وجود

... loading ...

وجود

بسیط فکری کینوس کی شاعرہ

اتوار 04 فروری 2018 بسیط فکری کینوس کی شاعرہ

شعری معیارات کی مقتضیات میں تلون و تنوع کے خصائص کے پہلو بہ پہلو عصری رجحانات و میلانا ت اور دیگر فکری و فنی تلازمات شامل ہیں تاکہ یکسانیت کی مہیب صورتِ حال سے گریز کا التزام کیا جاسکے جن شاعر اور شاعرات کی قوتِ متخیلہ زر خیز نوعیت کی حامل ہوتی ہے جن کے ہاں کہنے کے لیے جذبات و احساسات کی پونجی وافر ہوتی ہے ان کے افکارو تخیلات کا اعادہ معدوم ہوتا ہے آج ہم حمیدہ کششؔ کی سخن سنجی کے حوالے سے رقمطراز ہیں جن کی کتاب بعنوان ’’سحرِ عشق‘‘ ہمارے پیشِ نظر ہے جن میں ان کی پچاس غزلیات جو بحر ہزج مشمن سالم میں ہیں جس کا وزن مفاعلین مفاعلین مفاعلین مفاعلین ہے شامل ہیں ایک ہی بحر میںا تنا شعری سرمایہ بہم پہنچانا بھی ان کی فنی پختگی کا غماز ہے اکثر و بیشتر شاعرات عروضی ادراکات سے بے بہرہ ہوتی ہیں اور فطری طور پر عروضی محاسن کا اہتمام ملتا ہے یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ حمیدہ کششؔ فنی معاملات کا شعور رکھتی ہیں ۔
حمیدہ کششؔ دنیائے شعرو ادب میں سبک رفتاری سے پیش رفت کررہی ہیں جو لائقِ اعتنا ہے 2014ء میں ہی ان کا افسانوی مجموعہ’’سحر انگیز افسانے‘‘منصہ شہود پر آیا جسے علمی و ادبی حلقوں نے بے حد سراہا اور اب ’’سحرِ عشق‘‘ کے نام سے مجموعہ شعر منظرِ عام پر ہے اس سے ان کے ادبی جنون کی غمازی ہوتی ہے ان کی تخلیقی فعالیت انہیں کشاں کشاں سوئے منزل لئے جارہی ہے ان کی کتاب مذکور میں سے چند شعری استشہادات برائے استخراجات شاملِ شذرہ ہیں ۔

ان کے کلام میں زیست اپنے حقیقی رنگ میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے جس میں تلخیٔ حالات کی واژ گونی و سنگینی واضح طور پر مشاہدہ کی جاسکتی ہے ان کا سخن ان کے تلخ و ترش تجربات و مشاہدات کا حاصل ہے ؎
یہ کیسی بے حسی چھا گئی ہے شہرِ دل کی بستی میں
کوئی ناحق بھی مرجائے تو اب ماتم نہیں ہوتا
کششؔ کے کلام میں حقیقت پسندی کے شواہد بھر پور انداز میں ملتے ہیں اورہ عصری و سماجی بے حسی کو ہدفِ تنقید بناتی ہوئی نظر آتی ہیں ان کا داخلی اظہار بھی خارجیت سے ہم آہنگ نظر آتا ہے داخلیت و خارجیت کا یہ حسیں سنگم ان کی فکری جاذبیت کو فزوں تر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے عصری روئیوں کا مشاہدہ مطالعہ ان کے ہاں عمق کے ساتھ پایا جاتا ہے ؎
کٹی ہے کس طرح مظلوم کی گردن سرِ مقتل
مگر افسوس ہے کہ کون اس پر بات کرتا ہے؟
کشش کے شعری کینوس سے خلوص و ایثار اور ہمدردی و مروت کے آفاقی مظاہر ضوپاشیاں کرتے نظر آتے ہیں یوں ان کا سخن انسان دوستی کے آدرش کا معتبر حوالہ ہے ؎
جہاں انسانیت گھٹ گھٹ کے مر جائے خدا شاہد
وہاں ہر قدرِ انسانی بھی اپنی قدر کھوئی ہے

وہ شعر گفتن برائے شعر خوب است کی قائل نہیں وہ ادب برائے زندگی کے نظریے پر یقین رکھتی ہیں وہ خیال دنیا میں نہیں بلکہ عالمِ حقیقی میں سانس لیتی ہیں اور اس کے مصائب و آلام کا ادراک بھی رکھتی ہیں سماجی اقدار کی پامالی پر ان کا دل کڑھتا ہے اس لئے قاری کو دشواریوں اور کٹھنائیوں کے پیشگی شعور سے آشنا کرتی ہیں جذبۂ انسانیت کی تبلیغ کا درسِ بلیغ ان کے سخن میں کار فرما ہے اگرچہ ان کے ذہنی کینوس پر حزن والم کی فضا چھائی ہوئی ہے مگر رجا کی کرنیں بھی روشن ہیں ؎
پہنچ ہی جاؤں گی ہر اک رکاوٹ کو گرا کر میں
مری نظروں میں منزل ہے تو رستے دیکھے بھالے ہیں

بسا اوقات ان کے جذبوں کی جولانی اور خیالات کی روانی دیدنی ہوتی ہے وہ عزمِ صمیم کی مالک ہیں کسی نوع کا جوکھم ان کے لئے سنگِ راہ ثابت نہیں ہوتا ایک بھر پور شکتی ہے جو ان کی بھاشا کے شبدوں سے مترشح ہورہی ہے وہ جوش وولولہ کی پر چارک ہیں اس لئے ان کی رجائیت بھی لائقِ تحسین ہے جو آموزشِ حیات کے وسیع تر پہلو رکھتی ہے اس لئے اسلامی احساسات کا عکسِ جمیل بھی ان کے فحوائے سخن کا حصہ ہے یوں وہ شعر کی زبان میں حقوق العباد کی تعلیم دیتی ہے ؎
اسی پر تنگ ہوتی جارہی ہے نعمتِ دنیا
وہ جس نے کعبۂ دل سے خداؤں کو نکالا ہے

حمیدہ کشش کا کلام انسان دوستی کا ایک درسِ زریں ہے جس میں محبتوں کے فروغ کی ایک عمیق داستاں مضمر ہے اور لائقِ طمانیت امر یہ بھی ہے کہ یہ محبتیں بھی آفاقی اور اجتماعی نوعیت کی ہیں جو ہر طرح کی مذہبی و لسانی، سماجی و جغرافیائی اور رنگ و نسل کی قید سے مبر او ماورا ہیں وہ محاسن کی حوصلہ افزائی اور معائب کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں جو ان کے حقیقی تخلیق کار ہونے کی علامت ہے ان کی شاعری خودمیں بیشتر اصلاحی و تعمیری پہلو سموئے ہوئے ہے ان کے نزدیک شاعری ایک مشن، ایک تبلیغ اور بہت سی افادی کا وشوں سے مربوط ہے لیکن کبھی کبھی وہ عصری حالات و واقعات سے خائف نظر آتی ہیں ؎
خدا محفوظ رکھے ہربلا سے میں نے خوابوں میں
خزاں آلود ہے دیکھا ابھی فصل بہاراں کو

وہ عصری مصائب و آلام کا مشاہدہ و مطالعہ کرنے کے بعد ابنائے آدم کو بارگاہِ ریزدی کی طرف مراجعت کی التجا کرتی ہیں اور اپنے محبوب حقیقی سے مطمئن دکھائی دیتی ہیں اور اچھائی کے معاملہ کی توقع رکھتی ہیں اس لئے ان کا پیرائیہ اظہار استدعائی نوعیت کا ہو جاتا ہے ؎
خدا ئے لم یزل سے رات کے پچھلے پہر اٹھ کر
جو مانگو گے دعا دل سے یقیناً با اثر ہوگی

ان کے ہاں بہت سے روحانی پہلو بھی آشکار ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جس سے اسلامی نظریات کی پختگی تیقن امیز صورت اختیار کر جاتی ہے وہ میکانی طرزِ حیات سے شاکی و نالاں ہیں اس لئے تصوف، عشقِ حقیقی اور دیگر اسلامی تصورات بھی ان کے ہاں وفو ر سے پائے جاتے ہیں وہ عہد موجود کے معاملات سے بھی گریزاں نظر نہیں آتی ہیں عصری آشوب گی بازگشت بھی ان کے سخن میں نمایاں طور پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے ؎
چلا تو ہے تلاشِ رزق میں گھر سے سویرے سے
مگر ڈر ہے نہ وہ ہستی گنوا بیٹھے کہیں اپنی
یہ مقتل ہے یہاں سے کون زندہ لوٹ آیا ہے
کمائی عمر بھر کی لٹنے والی ہے یہیں اپنی

کششؔ کا کلام روحِ عصر کی بھر پور مرصع کاری سے عبارت جسے خیالات و افکار کی مینا کاری سے نسبت ہے جس میں عصری آشوب زدگیوں کا مذکور بھی ہے اور حزن والم کا ظہور بھی ہے مگر وہ جز کی کل کی طرف مراجعت کو نا گزیر خیال کرتی ہیں وہ ایک عابدو زاہد اور ایک عالمِ دین کی طرح بندوں کو خدا سے جوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اس لئے ان کا پیرائیہ اظہار پر تاثیر بھی ہے اور روح پرور بھی ہے ؎
خدا ناراض ہے اس دور کے ابنائے آدم سے
کہ انسانوں کو توفیقِ عبادت ہی نہیں ملتی
زمانے کی ادا نے بچپنے کو کردیا بوڑھا
یہاں بچوں کی کوئی بھی شکایت ہی نہیں ملتی

جہاں ان کے ہاں انسانی کج ادائی اور بد اعمالی کے حوالے ملتے ہیں وہاں اس کی گمراہی اور بے راہروں کے شواہد بھی چتاؤنی کے عالم میں کار فرما نظر آتے ہیں حیات انسانی کی تلخ سنجیدگی کا عکس بلیغ بھی جلوہ ریزیاں کرتا دکھائی دیتا ہے جس میں زندہ دلی کے تمام مظاہر مفقود نظر آتے ہیںا ور زیست کی فضا ہر نوع کی رونق و رعنائی سے محروم نظر آتی ہے مجازی حوالے سے بھی پوتر احساسات ضوپاشیاں کررہے ہیں ؎
کیا ہے خلق تجھ کو اس طرح سے دست قدرت نے
جو تیری دید کو آئے وہ ہو کر باوضو آئے

محبوب کے حوالے سے ان کا تصور مطہر و مقدس نوعیت کا ہے جس میں معرفت و مجاز کے جذبے ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں اور محبوب کو مشیت کی صناعی کا شاہکار گردانتی ہیں یوں وہ رب العزت کی ثنائی کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں ان کے خیالات خیر خواہی پر مبنی ہیں وہ دنیا کو مکافاتِ عمل سمجھتی ہیں اور جذبۂ خیر کا پرچار کرتی ہیں ؎
مکافاتِ عمل سے کون ہے محفوظ دنیا میں
برائی کرنے والوں کا برا انجام ہوتا ہے
یہی اسلاف سے سنتے ہوئے آئے ہیں اب تک ہم
یقیں جس کو نہیں خود پر وہی ناکام ہوتا ہے

کششؔ کی فکر کا نکتۂ کمال یہ ہے کہ ان کی فکر بیک وقت مذہبی بھی ہے اور کلاسیکی بھی ہے یعنی مذہب کی حاشیہ آرائی میں ان کے ہاں روایت کی حسین پاسداری پائی جاتی ہے جس میں کہیں کہیں پندو موعظت کا رنگ بھی چھلکتا ہوا محسوسی ہوتا ہے جس میں حقیقت نگاری کے خدو خال نمایاں صورت میں مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں ؎
ازل سے میری فطرت میں ہے حق گوئی خدا شاہد
خس و خاشاک کو سیکھا نہ میں نے گلستاں کہنا

دیگر فکری خصائص کے ساتھ ساتھ ان کے ذہنی کینوس میں تنقیدی رویے بھی اپنی بہار دکھاتے نظر آتے ہیں جو ان کی خرد نوازی کی عمدہ تمثیل ہے اور ان کے وجدانی جو ہر کا اظہار بھی ہے جو عصرِ حاضر کی شاعرات میں شاذہی نظر آتا ہے ؎
اس کے علاوہ حمیدہ کشش نے ایک ہی بحر میں دو طویل غزلیں کہی ہیں جو تقریباً 300، 300 اشعار پر مشتمل ہیں جنہیں ہم سہیل ممتنع کی عمدہ مثال بھی کہہ سکتے ہیں۔ پاکستان میں اس قسم کی ایک ہی بحر میں طویل غزلیں لکھنے والے فقط دو چار ہی شاعر ہیں۔ مگر شاعرات میں یہ کام پہلی بار حمیدہ کشش نے کیا ہے ۔ حمیدہ کشش اُردو ادب میں کچھ نیا کرنے کی لگن لے کر آئیں ہیں۔ کشش کا موضوعاتی کینوس کثیر الجہات اور وسیع الموضوعات ہے۔ وہ ایک متنوع شعری مزاج کی مالک ہیں جس میں خیالات کی یکسانیت اور ان کا تکراری پہلو معدوم ہے۔ ان کی فکری وسعت کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ان کے بہتر شعری مستقبل کی نوید دینا قرینِ حقیقت ہے مگر انہیں ریاضت کے طویل اور جاں گداز عمل سے گزرنا ہوگا ۔
حال ہی میں محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے حمیدہ کشش کو ایوارڈ سے نوازا ہے۔ ہم اُنھیں مبارک باد پیش کرتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...

آبنائے ہرمز ،بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو اڑا دیں،ڈونلڈ ٹرمپ کاا مریکی نیوی کو حکم

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...

ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ وجود - جمعه 24 اپریل 2026

ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...

ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی گینگ کوجلد گرفتار کرلیا جائیگا، آئی جی سندھ

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 24 اپریل 2026

چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...

فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران امن مذاکرات بچانے کیلئے سرگرم

مضامین
دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

لبنان: راحت اور بربادی کے درمیان وجود اتوار 26 اپریل 2026
لبنان: راحت اور بربادی کے درمیان

پاکستان اور خوراک کاضیاع وجود اتوار 26 اپریل 2026
پاکستان اور خوراک کاضیاع

مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں وجود اتوار 26 اپریل 2026
مودی سرکار کی کشمیری طلبہ پر پرتشدد کارروائیاں

پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ وجود هفته 25 اپریل 2026
پہلگام واقعہ میں بھارتی جھوٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر