وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں

منگل 20 فروری 2018 اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں

کسی بھی فرد کی دماغی حالت یا دماغی صحت ان عوامل یا ان حالات کا نام ہے جس سے گزر کر اور جس کو بہتر طریقے سے سمجھ کر وہ فرد اپنی زندگی کے حالات کو برداشت کر تے ہوئے اپنی روزمرہ کے کاموں کو بہتر طریقے سے سرانجام دیتے ہوئے معاشرے میں اپنا حصہ بہتر طریقے سے نبھا تا ہے ۔ موجودہ حالات میں پوری عالمی برادری مختلف ذہنی امراض سے دوچار نظر آتی ہے اور ذہنی صحت کی حالت بے حد ابتر ہوتی جارہی ہے جس سے لوگوں میںمختلف ذہنی اور جسمانی عوراض جن میں نیند کی کمی، ڈپریشن ، غصہ ، ہائی بلڈ پریشر، الزائمر ، عضلاتی اور ذہنی دبائو وغیرہ جیسے عوراض عام ہوتے جارہے ہیں ۔ پاکستان میں بھی ماہرین کے مطابق ذہنی اور دماغی طور پر متاثرہ مریضوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ لوگ مادی ترقی کی طرف تو گامزن ہیں مگر آج کل کے مختلف سوشل میڈیا اور گلوبل ولیج(Global Village) کے بڑھتے ہوئے عوامل کے باوجود بھی انسا ن روحانی اورسماجی اقدار میں زوال پذیر ی کا شکار نظر آتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر موجود ہزاروں ، لاکھوں دوستوں کے باوجود بھی سماجی اور معاشرتی زندگی میں روابط کی کمی اور تنہائی کی وجہ سے دماغی غیر صحت مندی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اسی وجہ سے ملک میں خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان ، دہشت گردی کی طرف متوجہ نوجوان ، خودکش بم دھماکے ، غربت، بے روزگاری میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ لوگوں میںایک عجیب سی نہ ختم ہونے والی بے یقینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے جو ذہنی بے چینی ، چڑچڑاپن ، غصہ اور ذہنی دبائو کا باعث بن رہا ہے ۔ اور پھر یہ آگے بڑھ کر متاثرہ افراد میں مختلف ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں مثلاََ بلاوجہ کی فکر اور تشویش Anxiety ، اعصابی اور ذہنی دبائو، احساس کمتری ، احساس برتری، الزائمر ،پا رکنسن کی بیماری ، رعشہ، حافظہ کی کمزوری ، بلاوجہ کا خوف ، ڈپریشن ، ذہنی دبائو، سر درد، دردِ شقیقہ، شیزوفرینیا(Schizophrenia) ، فرسٹیریشن ، پاگل پن، احساس محرومی وغیرہ کے ساتھ ساتھ فالج، لقوہ ، مرگی اور ہیٹسریا وغیرہ کا سبب بنتے ہیں ۔

پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ دماغی اور اعصابی امراض کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد دل کی بیماریوں اور کینسر جیسے مرض سے بھی زیادہ ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں اعصابی بیماریوں سے موت ہونا ایک اہم اور بنیادی وجہ ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق ہر چار لوگوں میں سے ایک فرد امکانی طور پر کسی نہ کسی دماغی صحت سے متعلق مسئلہ یا مرض سے دوچار ہوسکتا ہے ۔ جس میںہر پس منظر، قبیلے ، پیشے ، جنس اور عمر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوسکتے ہیں ۔ اور دماغی صحت سے شرمندگی اور پردہ داری عام طور پر متاثرہ لوگوں کے لئے مدد حاصل کرنے اور صحت یاب ہونے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتی ہے ۔ جبکہ بعض اوقات افراد کی دماغی بیماری میں مبتلا شخص کو جن بھوتوں یا دیگر نظر نہ آنے والی مخلوقات سے بھی جوڑ دیتے ہیں یا ان کے اوپر جنات کا سایہ تصور کر لیا جاتا ہے ۔اور پھر وہ متاثرہ شخص درست علاج حاصل کرنے کے بجائے مختلف عاملوں، بابائوں اور دم درود کو ہی علاج گردانتے ہوئے اس دلدل میں مزید دھنستے چلے جاتے ہیں ۔

دماغی صحت میںکمزوری یا بیماری کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں ۔جن میں مختلف حیاتیاتی عوامل سے لے کر موروثی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں ۔ انسانی دماغ میں موجود نیو روٹرانسمیٹر س(Neuro Transmeters) نامی مخصوص کیمیائی مادہ اگر کسی بھی وجہ سے عدم توازن کا شکار ہو جائے تو یہ دماغ کی غیر صحت مند ی کا سبب بن سکتا ہے ۔ کیونکہ ان نیو روٹرانسمیٹر س کا کام دماغ میںموجودنیوروں خلیات کے ایک دوسرے سے رابطہ کو یقینی بنا نا اور اس میں مدد کرنا ہوتا ہے ۔ اور جب یہ خلیات متاثر ہوتے ہیں تو دماغ میں پیغامات کی ترسیل یا پیغامات پہنچانے کا کام مناسب طریقے سے انجام نہیں ہو پاتا ہے ۔ جس کے باعث دماغ میں مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطا بق کچھ دماغی مسئلے یا دماغی بیماریاں جینیاتی یا موروثی طورپر بھی ہوتے ہیں ۔ جس میں متاثرہ فرد کے خاندان میں سے کوئی یا بہت سارے افراد اس سے متاثر ہوئے ہوتے ہیں اور پھر یہ جینز(Genes) کے ذریعہ ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ کچھ انفیکشن بھی دماغی خلل یا ذہنی کمزوری پید ا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں یا پھر دماغ میںکسی بھی قسم کی گہری چوٹ یا زخم بھی دماغی صحت کے متاثر ہونے کا امکانات کو بڑھا دیتے ہیں ۔
ایک تحقیق کے مطابق نئے زمانے سے حاصل کی ہوئی کچھ عادات اور نئے طور طریقے بھی دماغی کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں ۔ تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے تقریباََ پچاسی فیصد لوگ دماغی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ یہ ویڈیو گیمز دماغ کی یادداشت کو کمز ور کردیتے ہیں جو ان کی دماغی صحت کے لئے حد نقصان دہ ہے ۔

ڈپریشن یا مایوسی کا شکار افراد بھی دماغی کمزوری کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ مستقل ڈپریشن اورذہنی دبائو میں رہنے والے لوگ اپنے آپ کو زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھی دور کر لیتے ہیں ۔ اور پھر با لا آ خر ذہنی دبائو کے سمندر میں خود کو غرق کر کے اپنے آپ کو دماغی کمزوری اور بیماریوں کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ انیزائٹی نیو روسس (Anxiety Neur osis) میں مریض ہر وقت ڈر اور خوف کی سی کیفیت میں رہتا ہے ۔ اس میں متاثرہ فرد اپنے آپ کو بغیر کسی وجہ کے کسی نہ کسی مرض کا شکار سمجھنے لگتے ہیں جیسے کہ سردرد، جسم میں درد وغیرہ اور پھر اس میں اتنی شدت آجاتی ہے کہ وہ مرض واقعی میں شروع ہو جاتا ہے جبکہ بعض لوگوں میں انٹرویو یا امتحان سے پہلے پیٹ میں درد ، بخار اور دست وغیرہ کے مسئلے شروع ہو جاتے ہیں ۔

بائی پولر ڈس آرڈر(Bi Poler Disorder) ایک ایسی دماغی کیفیت کا نام ہوتا ہے جس میں مریض حد سے زیاد ہ خوشگوار یا پھر حدسے زیادہ اداس اور غمزدہ ہو جاتاہے اس مرض کا تعلق زیادہ تر وراثت سے ہوتا ہے یعنی یہ ذہنی بیماری خاندان میں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح او سی ڈیbsessive-Compulsive Disorder (OCD) ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں متا ثرہ شخص کو ایک ہی خیال بار بار آتا ہے جیسا کہ باربار ہاتھ دھونا ، کسی بیماری کے لگ جانے کا خطرہ ، وہم کرنا ، کسی کو مار دینے کا یا پھر خود مرجانے کا خیال بار بار آنا۔

جس طرح ہمارے جسم کو صحت مند اور توانا رہنے کے لئے اچھی غذا ، تو جہ اور صحت مند ماحول کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح ہمارے دماغ کو بھی صحت مند رہنے کے لئے درست غذائوں کا مناسب استعمال اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس سے فرد اپنے دماغ سے اچھی طرح سوچنے ، توجہ مرکوز کرنے ، توانائی حاصل کرنے اور دماغ کو معاشرے کے لئے ہر ممکن طریقے سے بہتر طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوتا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق روزمرہ زندگی میں مختلف صحت مند غذائوں کا ایک مناسب مقدار میں استعمال کر کے اور صحت بخش طرز زندگی اپنا کر ہم اپنے دماغی صحت کو بڑھا کر اس کو بڑھتی عمر کے ساتھ ایک صحت مند اور بہتر حالت میں رکھ سکتے ہیں ۔
جرمنی کی فر ینکفر ٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ذہنی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے کیمیائی اجزاء مثلاََ کیفین کا زیادہ استع

مال ، مختلف مصنو عی خوراک اور دوائوں کا سہارا جو کہ ایک غیر صحت بخش طرز عمل ہے ، کے بجائے جسمانی اور دماغی صلاحیتوں اور صحت بہتر بنانے کے لئے قدرتی غذائوں کا استعمال بہتر ہوتا ہے ۔ ان کی تحقیق کے مطابق صحت مند غذائوں کے استعمال کے ذریعے دماغی صحت اور صلاحیت کو طویل عرصے تک اور بہتر طریقے سے بڑھایا جاسکتا ہے ۔
سبز سبزیاں جسے کہ پالک ، ساگ وغیرہ جن م

یں Anti Oxidants، ریشہ، مختلف وٹا منز اور غذائیت موجود ہوتی ہے انہیں ہفتے میں کم از کم ایک بار غذا میں ضرور شامل کرنا چاہیئے ۔ پتے والی سبزیوں مثلاََ پالک ، بند گوبھی ، مولی وغیرہ میں ایک مادہ لیو ٹین (Lutein) موجود ہوتا ہے جو بیماریوں کے خلاف ایک مدافتی قوت رکھتا ہے اور یا دداشت میں اضافہ اور دماغی تھکاوٹ میں کمی کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ دماغی صحت میں بھی اضافہ کرتا ہے ۔ تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی دماغ کی صحت بھی متاثرہونے لگتی ہے اور جو لوگ مچھلی کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ان کی دماغی قوت ، یا دداشت اور ذہانت مچھلی کا کم استعمال کرنے والے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور فعال حالت میں ہوتی ہے ۔ لہذا دماغی صحت کو قائم رکھنے کے لئے ہفتے میں کم از کم ایک یا دوبار مچھلی کا استعمال اپنے روزمرہ کے روٹین کا لازمی حصہ بنا لینا چاہیئے ۔ اس کے علاوہ مختلف رنگ کے بیریز(Barries) اور چیریز(Cherries) بھی صحت مند دماغ کے لئے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ان میں اینتھو سیا نن(Enthocyanins) اور مختلف فلیونو ئیڈز(Flavonoids) موجود ہوتے ہیں جو دماغی صحت کے لئے لازم ہیں ۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق رنگ برنگی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال دماغی صحت کے لئے بہترین ہے ۔پیلی ، نارنجی اور سرخ سبزیوں اور پھلوں میں ایک مادہ (Carotenoids)موجود ہوتا ہے جو دماغ کو بہتر طور پر فعال اور مستعد بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اس میں Anti Oxidants بھی موجود ہوتے ہیں جو مختلف دماغی اور ذہنی امراض سے محفوظ رکھتے ہیں ۔
صبح جلدی بیدار ہونے اور رات میں جلدی سونے کی عادت کو اپناتے ہوئے کوشش کرنی چاہیئے کہ کسی بند اور گٹھن زدہ ماحول

میں سونے کے بجائے ہوا دار اور کھلی جگہ پر سوئیں جہاں سے آکسیجن کا حصول دماغ کو ممکن ہو سکے جو دماغ کی صحت کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ منفی جذبات مثلاََ غصہ ، حسد، لالچ ، کینہ اور حرص وغیرہ سے اجتناب برتتے ہوئے صبروتحمل سے کام لینا چاہیئے ۔ اور اپنے رشتہ داروں اور ملنے جلنے والے لوگوں سے ہمیشہ خوش اخلاق اور حسن سلوک سے ملنا چاہیئے اور اگر کسی کی کوئی بات بُری لگے یا کسی کی بات یا رویے سے کوئی تکلیف پہنچی ہو توا سے درگزر کر دینا چاہیئے ۔ کیونکہ ہر منفی بات کو دماغ میں بٹھانے یا ہمہ وقت اس کے بارے میں سوچنے سے مختلف منفی انزائمز یا خیالات جنم لیتے ہیں جو دماغی خلیات کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتے ہیں ۔

ہمیں زندگی کو ایک مثبت طرزذہن اور ایک صحت مندانہ طریقے سے گزارنے کے لئے ہمیشہ خود کو پُر امیداور مثبت انداز فکر کے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیئے جس سے ہم مختلف ذہنی امراض سے محفوظ رہتے ہوئے ایک صحت مند دماغ کے ساتھ معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام پر ترک حملے کے بعد امریکا نے ایکشن لیتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر...

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

برطانوی ملکہ الزبتھ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا، جنوری 2021 سے یورپی شہریوں کو برطانیہ کا ویزہ درکار ہو گا۔برطانوی ملکہ الزبتھ نے برطانوی پارلیمان سے خطاب کے دوران وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے تیار کیے گئے امیگریشن کے اس قانونی مسودے کو متعارف کرایا ہے جو یورپین یونین سے برطانیہ کی حتمی علیحدگی کے بعد نافذ ہو گا۔اس بل کے تحت یورپی ممالک کے شہریوں کیلئے آزادانہ طور پر برطانیہ آنے جانے کی سہولت جنوری 2021 سے ختم کر دی جائے گی اور ان پر برطانیہ آنے کیلئے ویزے اور دیگر...

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ وورتھ میں میں سفید فام پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ فورٹ وورتھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ روز پولیس آفیسر ایرن ڈین نے علاقہ میں معمول کے گشت کے دوران 28سالہ خاتون کو مشکوک سمجھتے ہوئے اس وقت کھڑکی کے باہر سے فائر کرکے ہلاک کر دیا جب وہ اپنے بھتیجے کے ہمراہ ویڈیو گیم کھیل رہی تھی ، مقا می پولیس نے گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دو پولیس افسروںکی جانب سے سرچ لائٹ کے ساتھ گھر کی کھڑ...

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں کردوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے ترکی کی جانب سے ان کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی سرحد پر بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے شام کی غیر مستحکم صورتحال اور وہاں سے اپنی باقی تمام فوج کو نکالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔اس سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج کو شمال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد افواج کو اس سرحدی علاقے سے نکالنا ہے۔ برطانیہ میں قائم سیرین آبزرو...

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کے شہر راس العین میں ترکی کے فضائی حملے میں شہریوں اور صحافیوں سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے۔آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمن نے بتایا کہ یہ حملہ شمالی شام کے علاقے القاشملی سے راس العین میں یکجہتی کے لیے آنے والے ایک گروپ پر کیا گیا۔شام میں کردوں کی نمایندہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز'ایس ڈی ایف' کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے "سویلین قافلے" پر حمل...

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

2017 تک تاشپولات طیپ ایک جانے پہچانے معلم اور سنکیانگ یونیورسٹی کے سربراہ تھے، ان کے دنیا بھر میں رابطے تھے جبکہ انھوں نے فرانس کی مشہور پیرس یونیورسٹی سے اعزازی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔لیکن اسی برس وہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے لاپتہ ہو گئے اور اس حوالے سے چینی حکام مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان کے دوستوں کا خیال ہے کہ پروفیسر طیپ کو علیحدگی کی تحریک چلانے کا ملزم قرار دیا گیا، ان پر خفیہ انداز میں مقدمہ چلا اور بعدازاں اس جرم کی پاداش میں انھیں سزائے موت دے دی گئی۔پروف...

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

تیونس میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید نے اپنے حریف نبیل القروی کو واضح اکثریت سے شکست دے دی ہے اور وہ ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔قبل ازیں تیونس کے موزیق ایف ریڈیو نے پولنگ کمپنی امرود کے ایگزٹ پول کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ صدارتی امیدوار قیس سعید نے 72.53 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ایک اور فرم سگما کنسلٹنگ کے ایگزٹ پول کے مطابق آزاد امیدوار قیس سعید نے اپنے حریف کے مقابلے میں بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے اور ...

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

کیلیفورنیا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں جانوروں کی پوستین یعنی بال والی کھال سے بنی چیزوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس امریکی ریاست کے شہری اب سنہ 2023 سے کھال سے بنے کپڑے، جوتے اور ہینڈ بیگز کی خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے۔جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔اخبار سان فرانسیسکو کرانیکل کے مطابق یہ قانون چمڑے اور گائے کی کھالوں پر لاگو نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ہرن، بھیڑ اور بکرے کی کھالوں کی خرید...

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

پنجاب میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، 2011 سے 2018 کے دوران صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 424 افراد غیرت کی بھینٹ چڑھے۔پنجاب پولیس کی جانب سے مرتب شدہ اعداد و شمار کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیگ سنگھ اور چنیوٹ کے علاقوں پر مشتمل فیصل آباد ریجن غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں سر فہرست رہا جہاں گزشتہ آٹھ سال کے دوران 527 افراد کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ سرگودھا ریجن میں سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے علاقے شامل ہیں، 338 مقدمات کے س...

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے

حدیقہ کیانی نے اپنی طلاق کی وجہ بتادی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

خوش شکل اور خوش لباس حدیقہ کیانی کا شمار پاکستان میں پاپ موسیقی کی گنی چنی کامیاب گلوکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ہم عصر مرد گلوکاروں کو فن کے میدان میں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ حدیقہ کیانی نے ایک انٹرویو میں اپنی نجی زندگی سے متعلق بھی اہم انکشافات کیے۔روایتی آلات موسیقی اور جدید میوزک کے دلآویز امتزاج سے گلوکارہ حدیقہ کیانی 1995ء سے 2017ء تک مسحور کن آواز اور مدھر دھنوں سجے اپنے البمز ’راز، روشنی، رنگ، رف کٹ، آسمان اور وجد‘ سے اپنے مداحوں کے دلوں پر راج کر رہی ہیں۔نفسیا...

حدیقہ کیانی نے اپنی طلاق کی وجہ بتادی

آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے ،خالد مقبول صدیقی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہاہے آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے،اگر سندھ میں معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو یہ آخری آپشن ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے نجی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جمہوری اقدار میں ہر ایک کو احتجاج کا حق ہے،اس وقت حکومت دنیا بھر میں کشمیریوں کے حقوق اور آزادی کا مقدمہ لڑ رہی ہے،ان تمام معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو دھرنا نہیں دینا چاہیئے،مولاناکواپنے ف...

آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے ،خالد مقبول صدیقی

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،موکل نے کسی معززجج کیخلاف تعصب یاذاتی عناد کاالزام نہیں لگایا، فل کورٹ اورالگ ہونے والے ججز پرکوئی اعتراض نہیں، اعلی عدلیہ کے ججز پر دبائو ڈالنا اس کیس کی جان ہے، لندن کا پہلا فلیٹ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے 2004 میں لیا، پہلا فلیٹ خریدنے کے پانچ سال بعد جسٹس قاضی فائز عیسی جج بنے، دوسرا اور تیسرا فلیٹ 2013 میں ج...

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل

مضامین
تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔
َِ(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔<BR> َِ(علی عمران جونیئر)

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود پیر 30 ستمبر 2019
خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

اشتہار