وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 25 فروری 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

حلقہ اربابِ ذوق کراچی کی ہفتہ وار نشست گزشتہ روز کانفرنس روم، ڈائیریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیااینڈ پبلی کیشنز پاکستان سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔ اجلاس کی صدارت معروف نقاد،شاعر اور افسانہ نگار عباس رضوی نے کی۔ یہ خصوصی اجلاس اردو کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر شبیرنازش کی پذیرائی کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

شبیرنازش کی شاعری پر سب سے پہلے سلمان ثروت نے ایک دلچسپ تمثیلی مضمون ”شبیرنازش…یہ سخن،یہ ناز یہ انداز آپ کا” کے عنوان سے پیش کیا۔ اس کے بعد معروف شاعرہ سیماعباسی نے شبیر نازش کی شاعری پر ظفر اقبال کے متنازع تبصرے پر اپنا مضمون ”ظفراقبال کی بے رحم تنقید اور میری عاجزانہ رائے” پیش کیا۔ مضامین کے بعد صدرِمحفل نے حاضرین کو اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دی۔خرم سہیل نے کہا کہ ظفراقبال کے مسائل بہت سارے ہیں، وہ حوصلہ افزائی کے بجائے راستہ کاٹنے کے راستے پر چل پڑے ہیں۔ شبیرنازش اپنا سفر جاری رکھیں۔ سلمان ثروت اور سیماعباسی کے مضامین نہایت عمدہ ہیں۔خالق داد امیدنے کہا کہ دونوں مضامین نہایت عمدہ تھے، سیما عباسی نے احترام کا پہلو ملحوظ رکھا۔ شبیرنازش کی کتاب بہت اچھی ہے، ظفر اقبال کا تبصرہ مناسب نہیں تھا۔شبیرسومرونے کہا کہ شبیرنازش کی شاعری میں جو اداس کیفیت ہے وہ ان کی شخصیت کا حصہ ہے۔ ظفراقبال کی تنقید کے بعد میں ان کے صبروتحمل کا بھی قائل ہوگیا ہوں، میں نے اس تبصرے پر آفتاب اقبال سے احتجاج بھی کیا۔ بہتر طریقہ یہ ہے احترام کا پہلو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کا رد کیا جائے۔سبین حشمت قاضی نے کہا کہ ظفراقبال کا تجزیہ نہایت غیرمناسب اور غیرشائستہ تھا۔ ہمیں ان کی بزرگی اور سینارٹی کااحترام ہے، تنقید برائے تنقید مناسب نہیں ہے۔ دونوں مضامین نے صورت حال کو نہایت عمدہ انداز میں اجاگر کردیا۔رفاقت حیات نے کہا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ شبیرنازش ایک جینوئن شاعر ہے۔ ظفر اقبال نقاد نہیں بلکہ بنیادی طور پر ایک شاعرہے۔ ان کے تبصرے کو سنجید ہ لینے کو ضرورت نہیں تھی۔ شبیرنازش کی شاعری صحت مند اور توانا ہے، معتبر لوگوں کے تبصرے سے ظفراقبال کو شاید کچھ تکلیف ہوئی، ہمیں شبیرنازش کی شاعری پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔سحرتاب رومانی نے کہا کہ نشست میں شبیرنازش کی شاعری پر گفتگو ہونی چاہیے۔ڈاکٹرفہیم شناس کاظمی نے کہا کہ پہلی کتاب میں شاعر کا ڈکشن، اسلوب اور لہجہ دیکھا جاتا ہے۔ شبیرنازش نے پہلی کتاب میں ہی اپنی مضبوط شناخت بنائی ہے۔ روایت کے اثرات کافی گہرے ہیں، موضوعات کے حوالے سے جدت وندرت ہے۔ شدت کے ساتھ زندگی سے جڑی ہوئی شاعری ہے۔ وہ زندگی، کائنات اور وجود کے مسائل ساتھ لے کر چلتا ہے۔نعیم سمیرنے کہا کہ کراچی کے ادبی منظرنامے میں شبیرنازش ایک اہم حوالہ ہیں۔ ظفراقبال کے تاثراتی تجزیہ کو سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں، ہم غیرارادی طور پر اسے زندہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔غنی الرحمٰن انجم نے کہاکہ شبیرنازش کی کتا ب میں سے بہت سارے اشعار مجھے یاد ہیں، اچھے شعر یاد نہیں کرنے پڑتے وہ یاد رہ جاتے ہیں۔ ظفراقبال کے تبصرے میں غلط بیانی کی گئی ہے جس سے تجزیہ کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔کاشف حسین غائرنے کہا کہ شبیرنازش کا بیانیہ نہایت صاف ہوگیا ہے، ترقی کے امکانات روشن ہیں۔ذوالفقارعادل نے کہاکہ ظفراقبال کے معاملے کو زیادہ ڈسکس نہیں کرنا چاہیے، شبیرنازش کے پاس بہت سارے اچھے اشعار ہیں۔رفیع اللہ میاں نے کہا کہ شبیر کی شاعری بہت اچھی شاعری ہے،ایک مذمتی اجلاس ضرور ہونا چاہیے تھا۔شیخ نوید نے کہا کہ کسی بھی تخلیق کار کے لیے ضروری ہے کہ اس کو ڈسکس کیا جائے، ظفراقبال کے متنازع تبصرے کو شبیرنازش کے لیے نیک فال سمجھنا چاہیے۔آخر میں صدرِمحفل عباس رضوی نے بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں ظفراقبال کا ذکر غیرضروری تھا۔ وہ ایک متنازع شاعر ہونا پسند کرتے ہیں۔ ہر جگہ اپنا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں۔ مخصوص خطے کے لوگوں کی پذیرائی کرنا نامناسب رویہ ہے۔ ان کے تبصرے کا نوٹس لینا ہی نہیں چاہیے۔ فیصلہ کرنے کا اختیار صرف وقت کے پاس ہے کوئی اعلیٰ عدالت نہیں ہوتی۔ شاعر تنقید سے ختم نہیں ہوتا۔ دس سال میں جو قابل ذکر مجموعے شائع ہوئے ان میں شبیرنازش کا مجموعہ بھی ہے۔ پوری کتاب میں شبیرنازش کی انا بولتی نظر آتی ہے۔ لفظ کا بھرپور تخلیقی استعمال موجود ہے۔ محاورے اور روزمرہ کا مناسب استعمال بھی موجود ہے۔ تناسب کی کیفیت بھی موجود ہے۔ ابلاغ بھی نہایت عمدہ ہے۔ تجربات میں اضافہ ہوگا تو شاعری مزید نکھرتی چلی جائے گی۔ آج کے اجلاس میں بہت اچھے مضامین پڑھے گئے۔ تمام حلقے کی طرف سے شبیرنازش اور مضمون نگاروں کو مبارک باد دیتے ہیں۔ اس موقع پر حاضرین کی فرمائش پر شبیرنازش نے اپنامطبوعہ اورغیرمطبوعہ کلام پیش کیا۔

مادری زبانو ں کے عالمی دن کے حوالے
سے مذاکرے اور مشاعرے کا انعقاد
اکادمی ادبیات پاکستان، کراچی کے زیر اہتمام مادری زبانو ں کے عالمی دن کے حوالے سے مذاکرے اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ملک کی معروف شاعرہ پروفیسر شاہدہ حسن نے کی جب کہ مہمانان خاص روبینہ تحسین ، گلشن سندھو تھے، اور مہمانان اعزازی سید مہتاب شاہ ،اورڈاکٹر رحیم خان تھے۔ اس موقعے پرپروفیسر شاہدہ حسن نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہر انسان اپنی مادری زبان سے نہ صرف بے پناہ محبت کرتا ہے ، بلکہ اسے مقدس بھی سمجھتا ہے، دیکھا جائے تو دنیا کی ہر قوم اور معاشرے کا ہر فرد یہ بات تسلیم کرتا ہے کہ جو اس بات کونہیں مانتے ان کی یا توزبان نہیں ہوتی یا پھر ان کو اپنی زبان نہیں آتی ۔۱۲؍ فروری مادری زبانوں کو یاد کرنے کا عالمی دن آج ہم منا رہے ہیں ۔ عوام میں بولی اور سمجھنے والی زبانوں کا بھی گھٹیا بیکار اور غیر تہذیب یافتہ قرار دیتے ہیں، بالعموم اور بالغ رائے دہی کی طرف او ر خصوصی طور پر اقوام متحدہ بننے کے بعد زبانوں کے بارے میں ان خیالات نے بدلنا شروع کیا تھا ۔ریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے کہا کہ بلاشبہ مادری زبان ایسا ذریعہ اظہار ہوتا ہے جس کے ذریعے انسان سب سے پہلے اظہار خیال کرتا ہے اس لیے مہذب اقوام مادری زبانوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرتی ہیں ، اور بچوں کو ابتدائی تعلیم بھی مادری زبان میں دیئے جانے کا اہتمام کرتی ہیں ، پاکستان میں بھی متعدد علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں ان میں کئی زبانیں ایسی ہیں جو معدوم ہو رہی ہیں ، ان زبانوں کو بچانے کے لیے حکومتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں علاقائی یا مادری زبانیں بچوں پر علم کا پہلا دروازہ کھولتی ہیں۔ ان کے بعد ان پر دوسری زبانوں کے دروازے کھل بھی جاتے ہیں۔ اس موقعے پر معروف افسانہ نگار شاعرہ زینت کوثر لاکھانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقعے پر جن شعراء نے کلام سنایا ان میں سرور شمال(پشتو)، افضل ہزاروی( ہندکو)،شبیر نازش( پنجابی)،یامین عراقی (انگریزی) اور دیگر کئی شعراء نے سندھی اوراُردو کے علاوہ اپنی اپنی زبانوں میں کلام پیش کیا جن میں عرفان علی عابدی، کھتری عصمت علی پٹیل، غازی بھوپالی، اقبال افسر رضوی، صغیراحمد جعفری،عاشق جعفری، اکمل نوید، افضال بیلا، تاج علی رعنا، محمد علی زیدی ، اوسط علی جعفری، زارا صنم، سید علی حسین جعفری، عشرت حبیب ، جرح دیبا، طاہر سلیم طاہر، شگفتہ ناز، ریحانہ احسان، ریحان گوہر فاروقی، دلشاد احمد دہلوی، ہدایت سائر،فرح کلثوم، ذکی محی الدین، عبید رضا مرزا، تنویر حسین سخن، سمسویر بورنیری، نصیر شاہ قمر، امان اللہ فائق ۔آخر میںریزیڈینٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو نے اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کی جانب سے شرکائے محفل کا شکر یہ ادا کیا۔


متعلقہ خبریں


بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر