وجود

... loading ...

وجود

استقبال کتب

اتوار 18 فروری 2018 استقبال کتب

کتاب:نانگاپربت کے سو چہرے(سفرنامہ)
سفرنامہ نگار:ڈاکٹر مزملہ شفیق
قیمت:500/- روپے
ناشر:رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی
ڈاکٹر مزملہ شفیق کا اس سے قبل بھی ایک’’ سفرنامۂ اسکردو‘‘ فیروز سنز، کراچی سے شایع ہو چکا ہے۔ ’’نانگا پربت کے سو چہرے ‘‘ان کا دوسرا سفر نامہ ہے جو مواد، طباعت اور پیش کش کے لحاظ سے بہت عمدہ اور خوب صورت ہے۔ اس سفر نامے کے متعلق جاننے کے لیے ناشر رنگِ ادب جناب شاعر علی شاعر کی رائے ملاحظہ فرماتے ہیں:

’’کہتے ہیں ایک لڑکی کو پڑھانا ،ایک خاندان کو پڑھانے کے مترادف ہے۔ڈاکٹر مزملہ شفیق پیشۂ پیغمبری سے وابستہ ہیں اور وہ ایک طویل مدت سے پی ،ای، سی، ایچ، ایس، گرلز کالج، کراچی میں درس وتدریس کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ، اُنھوں نے فرائضِ منصبی اداکرتے ہوئے اب تک ہزاروں طالبات کے اذہان و قلوب کو علم کی روشنی سے منوراور زیورِتعلیم سے آراستہ کر دیاہے ۔خدانے اُنھیں بے پناہ علمی قابلیت،ذہنی صلاحیت اور تعلیمی لیاقت سے نوازاہے۔ میں جب اُن سے ملا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ انگلش میڈیم میں فلسفہ پڑھانے والی ڈاکٹر مزملہ شفیق اتنی شائستہ بیان ،شگفتہ لہجہ اوراہلِ زبان کی طرح اُردو بولنے شخصیت ہوں گی۔اُن کے بات کرنے اور تخاطب کا اندازدل پذیر ہے ،انتہائی نرم لہجے میں گفتگو کرنا، اُن کا شیوہ ہے اور دوسرے کی بات کو توجہ سے سننا ،اُن کی عادت میں شامل ہے جو ایک اچھے انسان کی خوبی گنی جاتی ہے۔

مجھے خوش گوارحیرت اُس وقت ہوئی جب اُن کا سفر نامہ ’’نانگا پربت کے سو چہرے ‘‘کا مسودہ پڑھا ، تحریر میںکیا تسلسل،کیا زبان و بیان کی چاشنی اور کیاموجوں کی سی روانی تھی،میں تعریف کیے بغیر رہ نہ سکا اور خواہش ظاہرکی کہ وہ مجھے اپنا پہلا سفرنامہ’’سفرنامۂ اسکردو‘‘بھی پڑھنے کو دیں جو فیروزسنز،کراچی سے شائع ہواتھا۔ڈاکٹر مزملہ شفیق نے بتایا کہ مجھے اِسی سفرنامے سے شہرت ملی ہے اور اِسی سے میری عبارت کا اعتبار قائم ہواہے،اُنھوں نے ’’سفرنامۂ اسکردو‘‘ مستعار عنایت کیا جسے پڑھ کر میرے دل کو اطمینان حاصل ہوا کہ میں اپنے اشاعتی ادارے ’’رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی سے ایک اچھی سفرنامہ نگار کا سفرنامہ شائع کر رہا ہوں جو قارئینِ ادب کے لیے بھی اچھی کتاب ثابت ہوگا، ناقدینِ فن و ہنر اسے پسند فرمائیں گے اور مشاہیرِاُردو ادب بھی برس ہا برس یاد رکھیں گے۔

ڈاکٹر مزملہ شفیق نے اپنے سفرنامے کو حقیقی واقعات تک محدود رکھاہے، اِس میں زیبِ داستاں کے لیے فرضی قصے، کہانیاں اور کتھا شامل نہیں کی ،یہی وجہ ہے کہ اُن کا سفر نامہ’’نانگا پربت کے سو چہرے‘‘ ضخیم نہیں ، اِس کی انفرادیت اختصار اور جامعیت ہے جس میں قارئین کے لیے دل چسپی، سیاحوں کے لیے معلومات اور سفرناموں پر تحقیق کرنے وا لے ریسرچ اسکالرز کے لیے علمی مواد بھی موجود ہے۔

میں ڈاکٹرمزملہ شفیق کو ایک ایسادل چسپ سفرنامہ لکھنے پر مبارک باد پیش کرتاہوں جس کو پاکستان کے نمائندہ سفرنامہ نگار جناب مستنصر حسین تارڈ نے بھی پسند کیا ہے اور اپنی مثبت رائے سے نوازاہے۔‘‘

رسالہ:سہ ماہی اُردو ادب
مدیر:اطہر فاروقی
بہ اہتمام:انجمن ترقی اُردو(ہند) نئی دہلی
قیمت:150/- روپے
سہ ماہی اُردو ادب باقاعدگی اور تواتر سے شایع ہو رہا ہے۔ یہ رسالہ نئی دہلی( انڈیا) سے شایع ہوتا ہے جو پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل صاحب کو پاکستان میں ارسال کیا جاتا ہے۔ مجھے ان کی عنایت ہی سے وصول ہوا۔ اس شمارے میں پروفیسر شمیم حنفی صاحب کی 80ویں سال گرہ پر خصوصی گوشہ شایع کیا گیا ہے۔ گوشے کے علاوہ خصوصی مضامین، مستقل مضامین کا سلسلہ، یادرفتگاں، تھیٹر، بہ یادِ اسلم پرویز کے ضمن میں اچھے مضامین شایع ہوئے ہیں جن کے معروف لکھنے والوں میں انور صدیقی، محمود ہاشمی، سید خالد قادری، علی احمد فاطمی، سید محمد اشرف، انجم عثمانی اور عتیق اللہ شامل ہیں۔سہ ماہی اُردو ادب میں تخلیقات روانہ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل روابط استعمال کے جاسکتے ہیں۔ جناب اطہر فاروقی، انجمن ترقی اُردو (ہند) اور گھر 212، رائوز ایونیو، نئی دہلی 110002، انڈیا۔ ای میل: farouqui@yahoo.com، فون: 0091-11-23237722
٭٭٭
کتاب:ماورائے آب و گل(تیسراایڈیشن)
مصنف:سعید الظفر صدیقی
قیمت:800/- روپے
پبلشرز:ماورا بکس، لاہور
ماورائے آب و گل دراصل سائنسی نظریات اور دینی عقائد کا آمیزہ ہے ۔ عوام کا خیال تھا کہ دین اسلام اور سائنس علاحدہ علاحدہ چیزیں ہیں مگر سعید الظفر صدیقی صاحب نے ثابت کیا ہے کہ دین اسلام کی بنیاد پر سائنسی نظریات کی بنیاد رکھی گئی ہے۔احمد جاوید نے تحریر کیا ہے :’’دینی عقائد اور سائنسی نظریات کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی بے شمار کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ان میں سے اکثر عامیانہ درجے کی ہیں۔علمی اور تحقیقی سطح پر اہمیت اور وقعت رکھنے والا کام بہت کم ملتاہے۔جناب سعیدالظفرصدیقی کی یہ کتاب ماورائے آب و گل میں مذہب اور سائنس کے تقابلی مطالعے کی روایت میں کم از کم ایک فکری زاویے کا اضافہ کیاگیاہے۔‘‘
اس کتاب پر جناب خالد شریف،احمد جاویداور خورشید کی آرا موجود ہیں جب کہ سعیدالظفرصدیقی نے پیش لفظ اور محسن پاکستان جناب ڈاکٹر عبدالقدیرنے دیباچہ تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک منفرد کتاب ہے جس کا مطالعہ نئی نسل کے لیے انتہائی ضروری اور اہم ہے۔
٭٭٭
سہ ماہی رسالہ:لوحِ ادب کراچی
مدیر اعلیٰ:ڈاکٹر شکیل احمد خان
قیمت:300/- روپے
پبلشرز:مظفر احمد خان
لوحِ ادب کراچی حیدر آباد، ڈاکٹر الیاس عشقی مرحوم کی یاد میں شایع کیا جاتا ہے جس کے سرپرست پروفیسر ڈاکٹر فرحت عظیم اور مدیر اعلیٰ شکیل احمد خان ہیں۔ زیر نظر شمارے میں شاداب صدیقی، عشرت علی خان، ڈاکٹر عرفان شاہ، پروفیسر مسکن احمد منصور، نذیر فتح پوری، سید تنویر سبطین نقوی، ماہر عدانی، ذکیہ جمالی، ڈاکٹر عبدالکریم خالد، خالد مصطفیٰ، سہیل احمد صدیقی، ڈاکٹر ذوالفقار دانش، پروفیسر شبنم امان، ڈاکٹر عبدالرشید آزاد، ملیحہ خان، نوید پاشا، ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی، محمد طارق علی، اسلم سحاب ہاشمی، عامر انصاری، منوہر شام، کی تحریروں کے علاوہ غزلیں، نظمیں اور کتابوں پر تبصرے شایع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شکیل احمد خان اس ادبی جریدے کو بڑی محنت سے مرتب کر کے شایع کر رہے ہیں۔ یہ ایک اچھا اور قابل مطالعہ رسالہ ہے۔
٭٭٭
کتابی سلسلہ: مکالمہ کراچی
شمارہ نمبر: 35-34
ترتیب:مبین مرزا
قیمت:250 روپے
ناشر:اکادمی بازیافت، کراچی
معروف شاعر و ادیب اور نقاد و صحافی جناب مبین مرزا کی ادارت میں شایع ہونے والے کتابی سلسلے کے دو شمارے نمبر 35-34 بہ یک وقت منظر عام پر آ گئے ہیں۔ جن میں معروف قلم کار رضیہ فصیح احمد، حسن منظر، عمارہ رشید، نجم الحسن رضوی، سید مظہر جمیل، ڈاکٹر سید جعفر احمد، سلمیٰ اعوان، مشتاق اعظمی، صبا اکرام، شہاب صفدر، ڈاکٹر ناصر عباس نیر، ڈاکٹر نجیبہ عارف، عطا الرحمٰن قاضی، ندیم حق، عمر فرحق، ڈاکٹر سلیم اختر ، ظفر اقبال ، اس محمد خان، پروفیسر فتح محمد ملک، طاہر مسعود، زین سالک، معراج عرعنا، فرحین شیخ، عبدالرحمٰن صاحبان کی تحریریں شامل کی گئی ہیں۔ پاکستان کے ادبی رسائل میں کتابی سلسلہ مکالمہ کو اعتبار حاصل ہے کہ اس میں معیاری تحریریں شامل ہوتی ہیں۔ جناب مبین مرزا اس معاملے میں کبھی کسی سے سمجھوتا نہیں کرتے۔ پرچے کا ایک معیار قائم ہو گای ہے اگر مشاہیر کی تحریر اس معیار پر پوری اترتی ہے تو شایع ہوتی ہے ورنہ معذرت کر لی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کا سنجیدہ قاری مکالمہ خرید کر پڑھتا ہے۔
کتاب:اسما ء الحسنیٰ
تالیف:منورہ نوری خلیق
تکمیل و ترتیب و تزئین:ذکیہ انیس ذکی
ہدیہ:۵۰۰ روپے
ناشر:پاکستان ایجوکیشنل فورم
کتاب’’اسماء الحسنیٰ‘‘اللہ رب العزت کے ۹۹ ناموں پر مشتمل ہے۔جس میں محترمہ منورہ نوری خلیق صاحبہ کے قلم سے ’’صفات الٰہی‘‘ کے عنوان سے اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام اللہ کے اوصاف حمیدہ بیان کیے
گئے ہیںاور ہر صفاتی نام کا مفہوم،وظیفہ اور قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔اس کتاب کا پیش لفظ کتاب کی مرتب محترمہ ذکیہ انیس ذکی نے لکھا ہے اور ’’اچھے اچھے نام‘‘ کے عنوان سے حضرت مولانا محمد ولی رازی نے کتاب پر تقریظ لکھی ہے۔کتاب کی مولفہ محترمہ منورہ نوری خلیق صاحبہ کے حالات زندگی کی بارے میں تفصیل پیش کی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ مولفہ کس قدر پاکیزہ ذہن کی حامل شخصیت تھیں اور ان کی تصانیف میں ’’حبیبہ ‘‘،’’بنت شام‘‘،’’معلم اعظم‘‘، ’’نامور مسلم خواتین‘‘،’’نافرمان اقوام پر عذاب الٰہی‘‘اور میری ساتھی میری یادیں‘‘ شامل ہیں۔ آخر میں ذکیہ انیس ذکی صاحبہ نے کتاب کے منظر عام پر لانے میں ساتھ دینے والوں کو جزاک اللہ اور شکریہ کہاہے اور جن کتابوں سے اس کو تالیف کیا گیا ہے ان کی کتابیات درج کی گئی ہے۔کتاب انتہائی سلیقے اور عمدہ کاغذ پر شائع کی گئی ہے جس کا ہدیہ نہ ہونے کے برابرہے ،یقیناً ایسی کتابیں دنیا و آخرت کی بھلائی کے لیے پیش کی جاتی ہیں ۔اللہ رب العزت سے دعاگو ہوں کہ اس کتاب کو اپنی بارگاہ اقدس میں قبول فرمائے اور مولفہ و مرتبہ کی بخشش کا سامان بنائے۔آمین


متعلقہ خبریں


سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ وجود - منگل 20 جنوری 2026

پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...

سانحہ گل پلازہ،76 افراد تاحال لاپتا،26 جاں بحق،اموات مزید بڑھنے کا خدشہ

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب وجود - منگل 20 جنوری 2026

اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...

پاکستان مشکل میں ہے، ایوان طاقت کا مرکز ہونا چاہیے، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کاقومی اسمبلی میں خطاب

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن وجود - منگل 20 جنوری 2026

گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...

سندھ حکومت تاجروں کوتنہا نہیں چھوڑے گی،شرجیل میمن

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی وجود - منگل 20 جنوری 2026

واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...

گل پلاز میں آگ لگی،باہر نکلنے کا راستہ کیوں نہیں تھا ،محمود اچکزئی

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا وجود - پیر 19 جنوری 2026

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان وجود - پیر 19 جنوری 2026

حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...

گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان

مضامین
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست وجود پیر 19 جنوری 2026
بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر