وجود

... loading ...

وجود

ہیضہ۔۔۔۔ ایک متعدی مرض

منگل 27 فروری 2018 ہیضہ۔۔۔۔ ایک متعدی مرض

ہیضہ ایک متعدی مرض ہے جو ایک بیکٹریم (Vibrio Cholera) کے ذریعے پھیلتا ہے ۔ یہ زیادہ تر گندے پانی اور خوراک کی وجہ سے پھیلتی ہے اور پرانے اور باسی خوراک کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی بھی اس کے پھیلنے کا ذریعہ بنتی ہیں ۔ ہیضہ کا بیکٹریا 1854 ء میں ایک اٹالین اینا ٹومسٹ Flippo Pacini نے دریافت کیا جبکہ ایک میڈیکل سائنسدان John Snow نے 1854 ء میں ہیضہ (Cholera) اور گندے پینے کے پانی کے درمیان تعلق کو دریافت کیا اور پھر 1883 ء میں ایک جرمن بیکٹریا لوجسٹ (Bacteriologist) Robert Koch نے ہیضہ کے بیکٹریا Bacillus کو مائیکرو سکوپ کے ذریعے دریافت کیا جو کہ ہیضے کی بیماری (Cholera) پھیلانے کا باعث بنتا ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ہیضہ کے تقریباََ 3-5 ملین کیسز سامنے آتے ہیں جبکہ تقریباََ 100,000 اموات پوری دنیا میں ہیضہ کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔Cholera Vibrio کے بہت سے سیروگروپس(Serogroups) ہوتے ہیں لیکن صرف دو 01 اور 0139 ہی ہیضہ پھیلانے کے ذمہ دار پائے گئے ۔ 0139 کو پہلی بار 1992 ء میں بنگلہ دیش میں دریافت کیا گیا۔ دنیا بھر میں تقریباََ 1-8 بلین لوگ گند ے پانی سے اپنی پیاس بجھانے پر مجبور ہیں جس میں فضلہ کی ملاوٹ ہوتی ہے اور یہ لوگ ہیضے کے انفیکشن کے کیریئر ہوتے ہیں جبکہ تقریباََ 2.4 بلین افراد نامناسب صفائی ستھرائی والے ماحول میں ا پنی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

ہیضے کا بیکٹریا مریض کی الٹی اور دست وغیرہ سے خارج ہو کر پانی یا دودھ میں شامل ہو کر تندرست آدمی کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے ۔ کنوئیں کے پانی جہاں لوگ بیٹھ کر فضلے کا اخراج کر تے ہیں ، کا استعمال بھی اس بیماری کو پھیلانے کا سبب بنتا ہے ۔ ہیضہ زیادہ تر گندے پانی کی سپلائی ، گندے پانی سے بنے برف ، بارش کے موسم کے بعد ہر جگہ غیر معیاری قسم کے خوراک (پکوڑے ، سموسے ، مٹھائیاں وغیرہ) اور دیگرمشروبات وغیرہ کھلے عام کچروں اور جمع ہوئے پانی پر کھڑے فروخت ہو رہے ہیں ، سے پھیلتا ہے اور لوگ ان سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ان ناقص اور غیر معیاری قسم کے کھانے پینے کی اشیاء سے انصاف کرنے کے لئے خود اپنے اور اپنے پیاروں کے ساتھ نا انصافی کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور مختلف بیماریوں کا شکار بن رہے ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ سبزیاں اور پھل جو گندے اور فضلے کے ملاوٹ والے پانی سے کاشت کئے گئے ہوں ، کچے ہوں اور ٹھیک طریقے سے نہ پکے ہوئے کھانوں اور گندے پانی کے ذخائر میں موجود مچھلیوں اور سمندری کھانوں سے بھی ہیضہ کا بیکٹریا انسانی جسم میں منتقل ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ گھروں کے پانی کے پائپ لائن میں بارش کے دنوں میں سیوریج کی لائن آپس میں مل جانے سے بھی صاف پانی میں Cholera کی ملا وٹ ہو سکتی ہے ۔ جب شخص ان گندی خوراک اور پانی کو کھاتا پیتا ہے تو بیکٹریا معدے میں ایک Toxin خارج کرتا ہے جو شدید ڈائریا کا باعث بنتا ہے ۔ وہ لوگ جن میں قوت مدافعت کی کمی ہوتی ہے اور وہ لوگ جو ایڈز جیسے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں وہ جلدی اسکا شکار بنتے ہیں اور بالخصوص وہ بچے جو جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہیں ان میں یہ بیماری جلدی اور شدت سے اپنا اثر دکھاتی ہے ۔

گندے پانی اور خوراک کے ذریعے بیکٹریا انسانی جسم میں داخل ہونے کے تقریباََ کچھ گھنٹوں سے لے کر پانچ دنوں کے ا ندر متاثرہ شخص میں ہیضے کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ہیضہ کی بیماری بچوں اور بڑوں دونوں کو متاثر کر سکتی ہے مگر بچوں میں ان کے کم قوت مدافعت کی وجہ سے زیادہ کیسز سامنے آتے ہیں ۔زیادہ تر متاثرہ افراد میں ہیضے سے متاثر ہونے کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں اگرچہ ان کے فضلے میں 1-10 دن تک یہ بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو ماحول میں آکر دوسرے لوگوں میں بھی انفیکشن پھیلانے کا باعث بنتے ہیں ۔ ہیضے کی بیماری کی خاص علامات میں چاول کے پانی (Rice Water) جیسے پتلے دست جس میں مچھلی کی بو (Fishy Smell) ہوتی ہے ۔ الٹیاں (Vomiting) ٹانگوں اور جوڑوں میں شدید درد ہوتا ہے ۔ باربارقے اور دستوں کی وجہ سے جسم میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے ۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں اور منہ کے اندر ، گلے ، ناک اورآنکھ کے پپوٹوں کی جگہ خشک ہونے لگتی ہے ۔ بلڈ پریشربہت کم ہو جاتا ہے اور پیاس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے ۔

شدید ڈائریا کی صورت میں شدید پانی کی کمی اور الیکڑولائنس کی کمی ہو جاتی ہے جس کے باعث ہیضے کو blue death بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ پانی کی کمی کے باعث متاثرہ شخص کی جلد Blusish Gray رنگ کی ہو جاتی ہے ۔
متاثرہ شخص کو بخار بھی ہو جاتا ہے اور مریض بہت تھکن محسوس کرتا ہے ۔ ہیضہ سے متاثرہ شخص ایک دن میں تقریباََ 20 لیٹر ز سے زیادہfluid اپنے جسم سے ضائع کرتا ہے جس کی وجہ سے پانی کی شدید کمی اور شاک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ شاک کی وجہ سے جسم کا circulatory سٹم متاثر ہو جاتا ہے اوریہ ایک میڈیکل ایمرجنسی کی کیفیت ہے جو کہ موت کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔ شوگر لیول بھی کم ہو جاتا ہے جسے Hypoglycemia بھی کہتے ہیں جو کہ انسان کی بنیادی توانائی کا ماخد ہوتے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب مریض بہت عرصے تک کچھ کھا پی نہیں سکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ پوٹاشیم اور سوڈیم کی سطح (Hypokalemia) بھی گر جاتی ہے کیونکہ ہیضہ کی حالت میں پتلے چاول کے پانی جیسے دستوں اور الٹیوں کی وجہ سے جسم میں نمکیات وغیرہ کی بے حد کمی ہو جاتی ہے جس سے دل اور نروس سسٹم اپنا کام درست طریقے سے انجام نہیں دے پاتے ہیں اور مریض موت کے قریب ہوسکتا ہے ۔ اگرمریض کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو وہ بے حد کمزور اور نڈھال ہو جاتا ہے ۔نظام تنفس اور نظام انہضام پر بھی بہت برُا اثر پڑتا ہے ۔ آنکھیں اندر دھنس جاتی ہیں اور چہرہ زرد ہو جاتا ہے ۔ پانی کی کمی کی وجہ سے چھوٹے بچے خصوصاََ نڈھال ہو جاتے ہیں ۔

اگر مریض کو بر وقت طبی امداد فراہم نہ کی جائے تو اس کی طبیعت مزید اتبر ہو تی جاتی ہے ۔ ہیضے کی تشخیص میں مریض کے تازہ فضلے (Stool) کا لیبارٹری میں طبی معائنہ کیا جاتا ہے جس سے مریض کی درست حالت کا اندازہ لگایا جاتا ہے ۔
ہیضہ کا علاج با آسانی کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ علاج کے فوری انتظامات کرلئے جائیں ۔زیادہ تر مریض فوری طورپر نمکیات ملے محلول پلانے سے ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ لہذا انہیں فوری طورپر Oral Rehydration Solutions (ORS دینے چاہئے ۔ جبکہ بہت زیادہ پانی کی کمی (Dehydration )کے شکار مریضوں میں جن میں شاک کا خطرہ بھی ہوتا ہے انہیں بذریعہ ورید مائع دینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسے مریضوں کو ڈائریا کی مدت کم کرنے کے لئے اور بیکٹریا کے اخراج کو کم کرنے کے لئے تا کہ دوسرے لوگ اس سے محفوظ رہ سکیں ، ڈاکٹر مختلف ادویات اور اینٹی بائیوٹک بھی دیتے ہیں لہذا چاول کے پانی (Rice Water) جیسے پتلے دست اور قے کی صورت میں فوری طور پر اپنے قریبی ڈاکڑ سے رجوع کرنا چاہئے ۔

CDc کے مطابق بچوں کو اگر پانی جیسے دست ہو رہے ہوں تو اس وقت بھی ماں کا دودھ (Breast Milk) جاری رکھنا چاہئے اور بڑے بچوں اور بڑوں کو ہلکا پھلکا کھانا جاری رکھنا چاہئے ۔ خالص جوسز اور بازاری کولڈ ڈرنکس وغیرہ سے مکمل پر ہیز کرنا چاہئے ۔ مسلسل پتلے دستوں کے باعث چونکہ مریض کے جسم میں الیکڑولانٹس کی بے حد کمی ہو جاتی ہے اور پوٹا شیم اور سیوڈیم کی سطح گر جاتی ہے لہذا ایسی حالت میں مریض کو کیلا، کچھڑی ، دلیہ، گوشت کا شوربہ وغیرہ کھانے کو دینا چاہئے ۔ بر وقت اور مناسب علاج اور دیکھ بھال سے ہیضے سے ہونے والی موت کی شرح کو 1 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے ۔

ہیضے جیسے متعدی مرض سے بچنے کے لئے ہمیں ہمارے جسم ، گھر اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف رکھنا چاہیے ۔ پینے کے پانی کی مناسب اور صاف ستھر ی سپلائی کو ممکن بنانا چاہئے ۔ بیت الخلا ء کے سیوریج سسٹم کو پینے کے پانی کی پائپ لائن سے الگ اور محفوظ بنانا چاہئے کہ برسات کے دنوں میں اکثر اوقات پینے کے پانی میں سیوریج کے پانی کی ملاوٹ سے ہیضے سمیت مختلف وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے ۔ فضلے کو باقاعدہ طریقے سے ٹھکانے لگانا چاہئے اور ساتھ ساتھ چھوٹے بچوں کے Pampers کوبھی مناسب طریقے سے الگ کرکے ٹھکانے لگانا چاہئے ۔
پینے کے لئے پانی ، کھانا پکانے کے پانی ، برف جمانے کے لئے ، دانتوں کو برش کرنے کے لئے ، کھانے سے پہلے اور رفع حاجت کے بعد ہاتھوں کو دھونے کے لئے ، کھانے پینے کے برتنوں کو دھونے کے لئے اور پھلوں سبزیوں اور گوشت وغیرہ کو دھونے کے لئے صاف پانی کا استعمال کرناچاہئے ۔ پانی ابال کر یا باقاعدہ فلٹر کیا ہوا پانی استعمال کرنا چاہئے ۔ گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں کو نہیں کھانا چاہئے اور کھانے پینے کے برتنوں اور کھانوں کو مکھیوں سے بچا کر اور ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا چاہئے ۔ بازاری کھانوں اور مشروبات وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہئے اور متوازن اور زرد ہضم غذا استعمال کرنی چاہئے۔

ایک تحقیق کے مطابق ہیضہ F سے پھیلتا ہے ، ان میں Fingers, Floors, Field, Flies, Food, Fluid اور Floads شامل ہیں ۔ لہذا ہمیں ہیضے سے بچائوں کے لئے گندے پانی اور خوراک کے ساتھ ساتھ مکھیوں سے بھی حتیٰ الامکان بچنا چاہئے جو گندی جگہوں اور فضلوں پر بیٹھ کر پھر کھانے پینے کی اشیاء پر بیٹھ کر انہیں جراثیم زدہ کرکے ہمیں بیمار کر دیتی ہیں ۔ ان سب احتیاط کو اپنا کر اور صحت اور صفائی کا خیال رکھتے ہوئے ہم ہیضے اور دیگر متعدی بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار وجود - منگل 06 جنوری 2026

مصدقہ اطلاعات پرکئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن،گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید، نیاز قادر عرف کنگ، حمدان عرف فرید شامل ہیں کارروائی میں 30 عدد امونیم نائٹریٹ سے بھرے ڈرم، 5 دھماکہ خیز سلنڈرز، ایک پرائما کارڈ اور ڈیٹونیٹرز کی بڑی مقدار...

کراچی میںدہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام،2 ہزار کلوگرام بارودی مواد برآمد،3 دہشت گرد گرفتار

عمران خان کا پیغام سندھ کے شہر شہر لے جایا جائے گا،حلیم عادل شیخ وجود - منگل 06 جنوری 2026

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا 9 سے 11 جنوری تک سندھ کا تاریخی دورہ کریں گے،پی ٹی آئی آٹھ فروری یومِ سیاہ کے طور پر منائیں گے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا،پریس کانفرنس پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ...

عمران خان کا پیغام سندھ کے شہر شہر لے جایا جائے گا،حلیم عادل شیخ

وینزویلا میں تیل تک رسائی نہیں دی تودوبارہ حملہ کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ وجود - منگل 06 جنوری 2026

ڈیلسی روڈریگز نے درست کام نہیں کیا تو مادورو سے زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی گرین لینڈ امریکی دفاع کیلئے ضروری ہے ،امریکی صدرکی نائب صدر وینزویلا کو دھمکی واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کر دے ...

وینزویلا میں تیل تک رسائی نہیں دی تودوبارہ حملہ کرینگے، ڈونلڈ ٹرمپ

کراچی میں گندے اور کھلے نالوںقائم فوڈ اسٹالز امراض کا گڑھ بن گئے وجود - منگل 06 جنوری 2026

روشنیوں کا شہر مختلف مسائل کا شکار، ٹوٹی سڑکیں، کھلے نالوں نے شہر کی شکل بگاڑ دی،ماہرین نے صحت کیلئے ہولناک قرار دیدیا ان فوڈ اسٹریٹس اور غذائی اسٹالز میں پہلے ہی حفظان صحت کے اصولوں کا فقدان ہے رہی سہی کسر اڑتی دھول مٹی نے پوری کردی روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی مختلف مسا...

کراچی میں گندے اور کھلے نالوںقائم فوڈ اسٹالز امراض کا گڑھ بن گئے

صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،سہیل آفریدی وجود - منگل 06 جنوری 2026

15 نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا،صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن...

صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،سہیل آفریدی

تحریک انصاف کا 8فروری کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ وجود - پیر 05 جنوری 2026

پنجاب میں احتجاج کی قیادت سہیل آفریدی، خیبرپختونخوا میں شاہد خٹک کریں گے جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے رہیں احتجاج ہر صورت ہوگا، پارٹی ذرائع پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق اس شیڈول احتجاج کے لی...

تحریک انصاف کا 8فروری کو ملک گیر احتجاج کا فیصلہ

بلاول بھٹو کا مشن کراچی کو موئنجو دڑو بنانے کا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 05 جنوری 2026

سندھ کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے،پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کر دیتے ہیں،پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول ...

بلاول بھٹو کا مشن کراچی کو موئنجو دڑو بنانے کا ہے، حافظ نعیم

پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کے سندھ دورے کو حتمی شکل دیدی وجود - پیر 05 جنوری 2026

9 تا 11 جنوری کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا دورہ کریں گے، سلمان اکرم راجا مزارقائد پر حاضری شیڈول میں شامل، دورے سے اسٹریٹ موومنٹ کو نئی رفتار ملے گی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ اپنے دورے کے دوران کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ عوام سے براہِ را...

پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کے سندھ دورے کو حتمی شکل دیدی

وینزویلا صدر نکولس مادورو گرفتار، امریکا سمیت دنیا بھر میں ٹرمپ کیخلاف نعرے بازی وجود - پیر 05 جنوری 2026

اٹلی،ارجنٹائن،پیرس، یونان ، ٹائمز اسکوائر ،شکاگو ،واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میںاحتجاج امریکا کو وینزویلا سمیت کسی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے،مشتعل شرکا کا مطالبہ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے کے خلاف امریکی شہروں سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں ٹرمپ ...

وینزویلا صدر نکولس مادورو گرفتار، امریکا سمیت دنیا بھر میں ٹرمپ کیخلاف نعرے بازی

امریکا کے وینزویلا پرفضائی حملے، امریکی فوجی صدر مادورو اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے وجود - اتوار 04 جنوری 2026

کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے، اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا ،دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی غائب، آسمان میں دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے...

امریکا کے وینزویلا پرفضائی حملے، امریکی فوجی صدر مادورو اور اہلیہ کو بیڈروم سے گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے گئے

پاک فضائیہ کاجدید تیمور کروز میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ وجود - اتوار 04 جنوری 2026

فلائٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ پاک فوج کے سینئر افسران،سائنسدانوں نے کیا، آئی ایس پی آر پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیت سے دشمن خوفزدہ،سائنسدانوںاور انجینئرز کو مبارکباد پاک فضائیہ نے قومی ایرو سپیس اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کیے گئ...

پاک فضائیہ کاجدید تیمور کروز میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ

عمران خان کی نظام بدلنے کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری ، سہیل آفریدی وجود - اتوار 04 جنوری 2026

ظلم و فسطائیت کے نظام میں قومیں نہیں صرف سڑکیں بنتی ہیں، نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکی ، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں، وزیراعلیٰ کا صحت آگہی کانفرنس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہ...

عمران خان کی نظام بدلنے کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری ، سہیل آفریدی

مضامین
قرآن،آئین ِپاکستان اور قائد اعظم وجود منگل 06 جنوری 2026
قرآن،آئین ِپاکستان اور قائد اعظم

مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ وجود منگل 06 جنوری 2026
مقبوضہ کشمیر سے ہندو پنڈتوں کاانخلائ

اکیسویں صدی کی لڑائیاں وجود منگل 06 جنوری 2026
اکیسویں صدی کی لڑائیاں

2025 ۔۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا سال وجود پیر 05 جنوری 2026
2025 ۔۔بھارت کی سفارتی تنہائی کا سال

بھارت کی خوفناک آبی دہشت گردی وجود پیر 05 جنوری 2026
بھارت کی خوفناک آبی دہشت گردی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر