وجود

... loading ...

وجود

گردوں کی بیماریاں

منگل 06 مارچ 2018 گردوں کی بیماریاں

پاکستان سمیت دنیا بھر میں گردوں کا عالمی دن 8 مارچ کو منایا جاتا ہے ۔ اور اس سال گردوں کے عالمی دن کا عنوان ” خواتین میں گردوں کی بیماری ہے ۔ گردوں کے امراض کا عالمی دن منانے کا سبب اس مہلک مرض سے متعلق عوام الناس میں شعور پیدا کرنا ہے تاکہ گردے کے مریضوں کو بر وقت تشخیص اور فوری علاج ممکن کیا جاسکے ۔

پاکستان میں گردوں کی بیماریوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباََ 2 کڑور سے زائد افراد گردوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ہر سال پچاس ہزار افراد گردوں کے فیل ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔

گردے انسانی جسم کا ایک بے حد لازمی جزو ہے جو خون کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ کیمیائی طور پر بھی خون کو متوازن رکھتا ہے ۔ گردے ہر روز تقریباََ انسانی جسم میں 200 ملی لیٹر خون اور 2 ملی لیٹر فاصل اجزاء اور زائد پانی کا اخراج کرتے ہیں ۔ اور اگر گردے یہ اجزاء بروقت اور درست طریقے سے جسم سے خارج نہ کریں تو یہ جسم میںرہ کر جسم کے اندرونی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ اور جسم کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ گردے انسانی جسم میں پانی اور نمکیات کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ جسم میںپوٹاشیم ، فاسفورس، کیلشم اور سوڈیم میں بگاڑپیدا ہوجائے تو انسان کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے ۔ جبکہ جسم سے زیادہ پانی کے اخراج اور پانی کی کمی کی صورت میں پانی کو جسم کے اندر ہی رکھنا گردے کی اہم ذمہ داری ہے ۔کیونکہ اگر گردے پانی کے اس توازن کو برقرار نہ رکھیں اور پانی کی مقدار بڑھنے سے جسم کے مختلف حصوں مثلاََ پھیپھڑوں ، پیروں اور آنکھوں کے گرد اور پھر پورے جسم میں پانی اکھٹا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے منہ اور آنکھوں کے نیچے اور پیروں پر سوجن ہو جاتی ہے ۔

گردوں کے مرض میں مبتلا افراد کے خون سے زہریلے اور فاصل مواد کو خارج کرنے کی صلاحیت بتدریج ختم ہو جاتی ہے ۔ طبی ماہرین کے مطابق اس مرض کی بروقت اور درست تشخیص نہ ہونے کے سبب گردے آہستہ آہستہ ناکارہ ہو جاتے ہیں اور ڈائی لیسسز یا گردوں کی پیوندکاری کی نوبت ہو جاتی ہے ۔

گردوں کی خرابی سے پہلے اس کی کچھ علامات پہلے سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔کمر کے بچھلے حصے میں نچلی جانب درد، گردے کی خرابی میں ظاہر ہونے والی سب سے پہلی علامت ہے اور بعض اوقات یہ صرف خراب گردے کی جانب ظاہر ہوتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق مریض جب اسی کروٹ سوتا ہے جس جانب گردے میں تکلیف ہوتو کچھ عرصے بعد یہ درد دونوں جانب ہونے لگتا ہے ۔ پیشاب کرنے میں تکلیف بھی گردوں کی خرابی کی ایک اہم علامت ہے ۔کیونکہ گردوں کاسب سے بنیادی کام جسم سے پیشاب کے ذریعے فاسد اور زہریلے مادوں کا اخراج ہے ۔لیکن جب یہ گردے ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر پاتے ۔ اس کے علاوہ جسم سے فاسد اور زہریلے مادوں کا مناسب اخراج نہ ہونے کے سبب جلد پر سرخی آجاتی ہے اور ساتھ ساتھ جلد خشک ہو جاتی ہے اور بعض اوقات اس پر خارش بھی شروع ہو جاتی ہے ۔

بعض حالات میں پیشاب سے خون بھی آنے لگتا ہے اور پیشاب میں جھاگ بنتے ہیں اور اکثر اوقات رات میں سوتے ہوئے پیشاب بھی نکل جاتا ہے ۔ اور اس کی رنگت بھی تبدیل ہو جاتی ہے ۔ اگر پیشاب ہلکے رنگ کا نہیں آرہا ہو تو جسم کے اندر فاسد اور زہریلے مادوں کا اخراج نہیں ہو رہا ہوتا ہے ۔ پیشاب بالکل سفید ہونے کا مطلب گردے کی خرابی ہے ۔ جبکہ گاڑھے پیلے رنگ کا پیشاب اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ پانی کم پیا جارہا ہے ۔ جب پیشاب سے زہریلے مادے خارج ہوتے ہیں تو پیشاب کا رنگ تھوڑا پیلا ضرور ہوتا ہے ۔

گردوں کی بیماری کی خاص علامات میں بھوک نہ لگنا یا کم ہو جانا ، کھانے کی خواہش ختم ہو جانا ، یادداشت کی کمزوری ، متلی اور قے کی سی کیفیت ، چڑچڑا پن ، تھکاوٹ اور جسم میں طاقت کا ختم ہو جانا ، جسم میں خون کی مقدار کم ہو جانا ، چہرے پر پیلا ہٹ ، خشک جلد، بے آرا می ، رات کو باربار پیشاب آنا، چہرے پر سوجن اور پیشاب میں شوگر یا پروٹین کا شامل ہو نا بھی شامل ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق گردے ایک ہارمون ایتھرو پائیوٹین (Erythro Poitin) نامی ہارمون پیدا کرتا ہے جس کی مدد سے خون کے سرخ خلیے پیدا ہوتے ہیں اور ہمارا خون آکسیجن جذب کرتا ہے لیکن گردوں میں خرابی کی وجہ سے یہ ہارمون درست طریقے سے پیدا نہیں ہوتا ہے اور جسم خون کی کمی کا شکار ہو نے لگتا ہے اور جسم زیادہ جلدی تھکن اور کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے ۔اس کے علاوہ گردے وٹامن ڈی کی پیدائش میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے بہت اہم ہے جبکہ گردے فیل ہونے کی صورت میں جسم میں کیلشم کی کمی بھی ہو جاتی ہے ۔ گردوں کی خرابی کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں ۔ جن میں بلڈ پریشر ، یورک ایسڈ اور ذیابطیس سب سے زیادہ اہم کر دار ادا کرتے ہیں ۔ کیونکہ ان بیماریوں کی وجہ سے گردوں میں موجود نیفرون متاثر ہو کر ختم ہو جاتے ہیں اور گردے ناکارہ ہو جاتے ہیں ۔

ذیابطیس کے مریض عموماََ دس سال سے بیس سال کی مدت کے بعد گردوں کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔خون میں شوگر کے نامناسب کنٹرول کی وجہ سے خون کی نالیوں میں تنگی آنا شروع ہو جاتی ہے اور آنکھ ، گردہ ، دماغ اور دل وغیرہ پر خون کی مناسب مقدار پہنچ نہیں پاتی ہے جس کی وجہ سے وہ عضو ختم ہو جاتا ہے ۔ عام طور پر آنکھ کی بینائی متاثر ہوتی ہے اس کے بعد گردے بھی اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ لہذا شوگر کے مریضوں کو اپنی ذیابطیس بہت ہی مناسب حد تک کنٹرول میں رکھنی چاہیئے تاکہ جسم کے مختلف حصے اس کی وجہ سے خراب نہ ہو۔جبکہ ہائی بلڈ پریشر کو بھی کنٹرول میں رکھنا بے حد ضروری ہے ۔ کیونکہ گردے فیل ہونے کے ساتھ ساتھ دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے ۔ ہائی بلڈ پریشر کو چونکہ خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے جس کی اہم علامات بظاہر نہیں ہوتی ہیں لہذا ہر فرد کو کم از کم یا دو مہینے میں ایک دفعہ لازمی اپنا بلڈ پریشر چیک کر وانا چاہیئے ۔ گردوں میں خرابی کی ایک وجہ فضائی آلودگی بھی ہے ۔ تحقیق کے مطابق فضاء میں موجود تیل اور گیس کے جلنے سے خطرناک عنصر کیڈیم پیدا ہوتا ہے جو کہ گردوں کو بہت نقصان پہنچاتا ہے اور تمبا کو نوشی کرنے والے افراد کے پھیپھڑوں میں کیڈیم بہت تیزی سے اپنا اثر دکھاتا ہے جس کی وجہ سے ان میں گردوں کو نقصان پہنچنے کا زیادہ اندیشہ ہوتا ہے ۔

اس کے علاوہ گردے کی جھلی کی سوزش ، گردے کی پتھری اور پیشاب کے راستوں کا انفیکشن بھی گردے کی بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں ۔ جبکہ موٹاپے سے متاثرہ افراد میں عام آدمی کی بہ نسبت گردوں کی خرابی کی شرح 83 فیصد ہے ۔ مردوں میں موٹاپے کی وجہ سے گردوں کی خرابی کی شرح 13.8 فیصد جبکہ خواتین میں 24 فیصد ہے ۔کچھ افراد موروثی طور پر موٹے ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر حالات میں اس کا تعلق طرززندگی کے ساتھ ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے رہن سہن میں بھی تبدیلی آگئی ہے ۔ گھر کے کھانوں کی جگہ فاسٹ فوڈ نے لے لی ہے ۔ اور پلے گرائونڈ میںجاکر کھلینے کی جگہ موبائل فون اور کمپیوٹر پر گیمز کھیل رہے ہیں ۔دفاتر میں کام کی زیادتی ، نیند کی کمی ، ذہنی دبائو ، ورزش سے دوری ، فاسٹ فوڈ ، سافٹ ڈرنکس اور میٹھی اشیاء کا زیادہ استعمال انسانی صحت کے دیگر مسائل کے ساتھ موٹاپے میں اضافے کا باعث بھی بنتا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ موروثی وجوہات کی بنیاد پر بھی گردوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ۔ مثلاََ کزن میرج۔ اور بعض خاندانوں میں خاندان در خاندان شادیاں چلنے کے باعث گردوں کی بیماریاں بھی نسل در نسل منتقل ہوتی جاتی ہیں ۔

کچھ دوائیاں جو ہم روز مرہ طور پر درد دور کرنے کے لئے یا مختلف اسباب میںاستعمال کررہے ہوتے ہیں اور تھوڑے سے درد میں بھی ادویات کھانا شروع کر دیتے ہیں ۔ یہ درد کو ختم کرنے والی ادویات گردوں کے لئے زہر قاتل کا کام کرتی ہیں لہذا بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے کوئی بھی دوا استعمال نہیں کرنی چاہیئے ۔

گردے میں مسئلہ پیش آنے کی صورت میںاس کی با آسانی تشخیص کی جا سکتی ہے جس کے لئے پیشاب کا مکمل اور خون ٹیسٹ ہو تا ہے اور اس کے علاوہ الٹراسائونڈ سے گردے کا سائز اور ساخت بھی دیکھی جاتی ہے ۔ ذیابطیس کے مریضوں کو اپنے پیشاب میں micro albumin ، چیک کرواتے رہنا چاہیئے اور ہر صحت مند فرد کو ہر چھ ماہ میں اپنا پیشاب چیک کروانا چاہیئے ۔ اس سے گردوں کی درست صورتحال سامنے آجاتی ہے اس کے علاوہ یورک ایسڈ ، کو لیسٹرول ، شوگر وغیرہ کے ٹیسٹ بھی کروانے چاہیئے۔

گردوں کی بیماری سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لئے اور گردوں کی کارکردگی کو غذا اور بہتر معمولات زندگی اپنا کر بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ تمبا کو نوشی میں کمی انتہائی ضروری ہے اور اسی طرح نمک اور تیز مرچ مصالوں اور تیل کا استعمال کم سے کم کیا جانا چاہیئے ۔ تاکہ بلڈپریشر کنٹرول میں رہے ۔ اس کے علاوہ باقاعدگی سے ورزش اور پانی کا زیادہ استعمال گردوں کی صحت مندی کے لئے اکسیر کا کام کرتا ہے ۔ پانی کے زیادہ استعمال سے فا سد مادے پانی کے ساتھ جسم سے خارج ہو جاتے ہیں ۔ ذیابطیس کے مریض کو خاص طور پر گردے اور مثانے کے انفیکشن کا خیال رکھنا چاہیئے اور پیشاب میں جلن کی صورت میں فوراََ ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیئے ۔


متعلقہ خبریں


بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے وجود - جمعه 17 اپریل 2026

متعدد افراد زخمی،مودی کی پالیسیوں کیخلاف علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں شدید جھڑپیں، بھارتی فورسز کی 2گاڑیوں کو آگ لگادی ، فوجیوں کو یرغمال بنالیا مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کیخلاف عوام میں شدید غم و غصہ،علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں۔ بھارت کے اپنے ...

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی وجود - جمعه 17 اپریل 2026

موٹرسائیکل سوار ملزمان فرار ،واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل آئی جی کا نوٹس، ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی (رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی ف...

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 17 اپریل 2026

عدالت کی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر کارروائی سول جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وا...

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید وجود - جمعه 17 اپریل 2026

امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4طبی ورکرز کو قتل کر دیا بنت جبیل میں حزب اللہ، اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ، میڈیارپورٹ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپ...

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید

مضامین
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں وجود هفته 18 اپریل 2026
معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں

بھارت میں مزدوروں کا احتجاج وجود هفته 18 اپریل 2026
بھارت میں مزدوروں کا احتجاج

پتھرکا انسان وجود هفته 18 اپریل 2026
پتھرکا انسان

ہم صرف مردہ روحیں بن چکے ! وجود جمعه 17 اپریل 2026
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر