وجود

... loading ...

وجود

آشوب چشم

منگل 06 مارچ 2018 آشوب چشم

آشوب چشم باریک جھلی (آنکھ کی جھلی) میں سوزش کا نام ہے جو اآنکھ کے سفید حصے (سفیدہ چشم) کو ڈھانپتی ہے۔ اس جھلی کی سفید رنگت گلابی یا سرخ رنگ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔آشوب چشم زیادہ تر ایک وائرس کے باعث ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا کے کسی انفیکشن یا الرجی کے رد عمل کے باعث بھی ہو سکتی ہے۔ آشوب چشم کو اآنکھ کی جھلی کی سوزش بھی کہتے ہیں۔آشوب چشم کی صورت میں اآپکے بچے میں مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔آنکھ اور اآنکھ کے پپوٹے کے اندرونی جانب سرخی پیوٹوں پر ہلکی سوجن اآنکھوں میں خارش اآنکھ سے صاف یا پیلے سبز مواد کا اخراج وائرس کے باعث ہونے والاآشوب چشم دونوں آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔ جب بچہ نیند سے اٹھتا ہے تو اس کی اآنکھیں چپکی ہوئی ہو سکتی ہیں، اور اآنکھوں سے خارج ہونے والا مواد عام طور پر رنگت میں صاف شفاف ہوتا ہے۔ بیکٹیریا کے باعث ہونے والا اآشوب چشم اکثر پہلے صرف ایک اآنکھ کو متاثر کرتا ہے۔آنکھ عموماً کافی سرخ ہو جاتی ہے اور اس میں زیادہ زرد یا سبز مواد دیکھا جا سکتا ہے، جس سے اکثر آنکھ کے پیوٹوں پر پرت جم جاتی ہے۔الرجی کے باعث ہونے والاآشوب چشم عموماً ماحول میں عام الرجی عناصر کے باعث ہوتا ہے جیسے پودوں کی پولن، گھاس، درختوں کی پولن، یا جانور۔ یہ دونوں آنکھوں کو متاثر کرتا ہے اور اس میں کم یا پھر بالکل ہی کوئی مواد خارج نہیں ہوتا۔ نوعمر بچے جو کانٹیکٹ لینز پہنتے ہیں انہیں یہ لینز اتار دینے چاہئیں اور کسی ڈاکٹر یا آنکھوں کے سپیشلسٹ سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ یہ پتا چلایا جا سکے کہآیا یہ سرخی کانٹیکٹ لینز پہننے کی وجہ سے تو نہیں۔ وائرل آشوب چشم ایک سے دو ہفتے تک رہ سکتا ہے اور اس کے لئے کسی طبی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ خود بخود ہی ختم ہو جاتا ہے۔ بیکٹیریا کے باعث ہونے والیآشوب چشم کوآنکھوں کے لئے جراثیم کش یاآنکھ میں ڈالے جانے والے قطروں یا ا?نکھ میں ڈالنے والی کسی چکنی دوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر جب اس کا علاج شروع ہو جائے تو 24 سے 48 گھنٹوں میں اس کی علامات میں بہتری ا?تی ہے۔ بیکٹیریئل شوب چشم کے علاج کا عرصہ عام طور پر5 سے7 دن ہے۔ الرجک آشوب چشم منہ سے کھائی جانے والی ادویات جیسے اینٹی ہسٹامینز یا آنکھ میں ڈالے جانے والے قطرے جو کہ بالخصوص الرجی کی علامات کے لئے ہوتے ہیں اسی سے کافی بہتر ہو جاتا ہے۔ تاہم اس کے علاج کے حوالے سے پہلے اپنے بچے کے ڈاکٹر سے بات کر لینی چاہیے۔ گھر پر اپنے بچے کی دیکھ بھال کرنے کے لیے اسے آلودگی سے بچائیںآشوب چشم وائرل ہو یا بیکٹیریئل دونوں ہی وبائی ہیں۔ یہ باآسانی مندرجہ ذیل طریقوں سے پھیل سکتے ہیںآنکھ کے ساتھ رابطے کے ذریعے اور پھر اپنی ہی آنکھ کے ساتھ رابطے سے۔ ایسے ہاتھوں کے ذریعے جن سے آ نکھوں کو چھویا گیا ہو تکیے،تولیے، چہرے کے کپڑوں، میک اپ، یا دیگر چہرے کی مصنوعات کو شیئر کرنے کے ذریعے۔ اگر کسی کو وائرل یا بیکٹریئل آشوب چشم ہو، تو اس کی ان چیزوں کو شیئر کرنے سے پرہیز کریں جو چہرے یا آنکھوں کو چھوتی ہیں۔ ہاتھوں کو صابن اور پانی کے ساتھ اچھی طرح دھوئیں اور ا نفیکشن کی منتقلی کو روکنے کے لئے الکوحل کے بنے ہوئے ہاتھ صاف کرنے والے محلول کا استعمال کریں۔ ہاتھ صاف کرنے والے محلول کو آنکھوں میں جانے سے بچائیں، کیونکہ وہ ا?نکھوں میں سوزش کا باعث بنے گا۔ اآنکھوں کو صاف کرنا:کچھ بچے بہتر محسوس کرتے ہیں اگر اآنکھوں کی چپکاہٹ یاآنکھوں سے نکلنے والے مواد کو کسی گرم کپڑے سے صاف کر دیا جائے۔ متاثرہ اآنکھ پر صاف، گرم، گیلا تولیہ یا کوئی چہرہ صاف کرنے والا کپڑا استعمال کریں اور بڑی نرمی سے اآنکھ سے نکلے یا جمے ہوئے کسی بھی مواد کو صاف کریں۔ ہر دفعہ صاف کرنے کے لئے صاف کپڑا استعمال کریں۔ استعمال کے بعد کپڑے کو فوری طور پر پھینک دیں یا لانڈری میں ڈال دیں۔ اس کے بعد اپنے ہاتھوں کو صاف کر لیں۔ سیلین (نمکین پانی) یا کوئی دوسرے سکون پہنچانے والے آنکھ کے قطرے آنکھ کو صاف کرنے اور خارش سے نجات پانے کیلئے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ مشورے کے لئے اپنے فارماسسٹ سے رجوع کریں۔ آشوب چشم آنکھوں کے لئے سوزش کا باعث ہو سکتا ہے، لیکن یہ تکلیف دہ نہیں ہوتا۔ بچوں کو عموماً تکلیف سے نجات پانے والی ادویات کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انفیکشن کے پھیلاو کو کم کریں۔آشوب چشم میں مبتلا بچے اس بیماری کے جراثیم اسی طرح دیگر صحت مند بچوں میں منتقل کر سکتے ہیں جیسے زکام کا شکار بچے کرتے ہیں۔ وائرل اآشوب چشم اگرچہ دو ہفتوں تک رہتا لیکن بچے کو اتنا عرصہ اسکول یا ڈے کیئر جانے سے روکنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بیکٹیریئل آشوب چشم میں مبتلا بچے اآنکھ میں ڈالے والے قطرے یا چکنی دوا کے استعمال کے 24 گھنٹوں کے بعد اسکول جانا شروع کر دیتے ہیں۔ بچے کو دوسروں سے الگ تھلگ رکھنے کے عرصے کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر کا مشورہ ضرور لے لیں اور اوپر دی گئی ہدایات کے مطابق آشوب چشم کے پھیلاو کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کرنے میں صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ الرجک ا?شوب چشم میں مبتلا بچوں کا مرض متعدی نہیں ہوتا۔ اس لئے سکول یا ڈے کیئر جانے میں کوئی حرج نہیں۔


متعلقہ خبریں


ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے وجود - منگل 19 مئی 2026

امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...

ایران پر نئے حملے کی تیاری، امریکی طیارے اسلحہ لے کر اسرائیل پہنچ گئے

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ وجود - منگل 19 مئی 2026

عالمی حالات کو جواز بناکر مہنگائی، عام آدمی 2 وقت کی روٹی سے محروم ہوگیا، سیاستدانوں کی کمپرومائز پالیسیوں نے جمہوریت کو کمزور کیا،22 مئی کو ملکگیرمہنگائی کیخلاف احتجاجی تحریک شروعہوگی حکمران امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں،ملک میں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے،مسلح گروہ فوجی...

مولانا فضل الرحمان کا ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا وجود - منگل 19 مئی 2026

تفتیشی افسر پر تشدد، دھمکیوں اور زبردستی مخصوص افراد کے نام لینے کیلئے دبائو ڈالنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے میڈیا نمائندوں کے کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی ،صحافیوں کو دھکیل کر ملزمہ کے قریب آنے سے روکنے کی کوشش منشیات اور قتل کے مقدمات میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی نے...

انمول پنکی کی جوڈیشل کمپلیکس میں پھر ہنگامہ آرائی وشور شرابا

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار وجود - منگل 19 مئی 2026

فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل، غزہ کو امداد پہنچانے کا ایک پرامن مشن ہے اسرائیلی فورسز نے گرفتارکرلیا،وطن واپس لانا پاکستان کی ذمے داری ہے،سعدایدھی غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی مشن میں شامل پاکستان کے سماجی کارکن سعد ایدھی سمیت متعدد بین الاقوامی کارکنوں کو اسرائ...

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا،100 سے زائد رضاکار گرفتار

صوبائی حقوق کیلئے خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت متحد،وفاق کو سخت پیغام دے دیا وجود - منگل 19 مئی 2026

پنجاب حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ ظلم کر رہی ہے، آئین کے تحت خوراک کی اشیا کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی گیس پیدا کرنیوالا صوبہ خود گیس سے محروم ہے، وزیراعلیٰ برس پڑے،سہیل آفریدی ،فیصل کریم کنڈی کی پریس کانفرنس خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت صوبائی حقوق کے معاملے پ...

صوبائی حقوق کیلئے خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت متحد،وفاق کو سخت پیغام دے دیا

بھارت کی پاکستان کو مٹانے کی دھمکی،بھارتی آرمی چیف کا بیان ذہنی دیوالیہ پن ہے،تباہی دونوں طرف ہوگی، پاک فوج وجود - پیر 18 مئی 2026

معرکہ حق میں ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے،بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا مودی سرکار کے اشتعال انگیز بیانات خطے کو پھر بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں،اگر کسی قسم کی جغرافیائی تباہی کی...

بھارت کی پاکستان کو مٹانے کی دھمکی،بھارتی آرمی چیف کا بیان ذہنی دیوالیہ پن ہے،تباہی دونوں طرف ہوگی، پاک فوج

پیٹرول پر 5 روپے کی تاریخی کمی پر دل کر رہا ہے کہ خوشی سے ناچیں،کراچی کے عوام غصے میں وجود - پیر 18 مئی 2026

آج کل 5 روپے میں آتا کیا ہے؟ اتنے پیسے تو گھر کے چھوٹے بچے بھی پکڑنے سے انکار کر دیتے ہیں،شہری کی دہائی حکومت نے عوام پر اتنا بڑا احسان کیا ہے جیسے ساری نیکیاں ایک ساتھ ہی سمیٹ لی ہوں،شہریوں کی میڈیا سے گفتگو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی پر عوام نے حکومت پر طنز ک...

پیٹرول پر 5 روپے کی تاریخی کمی پر دل کر رہا ہے کہ خوشی سے ناچیں،کراچی کے عوام غصے میں

انمول پنکی کو بچانے کیلئے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک وجود - پیر 18 مئی 2026

منشیات فروش خاتون کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا گارڈن تھانے کی فوٹیج غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس پرسوالات کھڑے کر دیے،ذرائع مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع ...

انمول پنکی کو بچانے کیلئے بعض بااثر اور نامعلوم قوتیں متحرک

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر وجود - اتوار 17 مئی 2026

حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...

پاکستان کی پراپرٹی مارکیٹ آئی ایم ایف کے نشانے پر

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم وجود - اتوار 17 مئی 2026

اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...

ملک میں گولی گالی کی سیاست ،کرپشن اقربا پروری کا راج ،حافظ نعیم

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف وجود - اتوار 17 مئی 2026

عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...

قائداعظم کے اصول آج بھی ملکی پالیسی کی بنیاد ہیں،شہباز شریف

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم وجود - اتوار 17 مئی 2026

نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...

، برکس اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم

مضامین
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے! وجود منگل 19 مئی 2026
آبنائے ہرمزایران کی ریڈ لائن ہے!

منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل وجود منگل 19 مئی 2026
منی پور میں چار عیسائی رہنما قتل

80سال پہلے ۔۔۔۔ وجود منگل 19 مئی 2026
80سال پہلے ۔۔۔۔

شہید گنج سے کمال مولا، بھوج شالہ تک۔ایک میں قانون دوسرے میں عقیدہ غالب وجود منگل 19 مئی 2026
شہید گنج سے کمال مولا، بھوج شالہ تک۔ایک میں قانون دوسرے میں عقیدہ غالب

مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !! وجود پیر 18 مئی 2026
مشورہ نہیں۔۔۔۔ مدد !!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر