وجود

... loading ...

وجود

اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں

منگل 20 فروری 2018 اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں

کسی بھی فرد کی دماغی حالت یا دماغی صحت ان عوامل یا ان حالات کا نام ہے جس سے گزر کر اور جس کو بہتر طریقے سے سمجھ کر وہ فرد اپنی زندگی کے حالات کو برداشت کر تے ہوئے اپنی روزمرہ کے کاموں کو بہتر طریقے سے سرانجام دیتے ہوئے معاشرے میں اپنا حصہ بہتر طریقے سے نبھا تا ہے ۔ موجودہ حالات میں پوری عالمی برادری مختلف ذہنی امراض سے دوچار نظر آتی ہے اور ذہنی صحت کی حالت بے حد ابتر ہوتی جارہی ہے جس سے لوگوں میںمختلف ذہنی اور جسمانی عوراض جن میں نیند کی کمی، ڈپریشن ، غصہ ، ہائی بلڈ پریشر، الزائمر ، عضلاتی اور ذہنی دبائو وغیرہ جیسے عوراض عام ہوتے جارہے ہیں ۔ پاکستان میں بھی ماہرین کے مطابق ذہنی اور دماغی طور پر متاثرہ مریضوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ لوگ مادی ترقی کی طرف تو گامزن ہیں مگر آج کل کے مختلف سوشل میڈیا اور گلوبل ولیج(Global Village) کے بڑھتے ہوئے عوامل کے باوجود بھی انسا ن روحانی اورسماجی اقدار میں زوال پذیر ی کا شکار نظر آتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر موجود ہزاروں ، لاکھوں دوستوں کے باوجود بھی سماجی اور معاشرتی زندگی میں روابط کی کمی اور تنہائی کی وجہ سے دماغی غیر صحت مندی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اسی وجہ سے ملک میں خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان ، دہشت گردی کی طرف متوجہ نوجوان ، خودکش بم دھماکے ، غربت، بے روزگاری میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ لوگوں میںایک عجیب سی نہ ختم ہونے والی بے یقینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے جو ذہنی بے چینی ، چڑچڑاپن ، غصہ اور ذہنی دبائو کا باعث بن رہا ہے ۔ اور پھر یہ آگے بڑھ کر متاثرہ افراد میں مختلف ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں مثلاََ بلاوجہ کی فکر اور تشویش Anxiety ، اعصابی اور ذہنی دبائو، احساس کمتری ، احساس برتری، الزائمر ،پا رکنسن کی بیماری ، رعشہ، حافظہ کی کمزوری ، بلاوجہ کا خوف ، ڈپریشن ، ذہنی دبائو، سر درد، دردِ شقیقہ، شیزوفرینیا(Schizophrenia) ، فرسٹیریشن ، پاگل پن، احساس محرومی وغیرہ کے ساتھ ساتھ فالج، لقوہ ، مرگی اور ہیٹسریا وغیرہ کا سبب بنتے ہیں ۔

پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ دماغی اور اعصابی امراض کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد دل کی بیماریوں اور کینسر جیسے مرض سے بھی زیادہ ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں اعصابی بیماریوں سے موت ہونا ایک اہم اور بنیادی وجہ ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق ہر چار لوگوں میں سے ایک فرد امکانی طور پر کسی نہ کسی دماغی صحت سے متعلق مسئلہ یا مرض سے دوچار ہوسکتا ہے ۔ جس میںہر پس منظر، قبیلے ، پیشے ، جنس اور عمر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوسکتے ہیں ۔ اور دماغی صحت سے شرمندگی اور پردہ داری عام طور پر متاثرہ لوگوں کے لئے مدد حاصل کرنے اور صحت یاب ہونے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتی ہے ۔ جبکہ بعض اوقات افراد کی دماغی بیماری میں مبتلا شخص کو جن بھوتوں یا دیگر نظر نہ آنے والی مخلوقات سے بھی جوڑ دیتے ہیں یا ان کے اوپر جنات کا سایہ تصور کر لیا جاتا ہے ۔اور پھر وہ متاثرہ شخص درست علاج حاصل کرنے کے بجائے مختلف عاملوں، بابائوں اور دم درود کو ہی علاج گردانتے ہوئے اس دلدل میں مزید دھنستے چلے جاتے ہیں ۔

دماغی صحت میںکمزوری یا بیماری کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں ۔جن میں مختلف حیاتیاتی عوامل سے لے کر موروثی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں ۔ انسانی دماغ میں موجود نیو روٹرانسمیٹر س(Neuro Transmeters) نامی مخصوص کیمیائی مادہ اگر کسی بھی وجہ سے عدم توازن کا شکار ہو جائے تو یہ دماغ کی غیر صحت مند ی کا سبب بن سکتا ہے ۔ کیونکہ ان نیو روٹرانسمیٹر س کا کام دماغ میںموجودنیوروں خلیات کے ایک دوسرے سے رابطہ کو یقینی بنا نا اور اس میں مدد کرنا ہوتا ہے ۔ اور جب یہ خلیات متاثر ہوتے ہیں تو دماغ میں پیغامات کی ترسیل یا پیغامات پہنچانے کا کام مناسب طریقے سے انجام نہیں ہو پاتا ہے ۔ جس کے باعث دماغ میں مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطا بق کچھ دماغی مسئلے یا دماغی بیماریاں جینیاتی یا موروثی طورپر بھی ہوتے ہیں ۔ جس میں متاثرہ فرد کے خاندان میں سے کوئی یا بہت سارے افراد اس سے متاثر ہوئے ہوتے ہیں اور پھر یہ جینز(Genes) کے ذریعہ ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ کچھ انفیکشن بھی دماغی خلل یا ذہنی کمزوری پید ا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں یا پھر دماغ میںکسی بھی قسم کی گہری چوٹ یا زخم بھی دماغی صحت کے متاثر ہونے کا امکانات کو بڑھا دیتے ہیں ۔
ایک تحقیق کے مطابق نئے زمانے سے حاصل کی ہوئی کچھ عادات اور نئے طور طریقے بھی دماغی کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں ۔ تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے تقریباََ پچاسی فیصد لوگ دماغی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ یہ ویڈیو گیمز دماغ کی یادداشت کو کمز ور کردیتے ہیں جو ان کی دماغی صحت کے لئے حد نقصان دہ ہے ۔

ڈپریشن یا مایوسی کا شکار افراد بھی دماغی کمزوری کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ مستقل ڈپریشن اورذہنی دبائو میں رہنے والے لوگ اپنے آپ کو زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھی دور کر لیتے ہیں ۔ اور پھر با لا آ خر ذہنی دبائو کے سمندر میں خود کو غرق کر کے اپنے آپ کو دماغی کمزوری اور بیماریوں کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ انیزائٹی نیو روسس (Anxiety Neur osis) میں مریض ہر وقت ڈر اور خوف کی سی کیفیت میں رہتا ہے ۔ اس میں متاثرہ فرد اپنے آپ کو بغیر کسی وجہ کے کسی نہ کسی مرض کا شکار سمجھنے لگتے ہیں جیسے کہ سردرد، جسم میں درد وغیرہ اور پھر اس میں اتنی شدت آجاتی ہے کہ وہ مرض واقعی میں شروع ہو جاتا ہے جبکہ بعض لوگوں میں انٹرویو یا امتحان سے پہلے پیٹ میں درد ، بخار اور دست وغیرہ کے مسئلے شروع ہو جاتے ہیں ۔

بائی پولر ڈس آرڈر(Bi Poler Disorder) ایک ایسی دماغی کیفیت کا نام ہوتا ہے جس میں مریض حد سے زیاد ہ خوشگوار یا پھر حدسے زیادہ اداس اور غمزدہ ہو جاتاہے اس مرض کا تعلق زیادہ تر وراثت سے ہوتا ہے یعنی یہ ذہنی بیماری خاندان میں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح او سی ڈیbsessive-Compulsive Disorder (OCD) ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں متا ثرہ شخص کو ایک ہی خیال بار بار آتا ہے جیسا کہ باربار ہاتھ دھونا ، کسی بیماری کے لگ جانے کا خطرہ ، وہم کرنا ، کسی کو مار دینے کا یا پھر خود مرجانے کا خیال بار بار آنا۔

جس طرح ہمارے جسم کو صحت مند اور توانا رہنے کے لئے اچھی غذا ، تو جہ اور صحت مند ماحول کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح ہمارے دماغ کو بھی صحت مند رہنے کے لئے درست غذائوں کا مناسب استعمال اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس سے فرد اپنے دماغ سے اچھی طرح سوچنے ، توجہ مرکوز کرنے ، توانائی حاصل کرنے اور دماغ کو معاشرے کے لئے ہر ممکن طریقے سے بہتر طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوتا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق روزمرہ زندگی میں مختلف صحت مند غذائوں کا ایک مناسب مقدار میں استعمال کر کے اور صحت بخش طرز زندگی اپنا کر ہم اپنے دماغی صحت کو بڑھا کر اس کو بڑھتی عمر کے ساتھ ایک صحت مند اور بہتر حالت میں رکھ سکتے ہیں ۔
جرمنی کی فر ینکفر ٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ذہنی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے کیمیائی اجزاء مثلاََ کیفین کا زیادہ استع

مال ، مختلف مصنو عی خوراک اور دوائوں کا سہارا جو کہ ایک غیر صحت بخش طرز عمل ہے ، کے بجائے جسمانی اور دماغی صلاحیتوں اور صحت بہتر بنانے کے لئے قدرتی غذائوں کا استعمال بہتر ہوتا ہے ۔ ان کی تحقیق کے مطابق صحت مند غذائوں کے استعمال کے ذریعے دماغی صحت اور صلاحیت کو طویل عرصے تک اور بہتر طریقے سے بڑھایا جاسکتا ہے ۔
سبز سبزیاں جسے کہ پالک ، ساگ وغیرہ جن م

یں Anti Oxidants، ریشہ، مختلف وٹا منز اور غذائیت موجود ہوتی ہے انہیں ہفتے میں کم از کم ایک بار غذا میں ضرور شامل کرنا چاہیئے ۔ پتے والی سبزیوں مثلاََ پالک ، بند گوبھی ، مولی وغیرہ میں ایک مادہ لیو ٹین (Lutein) موجود ہوتا ہے جو بیماریوں کے خلاف ایک مدافتی قوت رکھتا ہے اور یا دداشت میں اضافہ اور دماغی تھکاوٹ میں کمی کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ دماغی صحت میں بھی اضافہ کرتا ہے ۔ تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی دماغ کی صحت بھی متاثرہونے لگتی ہے اور جو لوگ مچھلی کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ان کی دماغی قوت ، یا دداشت اور ذہانت مچھلی کا کم استعمال کرنے والے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور فعال حالت میں ہوتی ہے ۔ لہذا دماغی صحت کو قائم رکھنے کے لئے ہفتے میں کم از کم ایک یا دوبار مچھلی کا استعمال اپنے روزمرہ کے روٹین کا لازمی حصہ بنا لینا چاہیئے ۔ اس کے علاوہ مختلف رنگ کے بیریز(Barries) اور چیریز(Cherries) بھی صحت مند دماغ کے لئے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ان میں اینتھو سیا نن(Enthocyanins) اور مختلف فلیونو ئیڈز(Flavonoids) موجود ہوتے ہیں جو دماغی صحت کے لئے لازم ہیں ۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق رنگ برنگی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال دماغی صحت کے لئے بہترین ہے ۔پیلی ، نارنجی اور سرخ سبزیوں اور پھلوں میں ایک مادہ (Carotenoids)موجود ہوتا ہے جو دماغ کو بہتر طور پر فعال اور مستعد بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اس میں Anti Oxidants بھی موجود ہوتے ہیں جو مختلف دماغی اور ذہنی امراض سے محفوظ رکھتے ہیں ۔
صبح جلدی بیدار ہونے اور رات میں جلدی سونے کی عادت کو اپناتے ہوئے کوشش کرنی چاہیئے کہ کسی بند اور گٹھن زدہ ماحول

میں سونے کے بجائے ہوا دار اور کھلی جگہ پر سوئیں جہاں سے آکسیجن کا حصول دماغ کو ممکن ہو سکے جو دماغ کی صحت کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ منفی جذبات مثلاََ غصہ ، حسد، لالچ ، کینہ اور حرص وغیرہ سے اجتناب برتتے ہوئے صبروتحمل سے کام لینا چاہیئے ۔ اور اپنے رشتہ داروں اور ملنے جلنے والے لوگوں سے ہمیشہ خوش اخلاق اور حسن سلوک سے ملنا چاہیئے اور اگر کسی کی کوئی بات بُری لگے یا کسی کی بات یا رویے سے کوئی تکلیف پہنچی ہو توا سے درگزر کر دینا چاہیئے ۔ کیونکہ ہر منفی بات کو دماغ میں بٹھانے یا ہمہ وقت اس کے بارے میں سوچنے سے مختلف منفی انزائمز یا خیالات جنم لیتے ہیں جو دماغی خلیات کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتے ہیں ۔

ہمیں زندگی کو ایک مثبت طرزذہن اور ایک صحت مندانہ طریقے سے گزارنے کے لئے ہمیشہ خود کو پُر امیداور مثبت انداز فکر کے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیئے جس سے ہم مختلف ذہنی امراض سے محفوظ رہتے ہوئے ایک صحت مند دماغ کے ساتھ معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

مضامین
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر وجود منگل 24 فروری 2026
فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر