شام میں خون کی ہولی ایک المیہ،عالمی امن کے ٹھیکیدارخاموش

شام میں باغیوں یابشارالاسدکے مخالفین کے زیر تسلط مغربی علاقے غوطہ میں مسلسل فورسز کی فضائی کارروائیاں جاری ہیں جس کے نتیجے میں سینکڑوں شہری جاں بحق اورلاتعدادزخمی ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعدادخواتین اوربچوں کی ہے ۔جن کی تصدیق عالمی میڈیاوخبررساں ادارے کرتھے رہے ہیں ۔یاد رہے کہ مغربی غوطہ کا علاقہ 2012 سے باغیوں کے قبضے میں ہے جو دمشق کے قریب اپوزیشن کا آخری مورچہ ہے جبکہ صدر بشارالاسد اس علاقے کا قبضہ شدید کارروائی کے بعد دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔شام کے لیے اقوام متحدہ کے کوارڈی نیٹر پانوس مومتزیز نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کو اب روک دینا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مغربی غوطہ میں شہریوں کی صورت حال قابو سے باہر ہورہی ہے اس لیے اب اس ناقابل فہم کارروائی کو ختم کردینا ہوگا۔خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پورے شام میں مغربی غوطہ سے لے کر کردوں کے مقبوضہ علاقے عفرین تک ایک ماہ کی جنگ بندی کی اپیل جاتی رہی ہے جہاں ترکی کی جانب سے آنے والے دنوں میں کارروائی کی دھمکی دی جاچکی ہے۔قطع نظراس بات کے کہ غوطہ پرشامی حکومت کے باغی یامخالفین کاقبضہ ہے وہاں اتنی بڑی تعدادمیں بمباری سے خواتین اوربچوں کی ہلاکت انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورز ی ہے ۔اطلاعات کے مطابقشام میں ہزاروں افراد اب تک بے گھر ہوچکے ہیں، سیکڑوں لاپتا ہیں، 500 سے زائد بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ شام کی صورت حال دن بدن بگڑتی جارہی ہے، بشار الاسد اور اتحادی افواج کی بمباری سے اب تک سینکڑوں بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں، جو بچ گئے ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان تمام تر صورت حال سے نہ صرف امت مسلمہ واقف ہے بلکہ پوری دنیا میں اس پر احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ اور او آئی سی اس بربریت پر تاحال ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے میں ناکام رہے ہیں جس سے وہاں کے لوگوں کی داد رسی ہوسکے۔یہ واقعات جس تسلسل سے پیش آرہے ہیں اور جس طرح سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا تک پہنچ رہے ہیں، انہی میں سے ایک واقعہ ایسا بھی نظروں کے سامنے سے گزرا جسے پڑھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا۔ امداد کے بدلے خواتین کی عزتیں تار تار کی جارہی ہیں اور اس میں کوئی اور نہیں بلکہ وہ لوگ ملوث ہیں جنہیں اقوام متحدہ نے ہی تعینات کر رکھا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ اس مسئلے پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے۔اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی افواج پر اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ایسے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں جن سے وہ ہمیشہ سے ہی آنکھیں چراتا رہا ہے۔

سوڈان، نمیبیا، اور افریقی ریاست نائجیریا سمیت دیگر غربت اور جنگ زدہ ممالک میں اقوام متحدہ کی افواج ایسے کاموں میں ملوث پائی گئی ہیں۔ شام میں ان واقعات کا ہونا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں وہ اپنے من پسند مقاصد کے حصول کے لیے ایسے گھناؤنے کام پر پردہ ڈالنے کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہے۔اقوام متحدہ موجودہ دور میں صرف ایک کٹھ پتلی کا کردار ادا کررہا ہے، جب کہ اس کی تمام تر ڈوریں اسرائیل، امریکا اور روس کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کا جیسا دل چاہتا ہے، یہ ویسے ہی اپنے مقاصد کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کرتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال اسرائیل کا بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کا منصوبہ ہے جسے اقوام متحدہ نے بظاہر تو مسترد کردیا لیکن امریکی ایما پر اسے کنٹرول نہ کرسکا۔ اسی طرح کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی افواج کے مظالم بھی اقوام متحدہ کو نظرنہیں آرہے۔ دیکھا جائے تو اقوام متحدہ کی پاور صرف مسلم ممالک کی حد تک رہ گئی ہے جب کہ بھارت بھی امریکا کی گود میں بیٹھ کر اقوام متحدہ کو اب آنکھیں دکھانے لگا ہے۔ایسے میں اقوام متحدہ سے کسی خیر کی توقع کرنا فضول ہی ہے۔دمشق میں جس طرح خواتین کی آبروریزی کی جارہی ہے اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے، کیا ہم اس بات کی توقع کریں کہ وہاں امن ہوجائے گا اور جو لوگ اس ظلم و بربریت کا نشانہ بنے ہیں، اور جو بن رہے ہیں، وہ ان کا بدلہ نہیں لیں گے؟ اگر ایسی کوئی سوچ اقوام متحدہ، او آئی سی یا پھر امریکا و روس نے اپنے دل ودماغ میں بٹھا رکھی ہے تو ان سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں کیونکہ جن گھروں سے جنازے اٹھ رہے ہیں وہ لازمی بات ہے اب ان قوتوں کا ساتھ دیں گے جو اقوام متحدہ، او آئی سی، امریکا اور روس کی دشمن ہیں؛ اور اگر یہ قوتیں آپس میں مل گئیں تو پھر وہاں امن کی مشعل کا جلنا تقریباً ناممکن ہوجائے گا۔

سوشل میڈیا کے ذریعے جو خبریں آرہی ہیں ان کے مطابق ہزاروں افراد اب تک بے گھر ہوچکے ہیں، سینکڑوں لاپتا ہیں، پانچ سو سے زائد بچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ غذائی قلت عروج پر پہنچ چکی ہے جس سے اموات میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ صحت کے مراکز تباہ ہونے سے زخمیوں اور بیماروں کی اموات بھی روزانہ کی بنیاد پر ہورہی ہیں۔ ایسے میں دنیا کو دکھانے کے لیے روزانہ پانچ گھنٹے کی جنگ بندی صرف اور صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ باقی 19 گھنٹوں میں یہ لوگ جدھر چاہیں بمباری کرکے عوام کا قتل عام کرتے رہیں اور انہیں کوئی روکنے والا بھی نہیں۔

اس تمام صورت حال میں صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کو اپنی دکان بند کردینی چاہیے کیونکہ ان کے ہوتے ہوئے معاملات مزید بگاڑ کی طرف ہی جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ سے اب تک فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا تو وہ شام، افغانستان، اور عراق میں کس طرح امن کا خواہش مند ہوسکتا ہے؟ امریکا، اسرائیل اور روس اگر یہ سوچ کر بیٹھے ہیں کہ دنیا میں تباہی و بربادی کرکے وہ اپنے ملکوں میں امن کی صورت حال برقرار رکھے ہوئے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے۔ آج جو آگ ان لوگوں نے دنیا میں لگائی ہے، کل وہ خود بھی اس کی لپیٹ میں ہوں گے۔ صرف انتظار کیجیے کہ آج نہیں تو کل یہ بھی اسی آگ میں جلتے نظرآئیں گے۔پھر اقوام متحدہ اور او آئی سی اپنی آنکھیں کھولیں گے تو وہ کسی کام نہ آئے گی۔

Electrolux