وجود

... loading ...

وجود

تیمم ۔وضواور غسل کا نعم البدل

جمعه 02 مارچ 2018 تیمم ۔وضواور غسل کا نعم البدل

اسلام دین فطرت بھی ہے اور دین ِ سہولت بھی،اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو جوبھی حکم اپنے محبوبﷺ کے توسط سے دیا ہے،اس میں اپنے بندوں کی آسانی وسہولت کو مدنظر رکھا ہے۔اللہ کے حبیب ﷺ کواپنی امت کی مشقت کا کس قدر احساس تھا،اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ ﷺ نے تراویح کی نماز جماعت سے چند دن پڑھاکراس لیے ترک کردی کہ کہیں میری امت پر فرض نہ ہوجائے،اسی طرح مسواک کے بارے میں فرمایا کہ اگر مجھے میری امت کی مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انھیں ہر نماز کے لیے مسواک کرنے کا حکم دیتا۔اپنے حوالے سے تونوافل تک کی قضا کاالتزام فرمایا،لیکن امت کو صرف فرائض اور وترکی قضا کا پابند بنایا۔غرض اللہ ،رسول ﷺ نے ہر حکم میں ہماری آسانی وسہولت کو ملحوظ خاطر رکھا ہے،تیمم بھی انھی احکام میں سے ہے ،جن میں ہماری سہولت وآسانی ہے۔

تیمم کے حکم کانازل ہونا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی وجہ سے اس امت پر کی جانے والی اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور احسانات میں سے ایک برکت اوراحسان ہے۔ اس واقعہ کو خود انھوں نے بیان فرمایا ہے۔چناں چہ حضرت امام بخاری ؒ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ایک سفرکے موقع پرمیں نبی کریم ﷺکے ساتھ تھی۔اس سفر میں بہت سارے مسلمان بھی ہمارے ہمرا ہ تھے۔ میں نے ایک ہار پہن رکھا تھا ۔ جب ہمارا قافلہ ذات الجیش کے مقام پر پہنچا تو وہاں یہ ہار ٹوٹ کر گم ہوگیا۔لہٰذا اس ہار کو ڈھونڈنے کے لیے نبی کریمﷺنے وہاں مزید قیام فرمایا، اور آپ کے ساتھ آپ کے ہمراہی بھی وہیں ٹھہرے رہے۔ اتفاق سے قافلے نے جہاں پڑاؤ ڈالاتھا، وہاں دور دور تک پانی کانام و نشان نہ تھا، صبح قریب تھی ،اورلوگوں کو فجر کی نماز پڑھنے کی فکر تھی ۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ گھبرائے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچے اور انھیں اپنی صورت حال بتائی (کہ نماز کا وقت ہوچکا ہے، اور وضو کے لیے دور دور تک پانی نہیں ہے،اب کیاکیا جائے؟عائشہؓنے کیا کردیا )حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ : لوگوں کی یہ باتیں سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ میرے پاس آئے اور(والد ہونے کی حیثیت سے) مجھے سرزنش کرنا شروع کردی۔ اس وقت کریم ﷺ میرے زانو پر اپنا سرِ مبارک رکھے ہوئے آرام فرما تھے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے میرے پہلو میں کچو کے لگائے ۔ لیکن میں نے نبی کریمﷺ کے آرام میں خلل نہ آئے، اس خیال سے ذرا بھی حرکت نہ کی ۔یہاں تک کہ صبح کے وقت جب نبی کریم ﷺبیدار ہوئے تو دیکھا پانی موجود نہیں ہے۔ اسی دوران وحی کے آثار نمایاں ہوئے اور حکم نازل ہوا :

ترجمہ : اور اگر تم بیمارہو یا سفر میںہو، یا تم میں کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں کو چھواہو(یعنی تم پر غسل فرض ہوگیاہو)، اور پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرلو۔(سورۃ النساء)

یہ حکم نازل ہوگیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دل وفورِ مسرت سے جھوم جھوم اٹھے۔ اور وہ اپنی مقدس ماں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو دعائیں دینے لگے۔حضرت ابن شہاب زہری ؒ فرماتے ہیں: حضرت ابوبکر صدیق ؓجو کہ چند لمحے پہلے اپنی بیٹی کو سرزنش کررہے تھے، تیمم کا حکم نازل ہوجانے پر انھوں نے فرمایا : اللہ کی قسم! مجھے تو علم نہ تھا کہ تم اتنی بابرکت ہو۔یہ ماجرا دیکھ کر صحابیِٔ رسول حضر ت اسید بن حضیرؓ ،جو ہار کی تلاش کے لیے بھیجے جانے والوں میں سے تھے،کہنے لگے : اے ابوبکرؓ کے گھر والو! تم ہمیشہ سے برکت والے ہو ۔ یہ تمہاری پہلی برکت ہی نہیں ہے ۔یہ تو تھا اس سہولت کا پس منظر ، آئیے ! اس شرعی حکم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تیمم کے لفظی معنی قصد اور ارادہ کے ہیں ،جب کہ اصطلاح شریعت میں پاک مٹی سے مخصوص طریقے سے نیت و ارادے کے ساتھ طہارت اور پاکی حاصل کرنے کو تیمم کہتے ہیں۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کن کن صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے؟تو یہ بات سمجھ لیجیے!کہ ایک میل تک پانی نہ ملنے کی صورت میں یا پانی کے استعمال کے نقصان دہ ہونے کی صورت میں شریعت نے وضو اور غسل کا نعم البدل تیمم کو بتلایا ہے ،جن جن صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے،وہ درج ذیل ہیں:

ایسابیمار ،جس کے لیے پانی کا استعمال مضرہو اور اس کے مرض میں اضافے کا سبب بنے، یا دیر سے صحت یاب ہونے کا اندیشہ ہو۔اسی طرح وہ شخص مریض تو نہ ہو،لیکن ایسی شدیدسردی ہو، جس میں پانی استعمال کرنے سے جان یا کسی عضو کے تلف ہونے کا خطرہ پیدا ہوجائے۔اسی طرح پانی ایک میل شرعی (1.8 کلومیٹر) کی مسافت سے دور ہو ، پانی پ اس قدردور تو نہ ہو،لیکن پانی والی ج گہ یا راستے میں کوئی درندہ یا دشمن بیٹھا ہو ،جس کے خوف سے پانی تک پہنچنا ممکن نہ ہو۔اسی طرح ایسا شخص،جو معذور ہونے کی وجہ سے خود وضو نہ کرسکے اور کوئی دوسرا شخص وضو کرانے والا موجود نہ ہو۔ان سب کے لیے جائز ہے کہ وہ وضو اور غسل کی ضرورت پیش آنے پر تیمم کرلیں۔

اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ کن کن چیزوں پر تیمم کرنا درست ہے،تو اس کے لیے فقہائے کرام یہ قاعدہ بتاتے ہیں کہ ہر وہ چیزچیز،جو نہ آگ میں جلانے سے جلے،اور نہ گلانے سے گلے،اگر وہ چیز پاک ہوتواس سے تیمم جائز ہے ،اور یہ وہ چیزیں ہیں ،جومٹی کی جنس سے شمار ہوتی ہیں۔گویا کہ مٹی،پتھر،اینٹ پر یا جو چیز مٹی کی قسم کی ہو، تیمم اس پر ہوتا ہے۔ البتہ اس کے علاوہ ہر اس چیز پر جس پر اس قدر دھول مٹی چڑھی ہو ،کہ ہاتھ مارنے سے خوب اُڑتی ہو اور ہاتھوں پر اچھی طرح لگ جاتی ہو ،اس پر بھی تیمم کرنا صحیح ہے۔(حاشیۃ الطحاوی ،کتاب الطہارۃ)ہاں!البتہ کسی ایسی زمین پر تیمم نہیںکیا جاسکتا ہے جس کے متعلق معلوم ہو ،کہ اس پر گندگی تھی جو سوکھ گئی ہے اور بدبو بھی ختم ہوگئی ہے،کیوں کہ یہ جگہ پاک نہیںہے۔

اب یہ بات صاف ہوگئی کہ جو چیز زمین کی جنس نہ ہو،اس سے تیمم نہیں کیا جاسکتا،جیسے سونا ، چاندی ،گیہوں ،لکڑی ،اناج،کپڑا وغیرہ ،البتہ اگر ان چیزوں پر اتنا غبار ہوکہ ہاتھ مارنے سے اڑے اور ہتھیلیوں پر لگ جائے تو تیمم درست ہے۔خلاصہ یہ کہ جو بھی چیز ایسی ہو،جو جلانے سے جل کر راکھ ہوجائے اس پرتیمم کرنا درست نہیں۔(فتاویٰ عالمگیری)
تیمم چاہے وضو کے لیے ہو،یا غسل کے لیے ،یا دونوں کے لیے ،اس کا طریقہ بڑا سہل اور آسان ہے ،تیمم کے لیے دل میں تیمم کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔یعنی تیمم کرتے وقت دل میں یہ کہنا ضروری ہے کہ میں پاک ہونے کے لیے تیمم کررہا ہوں۔نیت کرنے کے بعدپاک مٹی یا جو چیز مٹی کی جنس سے ہو ،اس پر دونوں ہاتھ مارکر ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے صرف ایک مرتبہ چہرے پر مَل لیں، پھر دوبارہ مٹی پر ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت مل لیں۔ نیز ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان بھی انگلیاں پھیر لیں،یعنی انگلیوں کا خِلال کرلیں۔ ملنے میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ بال برابر جگہ بھی چہرے اور ہاتھوں میں ایسی باقی نہ رہے جس پر ہاتھ نہ پھیرا گیا ہو۔ اس طرح کرنے سے آپ کا تیمم مکمل ہوگیا،اب اس تیمم سے آپ وہ ساری عبادتیں ادا کر سکتے ہیں جنھیں وضو اور غسل کے بعد ادا کیا جاتا ہے۔تیمم میں نیت،ترتیب اور چہرے اور اورکہنیوں کا مسح لازمی ہیں،اس میں کسی قسم کی کوتاہی تیمم کو ناقص وبے ثمر بناسکتی ہے۔جب تک کہ آپ کا تیمم برقرار ہے۔واضح رہے کہ تیمم ان تمام چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے جن سے وضو ٹوٹتا ہے، اسی طرح پانی ملنے اور اس کے استعمال پر قادر ہوجانے سے بھی تیمم ٹوٹ جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس سہولت کو اس کی حدود وقیود میں رہتے ہوئے استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!


متعلقہ خبریں


مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

مضامین
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر