وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

شتر مرغ دوڑ:کھیلوں کی دنیا میں ایک منفرد پہچان

جمعرات 08 فروری 2018 شتر مرغ دوڑ:کھیلوں کی دنیا میں ایک منفرد پہچان

شترمرغ کو دنیا کا سب سے بڑا پرندہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ جب وہ کسی شکاری کو دیکھتا ہے تو اپنی گردن ریت میں چھپا لیتا ہے، لیکن یہ سراسر غلط ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ آرام کرتے وقت شترمرغ اپنی گردن جھکا لیتا ہے، جس سے یہ تاثر لیا گیا کہ وہ شکاری کو دیکھ کر ایسا کرتا ہے۔ بڑی آنکھیں، چھوٹا سر، لمبی گردن اور ٹانگوں والا یہ پرندہ دیکھنے میں بہت معصوم لگتا ہے، لیکن اس کی دو انگلیوں پر لمبے اور تیز ناخن کسی بھی قسم کے خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

فارسی زبان میں شتر کے معنی اونٹ اور مرغ کے معنی پرندے کے ہیں، کیوں کہ قدوقامت اور چال ڈھال میں یہ اونٹ کی طرح ہی دکھائی دیتا ہے۔ پرندہ ہونے کے باوجود اپنے بھاری بھرکم وجود کے باعث یہ اڑ نہیں سکتا، لیکن اس کے بدلے قدرت نے اسے بہت مضبوط ٹانگیں عطا کی ہیں، جن کے ذریعے یہ تیزی سے دوڑ سکتا ہے، عام طور پر اس کی رفتار 35 سے 40 میل (تقریباً 65 کلومیٹر) فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اس کا اصل وطن تو افریقہ اور عرب کے ریگستان ہیں، لیکن اب یہ آسٹریلیا، جنوبی امریکا، نیوزی لینڈ اور ایشیاء کے بعض حصوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

عمومی طور پر شتر مرغ کا قد چھ سے نو فٹ اور وزن دو سے تین سو پاؤنڈ ہوتا ہے۔ شتر مرغ انسان کو اپنی پشت پر بٹھا کر بڑی تیزی سے دوڑ سکتا ہے، لیکن ایسی صورت میں وہ زیادہ دیر بھاگ نہیں سکتا اور تقریباً نصف گھنٹے بعد اسے آرام کی ضرورت پڑتی ہے۔

شتر مرغ ایک حلال پرندہ ہے، جس کا گوشت نہایت لذیذ اور مقوی ہوتا ہے جبکہ اس کی جلد چمڑے کی مصنوعات بنانے کے کام آتی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انسان کے لئے شترمرغ کی اہمیت صرف خوراک کے حصول یا تجارتی سرگرمیوں کے لئے ہی نہیں رہی بلکہ آج یہ اْس (انسان) کے کھیل کے شوق کی تسکین میں بھی معاون ہے۔

شتر مرغ دوڑ تیزی سے مقبول ہوتا وہ کھیل ہے، جس کی باقاعدہ شروعات قدیم مصر سے ہوئی۔ اس کھیل کی قدامت کے حوالے سے اس مجسمے کی دلیل پیش کی جاتی ہے، جس میں ایک مصری ملکہ شترمرغ پر سوار ہوتی ہے، تاہم آج افریقہ اور امریکا (خصوصاً ایری زونا اور فلوریڈا) میں تو یہ کھیل عام ہوتا جا رہا ہے۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شترمرغ دوڑ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ 1892ء میں پہلی بار امریکی ریاست فلوریڈا (جیکس ویل) میں شترمرغ فارم بنایا گیا، جس کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس فارم ہاؤس میں ہونے والے شترمرغ دوڑ کے مقابلے سیاحوں کی تفریح کا بہترین ذریعہ اور فلوریڈا کی تاریخ کا دل کش حصہ تصور کئے جاتے ہیں۔ امریکی ریاست ایری زونا میں 1988ء سے آج تک ہر سال باقاعدگی سے شتر مرغ کی سواری کے مقابلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں شترمرغ پر سواری کرنے کے شوقین زوروشور سے حصہ لیتے ہیں۔ یہ مقابلے دو روز تک جاری رہتے ہیں۔

ایری زونا میں رواں سال ہونے والا 30 واں سالانہ شترمرغ فیسٹیول 9سے11مارچ کے درمیان ہو گا، جس کے لئے کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا اشتراک حاصل کیا جا رہا ہے۔ ان ممالک اور مقامات کے علاوہ شترمرغ ریس کے مقابلے کینٹربری، ٹیکساس، ورجینیا سٹی، کینٹکی، لوویزیانا اور آئیووا میں بھی باقاعدگی سے منعقد کروائے جاتے ہیں، جنہیں دیکھنے کے لئے نہ صرف شائقین کی کثیر تعداد مقررہ مقام پر پہنچتی ہے بلکہ یہ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں اس کھیل کے حوالے سے خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا جاتا، خبروں کی زینت بنتے ہیں۔

ایک مقررہ فاصلے اور دائرے کے اندر شترمرغ کی ریس اگرچہ کسی حد تک دیگر کھیل جیسے گھوڑ دوڑ، اونٹ دوڑ کی طرح دکھائی دیتی ہے، لیکن شتر مرغ ریس گھوڑ دوڑ سے کہیں مشکل کام ہے، کیوں کہ ان میں بڑا فرق تو پرندے اور جانور کی جسمانی ساخت کا ہے، شترمرغ کی دوٹانگیں ہوتی ہیں اور وہ بھی نہایت پتلی جبکہ گھوڑے کی چار ٹانگیں اور موٹی گردن ہوتی ہے، لمبی پشت کے باعث گھوڑے پر بیٹھنا شترمرغ سے کہیں آسان ہے۔

گھوڑ دوڑ یا اونٹ دوڑ میں یہ دونوں جاندار ایک سیدھ میں بھاگتے ہیں، لیکن شترمرغ بھاگتے ہوئے دائیں بائیں لہراتا ہے۔ اگرچہ گھوڑے کی طرح شترمرغ کی سواری کے لئے بھی لگام ہوتی ہے، لیکن اسے کنٹرول کرنا گھوڑے کی نسبت تھوڑا مشکل امر ہے۔ ریس کے دوران شترمرغ کا سوار جسے جوکی کہا جاتا ہے، نے ہیلمٹ پہنا ہوتا ہے۔ ریس کے دوران یہ نہایت ضروری ہے کہ شترمرغ اپنے سوار سے مطمئن ہوں یعنی وہ اس کی پشت پر ایسے بیٹھے جس سے اسے بھاگنے میں زیادہ دقت نہ ہو، بصورت دیگر وہ دوران سفر ہی جوکی کو زمین پر پٹخ سکتا ہے۔

سواری کے وقت جوکی کو شترمرغ کی لگام نہایت مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوتی ہے، کیوں کہ دوران ریس شترمرغ کے ایک سے دوسرے قدم کا فاصلہ 16 فٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ دوڑ کے دوران شترمرغ کو تیز دوڑانے کے لئے جوکی اس کے پروں کو چھیڑتا ہے یا سامنے کی طرف ٹھوکر مارتا ہے، یہاں اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ شترمرغ کو ہمیشہ آگے کی طرف ٹھوکر مارنی چاہیے، پیچھے کی طرف ٹھوکر مارنے سے اس میں اشتعال پیدا ہوتا ہے اور نتیجتاً وہ اپنے سوار کو نیچے گرا دیتا ہے۔ شتر مرغ دوڑ کے ڈسٹن مورلے اور جیسی سیسن جیسے کھلاڑیوں نے اس کھیل کو دلچسپ بناتے ہوئے شائقین کی طرف سے بھرپور پذیرائی حاصل کی۔

وطن عزیز کی بات کی جائے تو یہاں شترمرغ ریس کا رجحان تو ابھی پیدا نہیں ہوا، لیکن شترمرغ کی فارمنگ ضرور ہو رہی ہے۔ سرکاری سطح پر شترمرغ کے فارم ہاؤسز بنائے گئے ہیں، جن کے لئے ہر سال بجٹ میں رقم بھی مختص کی جاتی ہے، ان فارم ہاوسز کا مقصد صرف گوشت کا حصول اور کاروباری سرگرمیاں ہیں، لیکن یہ دنیا چوں کہ گلوبل ویلیج کا روپ دھار چکی ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ برسوں میں پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہونے لگے گا، جہاں شترمرغ دوڑ ہوتی ہے، کیوں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دیگر دوڑوں کی طرح شترمرغ کی دوڑ بھی تفریح کا بہترین ذریعہ ہے۔


متعلقہ خبریں


دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ وجود - جمعرات 25 جون 2020

امریکا میں متعدی امراض سے بچا کے ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کہاہے کہ کورونا وائرس نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔غیرملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی کئی ریاستوں میں وائرس کے باعث کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔انھوں نے یہ بات کانگریس کے سامنے کہی۔ خیال رہے کہ امریکہ میں اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ 23 لاکھ کے قریب متاثر ہو چکے ہیں۔ریڈفیلڈ نے کہا کہ ہم اس وائرس کا مقابلہ ...

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

افریقا کے صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول ہزاروں میل دور جزائر غرب الہند کے ملکوں پر چھانے لگی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صحرائے اعظم یا صحرائے صہارا کی یہ دھول تیزی سے وسطی امریکا کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ حالیہ دنوں میں افریقہ میں آنے والے مٹی کے طوفان ہیں جس کی وجہ سے اتنی بڑی مقدار میں دھول فضا میں پھیل گئی ہے ۔دھول کے باعث جزائر غرب الہند میں ہوا کا معیار انتہائی نیچے گر چکا ہے ۔عام طور پر نیلگوں نظر آنے والا کیریبین ملکوں کا آسمان اب سرمئی نظر ...

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا وجود - جمعرات 25 جون 2020

نئی دہلی (این این آئی)بھارت نے چین کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کے بعد چینی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر کام عارضی طور پر روک دیا ہے ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیرِ صنعت سبھاش ڈیسائی کا کہنا تھا کہ وہ تین چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر آگے بڑھنے کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسی کے منتظر ہیں۔چین اور بھارتی ریاست مہاراشٹر کے درمیان ابتدائی معاہدوں کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا جس کا مقصد کورونا سے متاثرہ بھارتی معیشت کی بحالی می...

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

برطانیا میں ایک خاتون کسی دماغی عارضے کی شکار ہونے کے بعد دو ماہ تک کچھ بھی بولنے سے قاصر رہیں۔ لیکن اچانک ان کی گویائی لوٹ آئی ہے لیکن اب وہ چار مختلف لہجوں میں بات کرتی ہیں۔31 سالہ ایملی ایگن کی اس کیفیت سے خود ڈاکٹر بھی حیران ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کسی عارضی فالج یا دماغی چوٹ کی وجہ سے ایسا ہوا لیکن اس کے ثبوت نہیں مل سکے ۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ ان کا لہچہ اور بولنے کا انداز یکسر تبدیل ہونے لگا۔دو ماہ تک ایملی کمپیوٹر ایپ اور دیگر مشینی طریقوں سے اپنی بات کرتی رہی تھی۔ ت...

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی

بولٹن کے ٹرمپ اور چین بارے الزامات بے بنیاد ہیں، مشیر وائٹ ہاوس وجود - منگل 23 جون 2020

وائٹ ہاس کے تجارتی مشیر پیٹر ناوارو نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب ژی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے وقت ہال میں موجود تھے لیکن انہوں نے ٹرمپ کو چین سے دوسری مدت میں کامیابی کے لیے مدد طلب کرنے کی بات نہیں سنی۔ناوارو نے امریکی ٹی وی کو بتایا کہ قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کی ایک کتاب میں جو گرجدار دعوے کیے گئے ہیں وہ بے بنیادہیں۔ خاص طور پر چین کے بارے میں ٹرمپ کے سخت رویہ اور اس کے غیر منصفانہ کاروباری طریقوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط ہے کہ ...

بولٹن کے ٹرمپ اور چین بارے الزامات بے بنیاد ہیں، مشیر وائٹ ہاوس

ہسپتالوں میں داخلے کے بعد ایشیائی افراد کا مرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے ،برطانوی تحقیق وجود - منگل 23 جون 2020

برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق میں کہاگیا ہے کہ برطانیہ کے ہسپتالوں میں داخل ہونے کے بعد جنوبی ایشیائی افراد کا کورونا وائرس سے مرنے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔یہ واحد نسلی گروہ ہے جس کی موت کا خطرہ ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد بڑھ جاتا ہے اور اس کی ایک وجہ ان کے خون میں ذیابیطس کی زیادہ مقدار ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ تحقیق بہت اہم ہے کیونکہ اس میں ان 10 میں سے چار ہسپتالوں کے اعداد و شمار لیے گئے ہیں جہاں کووڈ 19 مریضوں کا علاج ہو رہا ہے ۔ محققین کا کہنا تھا کہ کام کی جگہوں...

ہسپتالوں میں داخلے کے بعد ایشیائی افراد کا مرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے ،برطانوی تحقیق

برطانیا میں گھر بیٹھے تھوک کے ذریعے ٹیسٹ کرنے کا تجربہ وجود - منگل 23 جون 2020

برطانیہ میں کورونا وائرس سے متعلق ایک ایسے ٹیسٹ کا تجربہ کیا جا رہا ہے جس سے لوگ گھر بیٹھے اپنے تھوک پر ٹیسٹ کرنے سے یہ جان سکیں گے کہ وہ اس وائرس سے متاثر تو نہیں ہیں۔اس ٹیسٹ کے لیے سواب جیسے طریقے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس ٹرائل میں 14 ہزار سے زائد افراد سمیت ضروری خدمات سرانجام دینے والے ورکرز اور ان کے ساتھ رہنے والے لوگ شامل ہوں گے ۔ ساتھ ہمپٹن یونیورسٹی کا یہ تجربہ چار ہفتوں تک جاری رہے گا اور ماہرین کو امید ہے کہ تھوک سے ٹیسٹ کرنے کا طریقہ لوگوں کے ...

برطانیا میں گھر بیٹھے تھوک کے ذریعے ٹیسٹ کرنے کا تجربہ

دبئی میں سات جولائی سے سیاحت بحال کرنے کا اعلان وجود - منگل 23 جون 2020

دبئی حکومت نے 7 جولائی سے سیاحت بحال کرنے کا اعلان کر دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک کی طرح کورونا وائرس کے پیش نظر دبئی میں بھی سیاحوں پرپابندی عائد کردی گئی تھی تاہم لاک ڈان میں نرمی کے بعد دبئی حکومت نے اب سیاحوں کو آنے کی اجازت دے دی ہے ۔ دبئی حکومت کے مطابق سیاح 7 جولائی سے دبئی آسکیں گے اور انہیں اپنے کورونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پیش کرنا ہوگی تاہم علامات کی صورت میں سیاح کو 14 دن کا قرنطینہ کرنا ہوگا۔اس کے ساتھ دبئی حکومت نے انٹرنیشنل ہیلتھ انشورنس بھی سیاحو...

دبئی میں سات جولائی سے سیاحت بحال کرنے کا اعلان

کینیڈا میں پولیس کی فائرنگ سے پاکستانی نژاد شہری جاں بحق وجود - منگل 23 جون 2020

کینیڈا میں پولیس کی فائرنگ سے پاکستانی نژاد شہری جاں بحق ہو گیا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ٹورنٹو میں رہائش پزیز اعجاز احمد چوہدری ذہنی مریض تھا اور ادویات نہ لینے پر اہل خانہ نے پولیس کی مددطلب کی تھی۔پولیس اہلکار اعجاز چوہدری کے اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تو اس کے ہاتھ میں چھری تھی جسے دیکھ کر اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کر دی اور وہ جاں بحق ہو گیا۔پولیس کارروائی پر پاکستانی کمیونٹی نے شدید تشویش کا اظہار کیا جب کہ پولیس نے اپنے اہلکاروں کے خلاف تفتیش کا آغازکر دیا ہے ۔

کینیڈا میں پولیس کی فائرنگ سے پاکستانی نژاد شہری جاں بحق