وجود

... loading ...

وجود

اپنی صحت کا خیال رکھیں

منگل 06 فروری 2018 اپنی صحت کا خیال رکھیں

زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک خوبصورت نعمت ہے اور ہم کبھی نہیں چا ہتے کہ اس حسین تحفے کو مختلف طرح کی بیماریوں اور خراب صحت کی نذر کریں ۔ آج ہمارے جسم کے مختلف اعضاء مثلاََ گردے ، دل ، پھیپھڑے ، جگر ، معدہ وغیرہ درست حالت میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں مگر یہ ہمیشہ ایسی تندرست اور درست حالت میں توانا اور فعال نہیں رہیں گے ۔ اچھی صحت صرف اچھاکھانے کا ہی نام نہیں ہے بلکہ اس میں اچھی اور مثبت دماغی صحت ،ایک صحت مند شخصیت اور ایک صحت مند طرز زندگی بھی شامل ہیں ۔اور ان سب چیزوں کو برقرار اوربیلنس میں رکھنے کے لئے سیلف کیئر یا خود کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے ۔سیلف کیئر سے مراد ہم اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے کیسے مختلف بیماریوں سے تحفظ حاصل کرتے ہیں ۔ اس میں صفائی ، متوازن خوراک ، لائف اسٹائل یا طرز زندگی ، ماحولیاتی عوامل ، معاشی حالات اور خود سے علاج وغیرہ شامل ہیں ۔خود کا خیال رکھنے کا عمل فرد سے فرد مختلف ہوتا ہے ۔ انٹرنیشنل سلیف کیئر فائونڈیشن نے ایک فریم ورک ڈیزائن کیا ہے جسے سیلف کیئر کے سات ستونوں کے نام سے منسوب کیا جاتاہے یعنی ہم ان سات ستونوں پر عمل کرکے ایک صحت مندزندگی گزار سکتے ہیں ۔ لوگوں کو جسمانی اور دماغی حالت کے بارے میں خود آگاہی کو بیدار کرنا چاہیئے کہ ہمیں اس حد تک اپنی دماغی اور جسمانی حالت کے بارے میں معلوم ہو کہ اپنی جسمانی اور دماغی حالت میں کسی بھی تبدیلی کو محسوس کر سکیں ۔ اپنا بلڈپریشر اور شوگر لیول وغیرہ کے بارے میں آگاہی ہونا چاہئے ۔

جسمانی سرگرمیاں یعنی چہل قدمی ، سائیکلنگ ، یا کسی بھی ایسے کھیل میں خود کو شامل کرنا جس سے جسمانی صحت، فٹنس اور مزاج پر براہ راست اثر پڑتا ہوں ۔ ورزش کے لئے کچھ ٹائم ضرور نکالنا چاہیئے ۔ حرکت زندگی کا دوسرا نام ہے اور ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ روز انہ کی ورزش سے ہمارے جسم پر بے حد مثبت اور خوش آئندا ثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے لمبی زندگی کی طرف بڑھاوا ، مختلف بیماریوں کے ہونے کی شرح میں کمی ، وزن میں کمی وغیرہ شامل ہیں ۔ اپنی زندگی میں حرکت کو بڑھائیں اور نزدیکی مقامات پر آنے جانے کے لئے گاڑی کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دیں اسی طرح لفٹ کے استعمال کے بجائے سیڑھیوں سے اوپر نیچے جانے کو فوقیت دیں ۔اور کوشش کرنی چاہیئے کہ جسم کے مختلف حصوں کو استعمال میں لاتے ہوئے ورزش کریں جس میں مختلف کھیلوں مثلاََ باسکٹ بال، فٹ بال ، تیراکی ، ٹینس ، بیڈ منٹن وغیرہ سے مدد لی جاسکتی ہے ۔

لوگوں میں صحت مند متوازن خوراک کے استعمال کی آگاہی ہونی چاہیئے کہ جو خوراک کھا رہے ہیں وہ ان کی صحت کے لئے کس حد تک فائدہ مند ہے ۔ اپنے کھانوں میں تلی ہوئی مرغن غذائوں مثلاََ فاسٹ فوڈز، چپس ، بسکٹ وغیرہ کا استعمال کم سے کم اور نہ ہونے کے برابر رکھنا چاہیئے کیونکہ یہ کھانے نہ صرف موٹاپے اور دل کی بیماریوں کی طرف مائل کرتے ہیں بلکہ ان کھانوں میں ایک کیمیکل acrylamide بھی موجود ہوتا ہے جوکہ کینسر کا باعث بن سکتا ہے ۔

سبزیوں اور پھلوں کے استعمال کو یقینی بنائیں اور شوخ رنگ کے کھانوں کو ترجیح دیں ۔ وہ پھل اور سبزیاں جو شوخ اور گہرے رنگ کی ہوتی ہیں ان میں anti oxidant وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔اور یہ ہمار ی صحت کے لئے بے حد ضروری اور فائدہ مند ہوتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے جسم سے فری ریڈیکلز کو دور کرتے ہیں جو ہمارے خلیات کے لئے نقصان دے ہوتے ہیں ۔لہذا اپنے کھانوں میں مختلف رنگوں کے کھانوں کا استعمال رکھیں جن میں سفید (کیلے ، مشروم) ، پیلے (پائن ایپل ،آم) ، اورنج (کینو، پپیتا ) ، لال (سیب، اسٹرابری ، ٹماٹر)، گرین (امرود، کھیرا، سلادپتے )، نیلے (بلیک بیریز، بینگن ) وغیرہ شامل ہیں۔

دن کے مختلف اوقات میں مختصر وقفوں میں کھانے کو معمول بنائیں ۔ شیڈول کو اپنا کر ہم اپنے توانائی کو دن کے مختلف اوقات میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ اس وقت کھائیں جب بھوک محسوس ہو اور تھوڑی سی بھوک چھوڑ کر کھانے سے ہاتھ اٹھالیں ۔ یہ لازمی نہیں کہ ہر انسان کے کھانے کے اوقات ایک جیسے ہوں لہذا اپنے جسم کی سُنیں اور اس کی ضرورت کے مطابق اسے فراہم کریں ۔ اور جذباتی خوارک سے پرہیز کریں ۔ جذباتی خوارک وہ ہوتی ہے جو ہماری اصل بھوک نہیں ہوتی ہے ۔ ہم اس وقت کھاتے ہیں جب ہم ڈپریشن یا پھر خوشی کی حالت میں ہوتے ہیں ۔ جذباتی کھانوں سے جسم کبھی خوشی یا دکھ محسوس نہیں کرتے بس بے وقت کھانے پینے سے ہمارے جسم پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس سے گریز کرنا چاہیئے۔ اس کے علاوہ لازمی ہے کہ لوگوں میں خود کو مختلف بیماریوں اور حادثات سے بچنے کا احسا س موجود ہوکہ کس طرح ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کرکے کسی بڑے حادثے سے محفوظ رہ سکتے ہیں مثلاََ ویکسینیشن کے ذریعے ، سیٹ بیلٹ باندھ کر کسی بڑے حادثے سے بچ سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی ترک کر کے پھیپھڑوں کے کینسر جیسے موذی مرض سے بچ سکتے ہیں ۔ ہر مہینے باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ کروانا چاہیئے تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص پر علاج کیا جاسکے ۔

اس کے علاوہ بہتر صفائی کا خیال کرکے لوگ اپنے گھروں اور دفتروں وغیرہ میں صفائی کا خیال رکھتے ہوئے مختلف بیماریوں سے دور رہنے کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی کو بھی کم کر رہے ہوتے ہیں ۔ اور ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں مثلاََ ملیریا، ڈینگی ، چکن گونیا، ہیضہ جیسے متعدی بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

سیلف کیئر کے ستونوں میں مکمل نیند ایک لازمی اور بنیادی ستون ہے ۔ شاہد یہ بات آپ کے علم میں ہو کہ جب ہماری نیند پوری نہیں ہوتی یا ہمارے جسم کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے تب ہم زیادہ خوراک استعمال کرتے ہیں جوکہ زیادہ تر جنک فوڈ کی شکل میں ہوتا ہے لہذا ہمیں ایک مکمل اور بھرپور نیند لینی چاہیئے کیونکہ نیند کی کمی سے ہم جلدی بڑھاپے کی طرف گامزن ہو جاتے ہیں اور ہم کبھی بھی ایسا نہیں چاہیں گے تو بھر پور نیند لیں اور جوان رہیں ۔

پانی کا زیادہ استعمال بھی ایک صحت مند جسم کے لئے بے حد ضروری ہے ہم میں سے زیادہ تر لوگ پانی کی اتنی مقدار استعمال نہیں کرتے جتنی ہمارے جسم کو ضرورت ہوتی ہے ۔ ہمارے جسم 60% یا اس سے بھی زائد پانی پر مشتمل ہوتا ہے ۔پانی چونکہ ہمارے جسم سے براستہ پیشاب، پسینے اور سانس لینے کے عمل سے مسلسل خارج ہو رہا ہوتا ہے تو ہمیں اسکی مقدار کو جسم میں برقرار رکھنے کی بے حد ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ پانی کے زیادہ استعمال سے وزن میں کمی میں بھی معاونت ہوتی ہے ۔پانی کی کتنی مقدار ہمارے جسم کے لئے ضروری ہے اس کا انحصار نمی ، ہماری جسمانی سرگرمیوں اور ہمارے وزن پر ہوتا ہے لیکن عمومی طور پر روزانہ 2.7-3.7 لیٹر ز یعنی 8-10 گلاس پانی لازمی پینا چاہیئے ۔ اگر ہمارے جسم میں پانی کی کمی ہو جائے تو اسکا اندازہ ہمارے پیشاب کے رنگ سے بھی لگا سکتے ہیں ۔پانی کی کمی کے عاعث پیشاب کا رنگ گہرا زرد ہو جاتا ہے ۔اور اس کے علاوہ ہونٹ بھی خشک ہو جاتے ہیں ۔ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ دماغی طور پر بھی صحت مند رہنا ضروری ہے اور اس کے لئے ہمیشہ منفی رویوں کے حامل لوگوں اور منفی سوچوں سے دور رہنے کی کوشش کریں اور اپنے ارد گرد اور اپنے اندر کی شخصیت کو مثبت انداز میں اجاگر کریں ۔


متعلقہ خبریں


قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

مضامین
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار وجود هفته 24 جنوری 2026
سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار

جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر