وجود

... loading ...

وجود

ایبٹ آباد دنیا کے حسین ترین مناظرسے دل موہ لینے والا شہر

اتوار 04 مارچ 2018 ایبٹ آباد دنیا کے حسین ترین مناظرسے دل موہ لینے والا شہر

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی سرزمین دنیا کے حسین ترین مناظرسے بھری پڑی ہے ،اور حکومت کی جانب سے ان علاقوں پر مناسب توجہ نہ دئے جانے کے باوجود ان علاقوں کودنیا کے حسین ترین مناظرکاحامل مقام قراردیا جاسکتا ہے ، ایبٹ آباد کا شمار بھی ایسے ہی علاقوں میں ہوتا ہے ،ایبٹ آباد کاشمار پاکستان کے حسین ترین شہروں میں ہوتا ہے اور یہ غالباً پاکستان کے ان چند شہروں میں سے ایک ہے جو اب بھی قدیم روایات اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیںیہاں قدیم روایات سے میری مراد قبائلی یا تہذیبی روایات سے نہیں ہے کیونکہ تہذیبی روایات اور قبائلی طور طریقے تو پاکستان کے چپے چپے پر موجود ہیں اور صدیوں سے ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ، یہاں قدیم روایات سے میری مراد نظم و ضبط سے متعلق روایات سے ہے ۔

ایبٹ آباد ہمارے ملک کاایک ایسا شہر ہے ، جہاں زندگی میں نظم وضبط موجود ہے ، گزشتہ سال موسم گرما کے دوران مجھے تین مرتبہ ایبٹ آباد جانے کا اتفاق ہوا،ایبٹ آباد کی پہلی ہی سیر کے دوران ہی لوگ اس شہر کے حسن کے اسیر ہوجاتے ہیں، بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ یہ شہر برطانوی فوج کے میجر جیمز ایبٹ نے 1853 میں آباد کیا تھا ، اور ان ہی کے نام پر اس کا نام ایبٹ آباد رکھا گیا ۔

آج اس شہر کا شمار ملک کے جدید ترین شہروں میںہوتا ہے ،قیام پاکستان سے قبل چند ہزار نفوس پر مشتمل اس شہر کی آبادی اب 10لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور اس شہر میں تمام بڑے ہوٹل اور فوڈ پوائنٹس موجود ہیں ، جن میں مکڈونلڈ ، کے ایف سی، بیسٹ ویسٹرن اور پرل کانٹی نینٹل شامل ہیں ، اس کے علاوہ دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بھی یہاں دفاتر موجود ہیں ،اس شہر کی خوبی یہ ہے کہ اس شہر میں آج بھی برطانوی دور کی اچھی روایات پر عمل کیا جاتا ہے اور یہاں صرف برطانوی دور میں تعمیر کی گئی عمارتیں ہی نہیں ہیں بلکہ تعلیمی اعتبار سے بھی اس شہر کے تعلیمی اداروں کا معیار ملک کے دوسرے بہت سے شہروں سے بہتر ہی نہیں بلکہ اعلیٰ ہے ۔

ایبٹ آباد میں چھائونی کا علاقہ اب بھی میجر ایبٹ کے دور کی تعمیر کردہ عمارتوں پر ہی مشتمل نظر آتا ہے وہی بڑے بڑے بنگلے ، یورپی طرز کی اونچی عمارتیں ، برٹش کلب ، چرچ اور برطانوی دور کا قبرستان سب کچھ ویسا ہی ہے ۔

ایبٹ آباد کو شمالی علاقوںمیں داخل ہونے کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے ، اسلام آ باد سے شمال کی جانب کم وبیش دو گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع اس شہر کے چاروں طرف خوبصورت اور سرسبز پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آتی ہیں،یہاں جنگلات سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں سے آنے والی ہوا میں بھی ایک خاص قسم کی خوشبو ہوتی ہے ۔

ایبٹ آباد صوبہ سرحد کا موسم گرما کا دارالحکومت ہے موسم گرما میں صوبائی حکومت کے تمام کام اسی شہر سے ہوتے ہیں،اس شہر کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ جہاں موسم سرما میں ملک کے دوسرے پہاڑی شہر سخت سردی کی وجہ سے ویران ہوجاتے ہیں وہیں اس شہر کی رونق میں کوئی کمی نہیں آتی کیونکہ اس شہر کا موسم نسبتاً معتدل ہوتا ہے ۔اس شہر میں خوبصورت باغیچے اور پارک ہیں اور سڑک کے دونوں جانب اونچے اونچے درختوں کی قطار نظر آتی ہے ،یہاں بڑے بڑے سرسبز میدان ہیں جہاں گولف ، پولو ، ہاکی اور فٹبال کھیلا جاتا ہے ۔

ایبٹ آباد کا شہر سطح سمندر سے کم وبیش 4300 فٹ کی بلندی پر واقع ہے تاہم یہ شہر مری کی پہاڑیوں سے نیچے ہے ، لیکن اس کے باوجود اس شہر میں گلگت کے پہاڑی علاقے کی تمام خوبیاں موجود ہیں ،اور شاہراہ قراقرم کی تعمیر کے باوجود ایبٹ آباد اب بھی شمالی علاقوں کو جانے کے لیے راہداری کی حیثیت رکھتا ہے ۔اس شہر سے کوئی بھی ہنزہ ، گلگت، اسکردواور قراقرم کے سلسلے میں کوہستان تک جاسکتا ہے ۔یہاں سے سوات ، دیر ، چترال اور کوہ ہندو کش کے سلسلے تک بھی جایا جاسکتا ہے اور ناران، جھیل سیف الملوک ، شوگران، کوہ ہمالیہ کے بابو سر پاس بھی جایا جاسکتا ہے ۔وادی نیلم ، لیپا اور وادی جہلم بھی ایبٹ آباد سے منسلک ہیں ۔

ہزارہ کے علاقے سے برآمد ہونے والے سکوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ پہلی صدی قبل مسیح سے آباد چلا آرہا ہے لیکن ایبٹ آباد کا شہر میجر جیمز ایبٹ نے 1853 میں آباد کیا۔میجر جیمز ایبٹ کو 1853 میں اس علاقے کا ڈپٹی کمشنر بنا کر بھیجا گیا تھا اور ان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اس خوبصورت لیکن دشوار گزار علاقے پر برطانیا کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے انتظامی بنیاد رکھیں۔اس مقصد کے لیے میجر جیمز نے اس پورے علاقے کا پیدل دورہ کیا اور مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا بالآ خر اس نے ایک جگہ جو کہ سطح سمندر سے کم وبیش 4120 فٹ بلندی پر واقع تھی اور چاروں طرف سے برف پوش پہاڑوں سے گھری ہوئی تھی اپنے خیمے گاڑنے کی ہدایت کی۔یہ ایسی جگہ تھی جہاں پورے سال قیام ممکن تھا اور شمالی علاقوں سے اس کا فاصلہ دنوں کا نہیں بلکہ گھنٹوں کا تھا۔

میجر جیمز برطانوی فوج کے ان اعلیٰ افسران میں شامل تھا جس نے اس خطے پر برطانوی حکومت کو مضبوط ومستحکم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔اس نے مقامی حالات ، روایات ، تاریخ مقامی لوگوں کی عادات و اطوار کا اچھی طرح مشاہدہ کیا وہ اس پورے ضلع کے لوگوں کی عادات اور پسند و ناپسند سے اچھی طرح واقف تھا۔ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر ہونے کے ساتھ ہی وہ ایک اچھا محقق، زبان دان ، مورخ اور ماہر ارضیات بھی تھا ۔یہی وجہ ہے کہ میجر ایبٹ کے دورے کی رپورٹیں جنھیں اس کے سفر نامے بھی کہہ سکتے ہیں آج بھی انڈیا آفس لائبریری میں محفوظ ہیں ۔میجر ایبٹ کم وبیش 8 سال تک اس علا قے میں رہا جس کے بعد اس کے تبادلے کے احکامات آگئے اپنے تبادلے کے احکام پر وہ بہت رنجیدہ ہوا اور اس نے ایک نظم کہی جو آج بھی ایبٹ آباد کے کئی تاریخی مقامات پر اس کے اردو ترجمے کے ساتھ آویزاں نظر آتی ہے ۔اس نے اس نظم میں بڑے حسرت بھر ے لہجے میں لکھا ہے کہ مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے جب میں یہاں آیا تھا اور میری ناک میں اس خطے کی خوشبو دار ہوا گئی تھی جس نے میرا تن من معطر کردیا تھا۔میرے لیے یہ جگہ خوابوں کی سرزمین ہے ،پہلی ہی نظر میں میں اس جگہ کے حسن کا اسیر ہوگیا تھا،میں اس بات پر بہت خوش تھا کہ مجھے یہاں بھیجا گیا ، 8سال دیکھتے ہی دیکھتے گزر گئے اس تیزی سے گزرے کہ پتہ ہی نہیں چلا ۔آہ ایبٹ آباد میں آج تجھے چھوڑ کر جارہا ہوں اور اب شاید تیری ہوائوں کی سنسناہٹ کبھی میرے کانوں سے نہیں ٹکرائے گی ،میرے آنسو تیرے لیے تحفے کے طور پر پیش ہیں۔میں تجھے بڑے بوجھل دل کے ساتھ الوداع کہتا ہوں،میرے ذہن سے تیری یادیں کبھی محو نہیں ہوں گی ۔

اس شہر میں جگہ جگہ میجر ایبٹ کے دور کی یادگاریں ملتی ہیں،یہاں اس دور کے تیار کردہ سرسبز گہوارے ہیں ، ہرے بھرے راستے اور پگڈنڈیاں ہیں جو پہاڑوں پر جانے کے لیے بنائے گئے تھے اور اب تک موجود ہیں ۔اس سے مزید شمال کی طرف سفر کرتے ہوئے آپ اوگی کے قریب سیاہ پہاڑوں کی جانب جاسکتے ہیں اور مانسہرہ کے قریب بریری کے پہاڑیوں کی چٹانوں پر اشوک کے زمانے کی تحریر دیکھ سکتے ہیں ۔یا پھر کسی اونچی پہاڑی پر بیٹھ کر الیاسی مسجد کا نظارہ بھی کرسکتے ہیں۔یہاں سیاحوں کی دلچسپی کی سب سے زیادہ مشہور جگہ ٹھنڈیانی ہے جسے مقامی زبان میں ٹھنڈی جگہ کہتے ہیں ۔

ایبٹ آباد میں ملک کے کئی معروف تعلیمی ادارے موجود ہیں جس کی وجہ سے ایبٹ آباد کو سیکھنے کا شہر اور شہر علم بھی کہا جاتا ہے اس کے علاوہ یہ شہر آبادگاروں کا شہر بھی کہلاتا ہے کیونکہ یہ وہ شہر ہے جہاں مقامی آبادی کے علاوہ افغان ، کشمیری ، اور ملک کے دیگر علاقوں کے لوگوں کے علاوہ بڑی تعداد میں دہلی کی برادری کے لوگ بھی آباد ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو 1857 کی جنگ آزادی کے دوران دہلی چھوڑ کر اس شہر میں آئے اور پھر یہیں کے ہورہے ، اس کے علاوہ یہاں بوہری برادری کے لوگ بھی موجود ہیں ، یہاں مسیحی برادری کے لوگ بھی خاصی تعداد میں رہتے ہیں ۔شہر میں ہر مذہب کے عبادت خانے ہیں جن میں بہائی مذہب کا ایک بہائی ہوم بھی موجود ہے ، اس شہر میں تمام مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ مل جل کر بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں ۔یہاں کے لوگوں میں صبر وتحمل بہت زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں تمام مذاہب اور مسالک کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں ۔ملک کی بہت سی معروف شخصیات کا تعلق اسی شہر سے رہا ہے جن میں ایوب خاں ، یحیٰ خاں ، اور ایئر مارشل اصغر خاں شامل ہیں ۔

اگرچہ بہت سے اہم اور بااثر لوگ اب بھی اس شہر میں رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس شہر کے چاروں طرف موجود پہاڑیوں پر سے درختوں کی بے تحاشہ کٹائی کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے اس شہر کے موسم پر کافی منفی اثرات پڑے ہیں اور اب یہ شہر پہلے کے مقابلے میں زیادہ گرم ہوگیا ہے اور اس کی مخصوص ہوا سے وہ خوشبو غائب ہوتی جارہی ہے جو اس شہر کی پہچان تھی جس کی وجہ سے ایک دفعہ اس شہر میں آنے والا شخص کبھی اس کو بھلا نہیں پاتا تھا۔اس صورت حال کی وجہ سے اب اس شہر میں جہاں لوگ پنکھے بھی گھروں میں نہیں لگواتے تھے اب ایئر کنڈیشنر اس شہر کی بھی ضرورت بن گئے ہیں ۔کاش جنگلات کی اس چوری کو روکنے کا کوئی موثر انتظام کیا جاسکتا ۔


متعلقہ خبریں


آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا وجود - منگل 10 مارچ 2026

100انڈیکس میں 11015 پوائنٹس کی کمی سے 146480 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا خطے کی کشیدہ صورتحال پر انویسٹرز سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں،ماہرین کی گفتگو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 14804...

اسٹاک ایکسچینج بدترین مندی کے بعد کریش، کاروبار معطل، سرمایہ کاروں کا انخلا

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

اپنی سرزمین، شہریوں، قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر ضروری قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں خطے میں امن اور استحکام کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کریں گے،وزارت خارجہ سعودی عرب نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید ب...

خلیجی ممالک پر حملے ، ایران کاسب سے زیادہ نقصان ہوگا،سعودیہ

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ وجود - پیر 09 مارچ 2026

جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ وجود - پیر 09 مارچ 2026

795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ

مضامین
منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ وجود بدھ 11 مارچ 2026
بھارتی کال سنٹرز سے سائبر فراڈ

ایران پر حملے وجود بدھ 11 مارچ 2026
ایران پر حملے

امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ وجود منگل 10 مارچ 2026
امریکی چوکیداربھارت کا بھیانک چہرہ

آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت وجود منگل 10 مارچ 2026
آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی تیل بحران اور پاکستان کی معاشی حقیقت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر