وجود

... loading ...

وجود

ہیضہ۔۔۔۔ ایک متعدی مرض

منگل 27 فروری 2018 ہیضہ۔۔۔۔ ایک متعدی مرض

ہیضہ ایک متعدی مرض ہے جو ایک بیکٹریم (Vibrio Cholera) کے ذریعے پھیلتا ہے ۔ یہ زیادہ تر گندے پانی اور خوراک کی وجہ سے پھیلتی ہے اور پرانے اور باسی خوراک کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی بھی اس کے پھیلنے کا ذریعہ بنتی ہیں ۔ ہیضہ کا بیکٹریا 1854 ء میں ایک اٹالین اینا ٹومسٹ Flippo Pacini نے دریافت کیا جبکہ ایک میڈیکل سائنسدان John Snow نے 1854 ء میں ہیضہ (Cholera) اور گندے پینے کے پانی کے درمیان تعلق کو دریافت کیا اور پھر 1883 ء میں ایک جرمن بیکٹریا لوجسٹ (Bacteriologist) Robert Koch نے ہیضہ کے بیکٹریا Bacillus کو مائیکرو سکوپ کے ذریعے دریافت کیا جو کہ ہیضے کی بیماری (Cholera) پھیلانے کا باعث بنتا ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ہیضہ کے تقریباََ 3-5 ملین کیسز سامنے آتے ہیں جبکہ تقریباََ 100,000 اموات پوری دنیا میں ہیضہ کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔Cholera Vibrio کے بہت سے سیروگروپس(Serogroups) ہوتے ہیں لیکن صرف دو 01 اور 0139 ہی ہیضہ پھیلانے کے ذمہ دار پائے گئے ۔ 0139 کو پہلی بار 1992 ء میں بنگلہ دیش میں دریافت کیا گیا۔ دنیا بھر میں تقریباََ 1-8 بلین لوگ گند ے پانی سے اپنی پیاس بجھانے پر مجبور ہیں جس میں فضلہ کی ملاوٹ ہوتی ہے اور یہ لوگ ہیضے کے انفیکشن کے کیریئر ہوتے ہیں جبکہ تقریباََ 2.4 بلین افراد نامناسب صفائی ستھرائی والے ماحول میں ا پنی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

ہیضے کا بیکٹریا مریض کی الٹی اور دست وغیرہ سے خارج ہو کر پانی یا دودھ میں شامل ہو کر تندرست آدمی کے جسم میں داخل ہو سکتا ہے ۔ کنوئیں کے پانی جہاں لوگ بیٹھ کر فضلے کا اخراج کر تے ہیں ، کا استعمال بھی اس بیماری کو پھیلانے کا سبب بنتا ہے ۔ ہیضہ زیادہ تر گندے پانی کی سپلائی ، گندے پانی سے بنے برف ، بارش کے موسم کے بعد ہر جگہ غیر معیاری قسم کے خوراک (پکوڑے ، سموسے ، مٹھائیاں وغیرہ) اور دیگرمشروبات وغیرہ کھلے عام کچروں اور جمع ہوئے پانی پر کھڑے فروخت ہو رہے ہیں ، سے پھیلتا ہے اور لوگ ان سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ان ناقص اور غیر معیاری قسم کے کھانے پینے کی اشیاء سے انصاف کرنے کے لئے خود اپنے اور اپنے پیاروں کے ساتھ نا انصافی کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور مختلف بیماریوں کا شکار بن رہے ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ وہ سبزیاں اور پھل جو گندے اور فضلے کے ملاوٹ والے پانی سے کاشت کئے گئے ہوں ، کچے ہوں اور ٹھیک طریقے سے نہ پکے ہوئے کھانوں اور گندے پانی کے ذخائر میں موجود مچھلیوں اور سمندری کھانوں سے بھی ہیضہ کا بیکٹریا انسانی جسم میں منتقل ہو سکتا ہے ۔اس کے علاوہ گھروں کے پانی کے پائپ لائن میں بارش کے دنوں میں سیوریج کی لائن آپس میں مل جانے سے بھی صاف پانی میں Cholera کی ملا وٹ ہو سکتی ہے ۔ جب شخص ان گندی خوراک اور پانی کو کھاتا پیتا ہے تو بیکٹریا معدے میں ایک Toxin خارج کرتا ہے جو شدید ڈائریا کا باعث بنتا ہے ۔ وہ لوگ جن میں قوت مدافعت کی کمی ہوتی ہے اور وہ لوگ جو ایڈز جیسے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں وہ جلدی اسکا شکار بنتے ہیں اور بالخصوص وہ بچے جو جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہیں ان میں یہ بیماری جلدی اور شدت سے اپنا اثر دکھاتی ہے ۔

گندے پانی اور خوراک کے ذریعے بیکٹریا انسانی جسم میں داخل ہونے کے تقریباََ کچھ گھنٹوں سے لے کر پانچ دنوں کے ا ندر متاثرہ شخص میں ہیضے کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ہیضہ کی بیماری بچوں اور بڑوں دونوں کو متاثر کر سکتی ہے مگر بچوں میں ان کے کم قوت مدافعت کی وجہ سے زیادہ کیسز سامنے آتے ہیں ۔زیادہ تر متاثرہ افراد میں ہیضے سے متاثر ہونے کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں اگرچہ ان کے فضلے میں 1-10 دن تک یہ بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو ماحول میں آکر دوسرے لوگوں میں بھی انفیکشن پھیلانے کا باعث بنتے ہیں ۔ ہیضے کی بیماری کی خاص علامات میں چاول کے پانی (Rice Water) جیسے پتلے دست جس میں مچھلی کی بو (Fishy Smell) ہوتی ہے ۔ الٹیاں (Vomiting) ٹانگوں اور جوڑوں میں شدید درد ہوتا ہے ۔ باربارقے اور دستوں کی وجہ سے جسم میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے ۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں اور منہ کے اندر ، گلے ، ناک اورآنکھ کے پپوٹوں کی جگہ خشک ہونے لگتی ہے ۔ بلڈ پریشربہت کم ہو جاتا ہے اور پیاس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے ۔

شدید ڈائریا کی صورت میں شدید پانی کی کمی اور الیکڑولائنس کی کمی ہو جاتی ہے جس کے باعث ہیضے کو blue death بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں بہت زیادہ پانی کی کمی کے باعث متاثرہ شخص کی جلد Blusish Gray رنگ کی ہو جاتی ہے ۔
متاثرہ شخص کو بخار بھی ہو جاتا ہے اور مریض بہت تھکن محسوس کرتا ہے ۔ ہیضہ سے متاثرہ شخص ایک دن میں تقریباََ 20 لیٹر ز سے زیادہfluid اپنے جسم سے ضائع کرتا ہے جس کی وجہ سے پانی کی شدید کمی اور شاک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ شاک کی وجہ سے جسم کا circulatory سٹم متاثر ہو جاتا ہے اوریہ ایک میڈیکل ایمرجنسی کی کیفیت ہے جو کہ موت کا سبب بھی بن سکتی ہے ۔ شوگر لیول بھی کم ہو جاتا ہے جسے Hypoglycemia بھی کہتے ہیں جو کہ انسان کی بنیادی توانائی کا ماخد ہوتے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب مریض بہت عرصے تک کچھ کھا پی نہیں سکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ پوٹاشیم اور سوڈیم کی سطح (Hypokalemia) بھی گر جاتی ہے کیونکہ ہیضہ کی حالت میں پتلے چاول کے پانی جیسے دستوں اور الٹیوں کی وجہ سے جسم میں نمکیات وغیرہ کی بے حد کمی ہو جاتی ہے جس سے دل اور نروس سسٹم اپنا کام درست طریقے سے انجام نہیں دے پاتے ہیں اور مریض موت کے قریب ہوسکتا ہے ۔ اگرمریض کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو وہ بے حد کمزور اور نڈھال ہو جاتا ہے ۔نظام تنفس اور نظام انہضام پر بھی بہت برُا اثر پڑتا ہے ۔ آنکھیں اندر دھنس جاتی ہیں اور چہرہ زرد ہو جاتا ہے ۔ پانی کی کمی کی وجہ سے چھوٹے بچے خصوصاََ نڈھال ہو جاتے ہیں ۔

اگر مریض کو بر وقت طبی امداد فراہم نہ کی جائے تو اس کی طبیعت مزید اتبر ہو تی جاتی ہے ۔ ہیضے کی تشخیص میں مریض کے تازہ فضلے (Stool) کا لیبارٹری میں طبی معائنہ کیا جاتا ہے جس سے مریض کی درست حالت کا اندازہ لگایا جاتا ہے ۔
ہیضہ کا علاج با آسانی کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ علاج کے فوری انتظامات کرلئے جائیں ۔زیادہ تر مریض فوری طورپر نمکیات ملے محلول پلانے سے ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ لہذا انہیں فوری طورپر Oral Rehydration Solutions (ORS دینے چاہئے ۔ جبکہ بہت زیادہ پانی کی کمی (Dehydration )کے شکار مریضوں میں جن میں شاک کا خطرہ بھی ہوتا ہے انہیں بذریعہ ورید مائع دینے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسے مریضوں کو ڈائریا کی مدت کم کرنے کے لئے اور بیکٹریا کے اخراج کو کم کرنے کے لئے تا کہ دوسرے لوگ اس سے محفوظ رہ سکیں ، ڈاکٹر مختلف ادویات اور اینٹی بائیوٹک بھی دیتے ہیں لہذا چاول کے پانی (Rice Water) جیسے پتلے دست اور قے کی صورت میں فوری طور پر اپنے قریبی ڈاکڑ سے رجوع کرنا چاہئے ۔

CDc کے مطابق بچوں کو اگر پانی جیسے دست ہو رہے ہوں تو اس وقت بھی ماں کا دودھ (Breast Milk) جاری رکھنا چاہئے اور بڑے بچوں اور بڑوں کو ہلکا پھلکا کھانا جاری رکھنا چاہئے ۔ خالص جوسز اور بازاری کولڈ ڈرنکس وغیرہ سے مکمل پر ہیز کرنا چاہئے ۔ مسلسل پتلے دستوں کے باعث چونکہ مریض کے جسم میں الیکڑولانٹس کی بے حد کمی ہو جاتی ہے اور پوٹا شیم اور سیوڈیم کی سطح گر جاتی ہے لہذا ایسی حالت میں مریض کو کیلا، کچھڑی ، دلیہ، گوشت کا شوربہ وغیرہ کھانے کو دینا چاہئے ۔ بر وقت اور مناسب علاج اور دیکھ بھال سے ہیضے سے ہونے والی موت کی شرح کو 1 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے ۔

ہیضے جیسے متعدی مرض سے بچنے کے لئے ہمیں ہمارے جسم ، گھر اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف رکھنا چاہیے ۔ پینے کے پانی کی مناسب اور صاف ستھر ی سپلائی کو ممکن بنانا چاہئے ۔ بیت الخلا ء کے سیوریج سسٹم کو پینے کے پانی کی پائپ لائن سے الگ اور محفوظ بنانا چاہئے کہ برسات کے دنوں میں اکثر اوقات پینے کے پانی میں سیوریج کے پانی کی ملاوٹ سے ہیضے سمیت مختلف وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے ۔ فضلے کو باقاعدہ طریقے سے ٹھکانے لگانا چاہئے اور ساتھ ساتھ چھوٹے بچوں کے Pampers کوبھی مناسب طریقے سے الگ کرکے ٹھکانے لگانا چاہئے ۔
پینے کے لئے پانی ، کھانا پکانے کے پانی ، برف جمانے کے لئے ، دانتوں کو برش کرنے کے لئے ، کھانے سے پہلے اور رفع حاجت کے بعد ہاتھوں کو دھونے کے لئے ، کھانے پینے کے برتنوں کو دھونے کے لئے اور پھلوں سبزیوں اور گوشت وغیرہ کو دھونے کے لئے صاف پانی کا استعمال کرناچاہئے ۔ پانی ابال کر یا باقاعدہ فلٹر کیا ہوا پانی استعمال کرنا چاہئے ۔ گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں کو نہیں کھانا چاہئے اور کھانے پینے کے برتنوں اور کھانوں کو مکھیوں سے بچا کر اور ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا چاہئے ۔ بازاری کھانوں اور مشروبات وغیرہ سے پرہیز کرنا چاہئے اور متوازن اور زرد ہضم غذا استعمال کرنی چاہئے۔

ایک تحقیق کے مطابق ہیضہ F سے پھیلتا ہے ، ان میں Fingers, Floors, Field, Flies, Food, Fluid اور Floads شامل ہیں ۔ لہذا ہمیں ہیضے سے بچائوں کے لئے گندے پانی اور خوراک کے ساتھ ساتھ مکھیوں سے بھی حتیٰ الامکان بچنا چاہئے جو گندی جگہوں اور فضلوں پر بیٹھ کر پھر کھانے پینے کی اشیاء پر بیٹھ کر انہیں جراثیم زدہ کرکے ہمیں بیمار کر دیتی ہیں ۔ ان سب احتیاط کو اپنا کر اور صحت اور صفائی کا خیال رکھتے ہوئے ہم ہیضے اور دیگر متعدی بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ وجود - جمعرات 12 فروری 2026

فیصلے بند کمروں میں نہیں پارلیمانی فورم پر کھل کر مشاورت کرنی چاہیے،قومی یکجہتی کیلئے شفاف انتخابات اور حقیقی جمہوری عمل ناگزیر ہیں، غلط فیصلوں کی مخالفت کی جائے گی، سربراہ جے یو آئی خیبر پختونخوا حکومت بے اختیار ،اہم فیصلے وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں،موجودہ حکومت دھاند...

ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں، مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی وجود - جمعرات 12 فروری 2026

خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کرینگے جس میں ہمارا نقصان ہو، میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا، 5 ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا،وزیراعلیٰ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاق کی ذمہ داری ،جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے...

آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ،اقتدار مستقل نہیں ہوتا، ہرظلم کا حساب لیں گے،سہیل آفریدی

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع وجود - جمعرات 12 فروری 2026

سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا پاکستان کے اندر تمام اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، میڈیا نمائندگان سے ملاقات سیکیورٹی ذرائع نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے پاک فوج کے حوالے سے حالیہ بیان کو ان...

اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پرحالیہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے، سیکیورٹی ذرائع

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا وجود - جمعرات 12 فروری 2026

ہم حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسی کا حصہ نہیں، شازیہ مری سولرپینل صارفین کیساتھ دھوکا ، وہ کیسے اپنا نقصان پورا کریں گے؟میڈیا سے گفتگو پاکستان پیپلز پارٹی نے نیپرا کے نئے سولر نیٹ میٹرنگ قواعد پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئ...

سولرنیٹ میٹرنگ کے نئے قواعد،پیپلز پارٹی نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے وجود - جمعرات 12 فروری 2026

دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے بنوں میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ڈی آئی جی سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں نے رات گئے پولیس اسٹیشن احمدزالی اور پولیس چوکی فتح خیل پرحملے کیے۔ سجاد خان نے بتایا...

بنوںمیں پولیس فائرنگ کا تبادلہ ، 3 دہشتگرد ہلاک،9 زخمی ہوگئے

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو وجود - جمعرات 12 فروری 2026

شہری خود پریشان ، شہر بھر میں گوشت فروشوں کی من مانے نرخ وصولی انتظامیہ کی کارروائیاں بے سود، سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا شہری خود ساختہ مہنگائی سے پریشان ہیں، دکانوں پر مٹن، بیف اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو گئیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں مؤثر دکھائی نہیں ...

خود ساختہ مہنگائی عروج پر،مٹن، بیف،چکن کی قیمتیں بے قابو

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ وجود - بدھ 11 فروری 2026

جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے شہر کو جرائم سے پاک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، دہشتگرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میںزیادہ کارروائیاں کر رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی فرانزک لیب کی سہولت میں وقت لگے گا ، پراجیکٹ کی تکمیل میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے، فتنہ الخوارج اور فتن...

کراچی میں دہشت گردی کا خطرہ،قانون نافذ کرنیوالے ادارے الرٹ

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی وجود - بدھ 11 فروری 2026

امن ہوگا تو خوشحالی آئیگی، صوبے کے عوام کے حقوق کیلئے ہر شخص کے ساتھ بیٹھوں گا خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے،ہم ڈرنے والے نہیں ،کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو۔تجربہ گاہ نہیں بنائیں گے، صوبے کے عوام کے حقوق کے...

سیاست کیلئے کبھی کسی کے در پر نہیں جاؤں گا،سہیل آفریدی

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع وجود - بدھ 11 فروری 2026

پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت منعقد ہوگا شہباز شریف دورہ جرمنی مکمل کرنے کے بعد وہیں سے واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے وزیراعظم شہباز شریف غزہ پیس بورڈ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس 19 فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ...

وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کرینگے،ذرائع

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد وجود - پیر 09 فروری 2026

8 فروری الیکشن کو 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا احتجاج، مختلف شہروں میں شٹر ڈاؤن، آواز بلند کرنے کا مقصد انتخابات میں بے ضابطگیوں کیخلاف عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کا مطالبہ ہے، پارٹی ترجمان پاکستانی قوم کی سیاسی پختگی اور جمہوری شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، آئیے مل کر اس گرتے ہوئے نظام ک...

مینڈیٹ چوری کیخلاف عوام کا بھرپور احتجاج، اپوزیشن اتحاد کی کامیاب ہڑتال پر مبارکباد

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ) وجود - پیر 09 فروری 2026

اتوارکے روز شہریوں نے دکانیں کھولی،سانحہ گل پلازہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں، وزیر اعلیٰ کی میڈیا سے گفتگو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے اپوزیشن جماعتیں احتجاج کی سیاست نہ کریں ایوان میں آئیں۔شہرِ قائد میں ...

ملک بھرمیں تحریک انصاف کی پہیہ جام کال مسترد(مراد علی شاہ)

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان وجود - پیر 09 فروری 2026

دہشت گرد آرہے ہیں تو ماردیں کس نے روکا ہے،نیتن یاہو کے ساتھ امن بورڈ میں بیٹھنے پر شرم آنی چاہیے، سربراہ جے یو آئی ہم نے روش بھانپ کر عمران خان سے اختلاف کیا تھا تو آپ اس سے دو قدم آگے ہیں، ہم بھی دو قدم آگے ہوں گے، خطاب جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل ا...

افغانستان سے ایک انار نہیں آسکتا لیکن دہشت گرد آرہے ہیں، فضل الرحمان

مضامین
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری وجود جمعه 13 فروری 2026
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت وجود جمعه 13 فروری 2026
ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے! وجود جمعه 13 فروری 2026
ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!

پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ وجود جمعه 13 فروری 2026
پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ

پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر