وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں

منگل 20 فروری 2018 اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں

کسی بھی فرد کی دماغی حالت یا دماغی صحت ان عوامل یا ان حالات کا نام ہے جس سے گزر کر اور جس کو بہتر طریقے سے سمجھ کر وہ فرد اپنی زندگی کے حالات کو برداشت کر تے ہوئے اپنی روزمرہ کے کاموں کو بہتر طریقے سے سرانجام دیتے ہوئے معاشرے میں اپنا حصہ بہتر طریقے سے نبھا تا ہے ۔ موجودہ حالات میں پوری عالمی برادری مختلف ذہنی امراض سے دوچار نظر آتی ہے اور ذہنی صحت کی حالت بے حد ابتر ہوتی جارہی ہے جس سے لوگوں میںمختلف ذہنی اور جسمانی عوراض جن میں نیند کی کمی، ڈپریشن ، غصہ ، ہائی بلڈ پریشر، الزائمر ، عضلاتی اور ذہنی دبائو وغیرہ جیسے عوراض عام ہوتے جارہے ہیں ۔ پاکستان میں بھی ماہرین کے مطابق ذہنی اور دماغی طور پر متاثرہ مریضوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ لوگ مادی ترقی کی طرف تو گامزن ہیں مگر آج کل کے مختلف سوشل میڈیا اور گلوبل ولیج(Global Village) کے بڑھتے ہوئے عوامل کے باوجود بھی انسا ن روحانی اورسماجی اقدار میں زوال پذیر ی کا شکار نظر آتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر موجود ہزاروں ، لاکھوں دوستوں کے باوجود بھی سماجی اور معاشرتی زندگی میں روابط کی کمی اور تنہائی کی وجہ سے دماغی غیر صحت مندی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اسی وجہ سے ملک میں خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان ، دہشت گردی کی طرف متوجہ نوجوان ، خودکش بم دھماکے ، غربت، بے روزگاری میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ لوگوں میںایک عجیب سی نہ ختم ہونے والی بے یقینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے جو ذہنی بے چینی ، چڑچڑاپن ، غصہ اور ذہنی دبائو کا باعث بن رہا ہے ۔ اور پھر یہ آگے بڑھ کر متاثرہ افراد میں مختلف ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں مثلاََ بلاوجہ کی فکر اور تشویش Anxiety ، اعصابی اور ذہنی دبائو، احساس کمتری ، احساس برتری، الزائمر ،پا رکنسن کی بیماری ، رعشہ، حافظہ کی کمزوری ، بلاوجہ کا خوف ، ڈپریشن ، ذہنی دبائو، سر درد، دردِ شقیقہ، شیزوفرینیا(Schizophrenia) ، فرسٹیریشن ، پاگل پن، احساس محرومی وغیرہ کے ساتھ ساتھ فالج، لقوہ ، مرگی اور ہیٹسریا وغیرہ کا سبب بنتے ہیں ۔

پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ دماغی اور اعصابی امراض کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد دل کی بیماریوں اور کینسر جیسے مرض سے بھی زیادہ ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں اعصابی بیماریوں سے موت ہونا ایک اہم اور بنیادی وجہ ہے ۔

ایک تحقیق کے مطابق ہر چار لوگوں میں سے ایک فرد امکانی طور پر کسی نہ کسی دماغی صحت سے متعلق مسئلہ یا مرض سے دوچار ہوسکتا ہے ۔ جس میںہر پس منظر، قبیلے ، پیشے ، جنس اور عمر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوسکتے ہیں ۔ اور دماغی صحت سے شرمندگی اور پردہ داری عام طور پر متاثرہ لوگوں کے لئے مدد حاصل کرنے اور صحت یاب ہونے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتی ہے ۔ جبکہ بعض اوقات افراد کی دماغی بیماری میں مبتلا شخص کو جن بھوتوں یا دیگر نظر نہ آنے والی مخلوقات سے بھی جوڑ دیتے ہیں یا ان کے اوپر جنات کا سایہ تصور کر لیا جاتا ہے ۔اور پھر وہ متاثرہ شخص درست علاج حاصل کرنے کے بجائے مختلف عاملوں، بابائوں اور دم درود کو ہی علاج گردانتے ہوئے اس دلدل میں مزید دھنستے چلے جاتے ہیں ۔

دماغی صحت میںکمزوری یا بیماری کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں ۔جن میں مختلف حیاتیاتی عوامل سے لے کر موروثی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں ۔ انسانی دماغ میں موجود نیو روٹرانسمیٹر س(Neuro Transmeters) نامی مخصوص کیمیائی مادہ اگر کسی بھی وجہ سے عدم توازن کا شکار ہو جائے تو یہ دماغ کی غیر صحت مند ی کا سبب بن سکتا ہے ۔ کیونکہ ان نیو روٹرانسمیٹر س کا کام دماغ میںموجودنیوروں خلیات کے ایک دوسرے سے رابطہ کو یقینی بنا نا اور اس میں مدد کرنا ہوتا ہے ۔ اور جب یہ خلیات متاثر ہوتے ہیں تو دماغ میں پیغامات کی ترسیل یا پیغامات پہنچانے کا کام مناسب طریقے سے انجام نہیں ہو پاتا ہے ۔ جس کے باعث دماغ میں مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطا بق کچھ دماغی مسئلے یا دماغی بیماریاں جینیاتی یا موروثی طورپر بھی ہوتے ہیں ۔ جس میں متاثرہ فرد کے خاندان میں سے کوئی یا بہت سارے افراد اس سے متاثر ہوئے ہوتے ہیں اور پھر یہ جینز(Genes) کے ذریعہ ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ کچھ انفیکشن بھی دماغی خلل یا ذہنی کمزوری پید ا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں یا پھر دماغ میںکسی بھی قسم کی گہری چوٹ یا زخم بھی دماغی صحت کے متاثر ہونے کا امکانات کو بڑھا دیتے ہیں ۔
ایک تحقیق کے مطابق نئے زمانے سے حاصل کی ہوئی کچھ عادات اور نئے طور طریقے بھی دماغی کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں ۔ تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے تقریباََ پچاسی فیصد لوگ دماغی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ یہ ویڈیو گیمز دماغ کی یادداشت کو کمز ور کردیتے ہیں جو ان کی دماغی صحت کے لئے حد نقصان دہ ہے ۔

ڈپریشن یا مایوسی کا شکار افراد بھی دماغی کمزوری کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ مستقل ڈپریشن اورذہنی دبائو میں رہنے والے لوگ اپنے آپ کو زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھی دور کر لیتے ہیں ۔ اور پھر با لا آ خر ذہنی دبائو کے سمندر میں خود کو غرق کر کے اپنے آپ کو دماغی کمزوری اور بیماریوں کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ انیزائٹی نیو روسس (Anxiety Neur osis) میں مریض ہر وقت ڈر اور خوف کی سی کیفیت میں رہتا ہے ۔ اس میں متاثرہ فرد اپنے آپ کو بغیر کسی وجہ کے کسی نہ کسی مرض کا شکار سمجھنے لگتے ہیں جیسے کہ سردرد، جسم میں درد وغیرہ اور پھر اس میں اتنی شدت آجاتی ہے کہ وہ مرض واقعی میں شروع ہو جاتا ہے جبکہ بعض لوگوں میں انٹرویو یا امتحان سے پہلے پیٹ میں درد ، بخار اور دست وغیرہ کے مسئلے شروع ہو جاتے ہیں ۔

بائی پولر ڈس آرڈر(Bi Poler Disorder) ایک ایسی دماغی کیفیت کا نام ہوتا ہے جس میں مریض حد سے زیاد ہ خوشگوار یا پھر حدسے زیادہ اداس اور غمزدہ ہو جاتاہے اس مرض کا تعلق زیادہ تر وراثت سے ہوتا ہے یعنی یہ ذہنی بیماری خاندان میں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح او سی ڈیbsessive-Compulsive Disorder (OCD) ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں متا ثرہ شخص کو ایک ہی خیال بار بار آتا ہے جیسا کہ باربار ہاتھ دھونا ، کسی بیماری کے لگ جانے کا خطرہ ، وہم کرنا ، کسی کو مار دینے کا یا پھر خود مرجانے کا خیال بار بار آنا۔

جس طرح ہمارے جسم کو صحت مند اور توانا رہنے کے لئے اچھی غذا ، تو جہ اور صحت مند ماحول کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح ہمارے دماغ کو بھی صحت مند رہنے کے لئے درست غذائوں کا مناسب استعمال اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس سے فرد اپنے دماغ سے اچھی طرح سوچنے ، توجہ مرکوز کرنے ، توانائی حاصل کرنے اور دماغ کو معاشرے کے لئے ہر ممکن طریقے سے بہتر طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوتا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق روزمرہ زندگی میں مختلف صحت مند غذائوں کا ایک مناسب مقدار میں استعمال کر کے اور صحت بخش طرز زندگی اپنا کر ہم اپنے دماغی صحت کو بڑھا کر اس کو بڑھتی عمر کے ساتھ ایک صحت مند اور بہتر حالت میں رکھ سکتے ہیں ۔
جرمنی کی فر ینکفر ٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ذہنی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے کیمیائی اجزاء مثلاََ کیفین کا زیادہ استع

مال ، مختلف مصنو عی خوراک اور دوائوں کا سہارا جو کہ ایک غیر صحت بخش طرز عمل ہے ، کے بجائے جسمانی اور دماغی صلاحیتوں اور صحت بہتر بنانے کے لئے قدرتی غذائوں کا استعمال بہتر ہوتا ہے ۔ ان کی تحقیق کے مطابق صحت مند غذائوں کے استعمال کے ذریعے دماغی صحت اور صلاحیت کو طویل عرصے تک اور بہتر طریقے سے بڑھایا جاسکتا ہے ۔
سبز سبزیاں جسے کہ پالک ، ساگ وغیرہ جن م

یں Anti Oxidants، ریشہ، مختلف وٹا منز اور غذائیت موجود ہوتی ہے انہیں ہفتے میں کم از کم ایک بار غذا میں ضرور شامل کرنا چاہیئے ۔ پتے والی سبزیوں مثلاََ پالک ، بند گوبھی ، مولی وغیرہ میں ایک مادہ لیو ٹین (Lutein) موجود ہوتا ہے جو بیماریوں کے خلاف ایک مدافتی قوت رکھتا ہے اور یا دداشت میں اضافہ اور دماغی تھکاوٹ میں کمی کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ دماغی صحت میں بھی اضافہ کرتا ہے ۔ تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی دماغ کی صحت بھی متاثرہونے لگتی ہے اور جو لوگ مچھلی کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ان کی دماغی قوت ، یا دداشت اور ذہانت مچھلی کا کم استعمال کرنے والے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور فعال حالت میں ہوتی ہے ۔ لہذا دماغی صحت کو قائم رکھنے کے لئے ہفتے میں کم از کم ایک یا دوبار مچھلی کا استعمال اپنے روزمرہ کے روٹین کا لازمی حصہ بنا لینا چاہیئے ۔ اس کے علاوہ مختلف رنگ کے بیریز(Barries) اور چیریز(Cherries) بھی صحت مند دماغ کے لئے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ان میں اینتھو سیا نن(Enthocyanins) اور مختلف فلیونو ئیڈز(Flavonoids) موجود ہوتے ہیں جو دماغی صحت کے لئے لازم ہیں ۔

ایک حالیہ تحقیق کے مطابق رنگ برنگی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال دماغی صحت کے لئے بہترین ہے ۔پیلی ، نارنجی اور سرخ سبزیوں اور پھلوں میں ایک مادہ (Carotenoids)موجود ہوتا ہے جو دماغ کو بہتر طور پر فعال اور مستعد بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اس میں Anti Oxidants بھی موجود ہوتے ہیں جو مختلف دماغی اور ذہنی امراض سے محفوظ رکھتے ہیں ۔
صبح جلدی بیدار ہونے اور رات میں جلدی سونے کی عادت کو اپناتے ہوئے کوشش کرنی چاہیئے کہ کسی بند اور گٹھن زدہ ماحول

میں سونے کے بجائے ہوا دار اور کھلی جگہ پر سوئیں جہاں سے آکسیجن کا حصول دماغ کو ممکن ہو سکے جو دماغ کی صحت کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ منفی جذبات مثلاََ غصہ ، حسد، لالچ ، کینہ اور حرص وغیرہ سے اجتناب برتتے ہوئے صبروتحمل سے کام لینا چاہیئے ۔ اور اپنے رشتہ داروں اور ملنے جلنے والے لوگوں سے ہمیشہ خوش اخلاق اور حسن سلوک سے ملنا چاہیئے اور اگر کسی کی کوئی بات بُری لگے یا کسی کی بات یا رویے سے کوئی تکلیف پہنچی ہو توا سے درگزر کر دینا چاہیئے ۔ کیونکہ ہر منفی بات کو دماغ میں بٹھانے یا ہمہ وقت اس کے بارے میں سوچنے سے مختلف منفی انزائمز یا خیالات جنم لیتے ہیں جو دماغی خلیات کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتے ہیں ۔

ہمیں زندگی کو ایک مثبت طرزذہن اور ایک صحت مندانہ طریقے سے گزارنے کے لئے ہمیشہ خود کو پُر امیداور مثبت انداز فکر کے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیئے جس سے ہم مختلف ذہنی امراض سے محفوظ رہتے ہوئے ایک صحت مند دماغ کے ساتھ معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں ۔


متعلقہ خبریں


مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پوری دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، برطانوی رکن پارلیمنٹ وجود - جمعه 21 فروری 2020

پاکستان کے دورے پر آئی برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمز نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ قرار دے دیا۔لاہور میں گورنر پنجاب سے ڈیبی ابراہمز سمیت برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے ملاقات کی جس میں مسئلہ کشمیر اور خطے کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ وفد میں ممبر برطانوی پارلیمنٹ مارک ایسٹوڈ ، سارہ برٹکلف، لارڈ قربان ، جوڈی کمننز، طاہر علی اور عمران حسین شامل تھے ۔وفد نے گورنر کو کشمیریوں پر مظالم کے خلاف برطانوی پارلیمنٹ میں آواز بلند کرنے کی یقین دہانی کراتے ...

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پوری دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے ، برطانوی رکن پارلیمنٹ

پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا پر تشویش ہے ،ترجمان دفتر خارجہ وجود - جمعه 21 فروری 2020

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا، زینوفوبیا اور نسلی نفرت کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش ہے ۔اسلام آباد سے جاری ہونے والے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جرمنی میں حملوں کی سخت مذمت کی ہے ، ان گھنائونے حملوں سے کئی معصوم اپنی جان گنوا بیٹھے اور بہت سے زخمی ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان جرمنی کے ساتھ کھڑا ہے جب کہ اس حملے میں ترک شہریوں کی جانیں جانے پر ترکی کے ساتھ بھی تعزیت کرتے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ان ح...

پاکستان کو دنیا کے کئی حصوں میں اسلاموفوبیا پر تشویش ہے ،ترجمان دفتر خارجہ

چین کورونا وائرس سے مزید 118افراد ہلاک ،تعداد2247ہو گئی وجود - جمعه 21 فروری 2020

کورونا وائرس سے مزید 118 افراد جان کی بازی ہارگئے ،مرنیوالوں کی تعداد 2247ہو گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں نہ رک سکیں اورمزید 118 افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد2247ہوگئی۔899 نئے مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 76700ہوگئی۔ صرف صوبہ ہوبئی میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 62ہزارسے زائد ہے جبکہ 11ہزار633مریضوں کی حالت نازک ہے ۔دوسری جانب شنگھائی میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے پلازما تھراپی ...

چین کورونا وائرس سے مزید 118افراد ہلاک ،تعداد2247ہو گئی

میکسیکو، اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد وجود - جمعرات 20 فروری 2020

میکسیکو کی ریاست میشواکان میں اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد کر لی گئیں۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ میکسیکو حکام نے مغربی ریاست میشواکان کے علاقے کومانجا میں اجتماعی قبر دریافت کی جس کی کھدائی کر کے بوسیدہ حالت میں 10نعشیں برآمد کی گئیں جنہیں ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لیے فرانزک ماہرین کے تجزیے کے لیے بھیجا جائے گا۔بیان میں بتایا گیا کہ جرائم میں ملوث افراد کی شناخت کر لی گئی ۔

میکسیکو، اجتماعی قبر سے 10نعشیں برآمد

یوکرین اسکینڈل، امریکی نائب وزیرِ دفاع مستعفی وجود - جمعرات 20 فروری 2020

یوکرین اسکینڈل سے وابستہ امریکی نائب وزیر دفاع جان روڈ مستعفی ہو گئے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی نائب وزیرِ دفاع برائے پالیسی جان روڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر استعفی دیدیا۔ مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں جان روڈ کا کہنا تھا کہ وزیرِ دفاع سے معلوم ہوا ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دوں۔انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ کی درخواست پر میں اپنا استعفیٰ بھیج رہا ہوں، 28 فروری سے عہدہ خالی ہو گا۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جان روڈ نے تصدیق ...

یوکرین اسکینڈل، امریکی نائب وزیرِ دفاع مستعفی

بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے کے کام کو آگے بڑھایا جائے ، چین وجود - بدھ 19 فروری 2020

چین کی وزارت تجارت نے ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے مختلف ملکوں سے مطالبہ کیا کہ بیرونی تجارت ،بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے اور اصراف کو فروغ دینے کے کام کو آگے بڑھایا جائے اور تجارتی ترقی پر وبا کے اثرات کو کم سے کم کیا جائے ۔نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بیرونی تجارت ،بیرونی سرمایہ کاری ،لاجسٹکس اور ای کارمرس سے منسلک صنعتی اداروں کی پیداوار بحال کرنے میں مددفراہم کی جائے ،دی بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ اہم منصوبوں کو منظم طور پر آگے بڑھایا جائے ۔

بیرونی سرمایہ کاری کو مستحکم بنانے کے کام کو آگے بڑھایا جائے ، چین

مصر میں مٹی کے تاریخی قبرستان دریافت وجود - بدھ 19 فروری 2020

مصری وزارت سیاحت و آثار قدیمہ نے اعلان کیا ہے کہ الدقھلیہ صوبے کے معروف مقام ام الخلجان میں 83تاریخی قبرستان دریافت ہوئے ہیں۔ یہ مصر کا ڈیلٹا کہلاتا ہے ۔ دریافت ہونے والے آثار کا تعلق 4ہزار قبل مسیح کے نصف اول سے ہے ۔یہ مصر زیریں یا بوتوتمدن کے نام سے مشہور ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قبرستان بیضوی شکل کے ہیں۔ قبریں ریگستانی جزیرے میں تراش کر بنائی گئی ہیں۔ قبروں میں نعشیںاکڑوںشکل میں رکھی ہوئی ہیں۔میتوں کے ساتھ سامان وغیرہ بھی موجود ہے ۔وہاں سے ملنے والا سامان مختلف ...

مصر میں مٹی کے تاریخی قبرستان دریافت

سعودی عرب کی طرف 47 ممالک میں 4 ارب ڈالر کی امداد وجود - بدھ 19 فروری 2020

کنگ سلمان سینٹر برائے انسانی امداد نے کہا ہے کہ جنوری 2020 تک 47ممالک میں 4ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دی ہے ۔سب سے زیادہ امداد یمن میں دی گئی جہاں سینٹر نے اب تک دو بلین ریال مالیت سے زیادہ منصوبے ، امدادی سامان، علاج معالجہ اور دیگر سہولتیں مستحقین کو فراہم کی ہیں۔فلسطین دوسرے نمبر پر جہاں 355ملین ڈالر کی امداد دی گئی۔شام چوتھے نمبر پر ہے جہاں 286ملین ڈالر سے زیادہ امداد کی گئی جبکہ پانچویں نمبر پر صومالیہ ہے جہاں 186ملین ڈالر سے زیادہ امداد دی گئی۔سینٹر نے کہا ہے کہ اس نے س...

سعودی عرب کی طرف 47 ممالک میں 4 ارب ڈالر کی امداد

کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت وجود - منگل 18 فروری 2020

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھنوم نے کہا کہ چین کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق نوول کورونا وائرس سے متاثرہ نئے کیسز میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔اس لئے عالمی ادارہ صحت موجودہ نتائج کو برقرار رکھے گا یعنی نوول کرونا وائرس نمونیا عالمی سطح پر وبائی بیماری نہیں اور عالمی سطح پر وبا کے خطر ے کی درجہ بندی کو نہیں بڑھایا جائے گا۔عالمی ادارہ صحت کے تحت ہنگامی صحت عامہ پروگرام کے انچارج م...

کورونا وائرس کی وبا ، عالمی خطر ے کے درجے میں اضافہ نہیں کیا جائیگا ، عالمی ادارہ صحت

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین وجود - منگل 18 فروری 2020

چین نے ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کردیا ۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گنگ شوانگ نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان چینی کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جو ایران اوردوسرے ممالک کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے داخلی قوانین اور یکطرفہ طور پر دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیوں اور اداروں پر پابندی عائد کرے ۔گنگ شوانگ نے ایران کے خلاف امریک...

ایران کے ساتھ کام کرنے والی چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیاں ختم کی جائیں،چین

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل وجود - منگل 18 فروری 2020

سعودی عرب دنیا کے دس پرکشش ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق2020 کے دوران سعودی عرب مختلف تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے نمایاں ترین ملک بن جائے گا۔عالمی بنک نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں سعودی عرب کو دنیا کے دس پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔ سعودی عرب دبئی کا طاقتور حریف بننے جارہا ہے ۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں سعودی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کی بدولت کمپنیاں دبئی سے سعودی عرب منتقل ہونے لگی ہیں۔ کئی کمپنیوں نے اپنے کاروبار کا ...

سعودی عرب دنیا کے 10پرکشش ممالک کی فہرست میں شامل

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز وجود - پیر 17 فروری 2020

سوڈان میں گزشتہ برس صدر عمر البشیر کا تختہ الٹے جانے کے بعد نئی حکومت نے اسرائیلی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز کردیا ۔ سوڈان کی خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی اجازت سے اسرائیل کے لیے سوڈان کی فضائی حدود کو کھول دیا گیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوڈان اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے باب میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ سوڈان نے اسرائیلی سول طیاروں کو اپنی حدودمیں استعمال کرنے کی اجازت دے دی ۔رپورٹ کے مطابق ایک سول طیارہ تل ابیب سے سو...

سوڈانی حکومت کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا آغاز