... loading ...
بلوچستان کے ضلع خضدارکے علاقے وڈھ میں ایک اہم زیارت ’’لاہوت لامکاں ‘‘کہلاتی ہے اس جگہ کے بارے میں روایات ہیں کہ کائنات میں سب سے پہلے یہی مقام تخلیق کیاگیاتھااورکچھ روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کواسی جگہ اتاراگیاتھا۔ یہ وجہ ہے کہ مختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگ ہرسال یہاں دشوارگزارراستہ طے کرکے آتے ہیں ۔ اس کے نزدیک ہی ایک مشہوربزرگ شاہ بلاول نورانی کامزاربھی ہے کراچی سے حب کے راستے بلوچستان جاتے ہوئے اس سلسلے کاپہلاپڑائومحبت فقیرکے مزارپرہوتاہے ۔ اس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام تھے ۔
اگلا پڑائوقدم گاہ پرہوتاہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ یہاں حضرت علی ؓ کے پائوں کے نشانات ہیں ۔ ان نشانات کوریشمی جھالروں سے سجایاگیاہے ۔یہیں پرایک پتھر ایسا بھی رکھاہے جس کے متعلق مشہورہے کہ اسے کھاٹ جبل سے لایاگیاجس پرواضح اورقدرتی طورپرکلمہ طیبہ لکھاہے ۔ کھاٹ جبل کویہ نام اس لئے ملاکہ اس پہاڑپرایک بزرگ کی چارپائی رکھی جاتی تھی۔ اسی کھاٹ یعنی چارپائی کاایک پایہ وہاں کے گدی نشین کے پاس موجودہے ۔جس کی زیارت کے لیے زائرین بڑی تعدادمیں آتے ہیں ۔ قدم گاہ کے نزدیک پہاڑی پرحضرت رحیم علی شاہ بخاری کی درگاہ ہے ۔ جس پہاڑ ی پریہ درگاہ ہے وہاں بھی قدرتی طورپرقرآنی آیانقش ہیں
شاہ بلاول نورانی کامزاریہاں سے نزدیک ہی ہے ۔ جبکہ قریب ہی ایک مسجدبھی موجودہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ اس کوکسی نے تعمیرنہیں کیایہ خودہی وجود میں آئی یہاں ایک دلفریب پتھربھی نظرآتاہے ۔اس قدم گاہ کے نزدیک کا پھلوں کا باغ بھی موجودہے ۔ اس باغ میں کھجور‘املی اوردوسرے جنگلی درختوں کے ساتھ آم کے درخت نظرآتے ہیں جن میں جابہ جالفظ اللہ واضح لکھا نظرآتاہے ۔ یہاں کے بارے میں روایت ہے کہ یہاں ایک ظالم دیوگوگل کی حکومت تھی اورلوگ اس سے تنگ تھے ۔ لوگوں نے اللہ تعالی سے دعاکی توایک نورانی صورت بزرگ تشریف لائے جنھوں نے اس دیوکوشکست دے کرلوگوں کواس کے ظلم سے نجات دلائی ۔ اس مقابلے کی نشانیاں اس پہاڑکے سنگلاخ بدن پرموجودہیں ۔یہ نشانات بھاگتے قدموں ‘خراشوں اورلڑائیوں کوظاہرکرتے ہیں ۔بزرگ نے اس دیوکوقید کرکے باغ اوراس کے مضافات میں پانی پہنچانے کاکام سونپ دیاگیااورصدیوں سے بہتے ہوئے اس چشمے سے پریوں کاباغ اوردیگرکھیت سیراب ہورہے ہیں ۔
اس باغ سے اصل زیارت گاہ لاہوت لامکاں کے راستے نکلتے ہیں ۔ پیدل زائرین کے لیے سات پہاڑوں کوعبورکرکے زیارت گاہ تک پہنچنا پڑتاہے اس راستے سے صرف سخت جان لوگ ہی گزرسکتے ہیں ۔ دوسراراستہ قدر ے آسان ہے جس پرلوہے کی سیڑھیاں موجودہیں ۔ دیکھنے میں یہ سیڑھیاں بہت کمزورلگتی ہیں لیکن کئی سومن وزن آسانی سے برداشت کرلیتی ہیں ۔ ان سیڑھیو ں سے ہزاروں زائرین بیک وقت چڑھتے اترتے ہیں ۔
سیڑھیاں پارکرنے کے بعد ایسے پتھرسے سامناہوتاہے جس کی صورت میں ایک ایسی شکل موجودہے جوکسی خونخوارجانورکی سی ہے لیکن اب پتھرکی طرح ساکن ہے ۔کہاجاتاہے کہ یہ ایک ایسی بلاتھی جوروزانہ دیگ بھرچاول ‘منوں کے حساب سے روٹیاں اورانسانوں تک کوکھاجاتی تھی۔ یہاں ایسے پتھربھی موجودہیں جن کی شکل خونخواشیرسے ملتی ہے اس بارے میں روایت مشہورہے کہ یہ اصل درندے تھے لیکن روحانیت کی طاقت سے ان کوپتھربنادیاگیا۔
یہاں آگے ایک ایسی جگہ بھی آتی ہے جوحضرت لعل شہبازقلندرسے منسوب ہے :کہاجاتاہے کہ آپ نے یہاں آگ جلاکرچلہ کشی کی تھی ۔ اس کے بعدایک غارآتاہے جس میں داخل ہوتے ہی پائوں ایک ایسے پتھر پر پڑتا جو شیرکی صورت کاہے اسے نگہبان کہاجاتاہے ۔ اس بارے میں مشہورہے کہ یہ شیران زیارت گاہوں کی حفاظت پرمامورہے ۔
اس غارمیں داخل ہونے سے قبل ایک خاص صابن سے منہ دھوناپڑتاہے ۔ یہ صابن پتھرپرپانی گرنے سے بنتا ہے اس سے منہ دھونے سے غارکااندھیراختم ہوجاتاہے اور ہر چیز روشن ہوجاتی ہے ۔ اسی غارمیں پتھرسے بنی ایک اونٹنی بھی ہے ۔اورایک پتھربھی جوفرش سے برآمد ہوکرغارکی چھت کی طرف بڑھ رہاہے ۔ یہاں ایک قدرتی چشمہ بھی طویل عرصے سے جاری ہے اس چشمے کے عین نیچے ایک قدرتی پتھرکاپیالہ موجودہے اورحیرت انگیزبات یہ ہے کہ چشمے کاپانی عین ا س پیالے کے اوپرگررہاہے۔ اس غارکے بعدایک اورغاربھی ہے جس میں بہت اندھیرا ہوتا ہے اورپھلسن بھی زیادہ ہے ۔ اس غارمیں کوئی بھی انسان سیدھے رخ داخل ہی نہیں ہوسکتا۔اسی غارکے آخری دہانے پرشاہ نورانی کی چلہ گاہ موجودہے جس کے ساتھ ایک اورچشمہ بھی جاری ہے ۔
اس سارے علاقے کی خاص بات یہ ہے کہ ہرجانب پتھرکے عجیب عجیب جانور‘پرندے پائے جاتے ہیں ۔ کہیں اژدھے کے منہ سے پانی ٹپک رہاہے توکہیں کسی اورخونخوارجانورکی آنکھوں سے پانی آرہاہے ۔ایک مقام پربھینس کے تھنوں سے مشابہہ پتھرموجودہیں جہاں سے چشمہ پھوٹ رہاہے ۔کہاجاتاہے کہ ا ن پتھروں
سے کسی زمانے میں دودھ بہتاتھاجورفتہ رفتہ پانی بن گیا۔ اس مقام پرموجودپتھروں کارنک بھی کسی حدتک سفیدی مائل ہے جودورسے دیکھنے میں سفید چونا لگتے ہیں۔اس مقا م پربھینس کے تھنوں سے گرتا پانی ، کبوتروں کے غول اورچڑیوں کی چہچہاہٹ ایک عجیب سحرخیز منظر پیش کرتی ہے ۔ اگرآپ اس مقام کی سیرکے لیے آناچاہتے ہیں تواس کے لیے ہرگزشدید سردی یابہت زیادہ گرمی کاانتخاب نہیں کیجئے گا۔ورنہ راستے میں آپ کوشدید دشواریوں کے ساتھ موسم کی سختی کابھی سامنا کرناپڑسکتا ہے ۔ جولوگ کراچی سے رات گئے لاہوت کارخت سفر باندھتے ہیں ان کے لیے صبح سورج طلوع ہونے کامنظرقابل دیدہوتاہے اورساری تھکان نکل جاتی ہے۔
پنجاب میں احتجاج کی قیادت سہیل آفریدی، خیبرپختونخوا میں شاہد خٹک کریں گے جو مذاکرات کرنا چاہتے ہیں وہ کرتے رہیں احتجاج ہر صورت ہوگا، پارٹی ذرائع پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 8 فروری کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق اس شیڈول احتجاج کے لی...
سندھ کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے،پیپلز پارٹی کراچی سے دشمنی کرتی ہے ایم کیو ایم ، پیپلزپارٹی پر برا وقت آتا ہے تو مصنوعی لڑائی لڑنا شروع کر دیتے ہیں،پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول ...
9 تا 11 جنوری کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا دورہ کریں گے، سلمان اکرم راجا مزارقائد پر حاضری شیڈول میں شامل، دورے سے اسٹریٹ موومنٹ کو نئی رفتار ملے گی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ اپنے دورے کے دوران کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ عوام سے براہِ را...
اٹلی،ارجنٹائن،پیرس، یونان ، ٹائمز اسکوائر ،شکاگو ،واشنگٹن اور دیگر امریکی شہروں میںاحتجاج امریکا کو وینزویلا سمیت کسی غیر ضروری جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہئے،مشتعل شرکا کا مطالبہ امریکا کی جانب سے وینزویلا پر حملے کے خلاف امریکی شہروں سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے جن میں ٹرمپ ...
کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے، اہم فوجی تنصیبات اور وزارت دفاع کو نشانہ بنایا گیا ،دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی غائب، آسمان میں دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے...
فلائٹ ٹیسٹ کا مشاہدہ پاک فوج کے سینئر افسران،سائنسدانوں نے کیا، آئی ایس پی آر پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیت سے دشمن خوفزدہ،سائنسدانوںاور انجینئرز کو مبارکباد پاک فضائیہ نے قومی ایرو سپیس اور دفاعی صلاحیتوں کی ترقی میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مقامی طور پر تیار کیے گئ...
ظلم و فسطائیت کے نظام میں قومیں نہیں صرف سڑکیں بنتی ہیں، نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے حصے کی جنگ لڑ چکی ، اب وہ ہمارے حصے کی جنگ لڑ رہی ہیں، وزیراعلیٰ کا صحت آگہی کانفرنس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہ...
26 ستمبر 2024 کے بعد جب ایڈمز پر رشوت اور فراڈ کے الزامات میں فردِ جرم عائد ہوئی تھی نیویارک منتخب میئر نے یہود دشمنی کی بھڑکتی آگ پر پیٹرول ڈال دیا ہے،اسرائیلی وزارتِ خارجہ نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی نے اقتدار سنبھالتے ہی سابق میٔر ایرک ایڈمز کے تمام وہ ایگز...
معید پیرزادہ ، سید اکبر حسین، شاہین صہبائی شامل، بھاری جرمانے عائد، عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں ، ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ جرمانے کی سزا دوران سماعت پراسیکیوشن نے مجموعی طور پر24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا ،پراسیکیوشن کی استدعا پر...
ریاستی اداروں کی نجکاری حکومتی معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے، شہباز شریف وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔اعلامیہ ...
82فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر، 10.5فیصد کرایہ دار ہیں، گھریلو اخراجات 79ہزار ہوگئے ملک میں 7فیصد آبادی بیت الخلا (لیٹرین)جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے،ہائوس ہولڈ سروے حکومت کے ہائوس ہولڈ سروے کے مطابق پاکستانی شہریوں کی اوسط آمدن میں 97 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ماہانہ اوسطا آمدن...
سربمہر املاک میں 19 ہوٹل اور الیکٹرانکس کی 13 دکانیں شامل ہیں،ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی فٹ پاتھ پر کرسیاں رکھنے والے ہوٹل سیل کیے ،تجاوزات کے خلاف مہم ساؤتھ میں جاری ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی کراچی جاوید نبی کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے صدر میں 32 دکانیں اور ہوٹل سربمہر کر دیے گئے ہیں...