وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 18 فروری 2018 استقبال کتب

کتاب:نانگاپربت کے سو چہرے(سفرنامہ)
سفرنامہ نگار:ڈاکٹر مزملہ شفیق
قیمت:500/- روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
ڈاکٹر مزملہ شفیق کا اس سے قبل بھی ایک’’ سفرنامۂ اسکردو‘‘ فیروز سنز، کراچی سے شایع ہو چکا ہے۔ ’’نانگا پربت کے سو چہرے ‘‘ان کا دوسرا سفر نامہ ہے جو مواد، طباعت اور پیش کش کے لحاظ سے بہت عمدہ اور خوب صورت ہے۔ اس سفر نامے کے متعلق جاننے کے لیے ناشر رنگِ ادب جناب شاعر علی شاعر کی رائے ملاحظہ فرماتے ہیں:

’’کہتے ہیں ایک لڑکی کو پڑھانا ،ایک خاندان کو پڑھانے کے مترادف ہے۔ڈاکٹر مزملہ شفیق پیشۂ پیغمبری سے وابستہ ہیں اور وہ ایک طویل مدت سے پی ،ای، سی، ایچ، ایس، گرلز کالج، کراچی میں درس وتدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ، اُنھوں نے فرائضِ منصبی اداکرتے ہوئے اب تک ہزاروں طالبات کے اذہان و قلوب کو علم کی روشنی سے منوراور زیورِتعلیم سے آراستہ کر دیاہے ۔خدانے اُنھیں بے پناہ علمی قابلیت،ذہنی صلاحیت اور تعلیمی لیاقت سے نوازاہے۔ میں جب اُن سے ملا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ انگلش میڈیم میں فلسفہ پڑھانے والی ڈاکٹر مزملہ شفیق اتنی شائستہ بیان ،شگفتہ لہجہ اوراہلِ زبان کی طرح اُردو بولنے شخصیت ہوں گی۔اُن کے بات کرنے اور تخاطب کا اندازدل پذیر ہے ،انتہائی نرم لہجے میں گفتگو کرنا، اُن کا شیوہ ہے اور دوسرے کی بات کو توجہ سے سننا ،اُن کی عادت میں شامل ہے جو ایک اچھے انسان کی خوبی گنی جاتی ہے۔

مجھے خوش گوارحیرت اُس وقت ہوئی جب اُن کا سفر نامہ ’’نانگا پربت کے سو چہرے ‘‘کا مسودہ پڑھا ، تحریر میںکیا تسلسل،کیا زبان و بیان کی چاشنی اور کیاموجوں کی سی روانی تھی،میں تعریف کیے بغیر رہ نہ سکا اور خواہش ظاہرکی کہ وہ مجھے اپنا پہلا سفرنامہ’’سفرنامۂ اسکردو‘‘بھی پڑھنے کو دیں جو فیروزسنز،کراچی سے شائع ہواتھا۔ڈاکٹر مزملہ شفیق نے بتایا کہ مجھے اِسی سفرنامے سے شہرت ملی ہے اور اِسی سے میری عبارت کا اعتبار قائم ہواہے،اُنھوں نے ’’سفرنامۂ اسکردو‘‘ مستعار عنایت کیا جسے پڑھ کر میرے دل کو اطمینان حاصل ہوا کہ میں اپنے اشاعتی ادارے ’’رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی سے ایک اچھی سفرنامہ نگار کا سفرنامہ شائع کر رہا ہوں جو قارئینِ ادب کے لیے بھی اچھی کتاب ثابت ہوگا، ناقدینِ فن و ہنر اسے پسند فرمائیں گے اور مشاہیرِاُردو ادب بھی برس ہا برس یاد رکھیں گے۔

ڈاکٹر مزملہ شفیق نے اپنے سفرنامے کو حقیقی واقعات تک محدود رکھاہے، اِس میں زیبِ داستاں کے لیے فرضی قصے، کہانیاں اور کتھا شامل نہیں کی ،یہی وجہ ہے کہ اُن کا سفر نامہ’’نانگا پربت کے سو چہرے‘‘ ضخیم نہیں ، اِس کی انفرادیت اختصار اور جامعیت ہے جس میں قارئین کے لیے دل چسپی، سیاحوں کے لیے معلومات اور سفرناموں پر تحقیق کرنے وا لے ریسرچ اسکالرز کے لیے علمی مواد بھی موجود ہے۔

میں ڈاکٹرمزملہ شفیق کو ایک ایسادل چسپ سفرنامہ لکھنے پر مبارک باد پیش کرتاہوں جس کو پاکستان کے نمائندہ سفرنامہ نگار جناب مستنصر حسین تارڈ نے بھی پسند کیا ہے اور اپنی مثبت رائے سے نوازاہے۔‘‘

رسالہ:سہ ماہی اُردو ادب
مدیر:اطہر فاروقی
بہ اہتمام:انجمن ترقی اُردو(ہند) نئی دہلی
قیمت:150/- روپے
سہ ماہی اُردو ادب باقاعدگی اور تواتر سے شایع ہو رہا ہے۔ یہ رسالہ نئی دہلی( انڈیا) سے شایع ہوتا ہے جو پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کو پاکستان میں ارسال کیا جاتا ہے۔ مجھے ان کی عنایت ہی سے وصول ہوا۔ اس شمارے میں پروفیسر شمیم حنفی صاحب کی 80ویں سال گرہ پر خصوصی گوشہ شایع کیا گیا ہے۔ گوشے کے علاوہ خصوصی مضامین، مستقل مضامین کا سلسلہ، یادرفتگاں، تھیٹر، بہ یادِ اسلم پرویز کے ضمن میں اچھے مضامین شایع ہوئے ہیں جن کے معروف لکھنے والوں میں انور صدیقی، محمود ہاشمی، سید خالد قادری، علی احمد فاطمی، سید محمد اشرف، انجم عثمانی اور عتیق اللہ شامل ہیں۔سہ ماہی اُردو ادب میں تخلیقات روانہ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل روابط استعمال کے جاسکتے ہیں۔ جناب اطہر فاروقی، انجمن ترقی اُردو (ہند) اور گھر 212، رائوز ایونیو، نئی دہلی 110002، انڈیا۔ ای میل: farouqui@yahoo.com، فون: 0091-11-23237722
٭٭٭
کتاب:ماورائے آب و گل(تیسراایڈیشن)
مصنف:سعید الظفر صدیقی
قیمت:800/- روپے
پبلشرز:ماورا بکس، لاہور
ماورائے آب و گل دراصل سائنسی نظریات اور دینی عقائد کا آمیزہ ہے ۔ عوام کا خیال تھا کہ دین اسلام اور سائنس علاحدہ علاحدہ چیزیں ہیں مگر سعید الظفر صدیقی صاحب نے ثابت کیا ہے کہ دین اسلام کی بنیاد پر سائنسی نظریات کی بنیاد رکھی گئی ہے۔احمد جاوید نے تحریر کیا ہے :’’دینی عقائد اور سائنسی نظریات کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی بے شمار کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ان میں سے اکثر عامیانہ درجے کی ہیں۔علمی اور تحقیقی سطح پر اہمیت اور وقعت رکھنے والا کام بہت کم ملتاہے۔جناب سعیدالظفرصدیقی کی یہ کتاب ماورائے آب و گل میں مذہب اور سائنس کے تقابلی مطالعے کی روایت میں کم از کم ایک فکری زاویے کا اضافہ کیاگیاہے۔‘‘
اس کتاب پر جناب خالد شریف،احمد جاویداور خورشید کی آرا موجود ہیں جب کہ سعیدالظفرصدیقی نے پیش لفظ اور محسن پاکستان جناب ڈاکٹر عبدالقدیرنے دیباچہ تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک منفرد کتاب ہے جس کا مطالعہ نئی نسل کے لیے انتہائی ضروری اور اہم ہے۔
٭٭٭
سہ ماہی رسالہ:لوحِ ادب کراچی
مدیر اعلیٰ:ڈاکٹر شکیل احمد خان
قیمت:300/- روپے
پبلشرز:مظفر احمد خان
لوحِ ادب کراچی حیدر آباد، ڈاکٹر الیاس عشقی مرحوم کی یاد میں شایع کیا جاتا ہے جس کے سرپرست پروفیسر ڈاکٹر فرحت عظیم اور مدیر اعلیٰ شکیل احمد خان ہیں۔ زیر نظر شمارے میں شاداب صدیقی، عشرت علی خان، ڈاکٹر عرفان شاہ، پروفیسر مسکن احمد منصور، نذیر فتح پوری، سید تنویر سبطین نقوی، ماہر عدانی، ذکیہ جمالی، ڈاکٹر عبدالکریم خالد، خالد مصطفیٰ، سہیل احمد صدیقی، ڈاکٹر ذوالفقار دانش، پروفیسر شبنم امان، ڈاکٹر عبدالرشید آزاد، ملیحہ خان، نوید پاشا، ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی، محمد طارق علی، اسلم سحاب ہاشمی، عامر انصاری، منوہر شام، کی تحریروں کے علاوہ غزلیں، نظمیں اور کتابوں پر تبصرے شایع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شکیل احمد خان اس ادبی جریدے کو بڑی محنت سے مرتب کر کے شایع کر رہے ہیں۔ یہ ایک اچھا اور قابل مطالعہ رسالہ ہے۔
٭٭٭
کتابی سلسلہ: مکالمہ کراچی
شمارہ نمبر: 35-34
ترتیب:مبین مرزا
قیمت:250 روپے
ناشر:اکادمی بازیافت، کراچی
معروف شاعر و ادیب اور نقاد و صحافی جناب مبین مرزا کی ادارت میں شایع ہونے والے کتابی سلسلے کے دو شمارے نمبر 35-34 بہ یک وقت منظر عام پر آ گئے ہیں۔ جن میں معروف قلم کار رضیہ فصیح احمد، حسن منظر، عمارہ رشید، نجم الحسن رضوی، سید مظہر جمیل، ڈاکٹر سید جعفر احمد، سلمیٰ اعوان، مشتاق اعظمی، صبا اکرام، شہاب صفدر، ڈاکٹر ناصر عباس نیر، ڈاکٹر نجیبہ عارف، عطا الرحمٰن قاضی، ندیم حق، عمر فرحق، ڈاکٹر سلیم اختر ، ظفر اقبال ، اس محمد خان، پروفیسر فتح محمد ملک، طاہر مسعود، زین سالک، معراج عرعنا، فرحین شیخ، عبدالرحمٰن صاحبان کی تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ پاکستان کے ادبی رسائل میں کتابی سلسلہ مکالمہ کو اعتبار حاصل ہے کہ اس میں معیاری تحریریں شامل ہوتی ہیں۔ جناب مبین مرزا اس معاملے میں کبھی کسی سے سمجھوتا نہیں کرتے۔ پرچے کا ایک معیار قائم ہو گای ہے اگر مشاہیر کی تحریر اس معیار پر پوری اترتی ہے تو شایع ہوتی ہے ورنہ معذرت کر لی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کا سنجیدہ قاری مکالمہ خرید کر پڑھتا ہے۔
کتاب:اسما ء الحسنیٰ
تالیف:منورہ نوری خلیق
تکمیل و ترتیب و تزئین:ذکیہ انیس ذکی
ہدیہ:۵۰۰ روپے
ناشر:پاکستان ایجوکیشنل فورم
کتاب’’اسماء الحسنیٰ‘‘اللہ رب العزت کے ۹۹ ناموں پر مشتمل ہے۔جس میں محترمہ منورہ نوری خلیق صاحبہ کے قلم سے ’’صفات الٰہی‘‘ کے عنوان سے اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام اللہ کے اوصاف حمیدہ بیان کیے
گئے ہیںاور ہر صفاتی نام کا مفہوم،وظیفہ اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔اس کتاب کا پیش لفظ کتاب کی مرتب محترمہ ذکیہ انیس ذکی نے لکھا ہے اور ’’اچھے اچھے نام‘‘ کے عنوان سے حضرت مولانا محمد ولی رازی نے کتاب پر تقریظ لکھی ہے۔کتاب کی مولفہ محترمہ منورہ نوری خلیق صاحبہ کے حالات زندگی کی بارے میں تفصیل پیش کی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ مولفہ کس قدر پاکیزہ ذہن کی حامل شخصیت تھیں اور ان کی تصانیف میں ’’حبیبہ ‘‘،’’بنت شام‘‘،’’معلم اعظم‘‘، ’’نامور مسلم خواتین‘‘،’’نافرمان اقوام پر عذاب الٰہی‘‘اور میری ساتھی میری یادیں‘‘ شامل ہیں۔ آخر میں ذکیہ انیس ذکی صاحبہ نے کتاب کے منظر عام پر لانے میں ساتھ دینے والوں کو جزاک اللہ اور شکریہ کہاہے اور جن کتابوں سے اس کو تالیف کیا گیا ہے ان کی کتابیات درج کی گئی ہے۔کتاب انتہائی سلیقے اور عمدہ کاغذ پر شائع کی گئی ہے جس کا ہدیہ نہ ہونے کے برابرہے ،یقیناً ایسی کتابیں دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے پیش کی جاتی ہیں ۔اللہ رب العزت سے دعاگو ہوں کہ اس کتاب کو اپنی بارگاہ اقدس میں قبول فرمائے اور مولفہ و مرتبہ کی بخشش کا سامان بنائے۔آمین


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر