وجود

... loading ...

وجود

ہیضہ۔۔۔۔ ایک متعدی مرض

منگل 27 فروری 2018 ہیضہ۔۔۔۔ ایک متعدی مرض

ہیضہ ایک متعدی مرض ہے جو ایک بیکٹریم (Vibrio Cholera) کے ذریعے پھیلتا ہے ۔ یہ زیادہ تر گندے پانی اور خوراک کی وجہ سے پھیلتی ہے اور پرانے اور باسی خوراک کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی بھی اس کے پھیلنے کا ذریعہ بنتی ہیں ۔ ہیضہ کا بیکٹریا 1854 ء میں ایک اٹالین اینا ٹومسٹ Flippo Pacini نے دریافت کیا جبکہ ایک میڈیکل سائنسدان John Snow نے 1854 ء میں ہیضہ (Cholera) اور گندے پینے کے پانی کے درمیان تعلق کو دریافت کیا اور پھر 1883 ء میں ایک جرمن بیکٹریا لوجسٹ (Bacteriologist) Robert Koch نے ہیضہ کے بیکٹریا Bacillus کو مائیکرو سکوپ کے ذریعے دریافت کیا جو کہ ہیضے کی بیماری (Cholera) پھیلانے کا باعث بنتا ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ہیضہ کے تقریباََ 3-5 ملین کیسز سامنے آتے ہیں جبکہ تقریباََ 100,000 اموات پوری دنیا میں ہیضہ کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔Cholera Vibrio کے بہت سے سیروگروپس(Serogroups) ہوتے ہیں لیکن صرف دو 01 اور 0139 ہی ہیضہ پھیلانے کے ذمہ دار پائے گئے ۔ 0139 کو پہلی بار 1992 ء میں بنگلہ دیش میں دریافت کیا گیا۔ دنیا بھر میں تقریباََ 1-8 بلین لوگ گند ے پانی سے اپنی پیاس بجھانے پر مجبور ہیں جس میں فضلہ کی ملاوٹ ہوتی ہے اور یہ لوگ ہیضے کے انفیکشن کے کیریئر ہوتے ہیں جبکہ تقریباََ 2.4 بلین افراد نامناسب صفائی ستھرائی والے ماحول میں ا پنی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

ہیضے کا بیکٹریا مریض کی الٹی اور دست وغیرہ سے خارج ہو کر پانی یا دودھ میں شامل ہو کر تندرست آدمی کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے ۔ کنوئیں کے پانی جہاں لوگ بیٹھ کر فضلے کا اخراج کر تے ہیں ، کا استعمال بھی اس بیماری کو پھیلانے کا سبب بنتا ہے ۔ ہیضہ زیادہ تر گندے پانی کی سپلائی ، گندے پانی سے بنے برف ، بارش کے موسم کے بعد ہر جگہ غیر معیاری قسم کے خوراک (پکوڑے ، سموسے ، مٹھائیاں وغیرہ) اور دیگرمشروبات وغیرہ کھلے عام کچروں اور جمع ہوئے پانی پر کھڑے فروخت ہو رہے ہیں ، سے پھیلتا ہے اور لوگ ان سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ان ناقص اور غیر معیاری قسم کے کھانے پینے کی اشیاء سے انصاف کرنے کے لئے خود اپنے اور اپنے پیاروں کے ساتھ نا انصافی کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور مختلف بیماریوں کا شکار بن رہے ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ سبزیاں اور پھل جو گندے اور فضلے کے ملاوٹ والے پانی سے کاشت کئے گئے ہوں ، کچے ہوں اور ٹھیک طریقے سے نہ پکے ہوئے کھانوں اور گندے پانی کے ذخائر میں موجود مچھلیوں اور سمندری کھانوں سے بھی ہیضہ کا بیکٹریا انسانی جسم میں منتقل ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ گھروں کے پانی کے پائپ لائن میں بارش کے دنوں میں سیوریج کی لائن آپس میں مل جانے سے بھی صاف پانی میں Cholera کی ملا وٹ ہو سکتی ہے ۔ جب شخص ان گندی خوراک اور پانی کو کھاتا پیتا ہے تو بیکٹریا معدے میں ایک Toxin خارج کرتا ہے جو شدید ڈائریا کا باعث بنتا ہے ۔ وہ لوگ جن میں قوت مدافعت کی کمی ہوتی ہے اور وہ لوگ جو ایڈز جیسے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں وہ جلدی اسکا شکار بنتے ہیں اور بالخصوص وہ بچے جو جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہیں ان میں یہ بیماری جلدی اور شدت سے اپنا اثر دکھاتی ہے ۔

گندے پانی اور خوراک کے ذریعے بیکٹریا انسانی جسم میں داخل ہونے کے تقریباََ کچھ گھنٹوں سے لے کر پانچ دنوں کے ا ندر متاثرہ شخص میں ہیضے کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ہیضہ کی بیماری بچوں اور بڑوں دونوں کو متاثر کر سکتی ہے مگر بچوں میں ان کے کم قوت مدافعت کی وجہ سے زیادہ کیسز سامنے آتے ہیں ۔زیادہ تر متاثرہ افراد میں ہیضے سے متاثر ہونے کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں اگرچہ ان کے فضلے میں 1-10 دن تک یہ بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو ماحول میں آکر دوسرے لوگوں میں بھی انفیکشن پھیلانے کا باعث بنتے ہیں ۔ ہیضے کی بیماری کی خاص علامات میں چاول کے پانی (Rice Water) جیسے پتلے دست جس میں مچھلی کی بو (Fishy Smell) ہوتی ہے ۔ الٹیاں (Vomiting) ٹانگوں اور جوڑوں میں شدید درد ہوتا ہے ۔ باربارقے اور دستوں کی وجہ سے جسم میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے ۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں اور منہ کے اندر ، گلے ، ناک اورآنکھ کے پپوٹوں کی جگہ خشک ہونے لگتی ہے ۔ بلڈ پریشربہت کم ہو جاتا ہے اور پیاس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے ۔

شدید ڈائریا کی صورت میں شدید پانی کی کمی اور الیکڑولائنس کی کمی ہو جاتی ہے جس کے باعث ہیضے کو blue death بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ پانی کی کمی کے باعث متاثرہ شخص کی جلد Blusish Gray رنگ کی ہو جاتی ہے ۔
متاثرہ شخص کو بخار بھی ہو جاتا ہے اور مریض بہت تھکن محسوس کرتا ہے ۔ ہیضہ سے متاثرہ شخص ایک دن میں تقریباََ 20 لیٹر ز سے زیادہfluid اپنے جسم سے ضائع کرتا ہے جس کی وجہ سے پانی کی شدید کمی اور شاک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ شاک کی وجہ سے جسم کا circulatory سٹم متاثر ہو جاتا ہے اوریہ ایک میڈیکل ایمرجنسی کی کیفیت ہے جو کہ موت کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔ شوگر لیول بھی کم ہو جاتا ہے جسے Hypoglycemia بھی کہتے ہیں جو کہ انسان کی بنیادی توانائی کا ماخد ہوتے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب مریض بہت عرصے تک کچھ کھا پی نہیں سکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ پوٹاشیم اور سوڈیم کی سطح (Hypokalemia) بھی گر جاتی ہے کیونکہ ہیضہ کی حالت میں پتلے چاول کے پانی جیسے دستوں اور الٹیوں کی وجہ سے جسم میں نمکیات وغیرہ کی بے حد کمی ہو جاتی ہے جس سے دل اور نروس سسٹم اپنا کام درست طریقے سے انجام نہیں دے پاتے ہیں اور مریض موت کے قریب ہوسکتا ہے ۔ اگرمریض کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو وہ بے حد کمزور اور نڈھال ہو جاتا ہے ۔نظام تنفس اور نظام انہضام پر بھی بہت برُا اثر پڑتا ہے ۔ آنکھیں اندر دھنس جاتی ہیں اور چہرہ زرد ہو جاتا ہے ۔ پانی کی کمی کی وجہ سے چھوٹے بچے خصوصاََ نڈھال ہو جاتے ہیں ۔

اگر مریض کو بر وقت طبی امداد فراہم نہ کی جائے تو اس کی طبیعت مزید اتبر ہو تی جاتی ہے ۔ ہیضے کی تشخیص میں مریض کے تازہ فضلے (Stool) کا لیبارٹری میں طبی معائنہ کیا جاتا ہے جس سے مریض کی درست حالت کا اندازہ لگایا جاتا ہے ۔
ہیضہ کا علاج با آسانی کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ علاج کے فوری انتظامات کرلئے جائیں ۔زیادہ تر مریض فوری طورپر نمکیات ملے محلول پلانے سے ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ لہذا انہیں فوری طورپر Oral Rehydration Solutions (ORS دینے چاہئے ۔ جبکہ بہت زیادہ پانی کی کمی (Dehydration )کے شکار مریضوں میں جن میں شاک کا خطرہ بھی ہوتا ہے انہیں بذریعہ ورید مائع دینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسے مریضوں کو ڈائریا کی مدت کم کرنے کے لئے اور بیکٹریا کے اخراج کو کم کرنے کے لئے تا کہ دوسرے لوگ اس سے محفوظ رہ سکیں ، ڈاکٹر مختلف ادویات اور اینٹی بائیوٹک بھی دیتے ہیں لہذا چاول کے پانی (Rice Water) جیسے پتلے دست اور قے کی صورت میں فوری طور پر اپنے قریبی ڈاکڑ سے رجوع کرنا چاہئے ۔

CDc کے مطابق بچوں کو اگر پانی جیسے دست ہو رہے ہوں تو اس وقت بھی ماں کا دودھ (Breast Milk) جاری رکھنا چاہئے اور بڑے بچوں اور بڑوں کو ہلکا پھلکا کھانا جاری رکھنا چاہئے ۔ خالص جوسز اور بازاری کولڈ ڈرنکس وغیرہ سے مکمل پر ہیز کرنا چاہئے ۔ مسلسل پتلے دستوں کے باعث چونکہ مریض کے جسم میں الیکڑولانٹس کی بے حد کمی ہو جاتی ہے اور پوٹا شیم اور سیوڈیم کی سطح گر جاتی ہے لہذا ایسی حالت میں مریض کو کیلا، کچھڑی ، دلیہ، گوشت کا شوربہ وغیرہ کھانے کو دینا چاہئے ۔ بر وقت اور مناسب علاج اور دیکھ بھال سے ہیضے سے ہونے والی موت کی شرح کو 1 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے ۔

ہیضے جیسے متعدی مرض سے بچنے کے لئے ہمیں ہمارے جسم ، گھر اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف رکھنا چاہیے ۔ پینے کے پانی کی مناسب اور صاف ستھر ی سپلائی کو ممکن بنانا چاہئے ۔ بیت الخلا ء کے سیوریج سسٹم کو پینے کے پانی کی پائپ لائن سے الگ اور محفوظ بنانا چاہئے کہ برسات کے دنوں میں اکثر اوقات پینے کے پانی میں سیوریج کے پانی کی ملاوٹ سے ہیضے سمیت مختلف وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے ۔ فضلے کو باقاعدہ طریقے سے ٹھکانے لگانا چاہئے اور ساتھ ساتھ چھوٹے بچوں کے Pampers کوبھی مناسب طریقے سے الگ کرکے ٹھکانے لگانا چاہئے ۔
پینے کے لئے پانی ، کھانا پکانے کے پانی ، برف جمانے کے لئے ، دانتوں کو برش کرنے کے لئے ، کھانے سے پہلے اور رفع حاجت کے بعد ہاتھوں کو دھونے کے لئے ، کھانے پینے کے برتنوں کو دھونے کے لئے اور پھلوں سبزیوں اور گوشت وغیرہ کو دھونے کے لئے صاف پانی کا استعمال کرناچاہئے ۔ پانی ابال کر یا باقاعدہ فلٹر کیا ہوا پانی استعمال کرنا چاہئے ۔ گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں کو نہیں کھانا چاہئے اور کھانے پینے کے برتنوں اور کھانوں کو مکھیوں سے بچا کر اور ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا چاہئے ۔ بازاری کھانوں اور مشروبات وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہئے اور متوازن اور زرد ہضم غذا استعمال کرنی چاہئے۔

ایک تحقیق کے مطابق ہیضہ F سے پھیلتا ہے ، ان میں Fingers, Floors, Field, Flies, Food, Fluid اور Floads شامل ہیں ۔ لہذا ہمیں ہیضے سے بچائوں کے لئے گندے پانی اور خوراک کے ساتھ ساتھ مکھیوں سے بھی حتیٰ الامکان بچنا چاہئے جو گندی جگہوں اور فضلوں پر بیٹھ کر پھر کھانے پینے کی اشیاء پر بیٹھ کر انہیں جراثیم زدہ کرکے ہمیں بیمار کر دیتی ہیں ۔ ان سب احتیاط کو اپنا کر اور صحت اور صفائی کا خیال رکھتے ہوئے ہم ہیضے اور دیگر متعدی بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس وجود - بدھ 08 اپریل 2026

سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

پی ٹی آئی نے نامزر امیدوار کے علاوہ کسی کو کاغذات جمع کروانے سے روک دیا الیکشن کمیشن کا سینیٹ کی خالی جنرل نشست پر ضمنی انتخاب کا باضابطہ شیڈول جاری سابق وفاقی وزیر و مراد سعید کی سینیٹ کی خالی نشست پر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے امیدوار فائنل کردیا۔ ذرائع کے مطابق پا...

تحریک انصاف کا عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان وجود - منگل 07 اپریل 2026

ہم پر امن لوگ ، احتجاج کرنا ہمارا آئینی حق ، اگر ہمیں روکا گیا تو جو جہاں ہوگا وہیں احتجاج ہوگا حکومت جلسے کا این او سی دے، ہر انتظام ہم خود کریں گے،پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کردیا...

پی ٹی آئی کا 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر وجود - پیر 06 اپریل 2026

کویت میں ، شوائخ آئل سیکٹر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2پاور پلانٹس اور سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کا اصفہان میں ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعوی امریکا، اسرائیل نے ایرانی تعلیمی اداروں کو ہدف بنا لیا، 30جامعات متاثر،لیزراینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھنڈر میں تبدیل،...

ٹرمپ کی ڈیڈلائن مسترد، ایران کے اسرائیل،کویت پر حملے، متحدہ عرب امارات جنگ میں شامل، ایران کے نشانے پر

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار وجود - پیر 06 اپریل 2026

سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرانتظامیہ نیپریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا، شیلنگ کے دوران کارکنان کا پولیس پر پتھرائو،کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا، پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے و دیگر دفعات پر کارروائی ہوگی(ا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، کراچی میں پی ٹی آئی کا مہنگائی کیخلاف احتجاج، پولیس کا دھاوا، متعدد کارکن گرفتار

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے وجود - پیر 06 اپریل 2026

اسرائیلی فوج کے کمانڈر کا لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف اس گروہ کی طاقت چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت ...

حزب اللہ کی جنگی صلاحیت نے اسرائیلی فوج کے ہوش اُڑا دیے

مضامین
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد وجود بدھ 08 اپریل 2026
بھارتیوں کی امریکہ میں غیر قانونی آمد

پاکستان میں مہنگائی کا طوفان وجود بدھ 08 اپریل 2026
پاکستان میں مہنگائی کا طوفان

امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی! وجود منگل 07 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی ہیکڑی نکل گئی!

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں وجود منگل 07 اپریل 2026
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر وجود منگل 07 اپریل 2026
چین یورپ کازیادہ اسٹریٹجک اقتصادی پارٹنر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر