے میں سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔محکمہ صحت کے ترجمان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ٹویٹر پر کسی بھی کسی قسم کی افواہ سے بچنے کے لیے سرکاری اکائونٹ @SaudiMOH937 کو فالو کریں۔ مملکت میں کرونا کے حوالے سے غیر مصدقہ باتوں اور افواہوں پر کان نہ...

سعودی عرب کرونا وائرس سے محفوظ ہے، وزارت صحت

سعودی عرب نے عارضی طور عمرہ زائرین اور مسجد نبوی کی زیارت روک دی وجود - جمعرات 27 فروری 2020

دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ پھیلنے والے کرونا وائرس(کویڈ-19)کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر سعودی عرب کی حکومت نے کرونا سے متاثرہ ممالک سے عمرہ زائرین کی آمد عارضی طور پر روکنے کے ساتھ مسجد نبوی کی زیارت پر بھی پابندی لگا دی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے کرونا سے متاثرہ ملکوں سے سیاحتی ویزوں پر آنے والے شہریوں کو بھی مملکت میں دخلے سے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیاحتی اور عمرہ ویزے جاری کرنے کا عمل روک دیا ہے۔وزارت خارجہ نے ایک یک بیان ...

سعودی عرب نے عارضی طور عمرہ زائرین اور مسجد نبوی کی زیارت روک دی

کرونا وائرس کے باوجود ایرانی علماء مذہبی اجتماعات پر پابندی کے مخالف وجود - جمعرات 27 فروری 2020

ایران میں تیزی کے ساتھ پھیلنے والے کرونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے باوجود ایران کی مذہبی شخصیات نے ملک میں مذہبی اجتماعات پرپابندی کی مخالفت کر دی ۔عرب ٹی وی کے مطابق ایران میں کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر سوشل میڈیا پر ایک مہم جاری ہے جس میں شہریوں سے کہا گیا کہ وہ وائرس کے خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے مذہبی اجتماعات میں شرکت سے گریز کریں۔ایک طرف سوشل میڈیا پر شہریوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مذہبی اور سیاسی نوعیت کے اجتماعات میں شرکت نہ کریں اور دوسری طرف ملک کی مذہبی شخصیات نے ب...

کرونا وائرس کے باوجود ایرانی علماء مذہبی اجتماعات پر پابندی کے مخالف

سعودی عرب، سیاحت کے شعبے میں 16 لاکھ تک ملازمتیں فراہم کی جائیں گی وجود - جمعرات 27 فروری 2020

سعودی عرب میں سیاحت کے شعبے میں 16 لاکھ تک ملازمتیں فراہم کی جائیں گی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی وزیر سیاحت احمد الخطیب نے ریاض میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزارت سیاحت کے قیام کافرمان جاری کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کی قومی حکمت عملی کا مقصد سیاحوں کو جامع خدمات اور پرکشش سیاحتی پیشکشیں فراہم کرنا ہے ۔ وزارت سیاحت موجودہ اور نئے سرمایہ کاروں کو سیاحتی پروگراموں کے حوالے سے پرکشش ماحول فراہم کرے گی جس کی بد...

سعودی عرب، سیاحت کے شعبے میں 16 لاکھ تک ملازمتیں فراہم کی جائیں گی

بی جے پی غنڈوں کے مسلمانوں پر حملے، 20 افراد جاں بحق ،150 زخمی وجود - بدھ 26 فروری 2020

نئی دہلی میں بھارتی انتہاپسندوں اور مودی سرکار کے گٹھ جوڑ نے مسلمانوں پر قیامت ڈھا دی، بلوائیوں کے حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 20ہو گئی، 150افراد زخمی ہیں،نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ نے فوج طلب کرنے کیلئے وزارت داخلہ کودرخواست کر دی ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نئی دہلی کے مسلمانوں پر قیامت کی گھڑی، بلوائیوں اور سرکاری اہلکاروں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ، مسلمانوں کی املاک کو جلانے اور لوٹنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ، حملوں میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 20جبکہ 150 زخمی ہیں، انتہاپ...

بی جے پی غنڈوں کے مسلمانوں پر حملے، 20 افراد جاں بحق ،150 زخمی