وجود

... loading ...

وجود

شتر مرغ دوڑ:کھیلوں کی دنیا میں ایک منفرد پہچان

جمعرات 08 فروری 2018 شتر مرغ دوڑ:کھیلوں کی دنیا میں ایک منفرد پہچان

شترمرغ کو دنیا کا سب سے بڑا پرندہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ جب وہ کسی شکاری کو دیکھتا ہے تو اپنی گردن ریت میں چھپا لیتا ہے، لیکن یہ سراسر غلط ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آرام کرتے وقت شترمرغ اپنی گردن جھکا لیتا ہے، جس سے یہ تاثر لیا گیا کہ وہ شکاری کو دیکھ کر ایسا کرتا ہے۔ بڑی آنکھیں، چھوٹا سر، لمبی گردن اور ٹانگوں والا یہ پرندہ دیکھنے میں بہت معصوم لگتا ہے، لیکن اس کی دو انگلیوں پر لمبے اور تیز ناخن کسی بھی قسم کے خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

فارسی زبان میں شتر کے معنی اونٹ اور مرغ کے معنی پرندے کے ہیں، کیوں کہ قدوقامت اور چال ڈھال میں یہ اونٹ کی طرح ہی دکھائی دیتا ہے۔ پرندہ ہونے کے باوجود اپنے بھاری بھرکم وجود کے باعث یہ اڑ نہیں سکتا، لیکن اس کے بدلے قدرت نے اسے بہت مضبوط ٹانگیں عطا کی ہیں، جن کے ذریعے یہ تیزی سے دوڑ سکتا ہے، عام طور پر اس کی رفتار 35 سے 40 میل (تقریباً 65 کلومیٹر) فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اس کا اصل وطن تو افریقہ اور عرب کے ریگستان ہیں، لیکن اب یہ آسٹریلیا، جنوبی امریکا، نیوزی لینڈ اور ایشیاء کے بعض حصوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

عمومی طور پر شتر مرغ کا قد چھ سے نو فٹ اور وزن دو سے تین سو پاؤنڈ ہوتا ہے۔ شتر مرغ انسان کو اپنی پشت پر بٹھا کر بڑی تیزی سے دوڑ سکتا ہے، لیکن ایسی صورت میں وہ زیادہ دیر بھاگ نہیں سکتا اور تقریباً نصف گھنٹے بعد اسے آرام کی ضرورت پڑتی ہے۔

شتر مرغ ایک حلال پرندہ ہے، جس کا گوشت نہایت لذیذ اور مقوی ہوتا ہے جبکہ اس کی جلد چمڑے کی مصنوعات بنانے کے کام آتی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انسان کے لئے شترمرغ کی اہمیت صرف خوراک کے حصول یا تجارتی سرگرمیوں کے لئے ہی نہیں رہی بلکہ آج یہ اْس (انسان) کے کھیل کے شوق کی تسکین میں بھی معاون ہے۔

شتر مرغ دوڑ تیزی سے مقبول ہوتا وہ کھیل ہے، جس کی باقاعدہ شروعات قدیم مصر سے ہوئی۔ اس کھیل کی قدامت کے حوالے سے اس مجسمے کی دلیل پیش کی جاتی ہے، جس میں ایک مصری ملکہ شترمرغ پر سوار ہوتی ہے، تاہم آج افریقہ اور امریکا (خصوصاً ایری زونا اور فلوریڈا) میں تو یہ کھیل عام ہوتا جا رہا ہے۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شترمرغ دوڑ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ 1892ء میں پہلی بار امریکی ریاست فلوریڈا (جیکس ویل) میں شترمرغ فارم بنایا گیا، جس کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس فارم ہاؤس میں ہونے والے شترمرغ دوڑ کے مقابلے سیاحوں کی تفریح کا بہترین ذریعہ اور فلوریڈا کی تاریخ کا دل کش حصہ تصور کئے جاتے ہیں۔ امریکی ریاست ایری زونا میں 1988ء سے آج تک ہر سال باقاعدگی سے شتر مرغ کی سواری کے مقابلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں شترمرغ پر سواری کرنے کے شوقین زوروشور سے حصہ لیتے ہیں۔ یہ مقابلے دو روز تک جاری رہتے ہیں۔

ایری زونا میں رواں سال ہونے والا 30 واں سالانہ شترمرغ فیسٹیول 9سے11مارچ کے درمیان ہو گا، جس کے لئے کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا اشتراک حاصل کیا جا رہا ہے۔ ان ممالک اور مقامات کے علاوہ شترمرغ ریس کے مقابلے کینٹربری، ٹیکساس، ورجینیا سٹی، کینٹکی، لوویزیانا اور آئیووا میں بھی باقاعدگی سے منعقد کروائے جاتے ہیں، جنہیں دیکھنے کے لئے نہ صرف شائقین کی کثیر تعداد مقررہ مقام پر پہنچتی ہے بلکہ یہ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں اس کھیل کے حوالے سے خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا جاتا، خبروں کی زینت بنتے ہیں۔

ایک مقررہ فاصلے اور دائرے کے اندر شترمرغ کی ریس اگرچہ کسی حد تک دیگر کھیل جیسے گھوڑ دوڑ، اونٹ دوڑ کی طرح دکھائی دیتی ہے، لیکن شتر مرغ ریس گھوڑ دوڑ سے کہیں مشکل کام ہے، کیوں کہ ان میں بڑا فرق تو پرندے اور جانور کی جسمانی ساخت کا ہے، شترمرغ کی دوٹانگیں ہوتی ہیں اور وہ بھی نہایت پتلی جبکہ گھوڑے کی چار ٹانگیں اور موٹی گردن ہوتی ہے، لمبی پشت کے باعث گھوڑے پر بیٹھنا شترمرغ سے کہیں آسان ہے۔

گھوڑ دوڑ یا اونٹ دوڑ میں یہ دونوں جاندار ایک سیدھ میں بھاگتے ہیں، لیکن شترمرغ بھاگتے ہوئے دائیں بائیں لہراتا ہے۔ اگرچہ گھوڑے کی طرح شترمرغ کی سواری کے لئے بھی لگام ہوتی ہے، لیکن اسے کنٹرول کرنا گھوڑے کی نسبت تھوڑا مشکل امر ہے۔ ریس کے دوران شترمرغ کا سوار جسے جوکی کہا جاتا ہے، نے ہیلمٹ پہنا ہوتا ہے۔ ریس کے دوران یہ نہایت ضروری ہے کہ شترمرغ اپنے سوار سے مطمئن ہوں یعنی وہ اس کی پشت پر ایسے بیٹھے جس سے اسے بھاگنے میں زیادہ دقت نہ ہو، بصورت دیگر وہ دوران سفر ہی جوکی کو زمین پر پٹخ سکتا ہے۔

سواری کے وقت جوکی کو شترمرغ کی لگام نہایت مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوتی ہے، کیوں کہ دوران ریس شترمرغ کے ایک سے دوسرے قدم کا فاصلہ 16 فٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ دوڑ کے دوران شترمرغ کو تیز دوڑانے کے لئے جوکی اس کے پروں کو چھیڑتا ہے یا سامنے کی طرف ٹھوکر مارتا ہے، یہاں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ شترمرغ کو ہمیشہ آگے کی طرف ٹھوکر مارنی چاہیے، پیچھے کی طرف ٹھوکر مارنے سے اس میں اشتعال پیدا ہوتا ہے اور نتیجتاً وہ اپنے سوار کو نیچے گرا دیتا ہے۔ شتر مرغ دوڑ کے ڈسٹن مورلے اور جیسی سیسن جیسے کھلاڑیوں نے اس کھیل کو دلچسپ بناتے ہوئے شائقین کی طرف سے بھرپور پذیرائی حاصل کی۔

وطن عزیز کی بات کی جائے تو یہاں شترمرغ ریس کا رجحان تو ابھی پیدا نہیں ہوا، لیکن شترمرغ کی فارمنگ ضرور ہو رہی ہے۔ سرکاری سطح پر شترمرغ کے فارم ہاؤسز بنائے گئے ہیں، جن کے لئے ہر سال بجٹ میں رقم بھی مختص کی جاتی ہے، ان فارم ہاوسز کا مقصد صرف گوشت کا حصول اور کاروباری سرگرمیاں ہیں، لیکن یہ دنیا چوں کہ گلوبل ویلیج کا روپ دھار چکی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ برسوں میں پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہونے لگے گا، جہاں شترمرغ دوڑ ہوتی ہے، کیوں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دیگر دوڑوں کی طرح شترمرغ کی دوڑ بھی تفریح کا بہترین ذریعہ ہے۔


متعلقہ خبریں


18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

مضامین
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج وجود هفته 13 جون 2026
کرپشن میں ڈوبی بھارتی فوج

بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر