وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں برگد کا سب سے بڑا اور قدیم ترین درخت

بدھ 28 فروری 2018 پاکستان میں برگد کا سب سے بڑا اور قدیم ترین درخت

برگد کے درخت صدیوں پرانی تاریخ کے امین ہیں۔ بہت سے قصے کہانیوں اور علاقائی ثقافت سے ان کا گہرا تعلق ہے۔ کہیں اسے بوڑھ پکارا جاتا ہے تو کوئی بوہڑ کے نام سے اس کی شناخت کرتا ہے۔ اسے انگریزی زبان میں بینین (Banyan) کہا جاتا ہے جو گجراتی لفظ ’’بنیا‘‘ سے ماخوذ ہے۔ بنیا کا لفظ ہندو تاجروں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ بنیا کہلانے والے ہندو تاجر اپنا سامان فروخت کرنے کے لیے دور دراز علاقوں میں جایا کرتے تھے۔ گرمی سے بچنے اور تھکاوٹ اتارنے کے لیے برگد کے درختوں کے نیچے لیٹ جایا کرتے تھے۔ یہ بھی روایت میں ہے کہ ہندو بنیے، برگد کے درخت کے نیچے اپنی دکانیں سجایا کرتے تھے۔

انسان کی اس دنیا میں آمد کے بعد ماں کے علاوہ ممتا کی ٹھنڈی چھاؤں نصیب ہوئی تو انہی جیسے درختوں سے نصیب ہوئی۔ دیہی پس منظر میں ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرنے میں سب سے نمایاں برگد کے درخت ہوتے ہیں۔ برگد کے یہ درخت ناموافق حالات میں بھی اپنا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ یہ بقاء￿ کی جنگ لڑتے ہیں اور جیت جاتے ہیں۔

بہت سے ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ چٹیل دیواروں سے بھی ان کے تنے نکل ا?تے ہیں۔ بڑھتی عمر کے ساتھ ہی برگد کے درخت سے ریشوں جیسی لمبی شاخیں پھوٹتی ہیں اور جھالر کی مانند درخت کے چاروں طرف پھیل جاتی ہیں جس سے برگد کی سحر ناکی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ شاخیں تناور ہوکر زمین میں مل جاتی ہیں اور یوں ایک نیا بوہڑ کا درخت وجود میں ا?جاتا ہے۔ یہ جڑیں نئے درخت پیدا کرنے کے علاوہ اسے سہارا دینے میں بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ برگد سے پھوٹتی ان جڑوں کو بچے ’’برگد کی داڑھی‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

ہندو مت اور بدھ مذہب کے پیروکار برگد کو مقدس سمجھتے ہیں۔ تاریخی حوالوں سے یہ ثابت ہے کہ بعض ہندو طبقات قدیم برگد کے درختوں کی پوجا کرتے ہیں، دودھ سمیت دیگر اشیاء کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ گوتم بدھ مسلسل 6 سال سے برگد کے درخت کے نیچے ہی بیٹھے تھے جبکہ انہیں نروان ملا اسی لیے اسے بدھ کا درخت بھی کہا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ سکندراعظم جب دنیا کو فتح کرنے کا عزم لے کر نکلا تو اس نے7 ہزار فوجیوں کے ساتھ برگد کے درخت کے نیچے کئی دن تک پڑاؤ جاری رکھا۔

یہ چند سال قبل کی ہی تو بات ہے کہ پاکستان بھر کے دیہاتوں میں بوہڑ کے درختوں کے نیچے چوپالیں لگا کرتی تھیں جہاں لوگ دن بھر کے کام کاج کے بعد فراغت کا وقت گزارتے۔ یہ ایسی محفلیں ہوتیں کہ جن میں رنگوں و امنگوں،خوشیوں و قہقہوں کا امتزاج ہوتا۔ لوگ اپنے مسائل سمیت حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے، بوڑھے اور ضعیف افراد حقہ گڑگڑاتے اور بچوں کو قصے کہانیاں سناتے، داستان گوئی کو بام عروج انہی چوپالوں کے ذریعے ملا تھا۔ برگد کی چھاؤں میں لگی چوپالوں کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے قابض برطانوی حکمرانوں کی جانب سے قانونی کاروائیوں کے لیے کچہریاں بھی برگد کے نیچے ہی لگائی جاتیں۔ اب بھی برصغیر پاک و ہند کی عدالتوں کا جائزہ لیا جائے تو وہاں برگد کا درخت لازمی طور پر دکھائی دے گا جبکہ پرانے تھانوں، اسپتالوں اور سرکاری عمارتوں کی حدود میں بھی برگد کا درخت لازمی ملے گا۔

پورے برصغیر میں برگد کے درختوں کی بہتات ہے۔ اسکول ہوں یا سرکاری عمارات، تجارتی مراکز ہوں یا سڑک کنارے بنے ہوٹل و چائے خانے یا پھر صوفیائے کرام کے مزارات، یہ سب ّآپ کو برگد کے قدآدم اور وسیع درختوں سے ڈھکے نظرآئیں گے۔ خاص طور پر سڑکوں کے آس پاس یہ بہتات سے پائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے تاریخ کے اوراق کھنگالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ شیر شاہ سوری نے اپنے دور اقتدار میں پشاور سے کلکتہ تک مشہور شاہراہ بنوائی تو اس نے مسافروں کی سہولت اورآرام کی خاطر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر برگد کے درخت لگوائے اور ساتھ پانی کے تالاب بنوائے۔

چند سال قبل تک برگد کے یہ درخت ہر گاؤں کی پہچان ہوتے تھے۔ دورجدید کا اے سی بھی وہ سکون کہاں فراہم کرسکتا ہے جو برگد کی چھاؤں کے نیچے بچھی چٹائی و چارپائی پر بیٹھ کر میسر ہوتا تھا۔ کھیلنے کے لیے بچوں کی پسندیدہ جگہ وہ ہوتی جہاں برگد کا درخت ہوتا۔ برگد کے درخت پر چڑھ کر اچھل کود اور پنچھیوں کو پکڑنے کی ناکام سی کوشش، برگد کی چھاؤں میں بیٹھ کر مٹی کے گھروندے اور کھلونے بنانا، گلی ڈنڈا اور بنٹے کھیلنا، بچیاں شٹاپو کھیلتیں، مائیں بچوں کو گود میں بٹھا کر ان کے سر میں تیل ڈال کر مالش کرتیں، پینگیں جھولنا، الغرض برگد کے درخت سے اتنی یادیں وابستہ ہیں کہ جن کا شمار ہی ممکن نہیں۔

برگد کے ان درختوں پرپرندوں کے گھونسلے ہوتے ہیں اور صبح و شام کے وقت یہ پنچھی اپنے سریلے گیتوں سے کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ چڑیاں، طوطے، بلبل، لالیوں اور کوئل سمیت درجنوں قسم کے پرندے برگد کا سرخی مائل پھل کھاتے ہیں۔ انہی پرندوں کے ذریعے برگد کا بیج ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے اور یوں مختلف علاقوں میں بوہڑ کے نئے درخت اْگ جاتے ہیں۔

بوہڑ کے نرم پتوں کو توڑا جائے یا پھر اس کی جلد کو ادھیڑا جائے تو اس سے سفید رنگ کا مائع خارج ہونا شروع ہوتا ہے جسے شِیرِ برگد کہتے ہیں۔ بچپن میں شرارتی بچوں کا محبوب ترین مشغلہ یہی ہوتا تھا کہ وہ برگد کے پتے توڑ کر اور اس کی جلد کو ادھیڑتے اور دودھیا مادے کو ایک دوسرے پر پھینکنے کی کوشش کرتے کیونکہ شیر برگد کسی انسان کی جلد پر گر جاتا تو اس جگہ سیاہ نشان پڑجاتا۔

برگد پر سرخی مائل پھل بھی لگتا ہے جو پک جائے تو میٹھا ہوتا ہے۔ دیہاتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ اسے کھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کیونکہ اس پھل کو باعث صحت سمجھا جاتا ہے جبکہ طبی ماہرین اس پھل کو مضر صحت سمجھتے ہیں۔ برگد کے درخت کی چھال، اس سے خارج ہونے والے دودھیا مادّے، شاخوں اور ریشوں کو زمانہ قدیم سے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور جدید طب کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ بعض مخصوص امراض کا علاج اس کے ذریعے ممکن ہے۔ برگد کے درخت سے حاصل ہونے والے طبی فوائد پر ایک مفصل کتاب لکھی جاسکتی ہے۔

جن دوستوں کا بچپن دیہاتوں میں گزرا ہے، ان کی حسین یادیں لازماً برگد کے درخت سے جڑی ہوں گی۔ میرے ذہن کے نہاں خانے میں بھی کچھ ایسی ہی دھندلی یادیں ہیں۔ گاؤں کی ایک بڑھیا تھی جو برگد کی چھاؤں میں بیٹھی حقہ پیا کرتی تھی، سب سے پیار کرتی، محبتیں رونقیں اسی سے تھیں۔ گاؤں کی رنگینیوں میں سب سے نرالا رنگ اس کی باتوں میں تھا۔ ہم شرارتیں کرتے اور وہ ہمیں ڈانٹا کرتی۔ اس کی ڈانٹ ہمارے لیے ماں کی لوری جیسی تھی۔ پھر یوں ہوا… کہ وہ بڑھیا نہ رہی، برگد کی چھاؤں نہ رہی، حقے کی گڑگڑاہٹ کہیں کھوگئی۔ اس بڑھیا کے جانے سے گاؤں کی رنگینیاں بھی رخصت ہو گئیں، مادہ پرستی کا ایسا دورشروع ہوا کہ معمولی سے فوائد کے لیے انسان نے اپنا ابدی سکون غارت کرنا شروع کردیا، صدیوں پرانے برگد کٹنے شروع ہوگئے۔

یہ سلسلہ گاؤں تک محدود نہیں رہا۔ قیمتی اثاثوں کی حیثیت رکھنے والے برگد کے درختوں کو بے دردی سے کاٹا جارہا ہے۔ ان میں سے بہت سے برگد قدیم قومی ورثے کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم حکمرانوں اورعوام کی بے حسی سے یہ قدیم درخت ختم ہورہے ہیں۔ پہلے یہ درخت بکثرت پائے جاتے تھے لیکن اب ان کی تعداد بتدریج کم ہورہی ہے لیکن اب بھی بہت سے ایسے برگد کے درخت پاکستان میں موجود ہیں جنہیں تباہ ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

ایسا ہی ایک تاریخی و ثقافتی اہمیت کا حامل برگد کا درخت سرگودھا کے علاقے مڈھ رانجھا میں واقع ہے جو حکومتی عدم دلچسپی اور عوام کی بے حسی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر ہے۔ مڈھ رانجھا میں ابل اور موری وال گاؤں کے قریب اور رانجھے کے شہر تخت ہزارہ کے نواح میں واقع قدرت کا انمول ترین اور عظیم الشان برگد کا درخت اپنی مسحور کْن خوبصورتی کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے اور لوگوں کو دور سے ہی اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔

محبت کی سرزمین تخت ہزارہ اور مڈھ رانجھا کے قریب موجود، یہ برگد پاکستان کا سب سے بڑا، لمبا اور قدیم درخت ہے کہ جس کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہ برگد 4 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا تھا جو حالات اور انسانوں کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سے 3 ایکڑ سے بھی کم رقبے تک محدود رہ گیا ہے۔ اس برگد کو ایشیاء کا سب سے بڑا برگد کا درخت بھی سمجھا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے ابہام موجود ہے۔

دنیا میں سب سے بڑا برگد کا درخت سری لنکا میں ہے جس کے 350 بڑے اور 3000 چھوٹے تنے ہیں۔ تاہم مڈھ رانجھا اور سری لنکا میں پائے جانے والے برگد کی ایک بات مشترک ہے کہ دونوں کے اصل تنے کی شناخت ممکن نہیں۔یہ درخت کب وجود میں آیا؟ اس بارے میں کوئی واضح تاریخی حوالہ موجود نہیں۔ مختلف روایات کے مطابق کئی صدیوں قبل گجرات کے شاہ ولی دولہ کے حکم پر ان کے مرید بابا روڈے شاہ نے یہ درخت لگایا تھا۔ ان بزرگ نے پودے سمیت خود کو دریائے چناب کے حوالے کردیا اور مڈھ رانجھا کے قریب دریائی لہروں نے انہیں کنارے تک پہنچادیا۔ یوں یہ پودا اپنی منزل مقصود تک پہنچا۔ بابا روڈے شاہ نے پھر یہیں ڈیرہ لگالیا۔ مقامی لوگ ان کے لیے دودھ لاتے جس میں سے کچھ دودھ پینے کے بعد باقی اس برگد کی جڑوں میں ڈال دیتے۔ بابا روڈے شاہ سے منسوب قبر ابھی تک برگد کے نیچے موجود ہے اور علاقہ مکین اب بھی ان بزرگ سے عقیدت رکھتے ہیں۔

اس درخت کی شاخوں کا جال بنا ہوا ہے۔ پہلی نظر میں تو یہی لگتا ہے کہ برگد کے بہت سارے درخت ہیں لیکن ایسا نہیں۔ صدیوں پرانے برگد کی شاخیں اتنی زیادہ پھیلیں کہ ایک جنگل سا وجود میں آ گیا۔ اس برگد کے درخت کی مرکزی شاخ کو شناخت نہیں کیا جاسکتا تاہم مقامی لوگ اس حوالے سے قیاس آرائیاں ضرور کرتے رہتے ہیں۔ اس درخت کی حقیقی عمر کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ گاؤں کے بزرگوں سے جب اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا خاندان کئی نسلوں سے یہاں آباد ہے اور ہم نے اس بوہڑ کو اسی حالت میں دیکھا ہے۔ ہم سے صدیوں قبل ہمارے آبا و اجداد نے بھی اس درخت کو اسی حالت میں دیکھا۔ اسے بہت بار کاٹا گیا لیکن یہ پھر سے پھلنا پھولنا شروع کردیتا ہے۔ البتہ بعض مقامی افراد نے قیاس آرائی کی کہ یہ برگد ایک ہزار سال پرانا ہے۔

دریائے چناب کے کنارے واقع اس کرشماتی درخت کے اوپر اور نیچے ایک الگ ہی دنیا آباد ہے۔ انواع و اقسام کے پرندوں نے گھونسلے بنارکھے ہیں۔ ان کی نت نئی بولیاں کانوں میں رس گھولتی رہتی ہیں۔ امید نو سے بھری صبح، سایہ دار ٹھنڈی دوپہر میں بہت ہی نرالا پن ہے جبکہ اسرار بھری شام کی تو بات ہی الگ ہے؛ اور رات کو تو بس اس درخت پر الوؤں کی راجدھانی ہوتی ہے کیونکہ توہم پرستی، خوف اور ہیبت کی وجہ سے لوگ رات کو اس کے قریب جانے سے کتراتے ہیں۔اس درخت کی سحری انگیزی کا اندازہ وہی لگاسکتے ہیں جو یہاں وقت گزارتے ہیں۔پاکستان میں پایا جانے والا یہ سب سے بڑا برگد دن بھر چہل پہل اور رونقوں کا مرکز بنا رہتا ہے۔ رومان پرور اور قدرت کے شیدائی لوگوں کے لیے ایسی جگہیں بہت کشش رکھتی ہیں۔ اس کی بے پناہ خوبصورتی لوگوں کو دور دراز سے یہاں کھینچ لاتی ہے اور جو لوگ یہاں آجائیں، وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ لوگ یہاں اآتے ہیں اور برگد کی شاخوں پر کھدائی کرکے اپنا نام اور مختلف فقرے لکھ جاتے ہیں جس سے اس درخت کو نقصان پہنچتا ہے۔برگد کے اس درخت کی خوبصورتی کے چرچے صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں، بھارت سمیت بہت سے ایشیائی و مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس کی شہرت سن کر یہاں سیاحت کے لیے آئے۔ مگر اس قدرتی شاہکار کے تحفظ کے لیے کوئی حکومتی اقدامات نظر نہ آئے تو انہیں بہت افسوس ہوا۔ دیگر ممالک سے آنے والے لوگ اس بات پر کڑھتے ہیں کہ غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا اتنا قیمتی ورثہ حکومت کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا؟ وہ بوجھل دل سے یہ سوچتے ہیں کہ کاش قدرت ہمیں اس تحفے سے نوازتی اور ہم اسے بے توقیری سے بچالیتے۔

قدرت کا یہ حسین شاہکار جہاں حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے وہیں مقامی بااثر لوگوں نے اسے مفت کا مال سمجھ رکھا ہے۔ اس جگہ کو جانوروں کے باڑے میں بدل دیا گیا ہے۔ مخصوص سوچ کے حامل بعض لوگوں نے اس جگہ پر اپنا تسلط جمایا ہوا ہے جن کا جب جی چاہتا ہے، اس درخت کے تنوں کو کاٹ ڈالتے ہیں جبکہ علاقے کے دیگر لوگ بھی اس معاملہ میں شریک جرم ہیں۔ رہی سہی کسر گزشتہ چند سال میں دریائے چناب کے سیلابی پانی نے پوری کردی جس کی وجہ سے اس کا ایک حصہ جڑ سے ہی اکھڑ گیا۔ یہ علاقے کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا قیمتی ورثہ ہے، دیگر ممالک کے لوگ اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں اس کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس جگہ کو قبضہ مافیا سے آزاد کروا کر اپنی تحویل میں لے؛ اور اسے قومی ورثہ کا درجہ دے کر تفریحی مقام میں بدل دیا جائے تاہم اب تک حکومتی ذمہ داران کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔


متعلقہ خبریں


فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

سیدعاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا وفد کے ہمراہ تہران پہنچنے پر پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا، سفارتی اور ثالثی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھائیں گے آرمی چیف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری ...

فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

اساتذہ اور والدین کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ امتحانی مرکز میں پیسوں کے عوض نقل کرائی جا رہی ہے نقل کی روک تھام کیلئیزیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے گی،شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ،غلام حسین سوہو چیئرمین میٹرک بورڈغلام حسین سوہو نے پیسوں کے عوض نقل کی شکایت پر گورن...

پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

9لاکھ 73ہزار 900میٹرک ٹن کا مجموعی ہدف مقرر کیا گیاہے،مراد علی شاہ تمام اضلاع اپنے نظام کو فعال بنائیں،بلا تاخیر ہدف حاصل کریں، بریفنگ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم دے دیا۔ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق سید مراد علی شا...

وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

افغان طالبان کی کچھ روز سے فتنہ الخوارج کی ایک تشکیل کو پاکستان میں داخل کرانے کی کوشش پاک فوج کی جوابی کارروائی پر افغانستان سے فائر کرنیوالی گن پوزیشن کو تباہ کردیا،سکیورٹی ذرائع افغان طالبان کی باجوڑ میں پاکستانی سول آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید، 3شدید زخمی ہ...

افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید وجود - جمعرات 16 اپریل 2026

3اور 14سال کے دو بچے شہید، اسرائیلی جنگی طیاروں نے پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا شاطی پناہ گزین کیمپ کے قریب چوک پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد نشانہ بنے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں جس میں اسرائیل کے غزہ پٹی میں تازہ حملے...

غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کے بعد امریکا کی ترجیح پاکستان بن گیا، امریکی صدر نے آئندہ دو روز میں مذاکرات کا اشارہ دے دیا،ہم پاکستان جانے پر زیادہ مائل ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر لاجواب آدمی ہیں مذاکرات ممکنہ طور پر جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں، دونوں فریقین اہم تنازعات پر بات چیت جاری رک...

امریکا ،ایران میں دوبارہ مذاکرات کی تیاری،اگلا دور بھی پاکستان میں ہوسکتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم وجود - بدھ 15 اپریل 2026

کھرب پتی طبقہ ٹیکس بچا رہا ہے موٹرسائیکل چلانیوالا عام شہری ٹیکس ادا کر رہا ہے عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً سوا سو روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، پریس کانفرنس حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس کے معاملے پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا کیونکہ یہ عوام کے ساتھ ...

پیٹرولیم لیوی ٹیکس عوام پر ظلم ، عدالت سے رجوع کرینگے،حافظ نعیم

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

شام 5بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جائے گی، پاور ڈویژن بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کیلئے مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم رکھا جا سکے ترجمان پاور ڈویژن نے کہاہے کہ بجلی مہنگی ہونے سے بچانے کے لیے شام 5بجے سے رات 00:1بجے تک روزانہ 2 گھنٹے15،منٹ تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ...

حکومت کا روزانہ 2 گھنٹے 15 منٹ لوڈشیڈنگ کا فیصلہ

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار وجود - بدھ 15 اپریل 2026

قید تنہائی کسی بھی قیدی کیلئے انتہائی سخت سزا ، امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے بانی پی ٹی آئی کے مطابق ان کی آنکھ میں کوئی بہتری نہیں آئی، سلمان صفدر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کی صحت اور قید تنہائی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار می...

عمران خان کی صحت اور قید تنہائی تشویشناک قرار

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - بدھ 15 اپریل 2026

مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس، خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت سبسڈی لینے والے آبادگاروں سے گندم خریدی جائے، تمام اضلاع میں مراکز فعال کیے جائیں کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت گندم خریداری پالیسی کا جائزہ اجلاس ہوا، چھوٹے آبا...

گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف وجود - بدھ 15 اپریل 2026

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن ہوئی ایڈمرل نوید اشرف کا ایٔر فورس اکیڈمی میںکیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی ممکن...

پاک فضائیہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار،نیول چیف

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس وجود - بدھ 15 اپریل 2026

ایران کیساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی، گیند اب تہران کے کورٹ میں ہماری تمام ریڈ لائنز اسی بنیادی اصول سے نکلتی ہیں،امریکی نائب صدر کا انٹرویو امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے...

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا،جے ڈی وینس

مضامین
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟

پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید

پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال وجود جمعرات 16 اپریل 2026
پیمراقوانین اور ٹی وی نشریات کا زوال

اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ وجود جمعرات 16 اپریل 2026
اسلام آباد کا سفارتی مشن اورعالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ

مذاکرات سے مثبت امیدیں وجود بدھ 15 اپریل 2026
مذاکرات سے مثبت امیدیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر