وجود

... loading ...

وجود

پاکستان کاخوبصور ت مقام اور دنیاکی خطرناک چوٹی ’’نانگاپربت‘‘

اتوار 04 فروری 2018 پاکستان کاخوبصور ت مقام اور دنیاکی خطرناک چوٹی ’’نانگاپربت‘‘

پاکستان کی پہچان نانگا پربت اپنے حسن کے جلوے بکہیرتا پاکستان کے صوبے گلگت بلتستان کے ضلع استور میں واقع ہے ۔ دنیا کی نویں اور پاکستان میں K-2 کے بعد دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو سلسلہ کوہ ہمالیہ میں واقع ہے ۔ سطح سمندر سے اسکی بلندی تقریباً 8126 میٹر یا 26,660 فٹ ہے، سال بہر برف سے ڈہکی یہ چوٹی اپنے اندر بے پناہ حسن اور کشش رکہتی ہے اور خاص طور پر چودہویں کی رات کو جب چاند اپنے پورے جوبن پرہوتا ہے اور کہکشائیں اس سے باتیں کرتی ہیں تو اسکی خوبصورتی انسانی عقل کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے ۔

چاندی راتوں کو چاند کی روشنی اسکی ساتہی ہووتی ہے، تو دن کے اجالے میں سورج ا سکاہمسفر ہوتا ہے اور اندہیری راتوں میں سفید برف کے گا لے اسے روشنی فراہم کرتے ہیں ۔ الغرض نانگا پربت ہر لمحے قدرت کی عطاء کردہ روشنی کا منیارہ محسوس ہوتا ہے ۔ شاہراہ قرا قرم پر سفر کوتے ہوئے یہ دور سے اسکا نظارہ کیاجائے تولگتا ہے یہ اپنے مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے ۔
نانگا پربت کوہ ہمالیہ کے مغربی حصے کے آخر حصے میں واقع ہے ۔کوہ پیمائی کی بات کی جائے تو اس کو سب سے پہلے کوہ پیما ہر میں بوہل نے 1953ء؁ میں سر کیا جسکا تعلق جرمنی سے تہا ۔ نانگا پربت اپنے خدوخال کے لحاظ سے دنیا کی خطرناک چوٹیوں میں شمار کی جاتی ہے جیسا کہ اسکے نام سے بھی ظاہر ہے یعنی ” نانگا” ” پربت ” نوکیلی پہاڑ ۔

نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش میں اب تک تقریباً 47 کوہ پیما خان کی بازی ہار چکے ہیں اور اگر جنوری 2018ء؁ کے موجودہ واقعے کو شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد 49 تک پہنچ جاتی ہے ۔ بعض کوہ پیما اسے ماؤنٹ ایوریسٹ سے بہی زیادہ چیلنجگ تصور کرتے ہیں ۔ موسم سرما میں نانگا پربت بہت زیادہ خطرناک اور دشوار گزار ہوجاتا ہے ۔ نانگا پربت کو موسم سرما میں سب سے پہلے فروری 2016ء؁ کو سائمن مورو ۔ ایلکس ٹیکسکون اور پاکستانی کوہ پیما علی سدد پارہ نے سر کیا جو پاکستان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ۔

موسم سرما میں نانگا پربت کو سر کرنے کے لیے ایک ٹیم جو ٹام میکسوچ ( پولینڈ ) اور خاتون کوہ پیما ایلز بتھ )فرانس ) پرمشتمل نفری نے اس کٹھن اور دشوار گزار سفر کا آغاز کیا جیسے جیسے سفر آگے بڑھتا گیا موسم خراب ہوتا چلا گیا اور بالآخر خراب موسم کی وجہ کہ وجہ کے مزید سفر کو روک دیا گیا ۔

43 سالہ پولینڈ کے کوہ پیماء ٹام میکسوچ ” منفی 60 ڈگری شدید سردی سے لڑتے معزود کر دینے والی برفانی بیماری ” سنو بلا ٹنڈس ” اور ” فراسٹ ہائٹ ” شکارر ہوگیا اسکی ساتھی کوہ پیما ایلز بتھ نے 7400 میٹر کی بلندی سے دیس کیو کال کی اور بہادری کی اعلٰی مثال قائم کرتے ہوئے ٹائم کو 7280 میٹر بلندی تک نیچے لانے میں کامیاب ہوگئی ، حالانکہ ایلزبتھ خود بھی بائیں پاؤں کی پانچویں انگلی میں فراسٹ ہائیٹ کا شکار تہی ۔ یہاں پر ٹائم کولانے کے بعد خاتون کوہ پیمانے ٹائم میکسوچ کو قدر لے ہموار سطح پر لٹا دیا ۔

یہاں میں آپکو فراسٹ ہائیٹ کے بارے میں بتاتا چلوں کے عام طور پر یہ بیماری ہاتھوں اور پاؤں پر حملہ کرتی ہے ۔ اس میں انگلیاں بے جان ہوجاتی ہے، ان پر پر دباؤں یا سردی کا اثر محسوس نہیں ہوتا شروع میں متاثرہ عضو گرم ہوتا ہے،بعدازاں اس میں سوجن آجاتی ہے اور وہ خاصا نرم ہوجاتا ہے ،کچھ عرصے بعد بلسٹر بن جاتے ہیں جن کے اندرسرخی مسائل اور پھر گہرے رنگ کا مائع جمع ہوجاتا ہے ،عضوٹھنڈا ہوجاتا ہے اور آخر کار یہ حصہ بالکل بے حس ہوجاتا ہے اس میں خون کا دورہ نہیں ہوتا ورتقریبامفلوج ہوجاتاہے۔

ٹام میکسوچ کو لٹانے کے بعد ایلز بتہ مدد لینے کے لیے اکیلی نیچے روانہ ہوگئی ۔ ایلز بتھ نے آخری رابطہ 6671 میٹر پر کر کے بتایا کہ میں ٹام میکسوچ کی مدد کے کرنیچے آرہی ہوں ۔ اس پورے ریسکیو میں سب سے خاص بات کہ K-2 کو سردیوں میں سر کرنے کے لیے موجود پولینڈ اور روس کے کوہ پیماؤں کی شاندارکوشش تھی ان کوہ پیمائوں کو جب واقع کا علم حاصل کیا تو فوراً اپنی مہم روک کہ نانگا پربت کا سفر اختیار کیا ۔

چنانچہ ریسکیو کے دوران انہوں نے ایلز بتھ کو تو بچالیا لیکن ٹام میکسوچ شاید اب یہی رہنا چاہتا تھا ہمیشہ کے لیے اس لئے وہ بچایانہیں جاسکا۔ لیکن جاتے جاتے ٹام میکسوچ نے جستجو کی عظیم داستان رقم کردی وہ اس سے پہلے بہی نانگا پربت کی اس خوبصورت چوٹی کو سر کرنے کی 6 بار ناکام کوشش کرچکا تھاا اور بالآخر وہ ہمیشہ کے لیے نانگا پربت کے ساتھ رہنے کا گویا عہد کرگیا ۔ زندگی روانی کا نام ہے اور جستجو اسکی پہچان ہے ۔


متعلقہ خبریں


سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید وجود - اتوار 21 جون 2026

سندھ میں پانی کی شدید قلت ہے، وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیے ،اجلاس میں حکومتی ارکان پیپلز پارٹی کے منصوبے گنواتے رہے، اپوزیشن کی جانب سے مسائل کی نشاندہی حکومتی اراکین خود مسائل کا رونا رو رہے ہیں، 18سال کے دوران سندھ میں کیا ہوا، ڈیفنس میں فحاشی کے اڈے چل رہے ہیں،باتوں سے یہ ش...

سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے بجٹ مسترد کردیا، نامکمل ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا وجود - اتوار 21 جون 2026

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے ایک اور مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قیدکی سزا اور شاہ محمود کو بری کر دیا جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میںپولیس کی گاڑیاں جلانے کا مقدمے کا محفوظ فیصلہ سنایا، جلائو گھیرائو کیس ...

9 ؍مئی مقدمے کا فیصلہ ،پی ٹی آئی رہنمائوں کو 10، 10 سال قیدکی سزا

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار وجود - اتوار 21 جون 2026

تخریب کاروں کو چوکوں اور چوراہوں پر سرعام پھانسی جیسی عبرتناک سزائیں دی جائیں آٹا، چینی، چاول اور بجلی سے متعلق معاشی مطالبات تو بالکل جائز تھے، سردار عتیق احمد خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے پاکستان کی م...

مسلح افواج کیخلاف بغاوت ایک ناقابل معافی جرم قرار

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم وجود - اتوار 21 جون 2026

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا یہ بل جاہلانہ اور غاصبانہ ہے، یہ بل شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ہے بل کی منظوری اراکین اسمبلی کی اہلیت پر سوالیہ نشان ، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب سے متعلق بل پر شدید ردعمل امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی سے منظور ہونے و...

گھر ہمارا مگر ٹاور لگے گا ٹیلی کام کمپنی کا! اجازت نہ دینے پر 5 کروڑ جرمانہ؟حافظ نعیم

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری وجود - اتوار 21 جون 2026

تحریک انصاف نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا سے وضاحت طلب کرلی حساس نوعیت کے معاملات پر بیان بازی سے گریز کرنے اور 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے حوالے سے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر بیان دینے پر سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو ش...

آزاد کشمیر سے متعلق بیان ، پی ٹی آئی نے سینیٹر ڈاکٹر زرقا کو شوکاز نوٹس جاری

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری وجود - اتوار 21 جون 2026

ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 25ہزار 992،غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 5ہزار 836ارب مختص کر دیے گئے سود کی ادائیگی کے لیے 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں ، اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار قومی اسمبلی نے 44ہزار 741ارب سے زائد کے غیر تصویبی لازمی اخراجات کی منظوری دیدی۔...

قومی اسمبلی اجلاس، 44ہزار 741ارب سے زائد کے لازمی اخراجات کی منظوری

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار وجود - اتوار 21 جون 2026

شادی ہالز، تقریباتی مقامات رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس 11 بجے بند ہوں گے ڈپارٹمنٹل اور جنرل اسٹورز،دکانیں، بازار ،شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے،کابینہ ڈویژن کا نوٹیفکیشن وفاقی حکومت نے فیول بچت اور اضافی کفایت شعاری اقدامات ختم کر دیے ہیں، اس حوالے سے ...

کفایت شعاری اقدامات ختم ، مارکیٹ اوقاتِ کار کی پابندیاں برقرار

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید وجود - اتوار 21 جون 2026

حملے میں حسین اور رانا صفادی اور ان کی دو چھوٹی بیٹیاں شہید ہوئے شمالی غزہ شہر کے الصفاوی علاقے ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار سمیت کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی ریاست کا یہ تازہ حملوں کا سلسلہ...

غزہ میں اسرائیل کا تازہ حملہ، 5 فلسطینی شہید

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

مضامین
موت زندگی کی دشمن نہیں! وجود پیر 22 جون 2026
موت زندگی کی دشمن نہیں!

سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب وجود پیر 22 جون 2026
سیدنا عمر فاروق:اسلامی ریاست، عدل و حکمرانی کا سنہرا باب

کشمیریوں کو مذہبی استحصال وجود پیر 22 جون 2026
کشمیریوں کو مذہبی استحصال

92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ وجود اتوار 21 جون 2026
92 ارب کا بھارتی دفاعی بجٹ

زمین کی اصل امید! وجود اتوار 21 جون 2026
زمین کی اصل امید!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر