وجود

... loading ...

وجود

کیا چکن صحت کے لیے فائدہ مند ہے؟

جمعرات 01 مارچ 2018 کیا چکن صحت کے لیے فائدہ مند ہے؟

آپ کسی بھی دعوت میں چلے جائیں چاہے وہ دعوت گھریلوتقریب ہویا شادی بیاہ یادیگررسومات کی آپ چکن سے تیارشدہ کم ازکم ایک ڈش ضرورنظرآئے گی اوراکثرتقریبا ت میں توتمام کی تمام ڈشیں چکن سے تیارکی ہوئی نظرآتی ہیں ۔دلچسپ بات یہ کہ لوگوں کی اکثریت کودیگرمزیدارکھانے چھوڑکران چکن سے تیارکی گئی ڈشزپرٹوٹتے بھی دیکھاجاتاہے ۔اس کے علاوہ ہمارے گھرو ںمیں بھی گائے اوربکرے کے گوشت کی جگہ اب مرغی کے گوشت سنبھالتاجارہاہے اس کی ایک سادہ سی وجہ اس کاسستا ہونا اور جلد گل جانات بھی ۔لیکن اکثرلوگ اس بات پر بھی فکرمندنظرآتے ہیں کہ آیاچکن کھانا صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو متعدد افراد کے ذہن میں آتا ہے کیونکہ اس سفید گوشت کا استعمال سب سے زیادہ ہونے لگا ہے۔تو یہاں طبی ماہرین کی رائے جانیں جن کے بقول چکن پروٹین، صحت مند چربی، وٹامنز اور منرلز سے بھرپور گوشت ہے، جس کے فوائد درج ذیل ہیں۔
پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ
پروٹین امینو ایسڈ سے بننے والا جز ہے جو کہ مسلز بنانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ چکن پروٹین کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے جو کہ مسلز بنانے کے ساتھ ساتھ جسم کے دیگر حصوں جیسے خلیات اور ہڈیوں کی ساخت اور مرمت کے لیے مدد دیتا ہے جبکہ زہریلے مواد کے اخراج کو یقینی بناتا ہے۔
مزاج پر خوشگوار اثرات
چکن میں ایک امینو ایسڈ ٹرائیپتھون پایا جاتا ہے جو کہ ریلیف اور سکون کا احساس پیدا کرتا ہے۔ چکن کو کھانے سے دماغ میں سیروٹونین نامی کیمیکل کی مقدار بڑھنے کا بھی امکان ہوتا ہے جو کہ مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔
امراض کے خلاف مزاحمت
چکن سیلینیم کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہے، یہ ایسا اینٹی آکسائیڈنٹ ہے جو کہ عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے امراض بشمول جسمانی ورم، خون کی شریانوں اور دماغی مسائل وغیرہ کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح یہ جز خلیات کو نقصان پہنچانے والے فری ریڈیکلز کے خلاف بھی مزاحمت کرتا ہے۔
کولیسٹرول کو مستحکم رکھنے میں مددگار
چکن میں وٹامن بی تھری پایا جاتا ہے جو کہ جسم میں کاربوہائیڈریٹ کو توانائی میں بدل کر صحت مند جسمانی خلیات کو مستحکم رکھتا ہے۔ اسی طرح صحت کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاکر امراض قلب کا خطرہ بھی کم کرتا ہے۔
میٹابولزم کو بہتر کرے
چکن میں موجود وٹامن بی سکس یا پیرا ڈائی آکسین میٹابولک پراسیس کو مدد دیتا ہے، اس وٹامن کے بغیر اعصابی نظام، میٹابولزم اور جسمانی دفاعی نظام مناسب طریقے سے کام نہیں کرپاتے۔
ضروری انتباہ
چکن صحت بخش ضرور ہوسکتا ہے مگر احتیاط کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور درست جگہ سے لینا ضروری ہے کیونکہ اس میں موجود مختلف بیکٹریا فوڈ پوائزننگ کا باعث بن سکتے ہیں۔ چکن کو پکانے کے لیے ہمیشہ زیادہ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے، اگر وہ تھوڑا سا بھی کچا رہ جائے تو فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اسی طرح کچے چکن کو دیگر غذائوں سے الگ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ نقصان سے بچا جاسکے۔ چکن کو ہاتھ لگانے پر ہاتھوں کو لازمی دھونا چاہئے۔
چکن کے خراب گوشت کو
پہچاننے میں مددگار علامات
اگر یہ کہا جائے کہ چکن پاکستان تو کیا دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا گوشت ہے تو غلط نہیں ہو گا ۔ پاکستان میں ہر جگہ اس کا گوشت آسانی سے دستیاب ہے مگر کیا وہ ٹھیک ہوتا ہے ؟آسان الفاظ میں کہیں آپ چکن کا خراب گوشت تو نہیں خرید رہے جو نہ صرف پیسوں کا ضیاع کا باعث بنتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔تاہم آپ آسانی سے خراب چکن کی شناخت کرسکتے ہیں اور خریدنے سے پہلے یہ چیز آپ کو دیگر نقصانات سے بھی بچا سکتی ہے۔درج ذیل علامات کو جانیں جس سے معلوم ہوگا کہ کچا چکن خراب ہے یا نہیں۔
اس کی رنگت بدلی ہوئی ہوگی
اگر چکن کا گوشت گلابی کی بجائے گرے ہوجائے یا اس کے چربی والوں حصوں پر پیلا رنگ نمایاں ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ گوشت کھانے کے قابل نہیں اور اسے نہ لینا ہی بہتر ہوگا۔ خام چکن ہلکے گلابی رنگ کا ہو تو بہترین ہوتا ہے جبکہ چربی سفید رنگ کی ہونی چاہئے۔
بو ہوسکتی ہے
خراب چکن کی ایک نشانی اس میں پیدا ہوجانے والی بو ہے، اگر وہ عام چکن سے ہٹ کر کچھ میٹھی یا گندے انڈوں جیسی ہو تو اسے لینے کا فیصلہ ترک کردیں۔
گوشت لجلجا ہونا
عام طور پر کچا چکن نم تو ہوتا ہے مگر لجلجا نہیں، اگر آپ کو گوشت لجلجا لگے اور دھونے کے بعد بھی لیس دار یا چپچپا رہے تو یہ گوشت خراب ہونے کی نشانی ہے۔
بہت زیادہ وقت سے رکھا ہوا ہو
اس کا تعلق خریداری سے نہیں بلکہ اگر یہ آپ کے فریج میں ایک سے چار ماہ سے منجمد حالت میں رکھا ہے تو زیادہ امکان یہ ہے کہ اس کا معیار خراب ہوچکا ہے، اگر آپ کو اس کے خراب ہونے کا ذرا سا بھی اندیشہ ہے تو اسے استعمال نہ کریں کیونکہ وہ فوڈ پوائزننگ یا معدے کے دیگر امراض کا باعث بن سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

مضامین
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر