... loading ...
کسی بھی فرد کی دماغی حالت یا دماغی صحت ان عوامل یا ان حالات کا نام ہے جس سے گزر کر اور جس کو بہتر طریقے سے سمجھ کر وہ فرد اپنی زندگی کے حالات کو برداشت کر تے ہوئے اپنی روزمرہ کے کاموں کو بہتر طریقے سے سرانجام دیتے ہوئے معاشرے میں اپنا حصہ بہتر طریقے سے نبھا تا ہے ۔ موجودہ حالات میں پوری عالمی برادری مختلف ذہنی امراض سے دوچار نظر آتی ہے اور ذہنی صحت کی حالت بے حد ابتر ہوتی جارہی ہے جس سے لوگوں میںمختلف ذہنی اور جسمانی عوراض جن میں نیند کی کمی، ڈپریشن ، غصہ ، ہائی بلڈ پریشر، الزائمر ، عضلاتی اور ذہنی دبائو وغیرہ جیسے عوراض عام ہوتے جارہے ہیں ۔ پاکستان میں بھی ماہرین کے مطابق ذہنی اور دماغی طور پر متاثرہ مریضوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ لوگ مادی ترقی کی طرف تو گامزن ہیں مگر آج کل کے مختلف سوشل میڈیا اور گلوبل ولیج(Global Village) کے بڑھتے ہوئے عوامل کے باوجود بھی انسا ن روحانی اورسماجی اقدار میں زوال پذیر ی کا شکار نظر آتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر موجود ہزاروں ، لاکھوں دوستوں کے باوجود بھی سماجی اور معاشرتی زندگی میں روابط کی کمی اور تنہائی کی وجہ سے دماغی غیر صحت مندی کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اسی وجہ سے ملک میں خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان ، دہشت گردی کی طرف متوجہ نوجوان ، خودکش بم دھماکے ، غربت، بے روزگاری میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ لوگوں میںایک عجیب سی نہ ختم ہونے والی بے یقینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے جو ذہنی بے چینی ، چڑچڑاپن ، غصہ اور ذہنی دبائو کا باعث بن رہا ہے ۔ اور پھر یہ آگے بڑھ کر متاثرہ افراد میں مختلف ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں مثلاََ بلاوجہ کی فکر اور تشویش Anxiety ، اعصابی اور ذہنی دبائو، احساس کمتری ، احساس برتری، الزائمر ،پا رکنسن کی بیماری ، رعشہ، حافظہ کی کمزوری ، بلاوجہ کا خوف ، ڈپریشن ، ذہنی دبائو، سر درد، دردِ شقیقہ، شیزوفرینیا(Schizophrenia) ، فرسٹیریشن ، پاگل پن، احساس محرومی وغیرہ کے ساتھ ساتھ فالج، لقوہ ، مرگی اور ہیٹسریا وغیرہ کا سبب بنتے ہیں ۔
پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ دماغی اور اعصابی امراض کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد دل کی بیماریوں اور کینسر جیسے مرض سے بھی زیادہ ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں اعصابی بیماریوں سے موت ہونا ایک اہم اور بنیادی وجہ ہے ۔
ایک تحقیق کے مطابق ہر چار لوگوں میں سے ایک فرد امکانی طور پر کسی نہ کسی دماغی صحت سے متعلق مسئلہ یا مرض سے دوچار ہوسکتا ہے ۔ جس میںہر پس منظر، قبیلے ، پیشے ، جنس اور عمر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوسکتے ہیں ۔ اور دماغی صحت سے شرمندگی اور پردہ داری عام طور پر متاثرہ لوگوں کے لئے مدد حاصل کرنے اور صحت یاب ہونے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتی ہے ۔ جبکہ بعض اوقات افراد کی دماغی بیماری میں مبتلا شخص کو جن بھوتوں یا دیگر نظر نہ آنے والی مخلوقات سے بھی جوڑ دیتے ہیں یا ان کے اوپر جنات کا سایہ تصور کر لیا جاتا ہے ۔اور پھر وہ متاثرہ شخص درست علاج حاصل کرنے کے بجائے مختلف عاملوں، بابائوں اور دم درود کو ہی علاج گردانتے ہوئے اس دلدل میں مزید دھنستے چلے جاتے ہیں ۔
دماغی صحت میںکمزوری یا بیماری کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں ۔جن میں مختلف حیاتیاتی عوامل سے لے کر موروثی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں ۔ انسانی دماغ میں موجود نیو روٹرانسمیٹر س(Neuro Transmeters) نامی مخصوص کیمیائی مادہ اگر کسی بھی وجہ سے عدم توازن کا شکار ہو جائے تو یہ دماغ کی غیر صحت مند ی کا سبب بن سکتا ہے ۔ کیونکہ ان نیو روٹرانسمیٹر س کا کام دماغ میںموجودنیوروں خلیات کے ایک دوسرے سے رابطہ کو یقینی بنا نا اور اس میں مدد کرنا ہوتا ہے ۔ اور جب یہ خلیات متاثر ہوتے ہیں تو دماغ میں پیغامات کی ترسیل یا پیغامات پہنچانے کا کام مناسب طریقے سے انجام نہیں ہو پاتا ہے ۔ جس کے باعث دماغ میں مختلف مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطا بق کچھ دماغی مسئلے یا دماغی بیماریاں جینیاتی یا موروثی طورپر بھی ہوتے ہیں ۔ جس میں متاثرہ فرد کے خاندان میں سے کوئی یا بہت سارے افراد اس سے متاثر ہوئے ہوتے ہیں اور پھر یہ جینز(Genes) کے ذریعہ ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ کچھ انفیکشن بھی دماغی خلل یا ذہنی کمزوری پید ا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں یا پھر دماغ میںکسی بھی قسم کی گہری چوٹ یا زخم بھی دماغی صحت کے متاثر ہونے کا امکانات کو بڑھا دیتے ہیں ۔
ایک تحقیق کے مطابق نئے زمانے سے حاصل کی ہوئی کچھ عادات اور نئے طور طریقے بھی دماغی کمزوری کا سبب بن سکتے ہیں ۔ تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ ویڈیو گیمز کھیلنے والے تقریباََ پچاسی فیصد لوگ دماغی امراض میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ یہ ویڈیو گیمز دماغ کی یادداشت کو کمز ور کردیتے ہیں جو ان کی دماغی صحت کے لئے حد نقصان دہ ہے ۔
ڈپریشن یا مایوسی کا شکار افراد بھی دماغی کمزوری کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ مستقل ڈپریشن اورذہنی دبائو میں رہنے والے لوگ اپنے آپ کو زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھی دور کر لیتے ہیں ۔ اور پھر با لا آ خر ذہنی دبائو کے سمندر میں خود کو غرق کر کے اپنے آپ کو دماغی کمزوری اور بیماریوں کے حوالے کر دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ انیزائٹی نیو روسس (Anxiety Neur osis) میں مریض ہر وقت ڈر اور خوف کی سی کیفیت میں رہتا ہے ۔ اس میں متاثرہ فرد اپنے آپ کو بغیر کسی وجہ کے کسی نہ کسی مرض کا شکار سمجھنے لگتے ہیں جیسے کہ سردرد، جسم میں درد وغیرہ اور پھر اس میں اتنی شدت آجاتی ہے کہ وہ مرض واقعی میں شروع ہو جاتا ہے جبکہ بعض لوگوں میں انٹرویو یا امتحان سے پہلے پیٹ میں درد ، بخار اور دست وغیرہ کے مسئلے شروع ہو جاتے ہیں ۔
بائی پولر ڈس آرڈر(Bi Poler Disorder) ایک ایسی دماغی کیفیت کا نام ہوتا ہے جس میں مریض حد سے زیاد ہ خوشگوار یا پھر حدسے زیادہ اداس اور غمزدہ ہو جاتاہے اس مرض کا تعلق زیادہ تر وراثت سے ہوتا ہے یعنی یہ ذہنی بیماری خاندان میں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح او سی ڈیbsessive-Compulsive Disorder (OCD) ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں متا ثرہ شخص کو ایک ہی خیال بار بار آتا ہے جیسا کہ باربار ہاتھ دھونا ، کسی بیماری کے لگ جانے کا خطرہ ، وہم کرنا ، کسی کو مار دینے کا یا پھر خود مرجانے کا خیال بار بار آنا۔
جس طرح ہمارے جسم کو صحت مند اور توانا رہنے کے لئے اچھی غذا ، تو جہ اور صحت مند ماحول کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح ہمارے دماغ کو بھی صحت مند رہنے کے لئے درست غذائوں کا مناسب استعمال اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس سے فرد اپنے دماغ سے اچھی طرح سوچنے ، توجہ مرکوز کرنے ، توانائی حاصل کرنے اور دماغ کو معاشرے کے لئے ہر ممکن طریقے سے بہتر طور پر استعمال کرنے کے قابل ہوتا ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق روزمرہ زندگی میں مختلف صحت مند غذائوں کا ایک مناسب مقدار میں استعمال کر کے اور صحت بخش طرز زندگی اپنا کر ہم اپنے دماغی صحت کو بڑھا کر اس کو بڑھتی عمر کے ساتھ ایک صحت مند اور بہتر حالت میں رکھ سکتے ہیں ۔
جرمنی کی فر ینکفر ٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ذہنی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے کیمیائی اجزاء مثلاََ کیفین کا زیادہ استع
مال ، مختلف مصنو عی خوراک اور دوائوں کا سہارا جو کہ ایک غیر صحت بخش طرز عمل ہے ، کے بجائے جسمانی اور دماغی صلاحیتوں اور صحت بہتر بنانے کے لئے قدرتی غذائوں کا استعمال بہتر ہوتا ہے ۔ ان کی تحقیق کے مطابق صحت مند غذائوں کے استعمال کے ذریعے دماغی صحت اور صلاحیت کو طویل عرصے تک اور بہتر طریقے سے بڑھایا جاسکتا ہے ۔
سبز سبزیاں جسے کہ پالک ، ساگ وغیرہ جن م
یں Anti Oxidants، ریشہ، مختلف وٹا منز اور غذائیت موجود ہوتی ہے انہیں ہفتے میں کم از کم ایک بار غذا میں ضرور شامل کرنا چاہیئے ۔ پتے والی سبزیوں مثلاََ پالک ، بند گوبھی ، مولی وغیرہ میں ایک مادہ لیو ٹین (Lutein) موجود ہوتا ہے جو بیماریوں کے خلاف ایک مدافتی قوت رکھتا ہے اور یا دداشت میں اضافہ اور دماغی تھکاوٹ میں کمی کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ دماغی صحت میں بھی اضافہ کرتا ہے ۔ تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی دماغ کی صحت بھی متاثرہونے لگتی ہے اور جو لوگ مچھلی کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ان کی دماغی قوت ، یا دداشت اور ذہانت مچھلی کا کم استعمال کرنے والے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور فعال حالت میں ہوتی ہے ۔ لہذا دماغی صحت کو قائم رکھنے کے لئے ہفتے میں کم از کم ایک یا دوبار مچھلی کا استعمال اپنے روزمرہ کے روٹین کا لازمی حصہ بنا لینا چاہیئے ۔ اس کے علاوہ مختلف رنگ کے بیریز(Barries) اور چیریز(Cherries) بھی صحت مند دماغ کے لئے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ان میں اینتھو سیا نن(Enthocyanins) اور مختلف فلیونو ئیڈز(Flavonoids) موجود ہوتے ہیں جو دماغی صحت کے لئے لازم ہیں ۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق رنگ برنگی سبزیوں اور پھلوں کا استعمال دماغی صحت کے لئے بہترین ہے ۔پیلی ، نارنجی اور سرخ سبزیوں اور پھلوں میں ایک مادہ (Carotenoids)موجود ہوتا ہے جو دماغ کو بہتر طور پر فعال اور مستعد بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اس میں Anti Oxidants بھی موجود ہوتے ہیں جو مختلف دماغی اور ذہنی امراض سے محفوظ رکھتے ہیں ۔
صبح جلدی بیدار ہونے اور رات میں جلدی سونے کی عادت کو اپناتے ہوئے کوشش کرنی چاہیئے کہ کسی بند اور گٹھن زدہ ماحول
میں سونے کے بجائے ہوا دار اور کھلی جگہ پر سوئیں جہاں سے آکسیجن کا حصول دماغ کو ممکن ہو سکے جو دماغ کی صحت کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ منفی جذبات مثلاََ غصہ ، حسد، لالچ ، کینہ اور حرص وغیرہ سے اجتناب برتتے ہوئے صبروتحمل سے کام لینا چاہیئے ۔ اور اپنے رشتہ داروں اور ملنے جلنے والے لوگوں سے ہمیشہ خوش اخلاق اور حسن سلوک سے ملنا چاہیئے اور اگر کسی کی کوئی بات بُری لگے یا کسی کی بات یا رویے سے کوئی تکلیف پہنچی ہو توا سے درگزر کر دینا چاہیئے ۔ کیونکہ ہر منفی بات کو دماغ میں بٹھانے یا ہمہ وقت اس کے بارے میں سوچنے سے مختلف منفی انزائمز یا خیالات جنم لیتے ہیں جو دماغی خلیات کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتے ہیں ۔
ہمیں زندگی کو ایک مثبت طرزذہن اور ایک صحت مندانہ طریقے سے گزارنے کے لئے ہمیشہ خود کو پُر امیداور مثبت انداز فکر کے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیئے جس سے ہم مختلف ذہنی امراض سے محفوظ رہتے ہوئے ایک صحت مند دماغ کے ساتھ معاشرے کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے اپنی زندگی گزار سکتے ہیں ۔
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...
عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...
آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...
میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...