... loading ...
ذیابیطس پوری دنیا میں ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ اِس بیماری کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم کی ذیابیطس عموماً بچپن میں شروع ہوتی ہے اور فی الحال ڈاکٹر یہ نہیں جانتے کہ اِسے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ اِس مضمون میں ہم ذیابیطس کی دوسری قسم کے بارے میں بات کریں گے۔ ذیابیطس کے تقریباً 90 فیصد مریض اِس دوسری قسم کا ہی شکار ہوتے ہیں۔ ماضی میں دیکھا گیا تھا کہ ذیابیطس کی دوسری قسم کا شکار صرف بڑے ہوتے تھے لیکن حال ہی میں دیکھا گیا ہے کہ بچے بھی اِس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس بیماری کے خطرے کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اِس بیماری کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے سے آپ کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ ذیابیطس جسے عموماً شوگر بھی کہتے ہیں، ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون کے اندر شکر یعنی گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ عموماً خون کے ذریعے شکر ان خلیوں تک پہنچتی ہے جنہیں توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ذیابیطس میں یہ عمل صحیح طرح کام نہیں کرتا۔ اِس وجہ سے جسم کے کچھ اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔ اِس کے علاوہ خون کی گردش میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بعض صورتوں میں مریض کے پاو?ں کا انگوٹھا، انگلیاں یا پورا پاوں کاٹنا پڑتا ہے، مریض اندھا ہو سکتا ہے یا اسے گردوں کی بیماری ہو سکتی ہے۔ ذیابیطس کے بہت سے مریض دل یا فالج کا دورہ پڑنے سے مرتے ہیں۔ دوسری قسم کی ذیابیطس کی ایک بڑی وجہ جسم میں بہت زیادہ چربی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پیٹ اور کمر کے گرد بہت زیادہ چربی ہونے سے ذیابیطس ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر لبلبے اور جگر میں چربی سے جسم میں گلوکوز پہنچنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ لیکن آپ ذیابیطس کے خطرے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے کے تین طریقے مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ اگر آپ کو ذیابیطس ہونے کا خطرہ ہے تو اپنی شوگر چیک کروائیں۔ دوسری قسم کی ذیابیطس ہونے سے پہلے اکثر ایک شخص کو پری ذیابیطس ہوتی ہے جس میں خون کے اندر شکر معمول سے تھوڑی زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ حالت اور دوسری قسم کی ذیابیطس، دونوں ہی نقصان دہ ہیں لیکن اِن میں ایک فرق ہے۔ دوسری قسم کی ذیابیطس میں خون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول تو کیا جا سکتا ہے لیکن فی الحال اِس بیماری کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ مگر دیکھا گیا ہے کہ پری ذیابیطس کے کچھ مریض اپنے خون میں شکر کی مقدار کو دوبارہ معمول پر لے آئے۔ پری ذیابیطس کی علامات اِتنی واضح نہیں ہوتیں۔ ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دنیا میں تقریباً31کروڑ 60 لاکھ لوگ پری ذیابیطس کا شکار ہیں اور اِن میں سے زیادہ تر کو اِس بارے میں پتہ بھی نہیں ہیں، 1۔ اپنے خون کا ٹیسٹ کروائیں۔ 2۔صحت بخش غذا کھائیں۔ اِن مشوروں پر عمل کرنے سے ا?پ کو بہت فائدہ ہوگا معمول سے کم کھانا کھائیں۔ ایسی مشروبات نہ پئیں جن میں بہت زیادہ چینی یا کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہو۔ اِن کی بجائے پانی، چائے یا کافی پئیں۔ سفید آٹے یا چاول کی بجائے اپنی خوراک میں خالص گندم، چاول اور پاستا اِستعمال کریں۔ بغیر چربی کا گوشت کھائیں۔ اِس کے علاوہ مچھلی، خشک میوے، دالیں اور پھلیاں کھائیں۔ 3۔ ورزش کریں۔ ورزش کرنے سے آپ اپنے خون میں شکر کی مقدار کو کم کر سکتے ہیں اور اپنے وزن کو بھی بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ایک ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ ٹی وی دیکھنے کی بجائے کچھ دیر ورزش کریں۔ یہ سچ ہے کہ اگر آپ کے خاندان میں ذیابیطس کی بیماری چلی آ رہی ہے تو آپ کو بھی یہ بیماری ہو سکتی ہے۔ لیکن اپنے طرزِزندگی میں کچھ تبدیلیاں کرنے سے آپ اِس بیماری سے ایک حد تک بچ سکتے ہیں۔ اپنی صحت کو ٹھیک رکھنے کے لیے آپ جتنی کوششیں کریں گے، آپ کو اتنا ہی فائدہ ہوگا۔
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...
فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...
جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...
امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...
ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...