وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بسیط فکری کینوس کی شاعرہ

اتوار 04 فروری 2018 بسیط فکری کینوس کی شاعرہ

شعری معیارات کی مقتضیات میں تلون و تنوع کے خصائص کے پہلو بہ پہلو عصری رجحانات و میلانا ت اور دیگر فکری و فنی تلازمات شامل ہیں تاکہ یکسانیت کی مہیب صورتِ حال سے گریز کا التزام کیا جاسکے جن شاعر اور شاعرات کی قوتِ متخیلہ زر خیز نوعیت کی حامل ہوتی ہے جن کے ہاں کہنے کے لیے جذبات و احساسات کی پونجی وافر ہوتی ہے ان کے افکارو تخیلات کا اعادہ معدوم ہوتا ہے آج ہم حمیدہ کششؔ کی سخن سنجی کے حوالے سے رقمطراز ہیں جن کی کتاب بعنوان ’’سحرِ عشق‘‘ ہمارے پیشِ نظر ہے جن میں ان کی پچاس غزلیات جو بحر ہزج مشمن سالم میں ہیں جس کا وزن مفاعلین مفاعلین مفاعلین مفاعلین ہے شامل ہیں ایک ہی بحر میںا تنا شعری سرمایہ بہم پہنچانا بھی ان کی فنی پختگی کا غماز ہے اکثر و بیشتر شاعرات عروضی ادراکات سے بے بہرہ ہوتی ہیں اور فطری طور پر عروضی محاسن کا اہتمام ملتا ہے یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ حمیدہ کششؔ فنی معاملات کا شعور رکھتی ہیں ۔
حمیدہ کششؔ دنیائے شعرو ادب میں سبک رفتاری سے پیش رفت کررہی ہیں جو لائقِ اعتنا ہے 2014ء میں ہی ان کا افسانوی مجموعہ’’سحر انگیز افسانے‘‘منصہ شہود پر آیا جسے علمی و ادبی حلقوں نے بے حد سراہا اور اب ’’سحرِ عشق‘‘ کے نام سے مجموعہ شعر منظرِ عام پر ہے اس سے ان کے ادبی جنون کی غمازی ہوتی ہے ان کی تخلیقی فعالیت انہیں کشاں کشاں سوئے منزل لئے جارہی ہے ان کی کتاب مذکور میں سے چند شعری استشہادات برائے استخراجات شاملِ شذرہ ہیں ۔

ان کے کلام میں زیست اپنے حقیقی رنگ میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے جس میں تلخیٔ حالات کی واژ گونی و سنگینی واضح طور پر مشاہدہ کی جاسکتی ہے ان کا سخن ان کے تلخ و ترش تجربات و مشاہدات کا حاصل ہے ؎
یہ کیسی بے حسی چھا گئی ہے شہرِ دل کی بستی میں
کوئی ناحق بھی مرجائے تو اب ماتم نہیں ہوتا
کششؔ کے کلام میں حقیقت پسندی کے شواہد بھر پور انداز میں ملتے ہیں اورہ عصری و سماجی بے حسی کو ہدفِ تنقید بناتی ہوئی نظر آتی ہیں ان کا داخلی اظہار بھی خارجیت سے ہم آہنگ نظر آتا ہے داخلیت و خارجیت کا یہ حسیں سنگم ان کی فکری جاذبیت کو فزوں تر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے عصری روئیوں کا مشاہدہ مطالعہ ان کے ہاں عمق کے ساتھ پایا جاتا ہے ؎
کٹی ہے کس طرح مظلوم کی گردن سرِ مقتل
مگر افسوس ہے کہ کون اس پر بات کرتا ہے؟
کشش کے شعری کینوس سے خلوص و ایثار اور ہمدردی و مروت کے آفاقی مظاہر ضوپاشیاں کرتے نظر آتے ہیں یوں ان کا سخن انسان دوستی کے آدرش کا معتبر حوالہ ہے ؎
جہاں انسانیت گھٹ گھٹ کے مر جائے خدا شاہد
وہاں ہر قدرِ انسانی بھی اپنی قدر کھوئی ہے

وہ شعر گفتن برائے شعر خوب است کی قائل نہیں وہ ادب برائے زندگی کے نظریے پر یقین رکھتی ہیں وہ خیال دنیا میں نہیں بلکہ عالمِ حقیقی میں سانس لیتی ہیں اور اس کے مصائب و آلام کا ادراک بھی رکھتی ہیں سماجی اقدار کی پامالی پر ان کا دل کڑھتا ہے اس لئے قاری کو دشواریوں اور کٹھنائیوں کے پیشگی شعور سے آشنا کرتی ہیں جذبۂ انسانیت کی تبلیغ کا درسِ بلیغ ان کے سخن میں کار فرما ہے اگرچہ ان کے ذہنی کینوس پر حزن والم کی فضا چھائی ہوئی ہے مگر رجا کی کرنیں بھی روشن ہیں ؎
پہنچ ہی جاؤں گی ہر اک رکاوٹ کو گرا کر میں
مری نظروں میں منزل ہے تو رستے دیکھے بھالے ہیں

بسا اوقات ان کے جذبوں کی جولانی اور خیالات کی روانی دیدنی ہوتی ہے وہ عزمِ صمیم کی مالک ہیں کسی نوع کا جوکھم ان کے لئے سنگِ راہ ثابت نہیں ہوتا ایک بھر پور شکتی ہے جو ان کی بھاشا کے شبدوں سے مترشح ہورہی ہے وہ جوش وولولہ کی پر چارک ہیں اس لئے ان کی رجائیت بھی لائقِ تحسین ہے جو آموزشِ حیات کے وسیع تر پہلو رکھتی ہے اس لئے اسلامی احساسات کا عکسِ جمیل بھی ان کے فحوائے سخن کا حصہ ہے یوں وہ شعر کی زبان میں حقوق العباد کی تعلیم دیتی ہے ؎
اسی پر تنگ ہوتی جارہی ہے نعمتِ دنیا
وہ جس نے کعبۂ دل سے خداؤں کو نکالا ہے

حمیدہ کشش کا کلام انسان دوستی کا ایک درسِ زریں ہے جس میں محبتوں کے فروغ کی ایک عمیق داستاں مضمر ہے اور لائقِ طمانیت امر یہ بھی ہے کہ یہ محبتیں بھی آفاقی اور اجتماعی نوعیت کی ہیں جو ہر طرح کی مذہبی و لسانی، سماجی و جغرافیائی اور رنگ و نسل کی قید سے مبر او ماورا ہیں وہ محاسن کی حوصلہ افزائی اور معائب کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں جو ان کے حقیقی تخلیق کار ہونے کی علامت ہے ان کی شاعری خودمیں بیشتر اصلاحی و تعمیری پہلو سموئے ہوئے ہے ان کے نزدیک شاعری ایک مشن، ایک تبلیغ اور بہت سی افادی کا وشوں سے مربوط ہے لیکن کبھی کبھی وہ عصری حالات و واقعات سے خائف نظر آتی ہیں ؎
خدا محفوظ رکھے ہربلا سے میں نے خوابوں میں
خزاں آلود ہے دیکھا ابھی فصل بہاراں کو

وہ عصری مصائب و آلام کا مشاہدہ و مطالعہ کرنے کے بعد ابنائے آدم کو بارگاہِ ریزدی کی طرف مراجعت کی التجا کرتی ہیں اور اپنے محبوب حقیقی سے مطمئن دکھائی دیتی ہیں اور اچھائی کے معاملہ کی توقع رکھتی ہیں اس لئے ان کا پیرائیہ اظہار استدعائی نوعیت کا ہو جاتا ہے ؎
خدا ئے لم یزل سے رات کے پچھلے پہر اٹھ کر
جو مانگو گے دعا دل سے یقیناً با اثر ہوگی

ان کے ہاں بہت سے روحانی پہلو بھی آشکار ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جس سے اسلامی نظریات کی پختگی تیقن امیز صورت اختیار کر جاتی ہے وہ میکانی طرزِ حیات سے شاکی و نالاں ہیں اس لئے تصوف، عشقِ حقیقی اور دیگر اسلامی تصورات بھی ان کے ہاں وفو ر سے پائے جاتے ہیں وہ عہد موجود کے معاملات سے بھی گریزاں نظر نہیں آتی ہیں عصری آشوب گی بازگشت بھی ان کے سخن میں نمایاں طور پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے ؎
چلا تو ہے تلاشِ رزق میں گھر سے سویرے سے
مگر ڈر ہے نہ وہ ہستی گنوا بیٹھے کہیں اپنی
یہ مقتل ہے یہاں سے کون زندہ لوٹ آیا ہے
کمائی عمر بھر کی لٹنے والی ہے یہیں اپنی

کششؔ کا کلام روحِ عصر کی بھر پور مرصع کاری سے عبارت جسے خیالات و افکار کی مینا کاری سے نسبت ہے جس میں عصری آشوب زدگیوں کا مذکور بھی ہے اور حزن والم کا ظہور بھی ہے مگر وہ جز کی کل کی طرف مراجعت کو نا گزیر خیال کرتی ہیں وہ ایک عابدو زاہد اور ایک عالمِ دین کی طرح بندوں کو خدا سے جوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اس لئے ان کا پیرائیہ اظہار پر تاثیر بھی ہے اور روح پرور بھی ہے ؎
خدا ناراض ہے اس دور کے ابنائے آدم سے
کہ انسانوں کو توفیقِ عبادت ہی نہیں ملتی
زمانے کی ادا نے بچپنے کو کردیا بوڑھا
یہاں بچوں کی کوئی بھی شکایت ہی نہیں ملتی

جہاں ان کے ہاں انسانی کج ادائی اور بد اعمالی کے حوالے ملتے ہیں وہاں اس کی گمراہی اور بے راہروں کے شواہد بھی چتاؤنی کے عالم میں کار فرما نظر آتے ہیں حیات انسانی کی تلخ سنجیدگی کا عکس بلیغ بھی جلوہ ریزیاں کرتا دکھائی دیتا ہے جس میں زندہ دلی کے تمام مظاہر مفقود نظر آتے ہیںا ور زیست کی فضا ہر نوع کی رونق و رعنائی سے محروم نظر آتی ہے مجازی حوالے سے بھی پوتر احساسات ضوپاشیاں کررہے ہیں ؎
کیا ہے خلق تجھ کو اس طرح سے دست قدرت نے
جو تیری دید کو آئے وہ ہو کر باوضو آئے

محبوب کے حوالے سے ان کا تصور مطہر و مقدس نوعیت کا ہے جس میں معرفت و مجاز کے جذبے ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں اور محبوب کو مشیت کی صناعی کا شاہکار گردانتی ہیں یوں وہ رب العزت کی ثنائی کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں ان کے خیالات خیر خواہی پر مبنی ہیں وہ دنیا کو مکافاتِ عمل سمجھتی ہیں اور جذبۂ خیر کا پرچار کرتی ہیں ؎
مکافاتِ عمل سے کون ہے محفوظ دنیا میں
برائی کرنے والوں کا برا انجام ہوتا ہے
یہی اسلاف سے سنتے ہوئے آئے ہیں اب تک ہم
یقیں جس کو نہیں خود پر وہی ناکام ہوتا ہے

کششؔ کی فکر کا نکتۂ کمال یہ ہے کہ ان کی فکر بیک وقت مذہبی بھی ہے اور کلاسیکی بھی ہے یعنی مذہب کی حاشیہ آرائی میں ان کے ہاں روایت کی حسین پاسداری پائی جاتی ہے جس میں کہیں کہیں پندو موعظت کا رنگ بھی چھلکتا ہوا محسوسی ہوتا ہے جس میں حقیقت نگاری کے خدو خال نمایاں صورت میں مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں ؎
ازل سے میری فطرت میں ہے حق گوئی خدا شاہد
خس و خاشاک کو سیکھا نہ میں نے گلستاں کہنا

دیگر فکری خصائص کے ساتھ ساتھ ان کے ذہنی کینوس میں تنقیدی رویے بھی اپنی بہار دکھاتے نظر آتے ہیں جو ان کی خرد نوازی کی عمدہ تمثیل ہے اور ان کے وجدانی جو ہر کا اظہار بھی ہے جو عصرِ حاضر کی شاعرات میں شاذہی نظر آتا ہے ؎
اس کے علاوہ حمیدہ کشش نے ایک ہی بحر میں دو طویل غزلیں کہی ہیں جو تقریباً 300، 300 اشعار پر مشتمل ہیں جنہیں ہم سہیل ممتنع کی عمدہ مثال بھی کہہ سکتے ہیں۔ پاکستان میں اس قسم کی ایک ہی بحر میں طویل غزلیں لکھنے والے فقط دو چار ہی شاعر ہیں۔ مگر شاعرات میں یہ کام پہلی بار حمیدہ کشش نے کیا ہے ۔ حمیدہ کشش اُردو ادب میں کچھ نیا کرنے کی لگن لے کر آئیں ہیں۔ کشش کا موضوعاتی کینوس کثیر الجہات اور وسیع الموضوعات ہے۔ وہ ایک متنوع شعری مزاج کی مالک ہیں جس میں خیالات کی یکسانیت اور ان کا تکراری پہلو معدوم ہے۔ ان کی فکری وسعت کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ان کے بہتر شعری مستقبل کی نوید دینا قرینِ حقیقت ہے مگر انہیں ریاضت کے طویل اور جاں گداز عمل سے گزرنا ہوگا ۔
حال ہی میں محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے حمیدہ کشش کو ایوارڈ سے نوازا ہے۔ ہم اُنھیں مبارک باد پیش کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیراعظم عمران خان کی سابق اور پہلی اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ان کے سابق شوہر کو سیاسی طور پر نشانا بنانے کے لیے 'آلے' کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ برطانوی اخبار 'ایوننگ اسٹینڈر' کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں 47 سالہ برطانوی نژاد جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ خود سے دگنی عمر کے شخص سے شادی کرنے کا فیصلہ آسان نہ تھا اور جن سے انہوں نے شادی کی وہ کوئی عام شخص نہیں تھے۔ جمائما گولڈ اسمتھ کے مطابق انہوں نے 21 سال کی عمر میں خود سے دُگنی عمر کے ایسے شخص سے ...

عمران خان کو نشانا بنانے کے لیے مجھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جمائما

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چاقو کے حملے میں ہلاک وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیراعظم بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چرچ میں چاقو سے کیے گئے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایسکس پولیس نے بتایا کہ اپنے انتخابی حلقے میں ووٹرز سے ملاقات کرنے والے برطانوی 69سالہ رکن پارلیمنٹ کو ایک شخص نے چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ان پر ایکسکس کے مغربی علاقے میں واقع بیلفیئرز میتھوڈسٹ چرچ میں حملہ کیا گیا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔پولیس نے فوری طور پر چرچ میں آ کر ایک شخص ...

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ امیس چاقو کے حملے میں ہلاک

افغانستان، مسجد میں بم دھماکا، 37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں جمعے کے روز ایک شیعہ مسجد میں ہوئے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے جبکہ ستر سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بم دھماکا ٹھیک اس وقت ہوا جب مسجد میں نماز جمعہ ادا کی جا رہی تھی۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس بم دھماکے کا ہدف صوبے کی سب سے بڑی شیعہ مسجد بنی۔ طبی ذرائع کے مطابق اس دھماکے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان UNAMA نے امام باڑہ فاطمیہ مسجد پر ہوئے اس بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ...

افغانستان، مسجد میں بم دھماکا،  37فراد جاں بحق، 70سے زائد زخمی

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اگلے جمعہ تک سب ٹھیک ہوجائے گا، معاملات طے ہوچکے ہیں، طریقہ کار کا اعلان 7 دن میں ہوجائے گا۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران شیخ رشید نے حکومت اور فوج میں کسی بھی نوعیت کے اختلاف کی تردید کی۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے، لیکن اس کے باوجود بعض باتوں کا جواب وزیراعظم عمران خان ہی دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ بہت جلدی گھبرا جاتے ہیں، اس معاملے پر عمران خان نے پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لے لیا ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ میرے پاس ج...

بعض باتوں کا جواب عمران خان ہی دے سکتے ہیں ، وزیر داخلہ

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ، نیپرا ذرائع وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

نیشنل الیکٹرک پاؤر ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ذرائع نیپرا کے مطابق پی ٹی آئی حکومت آنے سے پہلے بجلی کی اوسط قیمت11 روپے 72 پیسے فی یونٹ تھی، پی ٹی آئی حکومت کے دوران فی یونٹ بجلی کی قیمت میں اوسطا 6 روپے11 پیسے اضافہ ہوا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نیپرا کا کہنا ہے کہ حالیہ 1روپیہ 39 پیسے اضافے سے فی یونٹ اوسط قیمت 17 روپے 83 پیسے ہو جائے گی، اوسط قیمت فی یونٹ میں بنیادی ٹیرف اور سہ ماہی ٹیر...

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کی اوسط قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا ، نیپرا ذرائع

ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ بدستور جاری ہے، مہنگائی کی مجموعی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار مہنگائی کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں مہنگائی میں 0.20 فیصد کا اضافہ ہوگیا اور مہنگائی کی مجموعی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی۔ادارہ شماریات کے مطابق کم آمدنی والوں کے لیے مہنگائی کی شرح 14.12 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ ایک ہفتے میں 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 11 روپے تک ...

ملک میں مہنگائی کی شرح 12.66 فیصد تک پہنچ گئی

برطانیہ بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت بن گیا وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

برطانیہ بینک فراڈ کا گڑھ بن گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے برطانیہ کو بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت قرار دے دیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں لوگوں کے ایک ارب ڈالر اڑا لیے گئے۔ بیرون ملک سے دھوکے بازی میں بھارت اور مغربی افریقہ کے شہری ملوث نکلے۔خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانوی ریکارڈ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 754 ملین پونڈز چرائے گئے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہیں۔

برطانیہ بینک فراڈ کی دنیا کا دارالحکومت بن گیا

کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - هفته 16 اکتوبر 2021

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے کہاہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او نے صحت، کھیل، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے فیصلہ سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر جامع پروگرام اور خدمات کے لیے اقدامات اٹھائیں اور محفوظ ماحول پیدا کریں جس سے تمام برادریوں میں جسمانی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ ڈبلیو ایچ او کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سوزانہ جیکب کا اپنے بیان میں کہنا تھا...

کورونا سے صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں، ڈبلیو ایچ او

حیدرآباد، مختار کار کے گھر لاش ملنے پر ہنگامہ آرائی وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کے علاقے قاسم آباد میں حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مختارِ کار ماجد خاصخیلی کے گھر سے ایک لاش ملنے کے بعد ہنگامہ آرائی کی نوبت آگئی ہے۔ ڈی آئی جی شرجیل کھرل کے مطابق مشتعل افراد نے مختارِ کار ماجد خاصخیلی کے گھر کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسی دوران فائرنگ بھی کی گئی ۔فائرنگ کے نتیجے میں مختارِ کار ماجد خاصخیلی اور ان کے 2 بھائی زخمی ہو گئے۔کمشنرعباس بلوچ کے مطابق مختارِ کار ماجد خاصخیلی کی حالت تشویش ناک ہے۔ ...

حیدرآباد، مختار کار کے گھر لاش ملنے پر ہنگامہ آرائی

گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

یوٹیلیٹی اسٹورز نے گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف برانڈز کے گھی کی قیمتوں میں 40 سے 1090 روپے تک کا اضافہ کیا گیا، یوٹیلیٹی اسٹورز پر ڈالڈ گھی کی فی کلو قیمت میں 109 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ،قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا اطلاق فوری ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز پر ڈالڈا گھی کا 10 لٹر کین 1090 روپے مہنگا ہوگیا ،10 لٹر ڈالڈا گھی کا کین 2500 روپے بڑھ کر 3590 روپے کا ہوگیا۔ نوٹیفکیشن ...

گھی اور آئل سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ

بجلی کی قیمت میں 1.68 پیسے فی یونٹ اضافہ کی منظوری وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

حکومت نے بجلی کی قیمت میں مزید 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ منظوری دیدی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے عوام پر ایک بار پھر بجلی بم گرا دیا، اور بجلی کی قیمتوں میں 1 روپے 68 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی ۔ وفاقی کابینہ نے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت توانائی کی جانب سے بھجوائی گئی تھی۔بجلی کی قیمت میں اضافہ سہہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا، کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی ، نیپرا نے سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ...

بجلی کی قیمت میں  1.68 پیسے فی یونٹ اضافہ کی منظوری

نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار شائع وجود - جمعه 15 اکتوبر 2021

کراچی میں نسلہ ٹاور کے رہائشیوں سے عمارت خالی کروانے کے اشتہار اخبارات میں شائع کردیے گئے ہیں۔کراچی میں اسسٹنٹ کمشنر فیروزآباد نے نسلہ ٹاور کے رہائشیوں کو عمارت 15 دن میں خالی کرنے کے اشتہار اخبارات میں شائع کرادئیے ہیں۔ نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اگر نسلہ ٹاور خالی نہ کیا گیا تو رہائشیوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ اشتہار میں سپریم کورٹ کے 16 جون اور 22 ستمبر والے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمارت خالی نہ کرنے کی صورت میں فیروزآباد پولیس کی مدد لی جا...

نسلہ ٹاور خالی کروانے کا اشتہار شائع

مضامین
روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

آسام میں پولیس کی درندگی وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
آسام میں پولیس کی درندگی

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟ وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟

میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!! وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!!

امریکا کی آخری جنگ کی خواہش وجود منگل 12 اکتوبر 2021
امریکا کی آخری جنگ کی خواہش

مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی

کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی

آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا