وجود

... loading ...

وجود

جیکب زوما سے نواز شریف تک

هفته 03 مارچ 2018 جیکب زوما سے نواز شریف تک

جنوبی افریقہ کے غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا سیاہ فام جیکب زوما جس نے 17سال کی عمر میں سیاست میں قدم رکھا اور افریکن نیشنل کانگریس میں شامل ہوگیا۔ سیاست میں آیا تو پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ اس پْرخار سفر میں اسے کئی بار جیل بھی جانا پڑا، جلا وطنی کے طور پر ملک سے باہر رہا۔ سیاست اور جیل کی آنکھ مچولی کھیلتے کھیلتے یہ 2007 میں اپنی جماعت کا صدر بن گیا، پارٹی صدر بنتے ہی یہ متنازعہ سیاستدان بن کر سامنے آیا۔ اس پر نسلی فسادات کے الزامات لگے لیکن یہ الزامات کی صفوں کو چیرتے ہوئے 2009 میں ملک کا سربراہ بن گیا۔صدارت کا عہدہ بھی کوئی حسین لمحات لیے استقبال کو نہیں آیا بلکہ اس دور میں بدعنوانی کے الزامات نے گھیرلیا۔ کرپشن کے ساتھ ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات لگے، اپوزیشن نے انہیں پورے دور حکومت میں سکھ کا سانس نہیں لینے دیا۔ ملک میں چلنے والی زبردست تحریک کے نتیجے میں انہوں نے چند روز قبل اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بطور سیاستدان اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کوئی پیار سے عہدہ نہیں چھوڑا بلکہ عوامی دباؤ کے نتیجے میں زبردستی لیا گیا ہے۔ ان کی جگہ نئے صدر نے ملک کا اقتدار سنبھال لیا ہے۔

پاکستان میں بھی آج کل صورتحال کچھ ایسی ہی ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف جنہیں حال ہی میں ایک بار پھر نااہل قرار دیتے ہوئے پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا ہے، جنرل ضیاء الحق شہید کے دور میں سیاست سے روشناس ہوئے، انہی کے زیر سایہ تربیت ہوئی۔ اس دور میں لمبے عرصے تک پنجاب حکومت میں شامل رہے۔ کچھ عرصہ پنجاب کی صوبائی کونسل کا حصہ رہنے کے بعد 1981 میں وزیر خزانہ پنجاب بن گئے۔ آمریت کے زیرِ سایہ 1985 میں ہونے والے غیرجماعتی انتخابات میں قومی اور صوبائی نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔

9 اپریل 1985 کو وزیراعلیٰ پنجاب بنے، 31 مئی 1988ء کو جنرل ضیاء نے جونیجو حکومت کو برطرف کردیا تاہم میاں صاحب کو بطور نگران وزیراعلیٰ برقرار رکھا۔ جنرل ضیاء نے ایک بار نواز شریف کو اپنی عمر لگ جانے کی بھی دعا دی۔1988 میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے آئی جے آئی بنی۔ پیپلز پارٹی تو نہ ہاری لیکن پنجاب کی وزارت اعلیٰ ایک بار پھر میاں صاحب کے حصے میں آگئی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو 1990 میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں پہلی بار میاں صاحب وزیراعظم بن گئے۔ تاہم اپنی پانچ سال کی مدت پوری نہ کرسکے اور انہیں اس وقت کے صدر نے ان کے عہدے سے فارغ کردیا۔ اگرچہ ملک کی عدالتِ عظمیٰ نے آئینی مقدمے کے بعد عہدے پر بحال کردیا لیکن جولائی 1993 میں انہیں صدر کے ساتھ اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔1997 میں ایک بار پھر الیکشن میں کامیاب ہوکر مسند اقتدار پر براجمان ہوئے لیکن یہ بہت عارضی ثابت ہوا اور دو سال بعد ہی فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے طیارہ سازش کیس کا بہانہ بنا کر چلتا کیا۔ اس بار نواز شریف کی بڑی غلطی فوج سے پنگا تھا۔ اکتوبر 1999 میں نواز شریف نے اس وقت کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف کو ہٹا کر نئے فوجی سربراہ کو تعینات کرنے کی کوشش کی۔کچھ عرصہ جیل میں رکھا گیا، مقدمات چلے اور فوج کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔

2006 میں میثاق جمہوریت پر بے نظیر بھٹو سے مل کر دستخط کیے اور فوجی حکومت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 23 اگست 2007 کو عدالت عظمٰی نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد نواز شریف اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب کے پرویز مشرف پر دباؤ کے نتیجے میں 25 نومبر 2007 کو لاہور پہنچ گئے۔2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس بناء پر وہ تیسری بار وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔نواز شریف تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے لیے متنازعہ بن گئے۔ عمران خان نے تین سال تک دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹا اور چین نہیں لینے دیا۔ نواز شریف حکومت کی بدقسمتی تھی کہ اسی دورانیے میں سانحہ ماڈل ٹاؤن پیش آگیا جس میں 14 افراد قتل اور 90 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ یہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے کارکن تھے۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو انصاف دلانے کے لیے انقلاب مارچ کیا اور عمران خان نے دھاندلی کے خلاف لانگ مارچ کیا۔ شہر اقتدار میں دھرنا ہوا، آرمی چیف کی مداخلت پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سمیت 9 افراد کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی۔یہ معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ پاناما لیکس کے ذریعے شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کا پول کھل گیا۔ اپوزیشن نے خوب واویلا کیا، وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں معاملہ حل کرنے کا اعلان کیا لیکن حکومتی سرد مہری سے ٹی او آرز پر اتفاق نہ ہوسکا اور معاملہ عدالت تک جاپہنچا۔

نوازشریف کو پاناما کیس میں پہلے صرف 2 ججوں نے نااہل قرار دیا اور انہیں موقع دیا کہ وہ اپنے جرائم مان لیں، لیکن نوازشریف نے جے آئی ٹی میں جانے کو ترجیح دی۔وہاں سے ان کی کرپشن کی ہوشربا داستان سامنے آگئی۔ پھر انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جہاں سے وہ جمعہ کے مبارک دن پانچ صفر سے نااہل قرار پائے۔ پھر وہ اپیل میں گئے اور ایک اور جمعہ کے مبارک دن اپیل میں بھی نااہل قرار دیئے گئے۔ پھر انہوں نے پارلیمنٹ سے ترمیم منظور کروا کر پارٹی صدارت اپنے پاس رکھنے کی کوشش کی اور سپریم کورٹ نے انہیں پارٹی صدارت سے بھی نااہل قرار دے ڈالا۔جیکب زوما کو اسکارپین (جنوبی افریقہ میں انسدادِ بدعنوانی پر کام کرنے والے ادارے) نے سکون سے نہیں رہنے دیا تو نوازشریف کو نیب اور عدالتوں میں اپوزیشن کے مقدمات چین نہیں لینے دے رہے۔ جنوبی افریقہ کے سابق صدر نے تو ہار مان کراستعفیٰ دے دیا لیکن یہاں کے سابق وزیراعظم ’’میں نہ مانوں‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر خوب بے عزت ہورہے ہیں۔ انہیں بھی اب ضد چھوڑ دینی چاہیے، انہیں بھی اب مان لینا چاہیے کہ میں ناقابل قبول ہوں، پارٹی قیادت کسی کو بھی دے دیں تو وہ قابل قبول بن جائے گا۔ ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ وفاق میں بھی اقتدار مل سکتا ہے۔ اگر یہی روش جاری رہی تو پھر صرف ایک مسلم لیگ نہیں بلکہ اردو کے تمام حروفِ تہجی جتنی مسلم لیگیں بن سکتی ہیں۔


متعلقہ خبریں


ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

مضامین
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے! وجود منگل 24 مارچ 2026
زوال پزیری۔۔۔ جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے!

لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر