وجود

... loading ...

وجود

تندرست و تواناجسم کے لیےغذائیں

منگل 27 فروری 2018 تندرست و تواناجسم کے لیےغذائیں

انسانی جسم کی نشو نما ایک مکان کی تعمیر سے مشابہت رکھتی ہے جب ہم کوئی مکان بنانا چاہتے ہیں تو مختلف تعمیر اشیاء کو منتخب کیا جاتا ہے ۔ اچھی یا ناقص تعمیر کا انحصار تعمیری اشیاء کی اچھائی یا برائی پر ہوتا ہے۔ بالکل یہی حال سمانی عمارت کی نشو نما کا ہے اگر تعمیر خراب ہوگئی تو اسے ہمیشہ مرمت کی ضرورت پیش آتی رہے گی اور ہم آئے دن نئی نئی بیماریوں میں گھرے رہیں گے۔ لہٰذا تندرستی قائم رکھنے کیلئے انسانی بدن کو درج ذیل چیزوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔
کلورین:پیٹ انتڑیوں اور جسم کی صفائی کرتا ہے ڈاکٹر لوگ ٹائیفائیڈ میں کلورین مکسثر استعمال کراتے ہیں یہ چربی کو گھٹاتا اور زہریلے مادوں کو نکالتا ہے۔کلورین ہاضمے کو قوت دیتا جسم سے غلاظت کو باہر پھینکتا اور قبض کو رفع کرتا ہے اس کی کمی سے زکام ہوجاتا ہے۔ پیٹ پھو ل جاتا ہے۔ گردے کی بیماری اور دانتوں سے خون آنا کلورین کی کمی ظاہر کرتے ہیں ان چیزوں میں کلورین زیادہ پایا جاتا ہے۔ پالک، مولی، گاجر، ٹماٹر، بند گوبھی اور بکری کا دودھ۔
میگنیشیم:یہ پٹھوں کو طاقت دیتا ہے دماغ اور اعصاب کی پرورش کرتا ہے اور قبض کشا ہے۔ معمولی میگنیشیم کی ایک چٹکی گرم پانی میں گھول کر پینا درد دل اور پیٹ کے مروڑ کو دور کرتا ہے ۔ جس آدمی کے مزاج میں ترشی ہوا سے میگنیشیم کی ضرورت ہے ان چیزوں میں میگنیشیم کافی مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ سیب، انجیر، پالک، سنگترہ، آلو بخارہ، ٹماٹر۔
گندھک:یہ جگر سے صفراء کا اخراج بڑہاتی اور اندرونی حرارت اور طاقت پیدا کرتی ہے۔ خون کو صاف کرکے لد کو خوبصورت بناتی ہے۔ گٹھیا اور جلدی امراض کے زہروں کو خارج کرتی ہے اور موٹے آدمیوں کیلئے گندھک والی غذا ضروری ہے اس کی کمی سے جلدی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ان اشیاء میں گندھک پائی اتی ہے۔ مولی، لہسن، پیاز، بند گوبھی، پھول گوبھی
فولاد:فولاد خون کا بڑا جزو ہے۔ مقناطیسی طاقت پیدا کرتا ہے خون کو سرخ اور دماغ کو چست بناتا ہے۔ چہرے کی رنگت زرد، چڑچڑا مزاج، ہاتھ پائوں کا سرد رہنا، یہ علامتیں فولاد کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ مندرجہ زیل اشیاء میں فولاد وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ گاجر، انڈے کی زردی، کیلا، کلیجی، بادام اور اکثر موسمی پھلوں سے بھی جسم کو فولاد ملتا ہے۔
کیلشیم:یعنی چونا ہڈیوں اور دانتوں کو بناتا اور خون کی نالیوں کی دیواروں کو مضبوط کرتا ہے۔ خون میں چونے کی مقدار کافی ہے چانا ہی فولاد کو سرخ خون بنانے میں مدد دیتا ہے اس کی کمی سے ہڈیاں کمزور اور دانت خراب ہوجاتے ہیں۔ بچپن میں اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہے جو بچے دیر سے چلنا سیکھتے ہیں یا جن بچوں کے دانت دیر سے نکلتے ہیں ان کے جسم میں چونے کی کمی ہوتی ہے۔ یہ حاملہ عورتیں نیز بچوں کیلئے بہت ضروری ہے۔ ان غذائوں میں کیلشیم بکثرت پایا جاتا ہے۔ پالک، شلغم، گاجر،مٹر، بند گوبھی، بالائی، مکھن، چھاچھ، انڈا، بادام، اخروٹ ۔
آکسیجن:خون کو صاف اور بدن میں گرمی پیدا کرتی ہے خون کے اندر جو غلاظت ہوتی ہے۔ اسے جلا کر تندرستی بڑھاتی ہے جن کے بدن میں آکسیجن کم ہوتی ہے وہ متعدی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔زکام حملہ آور ہوجاتا ہے اور رفتہ رفتہ زکام سے کھانسی اور کھانسی سے تپ دق آگھیرتی ہے۔ دق۔سل اور پھیپھڑے آکسیجن کے بھوکے ہوتے ہیں اس لئے پرانی کھانسی کے مریضوں کو پہاڑوں پر بھتیجے ہیں سمندر آکسین کا بہت بڑا تالاب ہے سمندر کے کنارے رہنا سمندر کے پانی سے گسل کرنا کمزور چھاتی والوں کیلئے بہت مفید ہے جو لوگ ہر روز صبح سیر کرتے ہیں کھلے میدانوں اور پہاڑوں میں وقت گذارتے یں گہرے سانس لیتے ہیں وہ زکام، کھانسی اور نزلے سے بچے رہتے ہیں۔
آکسیجن ان چیزوں میں پائی جاجتی ہے۔ انگور۔سیب۔لیموں۔ سنگترے۔ سبز مرچ۔پیاز۔
سوڈیم:یہ سخت مادوںکو گھول کر جسم سے باہر نکالتا ہے۔ گردوں اور جگر کی پتھریوں اور جوڑوں میں یورک ایسڈ کو پگھلا کر خارج کرتا ہے کھٹاس کو کم کرتا ہے یادرکھیں پچاس فیصدی سے زیادہ بیماریاں جسم میں کھٹاس کیوجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس لئے سوڈیم کا خون کے اندر کافی مقدار میں ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ قبض کشا اور پتھری بننے سے روکتا ہے۔ دوڈیم مندرجہزیل چیزوں میں پایا جاتا ہے۔ گاجر، کھیرا، پالک، انجیر، میٹھا، آلو بخارا، گکندر، مولی، شلغم
پوٹاشیم:قبض و دورانِ خون کی سستی پوٹاشیم کی کمی سے ہوتی ہے۔ دبلے پتلے نوجوان پوٹاشیم کی کمی کا شکار ہوتے ہیں یہ پٹھوں اور جوڑوں کو لچک دار اور مضبوط بناتا ہے اس کی کمی سے زکام ہوجاتا ہے یہ مندرجہ زیل چوزوں میں پایا جاتا ہے۔
تمام سبزیاں اور بوٹیاں جو ذائقے میں کڑوی ہوتی ہیں مثلاً کریلہ ۔چرائتہ۔سویا۔پ]الک۔مولی۔شلغم۔گاجر۔آلو۔وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔
آیوڈین:آیوڈین ایک بڑا ضروری جزو ہے۔ بوڑھوں، جوانوں، اور بچوں اور عورتوں سب کو اس کی جرورت ہوتی ہے۔ جن بچوں کے بدن میں آیوڈین کم ہوتا ہے۔ وہ آئے دن بیمار رہتے ہیں۔ ہر موسم میں کوئی نہ کوئی مرض انہیں لاحق رہتا ہے۔ سمندر کے کنارے رہنے والوں میں آیوڈین زیادہ پایا جاتا ہے۔چیچک۔فلو۔گلڑ۔ہیضہ یہ بیماریاں آیوڈین کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ مندرجہ زیل غذائوں میں آیوڈین بکثرت پایا جاتاہے۔
سمندری مچھلی، چائنا گراس، انناس، سمندر کے اندر پیدا ہونے والی گھانس،پتے والی گوبھی، لہسن، اور بکری کے دودھ وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔


متعلقہ خبریں


8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال وجود - اتوار 08 فروری 2026

محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو شریک ہونے کی پیشکش، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل،شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ عوام کے سوگ میں شامل ہوجائیں، ملکی حالات ایسے نہیں عوام کو جذباتی کیا جائے، پیغام مریم نواز کو ہمارے ساتھ ہونا چاہیے، ناانصافی سے گھر اور رشتے نہیں چلتے تو ملک کیسے چلے گا،مل...

8 فروری احتجاج، عوامی مینڈیٹ چرانے پر پہیہ جام ہڑتال

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار وجود - اتوار 08 فروری 2026

داعش افغانی خودکش حملہ آور کا نام یاسر، پشاور کا رہائشی ، حملے سے قبل مسجد کی ریکی کی، ایک ہفتہ پہلے مسجد سے ہوکر گیا،شواہد جمع کرنے کیلئے نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد لی گئی، ابتدائی تفتیش حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان ک...

اسلام آباد دھماکا، پشاور،نوشہرہ میں چھاپے، ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند وجود - اتوار 08 فروری 2026

ڈالرز کی منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، سینئر صحافیوں سے ملاقات و گفتگو گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے دو ارب ڈالر کے رول اوور میں کوئی مسئ...

منی لانڈرنگ کیخلاف کریک ڈائون، 140 منی ایکسچینج کمپنیاں بند

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت وجود - اتوار 08 فروری 2026

کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی ...

دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی وجود - هفته 07 فروری 2026

خودکش حملہ آور نے گیٹ پر روکے جانے پر دھماکا کیا، متعدد زخمیوں کی حالت نازک، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ،صدروزیراعظم کی مذمت،تحقیقات کا حکم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ...

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکا،31 افراد شہید، 169 زخمی

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری وجود - هفته 07 فروری 2026

جس نے خودکش دھماکا کیا اس کی معلومات مل گئی ہیں، ہوسکتا 72 گھنٹوں میں انجام تک پہنچائیں، وزیرمملکت داخلہ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ امام بارگارہ دھماکا خودکش تھا، حملہ آور کی معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔وزیر ...

امام بارگاہ دھماکا بی ایل اے کی دہشتگردی ، حملہ آور کی افغانستان کی ٹریول ہسٹری مل گئی، طلال چودھری

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول وجود - هفته 07 فروری 2026

عمران خان نے دائیں آنکھ میں نظر کی کمی کی شکایت کی اور ان کی رضامندی سے علاج کیا گیا،پمز اسلام آباد کے سینئر اور مستند ماہر امراض چشم نے اڈیالہ جیل میں آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا،ایگزیکٹو ڈائریکٹر معائنے میں سلٹ لیمپ معائنہ، فنڈواسکوپی، آنکھ کے اندرونی دباؤ کی پیمائش، ضروری ...

عمران خان کی دائیں آنکھ متاثر، میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کو موصول

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو وجود - هفته 07 فروری 2026

قوم کو نفرت، انتہاپسندی، اور دہشتگردی کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا، چیئرمین حکومت عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کو یقینی بنائے،شدیدمذمت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں امام بارگاہ و مسجد میں دہشتگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذ...

بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت، قومی ضمیر پر حملہ ہے،بلاول بھٹو

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی وجود - هفته 07 فروری 2026

9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بند کمروں میں فیصلوں سے بہت نقصانات ہوئے غلط پالیسیوں سے یہاں امن قائم نہیں ہو رہا اور ہم دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پولیس پر 9 مئی سے متعلق دباؤ ڈالا جا رہا ہے، پولیس کو سیاست میں مت گھ...

خیبر پختونخواپولیس کو سیاست میں مت گھسیٹیں،سہیل آفریدی

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف وجود - جمعه 06 فروری 2026

معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...

بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا،شہبازشریف

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...

احتجاج اور جلسے کی اجازت، سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے، وزیراعلیٰ سندھ

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ وجود - جمعه 06 فروری 2026

کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...

8فروری کے دن پی ٹی آئی کو کوئی حرکت نہیں کرنے دیں گے ،وزیر داخلہ سندھ

مضامین
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا وجود هفته 07 فروری 2026
مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈا

روٹی یا شعور۔۔۔؟ وجود هفته 07 فروری 2026
روٹی یا شعور۔۔۔؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر