وجود

... loading ...

وجود

سائرہ افضل تارڑ نیب کی زد میںسیکریٹری صحت کو وزیراعلی کے چیلنج کا سامنا

منگل 27 فروری 2018 سائرہ افضل تارڑ نیب کی زد میںسیکریٹری صحت کو وزیراعلی کے چیلنج کا سامنا

یہ بھی کیا عجب ہے کہ ایک جانب وفاقی اور حکومت پنجاب آئین اور قانون کی پاسداری کا حلف اٹھانے والی حکومتیں احد چیمہ کی قانون کے مطابق نیب کے ہاتھوں گرفتاری پر قانون سے بغاوت پر اتر آئی ہیں ۔ نیب کی جانب سے احد چیمہ پر سرکاری خزانے میں مالی بدعنوانیوں کے سنگین الزامات ہیں ۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر حکومتوں کو خوف کس بات کا ہے ۔ کیونکہ احد چیمہ نہ تو (ن) لیگ کے عہدے دار ہیں اور نہ ہی کارکن وہ ایک سرکاری گزٹیڈ افسر ہیں اور انہوں نے قومی خزانے میں کوئی خورد برد نہیں کی تو آئین اور قانون کے مطابق وہ عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں مکمل آزاد ہیں ۔ لیکن سرکاری افسروں کے لیئے آئین اور قانون کے محافظ حکمراں جب خود لاقانونیت پر اُتر آئیں گے تو پھر عوامی سطح پر اس کے کیا نتایج برآمد ہوں گے یا ہوتے ہیں اس کا احساس حکمرانی کے نشے میں مدہوش حکمرانوں کو نہیں ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ بد قسمت حکمراں تاحال خوشامدیوں کے حصار میں ہیں ۔ ورنہ نیب نے تو وفاقی کا بینہ میں شامل وفاقی وزیر مملکت برائے صحت سایرہ افضل تارڑ کیخلاف بھی نیب نے مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ خاتون تو باقاعدہ مسلم لیگ ( ن ) کا حصہ ہیں ۔ ان کیخلاف نیب کی ممکنہ کارروائی پر تو وفاقی اور پنجاب حکومت نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔ بلکہ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود وفاقی وزیر صحت سایرہ افضل تارڑ نے نیب کے چیئرمین جسٹس ( ر ) جاوید اقبال کو باقاعدہ خط لکھ کر انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ نیب کے ساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہیں ۔ میرے خلاف کرپشن کی جلد تحقیقات مکمل کی جائیں ۔ اگر وفاقی اور حکومت پنجاب نے احد چیمہ کے معاملے پر سایرہ افضل تارڑ کے طرز عمل کو اپنایا ہوتا تو حکومتوں پر قانون سے بغاوت کا دھبہ بھی نہیں آتا اور اس سے ملک میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو دوام ملتا ۔ اب بھی وقت ہے حکومت عوام اور اداروں سے معافی مانگ کر اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنالے ۔ اور دوسروں سے نہیں اپنے اچھے لوگوں سے ہی سبق حاصل کریں ۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی حکومت کے آخری دنوں میں یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ نوجوان ہونے کے ساتھ ایک زیرک سیاست دان ہیں ۔ گزشتہ دنوں فوری طور پر صبح کی او پی ڈی کے بعد ایوننگ او پی ڈی شروع کرنے کا حکم صادر کیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ تمام ہسپتالوں میں مسلسل 16 گھنٹے تک او پی ڈی جاری رہنی چاہیئے ۔ وزیر اعلیٰ کا یہ حکم سیکریٹری صحت ۔ ڈاکٹر فضل اللہ پیچوھو کی مدت ملازمت کے آخری دس مہینوں میں بہت بڑا چیلنج ہے ۔ گوکہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہیلتھ ایمرجنسی ناکام بنانے والے سیکریٹری صحت کو ایک ایسی مشکل سے دو چار کیا ہے ، جس پر وزیر اعلیٰ کسی بھی سطح پر کسی کی باز پرس کی زد میں اس لیئے نہیں آسکتے ہیں کہ اب حکومتی جماعت کو انتخاب کے امتحان میں جانے کا وقت آگیا ہے ۔ شام کی او پی ڈی کے حوالے سے سیکریٹری صحت کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ ایک ماہ قبل سندھ گوریمنٹ ہسپتال کورنگی میں وہ جس ایوننگ او پی ڈی کا خود بنفس نفیس افتتاح کرکے آئے تھے ۔ وہ او پی ڈی ایک ہفتہ بھی نہیں چل سکی ۔ محکمئہ صحت کے ذرایع کے مطابق مذکورہ او پی ڈی کے افتتاح سے قبل رشوت کے عوض جس نان کیڈر ڈاکٹر خالد بخاری کو انہوں نے دو مرحلے میں مذکورہ ہسپتال کا ایم ایس بنایا تھا۔ لیکن دوسرے مرحلے میں انہیں مالی اختیارات دے کر عدالتی سزا کے خوف سے پھر یہاں نمایشی ایم ایس ڈاکٹر مظہر خمسیانی کو لگادیا تھا ۔ لیکن ان کی ایوننگ او پی ڈی بند کرانے کا کریڈٹ دونوں صورتوں میں سیکریٹری صحت کو ہی جاتا ہے ۔ کہ پہلے انہوں نے غیر قانونی ایم ایس لگایا اور پھر غیر قانونی ایم ایس کو مطمین کرنے کیلئے نمایشی ایم ایس لگایا اب اس پس منظر میں آپ خود اندازہ کرلیں کہ صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ایوننگ او پی ڈی کا اجرأ سیکریٹری صحت کیلئے جوئے شیر لانے کے مترداف ہے جبکہ ڈاکٹرر تھ فاؤ سول ہسپتال کراچی میں ایوننگ او پی ڈی وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو کا کریڈٹ ہے جو 3 مارچ کو اپنے وزارت صحت کا دورا نیہ بخیر وخوبی مکمل کر کے ایوان بالا میں جارہے ہیں ۔ جس کے بعد سیکریٹری صحت کھلے میدان میں اپنی اننگ کیسے مکمل کرتے ہیں ۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔


متعلقہ خبریں


ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ وجود - بدھ 04 مارچ 2026

ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...

خطے کی کشیدہ صورت حال،وزیراعظم بریفنگ مخصوص ارکان کو نہیں پوری پارلیمنٹ کو دیں،اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی وجود - بدھ 04 مارچ 2026

واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...

کراچی قونصلیٹ کے باہر مظاہرین پر فائرنگ امریکی میرینز نے کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

مضامین
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد وجود بدھ 04 مارچ 2026
تیسری جنگ عظیم کی بنیاد

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید وجود بدھ 04 مارچ 2026
بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری شہید

امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو! وجود منگل 03 مارچ 2026
امریکہ واسرائیل کے خلاف مسلم امہ متحد ہو!

مودی سرکار کی اسرائیل نوازی وجود منگل 03 مارچ 2026
مودی سرکار کی اسرائیل نوازی

ہمارے بچے مت مارو !! وجود پیر 02 مارچ 2026
ہمارے بچے مت مارو !!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر