وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں برگد کا سب سے بڑا اور قدیم ترین درخت

بدھ 28 فروری 2018 پاکستان میں برگد کا سب سے بڑا اور قدیم ترین درخت

برگد کے درخت صدیوں پرانی تاریخ کے امین ہیں۔ بہت سے قصے کہانیوں اور علاقائی ثقافت سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ کہیں اسے بوڑھ پکارا جاتا ہے تو کوئی بوہڑ کے نام سے اس کی شناخت کرتا ہے۔ اسے انگریزی زبان میں بینین (Banyan) کہا جاتا ہے جو گجراتی لفظ ’’بنیا‘‘ سے ماخوذ ہے۔ بنیا کا لفظ ہندو تاجروں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ بنیا کہلانے والے ہندو تاجر اپنا سامان فروخت کرنے کے لیے دور دراز علاقوں میں جایا کرتے تھے۔ گرمی سے بچنے اور تھکاوٹ اتارنے کے لیے برگد کے درختوں کے نیچے لیٹ جایا کرتے تھے۔ یہ بھی روایت میں ہے کہ ہندو بنیے، برگد کے درخت کے نیچے اپنی دکانیں سجایا کرتے تھے۔

انسان کی اس دنیا میں آمد کے بعد ماں کے علاوہ ممتا کی ٹھنڈی چھاؤں نصیب ہوئی تو انہی جیسے درختوں سے نصیب ہوئی۔ دیہی پس منظر میں ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرنے میں سب سے نمایاں برگد کے درخت ہوتے ہیں۔ برگد کے یہ درخت ناموافق حالات میں بھی اپنا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ یہ بقاء￿ کی جنگ لڑتے ہیں اور جیت جاتے ہیں۔

بہت سے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ چٹیل دیواروں سے بھی ان کے تنے نکل ا?تے ہیں۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ہی برگد کے درخت سے ریشوں جیسی لمبی شاخیں پھوٹتی ہیں اور جھالر کی مانند درخت کے چاروں طرف پھیل جاتی ہیں جس سے برگد کی سحر ناکی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ شاخیں تناور ہوکر زمین میں مل جاتی ہیں اور یوں ایک نیا بوہڑ کا درخت وجود میں ا?جاتا ہے۔ یہ جڑیں نئے درخت پیدا کرنے کے علاوہ اسے سہارا دینے میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ برگد سے پھوٹتی ان جڑوں کو بچے ’’برگد کی داڑھی‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

ہندو مت اور بدھ مذہب کے پیروکار برگد کو مقدس سمجھتے ہیں۔ تاریخی حوالوں سے یہ ثابت ہے کہ بعض ہندو طبقات قدیم برگد کے درختوں کی پوجا کرتے ہیں، دودھ سمیت دیگر اشیاء کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ گوتم بدھ مسلسل 6 سال سے برگد کے درخت کے نیچے ہی بیٹھے تھے جبکہ انہیں نروان ملا اسی لیے اسے بدھ کا درخت بھی کہا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ سکندراعظم جب دنیا کو فتح کرنے کا عزم لے کر نکلا تو اس نے7 ہزار فوجیوں کے ساتھ برگد کے درخت کے نیچے کئی دن تک پڑاؤ جاری رکھا۔

یہ چند سال قبل کی ہی تو بات ہے کہ پاکستان بھر کے دیہاتوں میں بوہڑ کے درختوں کے نیچے چوپالیں لگا کرتی تھیں جہاں لوگ دن بھر کے کام کاج کے بعد فراغت کا وقت گزارتے۔ یہ ایسی محفلیں ہوتیں کہ جن میں رنگوں و امنگوں،خوشیوں و قہقہوں کا امتزاج ہوتا۔ لوگ اپنے مسائل سمیت حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے، بوڑھے اور ضعیف افراد حقہ گڑگڑاتے اور بچوں کو قصے کہانیاں سناتے، داستان گوئی کو بام عروج انہی چوپالوں کے ذریعے ملا تھا۔ برگد کی چھاؤں میں لگی چوپالوں کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے قابض برطانوی حکمرانوں کی جانب سے قانونی کاروائیوں کے لیے کچہریاں بھی برگد کے نیچے ہی لگائی جاتیں۔ اب بھی برصغیر پاک و ہند کی عدالتوں کا جائزہ لیا جائے تو وہاں برگد کا درخت لازمی طور پر دکھائی دے گا جبکہ پرانے تھانوں، اسپتالوں اور سرکاری عمارتوں کی حدود میں بھی برگد کا درخت لازمی ملے گا۔

پورے برصغیر میں برگد کے درختوں کی بہتات ہے۔ اسکول ہوں یا سرکاری عمارات، تجارتی مراکز ہوں یا سڑک کنارے بنے ہوٹل و چائے خانے یا پھر صوفیائے کرام کے مزارات، یہ سب ّآپ کو برگد کے قدآدم اور وسیع درختوں سے ڈھکے نظرآئیں گے۔ خاص طور پر سڑکوں کے آس پاس یہ بہتات سے پائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے تاریخ کے اوراق کھنگالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شیر شاہ سوری نے اپنے دور اقتدار میں پشاور سے کلکتہ تک مشہور شاہراہ بنوائی تو اس نے مسافروں کی سہولت اورآرام کی خاطر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر برگد کے درخت لگوائے اور ساتھ پانی کے تالاب بنوائے۔

چند سال قبل تک برگد کے یہ درخت ہر گاؤں کی پہچان ہوتے تھے۔ دورجدید کا اے سی بھی وہ سکون کہاں فراہم کرسکتا ہے جو برگد کی چھاؤں کے نیچے بچھی چٹائی و چارپائی پر بیٹھ کر میسر ہوتا تھا۔ کھیلنے کے لیے بچوں کی پسندیدہ جگہ وہ ہوتی جہاں برگد کا درخت ہوتا۔ برگد کے درخت پر چڑھ کر اچھل کود اور پنچھیوں کو پکڑنے کی ناکام سی کوشش، برگد کی چھاؤں میں بیٹھ کر مٹی کے گھروندے اور کھلونے بنانا، گلی ڈنڈا اور بنٹے کھیلنا، بچیاں شٹاپو کھیلتیں، مائیں بچوں کو گود میں بٹھا کر ان کے سر میں تیل ڈال کر مالش کرتیں، پینگیں جھولنا، الغرض برگد کے درخت سے اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ جن کا شمار ہی ممکن نہیں۔

برگد کے ان درختوں پرپرندوں کے گھونسلے ہوتے ہیں اور صبح و شام کے وقت یہ پنچھی اپنے سریلے گیتوں سے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ چڑیاں، طوطے، بلبل، لالیوں اور کوئل سمیت درجنوں قسم کے پرندے برگد کا سرخی مائل پھل کھاتے ہیں۔ انہی پرندوں کے ذریعے برگد کا بیج ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے اور یوں مختلف علاقوں میں بوہڑ کے نئے درخت اْگ جاتے ہیں۔

بوہڑ کے نرم پتوں کو توڑا جائے یا پھر اس کی جلد کو ادھیڑا جائے تو اس سے سفید رنگ کا مائع خارج ہونا شروع ہوتا ہے جسے شِیرِ برگد کہتے ہیں۔ بچپن میں شرارتی بچوں کا محبوب ترین مشغلہ یہی ہوتا تھا کہ وہ برگد کے پتے توڑ کر اور اس کی جلد کو ادھیڑتے اور دودھیا مادے کو ایک دوسرے پر پھینکنے کی کوشش کرتے کیونکہ شیر برگد کسی انسان کی جلد پر گر جاتا تو اس جگہ سیاہ نشان پڑجاتا۔

برگد پر سرخی مائل پھل بھی لگتا ہے جو پک جائے تو میٹھا ہوتا ہے۔ دیہاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ اسے کھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کیونکہ اس پھل کو باعث صحت سمجھا جاتا ہے جبکہ طبی ماہرین اس پھل کو مضر صحت سمجھتے ہیں۔ برگد کے درخت کی چھال، اس سے خارج ہونے والے دودھیا مادّے، شاخوں اور ریشوں کو زمانہ قدیم سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور جدید طب کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بعض مخصوص امراض کا علاج اس کے ذریعے ممکن ہے۔ برگد کے درخت سے حاصل ہونے والے طبی فوائد پر ایک مفصل کتاب لکھی جاسکتی ہے۔

جن دوستوں کا بچپن دیہاتوں میں گزرا ہے، ان کی حسین یادیں لازماً برگد کے درخت سے جڑی ہوں گی۔ میرے ذہن کے نہاں خانے میں بھی کچھ ایسی ہی دھندلی یادیں ہیں۔ گاؤں کی ایک بڑھیا تھی جو برگد کی چھاؤں میں بیٹھی حقہ پیا کرتی تھی، سب سے پیار کرتی، محبتیں رونقیں اسی سے تھیں۔ گاؤں کی رنگینیوں میں سب سے نرالا رنگ اس کی باتوں میں تھا۔ ہم شرارتیں کرتے اور وہ ہمیں ڈانٹا کرتی۔ اس کی ڈانٹ ہمارے لیے ماں کی لوری جیسی تھی۔ پھر یوں ہوا… کہ وہ بڑھیا نہ رہی، برگد کی چھاؤں نہ رہی، حقے کی گڑگڑاہٹ کہیں کھوگئی۔ اس بڑھیا کے جانے سے گاؤں کی رنگینیاں بھی رخصت ہو گئیں، مادہ پرستی کا ایسا دورشروع ہوا کہ معمولی سے فوائد کے لیے انسان نے اپنا ابدی سکون غارت کرنا شروع کردیا، صدیوں پرانے برگد کٹنے شروع ہوگئے۔

یہ سلسلہ گاؤں تک محدود نہیں رہا۔ قیمتی اثاثوں کی حیثیت رکھنے والے برگد کے درختوں کو بے دردی سے کاٹا جارہا ہے۔ ان میں سے بہت سے برگد قدیم قومی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم حکمرانوں اورعوام کی بے حسی سے یہ قدیم درخت ختم ہورہے ہیں۔ پہلے یہ درخت بکثرت پائے جاتے تھے لیکن اب ان کی تعداد بتدریج کم ہورہی ہے لیکن اب بھی بہت سے ایسے برگد کے درخت پاکستان میں موجود ہیں جنہیں تباہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

ایسا ہی ایک تاریخی و ثقافتی اہمیت کا حامل برگد کا درخت سرگودھا کے علاقے مڈھ رانجھا میں واقع ہے جو حکومتی عدم دلچسپی اور عوام کی بے حسی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر ہے۔ مڈھ رانجھا میں ابل اور موری وال گاؤں کے قریب اور رانجھے کے شہر تخت ہزارہ کے نواح میں واقع قدرت کا انمول ترین اور عظیم الشان برگد کا درخت اپنی مسحور کْن خوبصورتی کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے اور لوگوں کو دور سے ہی اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔

محبت کی سرزمین تخت ہزارہ اور مڈھ رانجھا کے قریب موجود، یہ برگد پاکستان کا سب سے بڑا، لمبا اور قدیم درخت ہے کہ جس کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہ برگد 4 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا تھا جو حالات اور انسانوں کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے 3 ایکڑ سے بھی کم رقبے تک محدود رہ گیا ہے۔ اس برگد کو ایشیاء کا سب سے بڑا برگد کا درخت بھی سمجھا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے ابہام موجود ہے۔

دنیا میں سب سے بڑا برگد کا درخت سری لنکا میں ہے جس کے 350 بڑے اور 3000 چھوٹے تنے ہیں۔ تاہم مڈھ رانجھا اور سری لنکا میں پائے جانے والے برگد کی ایک بات مشترک ہے کہ دونوں کے اصل تنے کی شناخت ممکن نہیں۔یہ درخت کب وجود میں آیا؟ اس بارے میں کوئی واضح تاریخی حوالہ موجود نہیں۔ مختلف روایات کے مطابق کئی صدیوں قبل گجرات کے شاہ ولی دولہ کے حکم پر ان کے مرید بابا روڈے شاہ نے یہ درخت لگایا تھا۔ ان بزرگ نے پودے سمیت خود کو دریائے چناب کے حوالے کردیا اور مڈھ رانجھا کے قریب دریائی لہروں نے انہیں کنارے تک پہنچادیا۔ یوں یہ پودا اپنی منزل مقصود تک پہنچا۔ بابا روڈے شاہ نے پھر یہیں ڈیرہ لگالیا۔ مقامی لوگ ان کے لیے دودھ لاتے جس میں سے کچھ دودھ پینے کے بعد باقی اس برگد کی جڑوں میں ڈال دیتے۔ بابا روڈے شاہ سے منسوب قبر ابھی تک برگد کے نیچے موجود ہے اور علاقہ مکین اب بھی ان بزرگ سے عقیدت رکھتے ہیں۔

اس درخت کی شاخوں کا جال بنا ہوا ہے۔ پہلی نظر میں تو یہی لگتا ہے کہ برگد کے بہت سارے درخت ہیں لیکن ایسا نہیں۔ صدیوں پرانے برگد کی شاخیں اتنی زیادہ پھیلیں کہ ایک جنگل سا وجود میں آ گیا۔ اس برگد کے درخت کی مرکزی شاخ کو شناخت نہیں کیا جاسکتا تاہم مقامی لوگ اس حوالے سے قیاس آرائیاں ضرور کرتے رہتے ہیں۔ اس درخت کی حقیقی عمر کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ گاؤں کے بزرگوں سے جب اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا خاندان کئی نسلوں سے یہاں آباد ہے اور ہم نے اس بوہڑ کو اسی حالت میں دیکھا ہے۔ ہم سے صدیوں قبل ہمارے آبا و اجداد نے بھی اس درخت کو اسی حالت میں دیکھا۔ اسے بہت بار کاٹا گیا لیکن یہ پھر سے پھلنا پھولنا شروع کردیتا ہے۔ البتہ بعض مقامی افراد نے قیاس آرائی کی کہ یہ برگد ایک ہزار سال پرانا ہے۔

دریائے چناب کے کنارے واقع اس کرشماتی درخت کے اوپر اور نیچے ایک الگ ہی دنیا آباد ہے۔ انواع و اقسام کے پرندوں نے گھونسلے بنارکھے ہیں۔ ان کی نت نئی بولیاں کانوں میں رس گھولتی رہتی ہیں۔ امید نو سے بھری صبح، سایہ دار ٹھنڈی دوپہر میں بہت ہی نرالا پن ہے جبکہ اسرار بھری شام کی تو بات ہی الگ ہے؛ اور رات کو تو بس اس درخت پر الوؤں کی راجدھانی ہوتی ہے کیونکہ توہم پرستی، خوف اور ہیبت کی وجہ سے لوگ رات کو اس کے قریب جانے سے کتراتے ہیں۔اس درخت کی سحری انگیزی کا اندازہ وہی لگاسکتے ہیں جو یہاں وقت گزارتے ہیں۔پاکستان میں پایا جانے والا یہ سب سے بڑا برگد دن بھر چہل پہل اور رونقوں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ رومان پرور اور قدرت کے شیدائی لوگوں کے لیے ایسی جگہیں بہت کشش رکھتی ہیں۔ اس کی بے پناہ خوبصورتی لوگوں کو دور دراز سے یہاں کھینچ لاتی ہے اور جو لوگ یہاں آجائیں، وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ لوگ یہاں اآتے ہیں اور برگد کی شاخوں پر کھدائی کرکے اپنا نام اور مختلف فقرے لکھ جاتے ہیں جس سے اس درخت کو نقصان پہنچتا ہے۔برگد کے اس درخت کی خوبصورتی کے چرچے صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں، بھارت سمیت بہت سے ایشیائی و مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس کی شہرت سن کر یہاں سیاحت کے لیے آئے۔ مگر اس قدرتی شاہکار کے تحفظ کے لیے کوئی حکومتی اقدامات نظر نہ آئے تو انہیں بہت افسوس ہوا۔ دیگر ممالک سے آنے والے لوگ اس بات پر کڑھتے ہیں کہ غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا اتنا قیمتی ورثہ حکومت کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟ وہ بوجھل دل سے یہ سوچتے ہیں کہ کاش قدرت ہمیں اس تحفے سے نوازتی اور ہم اسے بے توقیری سے بچالیتے۔

قدرت کا یہ حسین شاہکار جہاں حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے وہیں مقامی بااثر لوگوں نے اسے مفت کا مال سمجھ رکھا ہے۔ اس جگہ کو جانوروں کے باڑے میں بدل دیا گیا ہے۔ مخصوص سوچ کے حامل بعض لوگوں نے اس جگہ پر اپنا تسلط جمایا ہوا ہے جن کا جب جی چاہتا ہے، اس درخت کے تنوں کو کاٹ ڈالتے ہیں جبکہ علاقے کے دیگر لوگ بھی اس معاملہ میں شریک جرم ہیں۔ رہی سہی کسر گزشتہ چند سال میں دریائے چناب کے سیلابی پانی نے پوری کردی جس کی وجہ سے اس کا ایک حصہ جڑ سے ہی اکھڑ گیا۔ یہ علاقے کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا قیمتی ورثہ ہے، دیگر ممالک کے لوگ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں اس کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس جگہ کو قبضہ مافیا سے آزاد کروا کر اپنی تحویل میں لے؛ اور اسے قومی ورثہ کا درجہ دے کر تفریحی مقام میں بدل دیا جائے تاہم اب تک حکومتی ذمہ داران کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔


متعلقہ خبریں


دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

مضامین
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر