وجود

... loading ...

وجود

بلوچستان کے ضلع خضدارکی اہم زیارت’’لاہوت لامکاں‘‘

اتوار 04 فروری 2018 بلوچستان کے ضلع خضدارکی اہم زیارت’’لاہوت لامکاں‘‘

بلوچستان کے ضلع خضدارکے علاقے وڈھ میں ایک اہم زیارت ’’لاہوت لامکاں ‘‘کہلاتی ہے اس جگہ کے بارے میں روایات ہیں کہ کائنات میں سب سے پہلے یہی مقام تخلیق کیاگیاتھااورکچھ روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کواسی جگہ اتاراگیاتھا۔ یہ وجہ ہے کہ مختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگ ہرسال یہاں دشوارگزارراستہ طے کرکے آتے ہیں ۔ اس کے نزدیک ہی ایک مشہوربزرگ شاہ بلاول نورانی کامزاربھی ہے کراچی سے حب کے راستے بلوچستان جاتے ہوئے اس سلسلے کاپہلاپڑائومحبت فقیرکے مزارپرہوتاہے ۔ اس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے غلام تھے ۔

اگلا پڑائوقدم گاہ پرہوتاہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ یہاں حضرت علی ؓ کے پائوں کے نشانات ہیں ۔ ان نشانات کوریشمی جھالروں سے سجایاگیاہے ۔یہیں پرایک پتھر ایسا بھی رکھاہے جس کے متعلق مشہورہے کہ اسے کھاٹ جبل سے لایاگیاجس پرواضح اورقدرتی طورپرکلمہ طیبہ لکھاہے ۔ کھاٹ جبل کویہ نام اس لئے ملاکہ اس پہاڑپرایک بزرگ کی چارپائی رکھی جاتی تھی۔ اسی کھاٹ یعنی چارپائی کاایک پایہ وہاں کے گدی نشین کے پاس موجودہے ۔جس کی زیارت کے لیے زائرین بڑی تعدادمیں آتے ہیں ۔ قدم گاہ کے نزدیک پہاڑی پرحضرت رحیم علی شاہ بخاری کی درگاہ ہے ۔ جس پہاڑ ی پریہ درگاہ ہے وہاں بھی قدرتی طورپرقرآنی آیانقش ہیں
شاہ بلاول نورانی کامزاریہاں سے نزدیک ہی ہے ۔ جبکہ قریب ہی ایک مسجدبھی موجودہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ اس کوکسی نے تعمیرنہیں کیایہ خودہی وجود میں آئی یہاں ایک دلفریب پتھربھی نظرآتاہے ۔اس قدم گاہ کے نزدیک کا پھلوں کا باغ بھی موجودہے ۔ اس باغ میں کھجور‘املی اوردوسرے جنگلی درختوں کے ساتھ آم کے درخت نظرآتے ہیں جن میں جابہ جالفظ اللہ واضح لکھا نظرآتاہے ۔ یہاں کے بارے میں روایت ہے کہ یہاں ایک ظالم دیوگوگل کی حکومت تھی اورلوگ اس سے تنگ تھے ۔ لوگوں نے اللہ تعالی سے دعاکی توایک نورانی صورت بزرگ تشریف لائے جنھوں نے اس دیوکوشکست دے کرلوگوں کواس کے ظلم سے نجات دلائی ۔ اس مقابلے کی نشانیاں اس پہاڑکے سنگلاخ بدن پرموجودہیں ۔یہ نشانات بھاگتے قدموں ‘خراشوں اورلڑائیوں کوظاہرکرتے ہیں ۔بزرگ نے اس دیوکوقید کرکے باغ اوراس کے مضافات میں پانی پہنچانے کاکام سونپ دیاگیااورصدیوں سے بہتے ہوئے اس چشمے سے پریوں کاباغ اوردیگرکھیت سیراب ہورہے ہیں ۔

اس باغ سے اصل زیارت گاہ لاہوت لامکاں کے راستے نکلتے ہیں ۔ پیدل زائرین کے لیے سات پہاڑوں کوعبورکرکے زیارت گاہ تک پہنچنا پڑتاہے اس راستے سے صرف سخت جان لوگ ہی گزرسکتے ہیں ۔ دوسراراستہ قدر ے آسان ہے جس پرلوہے کی سیڑھیاں موجودہیں ۔ دیکھنے میں یہ سیڑھیاں بہت کمزورلگتی ہیں لیکن کئی سومن وزن آسانی سے برداشت کرلیتی ہیں ۔ ان سیڑھیو ں سے ہزاروں زائرین بیک وقت چڑھتے اترتے ہیں ۔

سیڑھیاں پارکرنے کے بعد ایسے پتھرسے سامناہوتاہے جس کی صورت میں ایک ایسی شکل موجودہے جوکسی خونخوارجانورکی سی ہے لیکن اب پتھرکی طرح ساکن ہے ۔کہاجاتاہے کہ یہ ایک ایسی بلاتھی جوروزانہ دیگ بھرچاول ‘منوں کے حساب سے روٹیاں اورانسانوں تک کوکھاجاتی تھی۔ یہاں ایسے پتھربھی موجودہیں جن کی شکل خونخواشیرسے ملتی ہے اس بارے میں روایت مشہورہے کہ یہ اصل درندے تھے لیکن روحانیت کی طاقت سے ان کوپتھربنادیاگیا۔

یہاں آگے ایک ایسی جگہ بھی آتی ہے جوحضرت لعل شہبازقلندرسے منسوب ہے :کہاجاتاہے کہ آپ نے یہاں آگ جلاکرچلہ کشی کی تھی ۔ اس کے بعدایک غارآتاہے جس میں داخل ہوتے ہی پائوں ایک ایسے پتھر پر پڑتا جو شیرکی صورت کاہے اسے نگہبان کہاجاتاہے ۔ اس بارے میں مشہورہے کہ یہ شیران زیارت گاہوں کی حفاظت پرمامورہے ۔

اس غارمیں داخل ہونے سے قبل ایک خاص صابن سے منہ دھوناپڑتاہے ۔ یہ صابن پتھرپرپانی گرنے سے بنتا ہے اس سے منہ دھونے سے غارکااندھیراختم ہوجاتاہے اور ہر چیز روشن ہوجاتی ہے ۔ اسی غارمیں پتھرسے بنی ایک اونٹنی بھی ہے ۔اورایک پتھربھی جوفرش سے برآمد ہوکرغارکی چھت کی طرف بڑھ رہاہے ۔ یہاں ایک قدرتی چشمہ بھی طویل عرصے سے جاری ہے اس چشمے کے عین نیچے ایک قدرتی پتھرکاپیالہ موجودہے اورحیرت انگیزبات یہ ہے کہ چشمے کاپانی عین ا س پیالے کے اوپرگررہاہے۔ اس غارکے بعدایک اورغاربھی ہے جس میں بہت اندھیرا ہوتا ہے اورپھلسن بھی زیادہ ہے ۔ اس غارمیں کوئی بھی انسان سیدھے رخ داخل ہی نہیں ہوسکتا۔اسی غارکے آخری دہانے پرشاہ نورانی کی چلہ گاہ موجودہے جس کے ساتھ ایک اورچشمہ بھی جاری ہے ۔

اس سارے علاقے کی خاص بات یہ ہے کہ ہرجانب پتھرکے عجیب عجیب جانور‘پرندے پائے جاتے ہیں ۔ کہیں اژدھے کے منہ سے پانی ٹپک رہاہے توکہیں کسی اورخونخوارجانورکی آنکھوں سے پانی آرہاہے ۔ایک مقام پربھینس کے تھنوں سے مشابہہ پتھرموجودہیں جہاں سے چشمہ پھوٹ رہاہے ۔کہاجاتاہے کہ ا ن پتھروں

سے کسی زمانے میں دودھ بہتاتھاجورفتہ رفتہ پانی بن گیا۔ اس مقام پرموجودپتھروں کارنک بھی کسی حدتک سفیدی مائل ہے جودورسے دیکھنے میں سفید چونا لگتے ہیں۔اس مقا م پربھینس کے تھنوں سے گرتا پانی ، کبوتروں کے غول اورچڑیوں کی چہچہاہٹ ایک عجیب سحرخیز منظر پیش کرتی ہے ۔ اگرآپ اس مقام کی سیرکے لیے آناچاہتے ہیں تواس کے لیے ہرگزشدید سردی یابہت زیادہ گرمی کاانتخاب نہیں کیجئے گا۔ورنہ راستے میں آپ کوشدید دشواریوں کے ساتھ موسم کی سختی کابھی سامنا کرناپڑسکتا ہے ۔ جولوگ کراچی سے رات گئے لاہوت کارخت سفر باندھتے ہیں ان کے لیے صبح سورج طلوع ہونے کامنظرقابل دیدہوتاہے اورساری تھکان نکل جاتی ہے۔


متعلقہ خبریں


وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

مضامین
ہم خود قیامت تھے وجود بدھ 25 فروری 2026
ہم خود قیامت تھے

نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم وجود بدھ 25 فروری 2026
نکھل گپتا کا اعتراف ِ جرم : ایک بھیانک خوابِ غم

طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر