... loading ...
اسلام دین فطرت بھی ہے اور دین ِ سہولت بھی،اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جوبھی حکم اپنے محبوبﷺ کے توسط سے دیا ہے،اس میں اپنے بندوں کی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھا ہے۔اللہ کے حبیب ﷺ کواپنی امت کی مشقت کا کس قدر احساس تھا،اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ ﷺ نے تراویح کی نماز جماعت سے چند دن پڑھاکراس لیے ترک کردی کہ کہیں میری امت پر فرض نہ ہوجائے،اسی طرح مسواک کے بارے میں فرمایا کہ اگر مجھے میری امت کی مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انھیں ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم دیتا۔اپنے حوالے سے تونوافل تک کی قضا کاالتزام فرمایا،لیکن امت کو صرف فرائض اور وترکی قضا کا پابند بنایا۔غرض اللہ ،رسول ﷺ نے ہر حکم میں ہماری آسانی وسہولت کو ملحوظ خاطر رکھا ہے،تیمم بھی انھی احکام میں سے ہے ،جن میں ہماری سہولت وآسانی ہے۔
تیمم کے حکم کانازل ہونا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی وجہ سے اس امت پر کی جانے والی اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور احسانات میں سے ایک برکت اوراحسان ہے۔ اس واقعہ کو خود انھوں نے بیان فرمایا ہے۔چناں چہ حضرت امام بخاری ؒ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ایک سفرکے موقع پرمیں نبی کریم ﷺکے ساتھ تھی۔اس سفر میں بہت سارے مسلمان بھی ہمارے ہمرا ہ تھے۔ میں نے ایک ہار پہن رکھا تھا ۔ جب ہمارا قافلہ ذات الجیش کے مقام پر پہنچا تو وہاں یہ ہار ٹوٹ کر گم ہوگیا۔لہٰذا اس ہار کو ڈھونڈنے کے لیے نبی کریمﷺنے وہاں مزید قیام فرمایا، اور آپ کے ساتھ آپ کے ہمراہی بھی وہیں ٹھہرے رہے۔ اتفاق سے قافلے نے جہاں پڑاؤ ڈالاتھا، وہاں دور دور تک پانی کانام و نشان نہ تھا، صبح قریب تھی ،اورلوگوں کو فجر کی نماز پڑھنے کی فکر تھی ۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ گھبرائے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے اور انھیں اپنی صورت حال بتائی (کہ نماز کا وقت ہوچکا ہے، اور وضو کے لیے دور دور تک پانی نہیں ہے،اب کیاکیا جائے؟عائشہؓنے کیا کردیا )حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ : لوگوں کی یہ باتیں سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ میرے پاس آئے اور(والد ہونے کی حیثیت سے) مجھے سرزنش کرنا شروع کردی۔ اس وقت کریم ﷺ میرے زانو پر اپنا سرِ مبارک رکھے ہوئے آرام فرما تھے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے میرے پہلو میں کچو کے لگائے ۔ لیکن میں نے نبی کریمﷺ کے آرام میں خلل نہ آئے، اس خیال سے ذرا بھی حرکت نہ کی ۔یہاں تک کہ صبح کے وقت جب نبی کریم ﷺبیدار ہوئے تو دیکھا پانی موجود نہیں ہے۔ اسی دوران وحی کے آثار نمایاں ہوئے اور حکم نازل ہوا :
ترجمہ : اور اگر تم بیمارہو یا سفر میںہو، یا تم میں کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں کو چھواہو(یعنی تم پر غسل فرض ہوگیاہو)، اور پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرلو۔(سورۃ النساء)
یہ حکم نازل ہوگیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دل وفورِ مسرت سے جھوم جھوم اٹھے۔ اور وہ اپنی مقدس ماں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دعائیں دینے لگے۔حضرت ابن شہاب زہری ؒ فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق ؓجو کہ چند لمحے پہلے اپنی بیٹی کو سرزنش کررہے تھے، تیمم کا حکم نازل ہوجانے پر انھوں نے فرمایا : اللہ کی قسم! مجھے تو علم نہ تھا کہ تم اتنی بابرکت ہو۔یہ ماجرا دیکھ کر صحابیِٔ رسول حضر ت اسید بن حضیرؓ ،جو ہار کی تلاش کے لیے بھیجے جانے والوں میں سے تھے،کہنے لگے : اے ابوبکرؓ کے گھر والو! تم ہمیشہ سے برکت والے ہو ۔ یہ تمہاری پہلی برکت ہی نہیں ہے ۔یہ تو تھا اس سہولت کا پس منظر ، آئیے ! اس شرعی حکم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تیمم کے لفظی معنی قصد اور ارادہ کے ہیں ،جب کہ اصطلاح شریعت میں پاک مٹی سے مخصوص طریقے سے نیت و ارادے کے ساتھ طہارت اور پاکی حاصل کرنے کو تیمم کہتے ہیں۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کن کن صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے؟تو یہ بات سمجھ لیجیے!کہ ایک میل تک پانی نہ ملنے کی صورت میں یا پانی کے استعمال کے نقصان دہ ہونے کی صورت میں شریعت نے وضو اور غسل کا نعم البدل تیمم کو بتلایا ہے ،جن جن صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے،وہ درج ذیل ہیں:
ایسابیمار ،جس کے لیے پانی کا استعمال مضرہو اور اس کے مرض میں اضافے کا سبب بنے، یا دیر سے صحت یاب ہونے کا اندیشہ ہو۔اسی طرح وہ شخص مریض تو نہ ہو،لیکن ایسی شدیدسردی ہو، جس میں پانی استعمال کرنے سے جان یا کسی عضو کے تلف ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے۔اسی طرح پانی ایک میل شرعی (1.8 کلومیٹر) کی مسافت سے دور ہو ، پانی پ اس قدردور تو نہ ہو،لیکن پانی والی ج گہ یا راستے میں کوئی درندہ یا دشمن بیٹھا ہو ،جس کے خوف سے پانی تک پہنچنا ممکن نہ ہو۔اسی طرح ایسا شخص،جو معذور ہونے کی وجہ سے خود وضو نہ کرسکے اور کوئی دوسرا شخص وضو کرانے والا موجود نہ ہو۔ان سب کے لیے جائز ہے کہ وہ وضو اور غسل کی ضرورت پیش آنے پر تیمم کرلیں۔
اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ کن کن چیزوں پر تیمم کرنا درست ہے،تو اس کے لیے فقہائے کرام یہ قاعدہ بتاتے ہیں کہ ہر وہ چیزچیز،جو نہ آگ میں جلانے سے جلے،اور نہ گلانے سے گلے،اگر وہ چیز پاک ہوتواس سے تیمم جائز ہے ،اور یہ وہ چیزیں ہیں ،جومٹی کی جنس سے شمار ہوتی ہیں۔گویا کہ مٹی،پتھر،اینٹ پر یا جو چیز مٹی کی قسم کی ہو، تیمم اس پر ہوتا ہے۔ البتہ اس کے علاوہ ہر اس چیز پر جس پر اس قدر دھول مٹی چڑھی ہو ،کہ ہاتھ مارنے سے خوب اُڑتی ہو اور ہاتھوں پر اچھی طرح لگ جاتی ہو ،اس پر بھی تیمم کرنا صحیح ہے۔(حاشیۃ الطحاوی ،کتاب الطہارۃ)ہاں!البتہ کسی ایسی زمین پر تیمم نہیںکیا جاسکتا ہے جس کے متعلق معلوم ہو ،کہ اس پر گندگی تھی جو سوکھ گئی ہے اور بدبو بھی ختم ہوگئی ہے،کیوں کہ یہ جگہ پاک نہیںہے۔
اب یہ بات صاف ہوگئی کہ جو چیز زمین کی جنس نہ ہو،اس سے تیمم نہیں کیا جاسکتا،جیسے سونا ، چاندی ،گیہوں ،لکڑی ،اناج،کپڑا وغیرہ ،البتہ اگر ان چیزوں پر اتنا غبار ہوکہ ہاتھ مارنے سے اڑے اور ہتھیلیوں پر لگ جائے تو تیمم درست ہے۔خلاصہ یہ کہ جو بھی چیز ایسی ہو،جو جلانے سے جل کر راکھ ہوجائے اس پرتیمم کرنا درست نہیں۔(فتاویٰ عالمگیری)
تیمم چاہے وضو کے لیے ہو،یا غسل کے لیے ،یا دونوں کے لیے ،اس کا طریقہ بڑا سہل اور آسان ہے ،تیمم کے لیے دل میں تیمم کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔یعنی تیمم کرتے وقت دل میں یہ کہنا ضروری ہے کہ میں پاک ہونے کے لیے تیمم کررہا ہوں۔نیت کرنے کے بعدپاک مٹی یا جو چیز مٹی کی جنس سے ہو ،اس پر دونوں ہاتھ مارکر ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے صرف ایک مرتبہ چہرے پر مَل لیں، پھر دوبارہ مٹی پر ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت مل لیں۔ نیز ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان بھی انگلیاں پھیر لیں،یعنی انگلیوں کا خِلال کرلیں۔ ملنے میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ بال برابر جگہ بھی چہرے اور ہاتھوں میں ایسی باقی نہ رہے جس پر ہاتھ نہ پھیرا گیا ہو۔ اس طرح کرنے سے آپ کا تیمم مکمل ہوگیا،اب اس تیمم سے آپ وہ ساری عبادتیں ادا کر سکتے ہیں جنھیں وضو اور غسل کے بعد ادا کیا جاتا ہے۔تیمم میں نیت،ترتیب اور چہرے اور اورکہنیوں کا مسح لازمی ہیں،اس میں کسی قسم کی کوتاہی تیمم کو ناقص وبے ثمر بناسکتی ہے۔جب تک کہ آپ کا تیمم برقرار ہے۔واضح رہے کہ تیمم ان تمام چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے جن سے وضو ٹوٹتا ہے، اسی طرح پانی ملنے اور اس کے استعمال پر قادر ہوجانے سے بھی تیمم ٹوٹ جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس سہولت کو اس کی حدود وقیود میں رہتے ہوئے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...
سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...
فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...
کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...