وجود

... loading ...

وجود

تفتان اہم سرحدی گزرگاہ، حکومتی توجہ کی منتظر

پیر 26 فروری 2018 تفتان اہم سرحدی گزرگاہ، حکومتی توجہ کی منتظر

بلوچستان کے علاقے چاغی کا ایرانی سرحد سے ملحق شہر تفتان کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے جہاں روزانہ نہ صرف بڑے پیمانے پر دو طرفہ رسمی و غیر رسمی تجارت ہوتی ہے بلکہ یہ علاقہ غیرملکی سیاحوں، تاجروں اور مقدس مقامات کی زیارت کیلیے طویل سفر کرنے والے ہزاروں زائرین کی گزر گاہ بھی ہے۔ پاک ایران دو طرفہ روابط کا ذریعہ بھی تفتان ہی ہے جہاں نہ صرف پاک ایران سرحدی حکام مل کر دونوں ممالک کے سرحدی معاملات طے کرتے ہیں بلکہ تفتان کے راستے ہی ایرانی حکام ہر سال دس سے بارہ ہزار ایسے پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کرتے ہیں جو روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طور پر ایران کے راستے یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں۔

تفتان میں انگریز دور کی بچھائی گئی پٹڑی پر ایک مال بردار ٹرین ہفتے میں ایک مرتبہ تین دنوں کی مسافت کے دوران چٹیل میدانوں، پہاڑی سلسلوں اور تپتے ریگستانوں سے گزرکر کوئٹہ تا زاہدان کا سفر طے کرتی ہے جس کی وجہ کوئٹہ تا زاہدان ریلوے ٹریک کی خستہ حالی ہے۔ تفتان کو کوئٹہ سے ملانے والی 628 کلومیٹر طویل قومی شاہراہ بھی متعدد مقامات پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس پر کئی جان لیوا حادثات پیش آئے۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم زمانے میں تفتان ایشیا سے یورپ جانے والے تجارتی قافلوں کی اہم گزرگاہ ہوا کرتا تھا جس کے شمال میں 41 کلومیٹر دور سیندک اور مشرق میں 85 کلومیٹر کے فاصلے پر ریکوڈک واقع ہیں جہاں سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ خیر معدنی وسائل تو تفتان کی قسمت نہ بدل سکے لیکن اس شہر کی اپنی منفرد جغرافیائی اہمیت بھی تاحال کارگر ثابت نہیں ہو پا رہی۔

تفتان کو ڈرائی پورٹ کا درجہ حاصل ہے جہاں یورپی ممالک اور ایران سے تجارتی اشیاء پاکستان درآمد اور وہاں برآمد کی جاتی ہیں جن پر ٹیکسز کی مد میں رواں سال ہر مہینے پاکستان کسٹمز نے اوسطاً 8 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کیے جو کسٹم کے مقرر کردہ ہدف سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ لیکن یہ جان کر سب کو حیرانی ہوگی کہ ابھی تک وہاں کوئی سرکاری اسپتال نہیں بلکہ اسپتال تو کجا، کوئی رورل ہیلتھ سینٹربھی نہیں۔ اگر ہے تو وہاں کے 30 ہزار نفوس کے لیے محض ایک بنیادی مرکز صحت ہے جو عام طور پر دیہی علاقوں کی قلیل آبادی کے لیے قائم کی جاتی ہے جبکہ تعلیمی اداروں کی ابتری، پانی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان ایک الگ داستان بیان کرتے ہیں۔

گزشتہ سال پاکستان کسٹمز نے فرنٹیئر کور کی معاونت سے تفتان سرحد پر 2 کروڑ روپے کی لاگت سے پاکستان گیٹ قائم کیا جس کے متعلق حکام کا کہنا تھا کہ اس گیٹ کے ذریعے نہ صرف دو طرفہ تجارت اور آمدورفت مربوط ہوگی بلکہ بیرون ممالک سے پاکستان آنے والوں کو مملکت خداداد کے متعلق اچھا تاثر بھی ملے گا۔ لیکن جب آپ پاکستان گیٹ سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر تفتان بازار پہنچیں گے تو وہاں آپ کو بوسیدہ سڑکیں اور خستہ حال دکانیں ایسی حالت میں ملیں گی جیسے یہ علاقہ کسی طویل جنگ کے بعد امن کے دور میں واپس لوٹ رہا ہو۔

ایران اور پاکستان کے درمیان 6 فروری 1958 کے سرحدی معاہدے کے تحت تفتان کے زیروپوائنٹ گیٹ سے دونوں جانب کے مقامی لوگ غیر رسمی تجارت کرتے ہیں جہاں سے روزانہ زیادہ تر اشیائے خوردونوش و روزمرہ ضروریات کی اشیاء ہزاروں مزدور اپنے کاندھوں پر لاد کر پاکستانی سرحد تک پہنچاتے ہیں جو ٹیکس سے بھی مستثنیٰ ہے۔ لیکن جس طرح باقاعدہ تجارت میں پاکستانی اشیاء کی برآمد کم ہے اسی طرح زیروپوائنٹ گیٹ سے بھی ایرانی حکام نے پاکستانی اشیاء کی برآمدات رفتہ رفتہ کم کرتے کرتے اب مکمل طور پر بند کردی ہے جس کی وجہ سے کئی مقامی تاجر بے روزگار ہوگئے ہیں۔

معاہدے کے تحت زیروپوائنٹ سے ہفتے میں تین دن تک ایرانی اشیاء درآمد کی جائیں گی جبکہ تین دن پاکستانی اشیاء برآمد ہوں گی لیکن ایرانی حکام معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صرف اپنی باری لے کر باقی تین دنوں تک زیروپوائنٹ گیٹ اپنی طرف سے بند رکھتے ہیں۔ یہ معاملہ کئی بار پاکستانی حکام نے دو طرفہ اجلاسوں کے دوران ایرانی حکام کے سامنے اٹھایا لیکن محض یقین دہانیاں ہی ملیں، کوئی عملی صورت ابھی تک نظر نہیں آتی۔

تفتان میں زائرین کے قیام و طعام کے لیے حکومت نے گزشتہ سال 4 ایکڑ پر مشتمل پاکستان ہاؤس کی تعمیر مکمل کی جہاں دو بڑے ہالز، درجنوں باتھ روم اور دو کینٹین بنائے گئے جن میں محض ڈھائی ہزار زائرین کے لیے گنجائش موجود ہے لیکن چہلم، محرم اور دیگر مذہبی تقریبات کے دوران بیک وقت 30 سے 40 ہزار زائرین کی آمد کے موقع پر وہاں تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی جس کے سبب ہزاروں لوگ پاکستان ہاؤس کے اندر اور باہر کھلے آسمان تلے رہنے اور سونے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی ایک افسر کے مطابق قلیل وسائل کے سبب بعض اوقات وہ زائرین کے قیام و طعام اور ٹرانسپورٹیشن میں اتنے مگن ہوجاتے ہیں کہ ان کو شہر کے انتظامی معاملات اور حکومتی امور نمٹانے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔2004 کے بعد جب سے ایرانی فورسز پر مسلح حملوں کا سلسلہ شروع ہوا، تب سے ایرانی فورسز کی جانب سے نہ صرف تفتان اور دیگر سرحدی علاقوں پر راکٹ بازی اور مارٹر حملوں کا سلسلہ بھی چل نکلا ہے بلکہ 1958 کے معاہدے کے تحت سرحدی علاقوں کے جو لوگ 15 روزہ اجازت نامے ’’راہداری‘‘ کے تحت ایران جاتے ہیں، انہیں بھی وہاں بڑی سخت شرائط اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گو کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہیں لیکن ایرانی فورسز کی رویّے کے متعلق پاکستانی شہری شکایات کا انبار لیے پھرتے ہیں جنہیں زائل کرنے کے لیے پاک ایران سرحدی حکام نے مشترکہ اجلاسوں میں کئی بار کوششیں کیں لیکن کچھ عرصے بعد کوئی نہ کوئی اخوشگوار واقعہ ان کوششوں کو بے اثر کردیتا ہے۔ایرانی حکام کی بیجا سختیوں، ٹیکسز کی بھرمار، سہولیات کے فقدان اور مقامی سطح پر کاروبار کے مواقع معدوم ہوجانے کے سبب تفتان کے کئی علاقے ویران ہوگئے ہیں جہاں سے لوگوں نے دیگر علاقوں میں نقل مکانی کی۔ رہی سہی کسرجون 2014 میں تفتان کے دو مقامی ہوٹلز میں شیعہ زائرین پر ہونے والے دو خودکش حملوں نے پوری کردی جس کے سبب پورا شہر سیکیورٹی چیک پوسٹوں، خندقوں اور رکاوٹوں کا الگ منظر پیش کرتا ہے۔

کوئٹہ سے تفتان تک قومی شاہراہ پر قائم دو درجن سے زائد سیکیورٹی چیک پوسٹیں بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔ ان تمام حالات نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو منشیات، ایرانی پیٹرول اور انسانی اسمگلنگ کے گھناؤنے کاروبار کی طرف دھکیل دیا ہے جو کسی بھی طرح نیک شگون نہیں۔ ضرورت اس مر کی ہے کہ حکومت تفتان جیسی اہم سرحدی گزرگاہ کی ترقی و خوشحالی کے لیے ضروری اقدامات کرتے ہوئے اسے ایک مثالی شہر بنادے تاکہ نہ صرف اہم سرحدی علاقے کے عوام جدید سہولیات سے آراستہ ہوں بلکہ بیرون ممالک سے پاکستان آنے والے بھی ہمارے ملک کے متعلق اچھا تاثر لے سکیں۔


متعلقہ خبریں


اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت تذبذب کا شکار ،عالیہ حمزہ اور سینٹرل پنجاب کے صدر سزا کے باعث روپوش لاہور کے صدر کسی سے رابطہ ہی نہیں کرتیپنجاب میں تتر بتر تنظیم کو دوبارہ فعال بنانا چیلنج ہوگا، ذرائع عید کے بعد عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی کے ا...

عمران خان رہائی تحریک، پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرناپارٹی کیلئے مشکل ہوگیا

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

مضامین
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال وجود پیر 23 مارچ 2026
لیٹر بکس خاموش، عید کارڈ غائب ۔۔۔۔ ایک روایت کا زوال

آئی ہے عید ہر سال کی طرح وجود پیر 23 مارچ 2026
آئی ہے عید ہر سال کی طرح

بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی وجود پیر 23 مارچ 2026
بھارت میں ہندو مسلم کشیدگی

ایرانی ایٹم بم وجود پیر 23 مارچ 2026
ایرانی ایٹم بم

ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی ! وجود پیر 23 مارچ 2026
ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر