... loading ...
شعری معیارات کی مقتضیات میں تلون و تنوع کے خصائص کے پہلو بہ پہلو عصری رجحانات و میلانا ت اور دیگر فکری و فنی تلازمات شامل ہیں تاکہ یکسانیت کی مہیب صورتِ حال سے گریز کا التزام کیا جاسکے جن شاعر اور شاعرات کی قوتِ متخیلہ زر خیز نوعیت کی حامل ہوتی ہے جن کے ہاں کہنے کے لیے جذبات و احساسات کی پونجی وافر ہوتی ہے ان کے افکارو تخیلات کا اعادہ معدوم ہوتا ہے آج ہم حمیدہ کششؔ کی سخن سنجی کے حوالے سے رقمطراز ہیں جن کی کتاب بعنوان ’’سحرِ عشق‘‘ ہمارے پیشِ نظر ہے جن میں ان کی پچاس غزلیات جو بحر ہزج مشمن سالم میں ہیں جس کا وزن مفاعلین مفاعلین مفاعلین مفاعلین ہے شامل ہیں ایک ہی بحر میںا تنا شعری سرمایہ بہم پہنچانا بھی ان کی فنی پختگی کا غماز ہے اکثر و بیشتر شاعرات عروضی ادراکات سے بے بہرہ ہوتی ہیں اور فطری طور پر عروضی محاسن کا اہتمام ملتا ہے یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ حمیدہ کششؔ فنی معاملات کا شعور رکھتی ہیں ۔
حمیدہ کششؔ دنیائے شعرو ادب میں سبک رفتاری سے پیش رفت کررہی ہیں جو لائقِ اعتنا ہے 2014ء میں ہی ان کا افسانوی مجموعہ’’سحر انگیز افسانے‘‘منصہ شہود پر آیا جسے علمی و ادبی حلقوں نے بے حد سراہا اور اب ’’سحرِ عشق‘‘ کے نام سے مجموعہ شعر منظرِ عام پر ہے اس سے ان کے ادبی جنون کی غمازی ہوتی ہے ان کی تخلیقی فعالیت انہیں کشاں کشاں سوئے منزل لئے جارہی ہے ان کی کتاب مذکور میں سے چند شعری استشہادات برائے استخراجات شاملِ شذرہ ہیں ۔
ان کے کلام میں زیست اپنے حقیقی رنگ میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے جس میں تلخیٔ حالات کی واژ گونی و سنگینی واضح طور پر مشاہدہ کی جاسکتی ہے ان کا سخن ان کے تلخ و ترش تجربات و مشاہدات کا حاصل ہے ؎
یہ کیسی بے حسی چھا گئی ہے شہرِ دل کی بستی میں
کوئی ناحق بھی مرجائے تو اب ماتم نہیں ہوتا
کششؔ کے کلام میں حقیقت پسندی کے شواہد بھر پور انداز میں ملتے ہیں اورہ عصری و سماجی بے حسی کو ہدفِ تنقید بناتی ہوئی نظر آتی ہیں ان کا داخلی اظہار بھی خارجیت سے ہم آہنگ نظر آتا ہے داخلیت و خارجیت کا یہ حسیں سنگم ان کی فکری جاذبیت کو فزوں تر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے عصری روئیوں کا مشاہدہ مطالعہ ان کے ہاں عمق کے ساتھ پایا جاتا ہے ؎
کٹی ہے کس طرح مظلوم کی گردن سرِ مقتل
مگر افسوس ہے کہ کون اس پر بات کرتا ہے؟
کشش کے شعری کینوس سے خلوص و ایثار اور ہمدردی و مروت کے آفاقی مظاہر ضوپاشیاں کرتے نظر آتے ہیں یوں ان کا سخن انسان دوستی کے آدرش کا معتبر حوالہ ہے ؎
جہاں انسانیت گھٹ گھٹ کے مر جائے خدا شاہد
وہاں ہر قدرِ انسانی بھی اپنی قدر کھوئی ہے
وہ شعر گفتن برائے شعر خوب است کی قائل نہیں وہ ادب برائے زندگی کے نظریے پر یقین رکھتی ہیں وہ خیال دنیا میں نہیں بلکہ عالمِ حقیقی میں سانس لیتی ہیں اور اس کے مصائب و آلام کا ادراک بھی رکھتی ہیں سماجی اقدار کی پامالی پر ان کا دل کڑھتا ہے اس لئے قاری کو دشواریوں اور کٹھنائیوں کے پیشگی شعور سے آشنا کرتی ہیں جذبۂ انسانیت کی تبلیغ کا درسِ بلیغ ان کے سخن میں کار فرما ہے اگرچہ ان کے ذہنی کینوس پر حزن والم کی فضا چھائی ہوئی ہے مگر رجا کی کرنیں بھی روشن ہیں ؎
پہنچ ہی جاؤں گی ہر اک رکاوٹ کو گرا کر میں
مری نظروں میں منزل ہے تو رستے دیکھے بھالے ہیں
بسا اوقات ان کے جذبوں کی جولانی اور خیالات کی روانی دیدنی ہوتی ہے وہ عزمِ صمیم کی مالک ہیں کسی نوع کا جوکھم ان کے لئے سنگِ راہ ثابت نہیں ہوتا ایک بھر پور شکتی ہے جو ان کی بھاشا کے شبدوں سے مترشح ہورہی ہے وہ جوش وولولہ کی پر چارک ہیں اس لئے ان کی رجائیت بھی لائقِ تحسین ہے جو آموزشِ حیات کے وسیع تر پہلو رکھتی ہے اس لئے اسلامی احساسات کا عکسِ جمیل بھی ان کے فحوائے سخن کا حصہ ہے یوں وہ شعر کی زبان میں حقوق العباد کی تعلیم دیتی ہے ؎
اسی پر تنگ ہوتی جارہی ہے نعمتِ دنیا
وہ جس نے کعبۂ دل سے خداؤں کو نکالا ہے
حمیدہ کشش کا کلام انسان دوستی کا ایک درسِ زریں ہے جس میں محبتوں کے فروغ کی ایک عمیق داستاں مضمر ہے اور لائقِ طمانیت امر یہ بھی ہے کہ یہ محبتیں بھی آفاقی اور اجتماعی نوعیت کی ہیں جو ہر طرح کی مذہبی و لسانی، سماجی و جغرافیائی اور رنگ و نسل کی قید سے مبر او ماورا ہیں وہ محاسن کی حوصلہ افزائی اور معائب کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں جو ان کے حقیقی تخلیق کار ہونے کی علامت ہے ان کی شاعری خودمیں بیشتر اصلاحی و تعمیری پہلو سموئے ہوئے ہے ان کے نزدیک شاعری ایک مشن، ایک تبلیغ اور بہت سی افادی کا وشوں سے مربوط ہے لیکن کبھی کبھی وہ عصری حالات و واقعات سے خائف نظر آتی ہیں ؎
خدا محفوظ رکھے ہربلا سے میں نے خوابوں میں
خزاں آلود ہے دیکھا ابھی فصل بہاراں کو
وہ عصری مصائب و آلام کا مشاہدہ و مطالعہ کرنے کے بعد ابنائے آدم کو بارگاہِ ریزدی کی طرف مراجعت کی التجا کرتی ہیں اور اپنے محبوب حقیقی سے مطمئن دکھائی دیتی ہیں اور اچھائی کے معاملہ کی توقع رکھتی ہیں اس لئے ان کا پیرائیہ اظہار استدعائی نوعیت کا ہو جاتا ہے ؎
خدا ئے لم یزل سے رات کے پچھلے پہر اٹھ کر
جو مانگو گے دعا دل سے یقیناً با اثر ہوگی
ان کے ہاں بہت سے روحانی پہلو بھی آشکار ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جس سے اسلامی نظریات کی پختگی تیقن امیز صورت اختیار کر جاتی ہے وہ میکانی طرزِ حیات سے شاکی و نالاں ہیں اس لئے تصوف، عشقِ حقیقی اور دیگر اسلامی تصورات بھی ان کے ہاں وفو ر سے پائے جاتے ہیں وہ عہد موجود کے معاملات سے بھی گریزاں نظر نہیں آتی ہیں عصری آشوب گی بازگشت بھی ان کے سخن میں نمایاں طور پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے ؎
چلا تو ہے تلاشِ رزق میں گھر سے سویرے سے
مگر ڈر ہے نہ وہ ہستی گنوا بیٹھے کہیں اپنی
یہ مقتل ہے یہاں سے کون زندہ لوٹ آیا ہے
کمائی عمر بھر کی لٹنے والی ہے یہیں اپنی
کششؔ کا کلام روحِ عصر کی بھر پور مرصع کاری سے عبارت جسے خیالات و افکار کی مینا کاری سے نسبت ہے جس میں عصری آشوب زدگیوں کا مذکور بھی ہے اور حزن والم کا ظہور بھی ہے مگر وہ جز کی کل کی طرف مراجعت کو نا گزیر خیال کرتی ہیں وہ ایک عابدو زاہد اور ایک عالمِ دین کی طرح بندوں کو خدا سے جوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اس لئے ان کا پیرائیہ اظہار پر تاثیر بھی ہے اور روح پرور بھی ہے ؎
خدا ناراض ہے اس دور کے ابنائے آدم سے
کہ انسانوں کو توفیقِ عبادت ہی نہیں ملتی
زمانے کی ادا نے بچپنے کو کردیا بوڑھا
یہاں بچوں کی کوئی بھی شکایت ہی نہیں ملتی
جہاں ان کے ہاں انسانی کج ادائی اور بد اعمالی کے حوالے ملتے ہیں وہاں اس کی گمراہی اور بے راہروں کے شواہد بھی چتاؤنی کے عالم میں کار فرما نظر آتے ہیں حیات انسانی کی تلخ سنجیدگی کا عکس بلیغ بھی جلوہ ریزیاں کرتا دکھائی دیتا ہے جس میں زندہ دلی کے تمام مظاہر مفقود نظر آتے ہیںا ور زیست کی فضا ہر نوع کی رونق و رعنائی سے محروم نظر آتی ہے مجازی حوالے سے بھی پوتر احساسات ضوپاشیاں کررہے ہیں ؎
کیا ہے خلق تجھ کو اس طرح سے دست قدرت نے
جو تیری دید کو آئے وہ ہو کر باوضو آئے
محبوب کے حوالے سے ان کا تصور مطہر و مقدس نوعیت کا ہے جس میں معرفت و مجاز کے جذبے ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں اور محبوب کو مشیت کی صناعی کا شاہکار گردانتی ہیں یوں وہ رب العزت کی ثنائی کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں ان کے خیالات خیر خواہی پر مبنی ہیں وہ دنیا کو مکافاتِ عمل سمجھتی ہیں اور جذبۂ خیر کا پرچار کرتی ہیں ؎
مکافاتِ عمل سے کون ہے محفوظ دنیا میں
برائی کرنے والوں کا برا انجام ہوتا ہے
یہی اسلاف سے سنتے ہوئے آئے ہیں اب تک ہم
یقیں جس کو نہیں خود پر وہی ناکام ہوتا ہے
کششؔ کی فکر کا نکتۂ کمال یہ ہے کہ ان کی فکر بیک وقت مذہبی بھی ہے اور کلاسیکی بھی ہے یعنی مذہب کی حاشیہ آرائی میں ان کے ہاں روایت کی حسین پاسداری پائی جاتی ہے جس میں کہیں کہیں پندو موعظت کا رنگ بھی چھلکتا ہوا محسوسی ہوتا ہے جس میں حقیقت نگاری کے خدو خال نمایاں صورت میں مشاہدہ کئے جاسکتے ہیں ؎
ازل سے میری فطرت میں ہے حق گوئی خدا شاہد
خس و خاشاک کو سیکھا نہ میں نے گلستاں کہنا
دیگر فکری خصائص کے ساتھ ساتھ ان کے ذہنی کینوس میں تنقیدی رویے بھی اپنی بہار دکھاتے نظر آتے ہیں جو ان کی خرد نوازی کی عمدہ تمثیل ہے اور ان کے وجدانی جو ہر کا اظہار بھی ہے جو عصرِ حاضر کی شاعرات میں شاذہی نظر آتا ہے ؎
اس کے علاوہ حمیدہ کشش نے ایک ہی بحر میں دو طویل غزلیں کہی ہیں جو تقریباً 300، 300 اشعار پر مشتمل ہیں جنہیں ہم سہیل ممتنع کی عمدہ مثال بھی کہہ سکتے ہیں۔ پاکستان میں اس قسم کی ایک ہی بحر میں طویل غزلیں لکھنے والے فقط دو چار ہی شاعر ہیں۔ مگر شاعرات میں یہ کام پہلی بار حمیدہ کشش نے کیا ہے ۔ حمیدہ کشش اُردو ادب میں کچھ نیا کرنے کی لگن لے کر آئیں ہیں۔ کشش کا موضوعاتی کینوس کثیر الجہات اور وسیع الموضوعات ہے۔ وہ ایک متنوع شعری مزاج کی مالک ہیں جس میں خیالات کی یکسانیت اور ان کا تکراری پہلو معدوم ہے۔ ان کی فکری وسعت کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ان کے بہتر شعری مستقبل کی نوید دینا قرینِ حقیقت ہے مگر انہیں ریاضت کے طویل اور جاں گداز عمل سے گزرنا ہوگا ۔
حال ہی میں محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے حمیدہ کشش کو ایوارڈ سے نوازا ہے۔ ہم اُنھیں مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...
پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...
یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...
ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...
حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...