وجود

... loading ...

وجود

دنیا کی چند خوبصورت جھیلیں

اتوار 11 فروری 2018 دنیا کی چند خوبصورت جھیلیں

دنیا میں قدرت میں بہت سے خوبصورت مقامات تخلیق کیے ہیں جن میں بعض مقامات ایسے ہیں جن کو دیکھ کر قدرت کی کاری گرمی پر انسان رشک کر اٹھتا ہے ۔ ایسی ہی مقامات کچھ مقامات ایسے ہیں جنہیں ہم جھیل کا نام دیتے ہیں ، جھیلوں کا وجود پانی کے کسی جگہ پر ٹہرنے یا پھر کٹاؤ یا راستہ بنانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔زیرنظرمضمون میں بھی ہم نے چند خوبصورت جھیلوں کی معلومات اکٹھا کیا ہے جوقارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔
پلی ویس جھیل
Plitvice Lakes
یہ جھیل کروشیا ( Croatia ) میں واقع ہے ۔ یہ انتہائی خوبصورت جھیل ہے اور اس جھیل اور اس جھیل کے اطراف میں جنگلات کا وسیع سلسلہ پھیلا ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ اس جھیل کی خوبصورتی کو جو چیز دوبالا کرتی ہے وہ یہاں کے اطراف میں پھیلی ہوئی کائی (Algae ) ہے ۔ یہاں پر مختلف جانوروں کا بسیرا بھی ہے جن میں براؤن ہیروز Brown Brans) ) ، چپلیں اور تقریباً 140 سے زائد خوبصورت پرندے آباد ہیں ۔
لگوناکولوران
Laguna Coloran
یہ خوبصورت جھیل بولیویا Bolivia ) ) میں واقع ہے ۔ اس جھیل میں کا نام لاگونا کو رولیڈا ( Laguna Colorada ) ہے ۔ اس جھیل کو ریڈ لاگون (Red Lagoon ) یا سرخ جھیل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ یہ جھیل نمکین پانی کی ہے ۔ اس جھیل کے سرخ ہونے کی وجہ یہاں پر موجود سرخ کائی بتائی جاتی ہے ۔ اس جھیل میں کا رنگ پرندوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جس کی وجہ سے پرندوں کی ایک بڑی تعداد یہاں غذا کی تلاش میں آتی ہے ۔
ڈیڈسی
Dead Sea
یہ جھیل اردن اور اسرائیل کے گرد واقع ہے ۔ یہ دنیا کی سب سے نمکین جھیل ہے اور یہ جھیل سمندر سے 8.6 گنا زیادہ نمکین ہے ۔ اس جھیل میں کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا یہی وجہ ہے کہ اس جھیل کو مردہ جھیل کہا جاتا ہے ۔
اسپوٹیڈجھیل
Spotted Lake
یہ جھیل کینیڈا ( Canada ) میں واقع ہے اس جھیل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ گول دھبوں کی شکل میں ہے اس وجہ سے اسے اسپونڈ ( Spotted ) جھیل کہا جاتا ہے یہ جھیل 38 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے اور اس جھیل میں مختلف قسم کے معدنیات پائے جاتے ہیں ۔
جھیل ٹیٹکا
Lake Titikaca
یہ جھیل پیرو ( Peru ) اور بولیویا کے بارڈ پر واقع ہے ۔ یہ جھیل دنیا میں موجود تمام جھیلونوں کے مقابلے میں سمندری سطح سے سب سے زیادہ اونچی ہے اور اور رقبہ کے لحاظ سے ساؤتھ امریکا کی سب سے بڑی جھیل ہے ۔ یہ جھیل اس علاقے میں ہونے والی باریشوں اور ، یہاں موجود پانچ بڑے دریاؤں اور پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کی وجہ سے وجود میں آئی ہے ۔
پٹچ جھیل
Pitch Lake
یہ خوبصو رت جھیل ٹرینڈیم (Trinidad) میں واقع ہے اس جھیل کو دیکھنے کے لیے ہر سال اوسطاً 20000 سیاح آتے ہیں ۔
فائیوفلاورجھیل
Five-Flower Lake
یہ خوبصورت جھیل چین ( China ) میں واقع ہے اور یہ جھیل پانچ خوبصرت رنگوں پر مشتمل ہے ۔جن میں آسمانی رنگ ، کالا رنگ ، ہرا رنگ ، پیلا رنگ اور کالے سے ملتا جلتا ایک رنگ شامل ہے ۔ اس جھیل میں اس رنگوں کی وجہ کیلشیم کاربونیٹ ( Calcium Carbonate ) کی موجودگی ہے ۔ یہ جھیل کرسٹل کی طرح شفاف ہے اسی وجہ سے آپ اس میں درختوں کو با آسانی دیکھ سکتے ہیں ۔
جھیل ناکورو
Lake Nakuru
یہ خوبصورت جھیل کینیا میں ہے اور اس جھیل میں بڑی تعداد سے سارس آتے ہیں جو کہ اس جھیل کی خوبصورتی کو دوبالا کردیتے ہیں ۔ اس جھیل میں نیلے اور ہرے رنگ کی کائی ہے جو اس جھیل کو مزید خوبصورت بنا دیتی ہے ۔ یہ پوری دنیا کی وہ واحد جھیل ہے جس پر بڑی تعداد میں پرندوں کو دیکھا جاسکتا ہے ۔
کیلی موٹوجھیل
Kelimutu Crater Lakes
یہ جھیل انڈونیشیا (Indonesia) میں واقع ہے اس جھیل کے رنگ بہت خوبصورت ہیں جو کہ سورج کی روشنی میں اور بھی خوبصورت لگتے ہیں ۔
بوائلنگ جھیل
Boiling Lake
یہ خوبصورت جھیل سر بین آئی لینڈ ڈومینکا ( Caribbean Island Of Dominica) کے نیشنل پارک میں واقع ہے ۔ اس جھیل کا پانی تمام سال گرم رہتا ہے اور ابلتا رہتا ہے ۔ اس جھیل کی چوڑائی تقریباً 200 فٹ ہے ۔ اس لیے یہا ں تفریح ضرورکی جاسکتی ہے پرنہایا ہرگزنہیں جاسکتا۔
جھیل سیف الملوک
Lake Saiful muluk
جھیل سیف الملوک پاکستان کے شہر ناران میں 3224 میٹر ( 10578 فٹ) کی بلندی پر واقع ہے ۔ ناران کے قصبے سے بذریہ جیب یا پیدل اس جھیل تک پہنچا جاسکتا ہے ۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت جھیل ہے ۔ یہ ملکہ پربت ، اور دوسرے پہاڑوں کا عکس اس میں پڑتا ہے ۔ سال کے کچھ مہینے اس کی سطح برف سے جمی رہتی ہے ۔


متعلقہ خبریں


ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

  ایران پر حملے اور ٹارگٹ کلنگ فوری بند کی جائے، مستقبل میں حملے اور جارحیت کے نہ ہونے کی ٹھوس ضمانت دی جائے،جنگ سے ایران میں ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بصورت معاوضہ کیا جائے مشرق وسطیٰ میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو بند کیا جائے،آبن...

امریکی تجاویز مسترد، جنگ کا خاتمہ ہماری شرائط پر ہوگا،ایران کا دوٹوک جواب

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ وجود - جمعرات 26 مارچ 2026

پاکستان کی آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزائوں کی مذمت فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے دبائو کی عکاسی کرتا ہے، ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کشمیری خاتون رہنماء آسیہ اندرابی اور ان کی دوساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی سزاں کی مذ...

بھارتی عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام قرار، عالمی برادری سے نوٹس کا مطالبہ

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

مضامین
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام وجود هفته 28 مارچ 2026
کشمیری خواتین رہنماؤں کو سزائیں،سیاسی انتقام

جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ وجود هفته 28 مارچ 2026
جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ

قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات وجود هفته 28 مارچ 2026
قطر کی ایل این جی فراہمی رک جانے کے پاکستان پر اثرات

بھارت میں توانائی کابحران وجود جمعه 27 مارچ 2026
بھارت میں توانائی کابحران

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر