وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں برگد کا سب سے بڑا اور قدیم ترین درخت

بدھ 28 فروری 2018 پاکستان میں برگد کا سب سے بڑا اور قدیم ترین درخت

برگد کے درخت صدیوں پرانی تاریخ کے امین ہیں۔ بہت سے قصے کہانیوں اور علاقائی ثقافت سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ کہیں اسے بوڑھ پکارا جاتا ہے تو کوئی بوہڑ کے نام سے اس کی شناخت کرتا ہے۔ اسے انگریزی زبان میں بینین (Banyan) کہا جاتا ہے جو گجراتی لفظ ’’بنیا‘‘ سے ماخوذ ہے۔ بنیا کا لفظ ہندو تاجروں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ بنیا کہلانے والے ہندو تاجر اپنا سامان فروخت کرنے کے لیے دور دراز علاقوں میں جایا کرتے تھے۔ گرمی سے بچنے اور تھکاوٹ اتارنے کے لیے برگد کے درختوں کے نیچے لیٹ جایا کرتے تھے۔ یہ بھی روایت میں ہے کہ ہندو بنیے، برگد کے درخت کے نیچے اپنی دکانیں سجایا کرتے تھے۔

انسان کی اس دنیا میں آمد کے بعد ماں کے علاوہ ممتا کی ٹھنڈی چھاؤں نصیب ہوئی تو انہی جیسے درختوں سے نصیب ہوئی۔ دیہی پس منظر میں ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرنے میں سب سے نمایاں برگد کے درخت ہوتے ہیں۔ برگد کے یہ درخت ناموافق حالات میں بھی اپنا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ یہ بقاء￿ کی جنگ لڑتے ہیں اور جیت جاتے ہیں۔

بہت سے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ چٹیل دیواروں سے بھی ان کے تنے نکل ا?تے ہیں۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ہی برگد کے درخت سے ریشوں جیسی لمبی شاخیں پھوٹتی ہیں اور جھالر کی مانند درخت کے چاروں طرف پھیل جاتی ہیں جس سے برگد کی سحر ناکی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ شاخیں تناور ہوکر زمین میں مل جاتی ہیں اور یوں ایک نیا بوہڑ کا درخت وجود میں ا?جاتا ہے۔ یہ جڑیں نئے درخت پیدا کرنے کے علاوہ اسے سہارا دینے میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ برگد سے پھوٹتی ان جڑوں کو بچے ’’برگد کی داڑھی‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

ہندو مت اور بدھ مذہب کے پیروکار برگد کو مقدس سمجھتے ہیں۔ تاریخی حوالوں سے یہ ثابت ہے کہ بعض ہندو طبقات قدیم برگد کے درختوں کی پوجا کرتے ہیں، دودھ سمیت دیگر اشیاء کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ گوتم بدھ مسلسل 6 سال سے برگد کے درخت کے نیچے ہی بیٹھے تھے جبکہ انہیں نروان ملا اسی لیے اسے بدھ کا درخت بھی کہا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ سکندراعظم جب دنیا کو فتح کرنے کا عزم لے کر نکلا تو اس نے7 ہزار فوجیوں کے ساتھ برگد کے درخت کے نیچے کئی دن تک پڑاؤ جاری رکھا۔

یہ چند سال قبل کی ہی تو بات ہے کہ پاکستان بھر کے دیہاتوں میں بوہڑ کے درختوں کے نیچے چوپالیں لگا کرتی تھیں جہاں لوگ دن بھر کے کام کاج کے بعد فراغت کا وقت گزارتے۔ یہ ایسی محفلیں ہوتیں کہ جن میں رنگوں و امنگوں،خوشیوں و قہقہوں کا امتزاج ہوتا۔ لوگ اپنے مسائل سمیت حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے، بوڑھے اور ضعیف افراد حقہ گڑگڑاتے اور بچوں کو قصے کہانیاں سناتے، داستان گوئی کو بام عروج انہی چوپالوں کے ذریعے ملا تھا۔ برگد کی چھاؤں میں لگی چوپالوں کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے قابض برطانوی حکمرانوں کی جانب سے قانونی کاروائیوں کے لیے کچہریاں بھی برگد کے نیچے ہی لگائی جاتیں۔ اب بھی برصغیر پاک و ہند کی عدالتوں کا جائزہ لیا جائے تو وہاں برگد کا درخت لازمی طور پر دکھائی دے گا جبکہ پرانے تھانوں، اسپتالوں اور سرکاری عمارتوں کی حدود میں بھی برگد کا درخت لازمی ملے گا۔

پورے برصغیر میں برگد کے درختوں کی بہتات ہے۔ اسکول ہوں یا سرکاری عمارات، تجارتی مراکز ہوں یا سڑک کنارے بنے ہوٹل و چائے خانے یا پھر صوفیائے کرام کے مزارات، یہ سب ّآپ کو برگد کے قدآدم اور وسیع درختوں سے ڈھکے نظرآئیں گے۔ خاص طور پر سڑکوں کے آس پاس یہ بہتات سے پائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے تاریخ کے اوراق کھنگالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شیر شاہ سوری نے اپنے دور اقتدار میں پشاور سے کلکتہ تک مشہور شاہراہ بنوائی تو اس نے مسافروں کی سہولت اورآرام کی خاطر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر برگد کے درخت لگوائے اور ساتھ پانی کے تالاب بنوائے۔

چند سال قبل تک برگد کے یہ درخت ہر گاؤں کی پہچان ہوتے تھے۔ دورجدید کا اے سی بھی وہ سکون کہاں فراہم کرسکتا ہے جو برگد کی چھاؤں کے نیچے بچھی چٹائی و چارپائی پر بیٹھ کر میسر ہوتا تھا۔ کھیلنے کے لیے بچوں کی پسندیدہ جگہ وہ ہوتی جہاں برگد کا درخت ہوتا۔ برگد کے درخت پر چڑھ کر اچھل کود اور پنچھیوں کو پکڑنے کی ناکام سی کوشش، برگد کی چھاؤں میں بیٹھ کر مٹی کے گھروندے اور کھلونے بنانا، گلی ڈنڈا اور بنٹے کھیلنا، بچیاں شٹاپو کھیلتیں، مائیں بچوں کو گود میں بٹھا کر ان کے سر میں تیل ڈال کر مالش کرتیں، پینگیں جھولنا، الغرض برگد کے درخت سے اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ جن کا شمار ہی ممکن نہیں۔

برگد کے ان درختوں پرپرندوں کے گھونسلے ہوتے ہیں اور صبح و شام کے وقت یہ پنچھی اپنے سریلے گیتوں سے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ چڑیاں، طوطے، بلبل، لالیوں اور کوئل سمیت درجنوں قسم کے پرندے برگد کا سرخی مائل پھل کھاتے ہیں۔ انہی پرندوں کے ذریعے برگد کا بیج ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے اور یوں مختلف علاقوں میں بوہڑ کے نئے درخت اْگ جاتے ہیں۔

بوہڑ کے نرم پتوں کو توڑا جائے یا پھر اس کی جلد کو ادھیڑا جائے تو اس سے سفید رنگ کا مائع خارج ہونا شروع ہوتا ہے جسے شِیرِ برگد کہتے ہیں۔ بچپن میں شرارتی بچوں کا محبوب ترین مشغلہ یہی ہوتا تھا کہ وہ برگد کے پتے توڑ کر اور اس کی جلد کو ادھیڑتے اور دودھیا مادے کو ایک دوسرے پر پھینکنے کی کوشش کرتے کیونکہ شیر برگد کسی انسان کی جلد پر گر جاتا تو اس جگہ سیاہ نشان پڑجاتا۔

برگد پر سرخی مائل پھل بھی لگتا ہے جو پک جائے تو میٹھا ہوتا ہے۔ دیہاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ اسے کھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کیونکہ اس پھل کو باعث صحت سمجھا جاتا ہے جبکہ طبی ماہرین اس پھل کو مضر صحت سمجھتے ہیں۔ برگد کے درخت کی چھال، اس سے خارج ہونے والے دودھیا مادّے، شاخوں اور ریشوں کو زمانہ قدیم سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور جدید طب کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بعض مخصوص امراض کا علاج اس کے ذریعے ممکن ہے۔ برگد کے درخت سے حاصل ہونے والے طبی فوائد پر ایک مفصل کتاب لکھی جاسکتی ہے۔

جن دوستوں کا بچپن دیہاتوں میں گزرا ہے، ان کی حسین یادیں لازماً برگد کے درخت سے جڑی ہوں گی۔ میرے ذہن کے نہاں خانے میں بھی کچھ ایسی ہی دھندلی یادیں ہیں۔ گاؤں کی ایک بڑھیا تھی جو برگد کی چھاؤں میں بیٹھی حقہ پیا کرتی تھی، سب سے پیار کرتی، محبتیں رونقیں اسی سے تھیں۔ گاؤں کی رنگینیوں میں سب سے نرالا رنگ اس کی باتوں میں تھا۔ ہم شرارتیں کرتے اور وہ ہمیں ڈانٹا کرتی۔ اس کی ڈانٹ ہمارے لیے ماں کی لوری جیسی تھی۔ پھر یوں ہوا… کہ وہ بڑھیا نہ رہی، برگد کی چھاؤں نہ رہی، حقے کی گڑگڑاہٹ کہیں کھوگئی۔ اس بڑھیا کے جانے سے گاؤں کی رنگینیاں بھی رخصت ہو گئیں، مادہ پرستی کا ایسا دورشروع ہوا کہ معمولی سے فوائد کے لیے انسان نے اپنا ابدی سکون غارت کرنا شروع کردیا، صدیوں پرانے برگد کٹنے شروع ہوگئے۔

یہ سلسلہ گاؤں تک محدود نہیں رہا۔ قیمتی اثاثوں کی حیثیت رکھنے والے برگد کے درختوں کو بے دردی سے کاٹا جارہا ہے۔ ان میں سے بہت سے برگد قدیم قومی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم حکمرانوں اورعوام کی بے حسی سے یہ قدیم درخت ختم ہورہے ہیں۔ پہلے یہ درخت بکثرت پائے جاتے تھے لیکن اب ان کی تعداد بتدریج کم ہورہی ہے لیکن اب بھی بہت سے ایسے برگد کے درخت پاکستان میں موجود ہیں جنہیں تباہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

ایسا ہی ایک تاریخی و ثقافتی اہمیت کا حامل برگد کا درخت سرگودھا کے علاقے مڈھ رانجھا میں واقع ہے جو حکومتی عدم دلچسپی اور عوام کی بے حسی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر ہے۔ مڈھ رانجھا میں ابل اور موری وال گاؤں کے قریب اور رانجھے کے شہر تخت ہزارہ کے نواح میں واقع قدرت کا انمول ترین اور عظیم الشان برگد کا درخت اپنی مسحور کْن خوبصورتی کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے اور لوگوں کو دور سے ہی اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔

محبت کی سرزمین تخت ہزارہ اور مڈھ رانجھا کے قریب موجود، یہ برگد پاکستان کا سب سے بڑا، لمبا اور قدیم درخت ہے کہ جس کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہ برگد 4 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا تھا جو حالات اور انسانوں کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے 3 ایکڑ سے بھی کم رقبے تک محدود رہ گیا ہے۔ اس برگد کو ایشیاء کا سب سے بڑا برگد کا درخت بھی سمجھا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے ابہام موجود ہے۔

دنیا میں سب سے بڑا برگد کا درخت سری لنکا میں ہے جس کے 350 بڑے اور 3000 چھوٹے تنے ہیں۔ تاہم مڈھ رانجھا اور سری لنکا میں پائے جانے والے برگد کی ایک بات مشترک ہے کہ دونوں کے اصل تنے کی شناخت ممکن نہیں۔یہ درخت کب وجود میں آیا؟ اس بارے میں کوئی واضح تاریخی حوالہ موجود نہیں۔ مختلف روایات کے مطابق کئی صدیوں قبل گجرات کے شاہ ولی دولہ کے حکم پر ان کے مرید بابا روڈے شاہ نے یہ درخت لگایا تھا۔ ان بزرگ نے پودے سمیت خود کو دریائے چناب کے حوالے کردیا اور مڈھ رانجھا کے قریب دریائی لہروں نے انہیں کنارے تک پہنچادیا۔ یوں یہ پودا اپنی منزل مقصود تک پہنچا۔ بابا روڈے شاہ نے پھر یہیں ڈیرہ لگالیا۔ مقامی لوگ ان کے لیے دودھ لاتے جس میں سے کچھ دودھ پینے کے بعد باقی اس برگد کی جڑوں میں ڈال دیتے۔ بابا روڈے شاہ سے منسوب قبر ابھی تک برگد کے نیچے موجود ہے اور علاقہ مکین اب بھی ان بزرگ سے عقیدت رکھتے ہیں۔

اس درخت کی شاخوں کا جال بنا ہوا ہے۔ پہلی نظر میں تو یہی لگتا ہے کہ برگد کے بہت سارے درخت ہیں لیکن ایسا نہیں۔ صدیوں پرانے برگد کی شاخیں اتنی زیادہ پھیلیں کہ ایک جنگل سا وجود میں آ گیا۔ اس برگد کے درخت کی مرکزی شاخ کو شناخت نہیں کیا جاسکتا تاہم مقامی لوگ اس حوالے سے قیاس آرائیاں ضرور کرتے رہتے ہیں۔ اس درخت کی حقیقی عمر کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ گاؤں کے بزرگوں سے جب اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا خاندان کئی نسلوں سے یہاں آباد ہے اور ہم نے اس بوہڑ کو اسی حالت میں دیکھا ہے۔ ہم سے صدیوں قبل ہمارے آبا و اجداد نے بھی اس درخت کو اسی حالت میں دیکھا۔ اسے بہت بار کاٹا گیا لیکن یہ پھر سے پھلنا پھولنا شروع کردیتا ہے۔ البتہ بعض مقامی افراد نے قیاس آرائی کی کہ یہ برگد ایک ہزار سال پرانا ہے۔

دریائے چناب کے کنارے واقع اس کرشماتی درخت کے اوپر اور نیچے ایک الگ ہی دنیا آباد ہے۔ انواع و اقسام کے پرندوں نے گھونسلے بنارکھے ہیں۔ ان کی نت نئی بولیاں کانوں میں رس گھولتی رہتی ہیں۔ امید نو سے بھری صبح، سایہ دار ٹھنڈی دوپہر میں بہت ہی نرالا پن ہے جبکہ اسرار بھری شام کی تو بات ہی الگ ہے؛ اور رات کو تو بس اس درخت پر الوؤں کی راجدھانی ہوتی ہے کیونکہ توہم پرستی، خوف اور ہیبت کی وجہ سے لوگ رات کو اس کے قریب جانے سے کتراتے ہیں۔اس درخت کی سحری انگیزی کا اندازہ وہی لگاسکتے ہیں جو یہاں وقت گزارتے ہیں۔پاکستان میں پایا جانے والا یہ سب سے بڑا برگد دن بھر چہل پہل اور رونقوں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ رومان پرور اور قدرت کے شیدائی لوگوں کے لیے ایسی جگہیں بہت کشش رکھتی ہیں۔ اس کی بے پناہ خوبصورتی لوگوں کو دور دراز سے یہاں کھینچ لاتی ہے اور جو لوگ یہاں آجائیں، وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ لوگ یہاں اآتے ہیں اور برگد کی شاخوں پر کھدائی کرکے اپنا نام اور مختلف فقرے لکھ جاتے ہیں جس سے اس درخت کو نقصان پہنچتا ہے۔برگد کے اس درخت کی خوبصورتی کے چرچے صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں، بھارت سمیت بہت سے ایشیائی و مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس کی شہرت سن کر یہاں سیاحت کے لیے آئے۔ مگر اس قدرتی شاہکار کے تحفظ کے لیے کوئی حکومتی اقدامات نظر نہ آئے تو انہیں بہت افسوس ہوا۔ دیگر ممالک سے آنے والے لوگ اس بات پر کڑھتے ہیں کہ غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا اتنا قیمتی ورثہ حکومت کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟ وہ بوجھل دل سے یہ سوچتے ہیں کہ کاش قدرت ہمیں اس تحفے سے نوازتی اور ہم اسے بے توقیری سے بچالیتے۔

قدرت کا یہ حسین شاہکار جہاں حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے وہیں مقامی بااثر لوگوں نے اسے مفت کا مال سمجھ رکھا ہے۔ اس جگہ کو جانوروں کے باڑے میں بدل دیا گیا ہے۔ مخصوص سوچ کے حامل بعض لوگوں نے اس جگہ پر اپنا تسلط جمایا ہوا ہے جن کا جب جی چاہتا ہے، اس درخت کے تنوں کو کاٹ ڈالتے ہیں جبکہ علاقے کے دیگر لوگ بھی اس معاملہ میں شریک جرم ہیں۔ رہی سہی کسر گزشتہ چند سال میں دریائے چناب کے سیلابی پانی نے پوری کردی جس کی وجہ سے اس کا ایک حصہ جڑ سے ہی اکھڑ گیا۔ یہ علاقے کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا قیمتی ورثہ ہے، دیگر ممالک کے لوگ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں اس کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس جگہ کو قبضہ مافیا سے آزاد کروا کر اپنی تحویل میں لے؛ اور اسے قومی ورثہ کا درجہ دے کر تفریحی مقام میں بدل دیا جائے تاہم اب تک حکومتی ذمہ داران کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر