وجود

... loading ...

وجود

بلوچستان کے ضلع خضدارکی اہم زیارت’’لاہوت لامکاں‘‘

اتوار 04 فروری 2018 بلوچستان کے ضلع خضدارکی اہم زیارت’’لاہوت لامکاں‘‘

بلوچستان کے ضلع خضدارکے علاقے وڈھ میں ایک اہم زیارت ’’لاہوت لامکاں ‘‘کہلاتی ہے اس جگہ کے بارے میں روایات ہیں کہ کائنات میں سب سے پہلے یہی مقام تخلیق کیاگیاتھااورکچھ روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کواسی جگہ اتاراگیاتھا۔ یہ وجہ ہے کہ مختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگ ہرسال یہاں دشوارگزارراستہ طے کرکے آتے ہیں ۔ اس کے نزدیک ہی ایک مشہوربزرگ شاہ بلاول نورانی کامزاربھی ہے کراچی سے حب کے راستے بلوچستان جاتے ہوئے اس سلسلے کاپہلاپڑائومحبت فقیرکے مزارپرہوتاہے ۔ اس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام تھے ۔

اگلا پڑائوقدم گاہ پرہوتاہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ یہاں حضرت علی ؓ کے پائوں کے نشانات ہیں ۔ ان نشانات کوریشمی جھالروں سے سجایاگیاہے ۔یہیں پرایک پتھر ایسا بھی رکھاہے جس کے متعلق مشہورہے کہ اسے کھاٹ جبل سے لایاگیاجس پرواضح اورقدرتی طورپرکلمہ طیبہ لکھاہے ۔ کھاٹ جبل کویہ نام اس لئے ملاکہ اس پہاڑپرایک بزرگ کی چارپائی رکھی جاتی تھی۔ اسی کھاٹ یعنی چارپائی کاایک پایہ وہاں کے گدی نشین کے پاس موجودہے ۔جس کی زیارت کے لیے زائرین بڑی تعدادمیں آتے ہیں ۔ قدم گاہ کے نزدیک پہاڑی پرحضرت رحیم علی شاہ بخاری کی درگاہ ہے ۔ جس پہاڑ ی پریہ درگاہ ہے وہاں بھی قدرتی طورپرقرآنی آیانقش ہیں
شاہ بلاول نورانی کامزاریہاں سے نزدیک ہی ہے ۔ جبکہ قریب ہی ایک مسجدبھی موجودہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ اس کوکسی نے تعمیرنہیں کیایہ خودہی وجود میں آئی یہاں ایک دلفریب پتھربھی نظرآتاہے ۔اس قدم گاہ کے نزدیک کا پھلوں کا باغ بھی موجودہے ۔ اس باغ میں کھجور‘املی اوردوسرے جنگلی درختوں کے ساتھ آم کے درخت نظرآتے ہیں جن میں جابہ جالفظ اللہ واضح لکھا نظرآتاہے ۔ یہاں کے بارے میں روایت ہے کہ یہاں ایک ظالم دیوگوگل کی حکومت تھی اورلوگ اس سے تنگ تھے ۔ لوگوں نے اللہ تعالی سے دعاکی توایک نورانی صورت بزرگ تشریف لائے جنھوں نے اس دیوکوشکست دے کرلوگوں کواس کے ظلم سے نجات دلائی ۔ اس مقابلے کی نشانیاں اس پہاڑکے سنگلاخ بدن پرموجودہیں ۔یہ نشانات بھاگتے قدموں ‘خراشوں اورلڑائیوں کوظاہرکرتے ہیں ۔بزرگ نے اس دیوکوقید کرکے باغ اوراس کے مضافات میں پانی پہنچانے کاکام سونپ دیاگیااورصدیوں سے بہتے ہوئے اس چشمے سے پریوں کاباغ اوردیگرکھیت سیراب ہورہے ہیں ۔

اس باغ سے اصل زیارت گاہ لاہوت لامکاں کے راستے نکلتے ہیں ۔ پیدل زائرین کے لیے سات پہاڑوں کوعبورکرکے زیارت گاہ تک پہنچنا پڑتاہے اس راستے سے صرف سخت جان لوگ ہی گزرسکتے ہیں ۔ دوسراراستہ قدر ے آسان ہے جس پرلوہے کی سیڑھیاں موجودہیں ۔ دیکھنے میں یہ سیڑھیاں بہت کمزورلگتی ہیں لیکن کئی سومن وزن آسانی سے برداشت کرلیتی ہیں ۔ ان سیڑھیو ں سے ہزاروں زائرین بیک وقت چڑھتے اترتے ہیں ۔

سیڑھیاں پارکرنے کے بعد ایسے پتھرسے سامناہوتاہے جس کی صورت میں ایک ایسی شکل موجودہے جوکسی خونخوارجانورکی سی ہے لیکن اب پتھرکی طرح ساکن ہے ۔کہاجاتاہے کہ یہ ایک ایسی بلاتھی جوروزانہ دیگ بھرچاول ‘منوں کے حساب سے روٹیاں اورانسانوں تک کوکھاجاتی تھی۔ یہاں ایسے پتھربھی موجودہیں جن کی شکل خونخواشیرسے ملتی ہے اس بارے میں روایت مشہورہے کہ یہ اصل درندے تھے لیکن روحانیت کی طاقت سے ان کوپتھربنادیاگیا۔

یہاں آگے ایک ایسی جگہ بھی آتی ہے جوحضرت لعل شہبازقلندرسے منسوب ہے :کہاجاتاہے کہ آپ نے یہاں آگ جلاکرچلہ کشی کی تھی ۔ اس کے بعدایک غارآتاہے جس میں داخل ہوتے ہی پائوں ایک ایسے پتھر پر پڑتا جو شیرکی صورت کاہے اسے نگہبان کہاجاتاہے ۔ اس بارے میں مشہورہے کہ یہ شیران زیارت گاہوں کی حفاظت پرمامورہے ۔

اس غارمیں داخل ہونے سے قبل ایک خاص صابن سے منہ دھوناپڑتاہے ۔ یہ صابن پتھرپرپانی گرنے سے بنتا ہے اس سے منہ دھونے سے غارکااندھیراختم ہوجاتاہے اور ہر چیز روشن ہوجاتی ہے ۔ اسی غارمیں پتھرسے بنی ایک اونٹنی بھی ہے ۔اورایک پتھربھی جوفرش سے برآمد ہوکرغارکی چھت کی طرف بڑھ رہاہے ۔ یہاں ایک قدرتی چشمہ بھی طویل عرصے سے جاری ہے اس چشمے کے عین نیچے ایک قدرتی پتھرکاپیالہ موجودہے اورحیرت انگیزبات یہ ہے کہ چشمے کاپانی عین ا س پیالے کے اوپرگررہاہے۔ اس غارکے بعدایک اورغاربھی ہے جس میں بہت اندھیرا ہوتا ہے اورپھلسن بھی زیادہ ہے ۔ اس غارمیں کوئی بھی انسان سیدھے رخ داخل ہی نہیں ہوسکتا۔اسی غارکے آخری دہانے پرشاہ نورانی کی چلہ گاہ موجودہے جس کے ساتھ ایک اورچشمہ بھی جاری ہے ۔

اس سارے علاقے کی خاص بات یہ ہے کہ ہرجانب پتھرکے عجیب عجیب جانور‘پرندے پائے جاتے ہیں ۔ کہیں اژدھے کے منہ سے پانی ٹپک رہاہے توکہیں کسی اورخونخوارجانورکی آنکھوں سے پانی آرہاہے ۔ایک مقام پربھینس کے تھنوں سے مشابہہ پتھرموجودہیں جہاں سے چشمہ پھوٹ رہاہے ۔کہاجاتاہے کہ ا ن پتھروں

سے کسی زمانے میں دودھ بہتاتھاجورفتہ رفتہ پانی بن گیا۔ اس مقام پرموجودپتھروں کارنک بھی کسی حدتک سفیدی مائل ہے جودورسے دیکھنے میں سفید چونا لگتے ہیں۔اس مقا م پربھینس کے تھنوں سے گرتا پانی ، کبوتروں کے غول اورچڑیوں کی چہچہاہٹ ایک عجیب سحرخیز منظر پیش کرتی ہے ۔ اگرآپ اس مقام کی سیرکے لیے آناچاہتے ہیں تواس کے لیے ہرگزشدید سردی یابہت زیادہ گرمی کاانتخاب نہیں کیجئے گا۔ورنہ راستے میں آپ کوشدید دشواریوں کے ساتھ موسم کی سختی کابھی سامنا کرناپڑسکتا ہے ۔ جولوگ کراچی سے رات گئے لاہوت کارخت سفر باندھتے ہیں ان کے لیے صبح سورج طلوع ہونے کامنظرقابل دیدہوتاہے اورساری تھکان نکل جاتی ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر