وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 04 فروری 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

٭ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کے لیے ایوارڈ
ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی بہ عنوان’’اُردو میں ترقی پسند تنقید کا تحقیقی مطالعہ‘‘لکھاتھا جس پر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی تھی،اب اس مقالے کو انجمن ترقی اردو،کراچی نے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے،جس پرڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو انجمن ترقی پسند مصنفین نے ایوارڈبرائے ۲۰۱۷ء سے نوازا ہے،ہم ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
٭جناب عقیل دانش کے اعزاز میں شعری نشست
سینئر شاعراور عمارت کار کے مدیر جناب حیات رضوی امروہوی کی رہائش گاہ پر گزشتہ دنوں برطانیہ سے تشریف ہوئے معروف شاعر جناب عقیل دانش کے اعزاز میں ایک مختصر سی شعری نشست کا انعقاد کیاگیا،جس کی صدارت پاکستان کے معروف شاعر جناب سرور جاوید نے کی اور نظامت کے فرائض میزبان مشاعرہ جناب حیات رضوی نے سر انجام دیے،اس محفل میں معروف قانون دان اور مشہورشاعر جناب مسلم شمیم بھی تشریف لائے مگر ناسازی طبیعت کی بنا پر محفل میں شرکت نہ کر سکے۔اس شعری نشست میں کلام نذر سامعین کرنے والے شعرامیں جناب خالد حسن رضوی،نجیب عمر،ڈاکٹر اختر ہاشمی،شاعرعلی شاعر ،سلمان صدیقی اور شمس الغنی شامل تھے،شعری نشست کا اختتام دعوت پُر ضیافت پر ہوا۔
٭ افضل رضوی کی کتاب
’’دَر برگِ لالہ و گل‘‘ کی تقریب اجرا
محبان بھوپال فورم اور بقائی میڈیکل یونی ورسٹی کے زیرِ اہتمام یونی ورسٹی آف کراچی گریجویٹس فورم کینڈا کراچی چیپٹر کے تعاون سے آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی دانش ور افضل رضوی کی کتاب ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ کی تقریب اجرا کا انعقاد مقامی کلب میں ہوا۔ تقریب کی صدارت جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کی۔ انھوں نے صدارتی خطاب میں کہا کہ افضل رضوی کی بیش بہا تحقیق پر سرسری گفتگو کتاب اور اس کے مصنف کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ علامہ اقبال کا پورا کلام توجہ اور غور و فکر کا طلب گار ہے۔ ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ پر ہمارے فاضل اساتذہ اور مقررین جو کچھ کہہ چکے یا اپنے مقالات میں پیش کر چکے ہیں اس سے علامہ کی فکر کا ایک اور دریچہ سامنے آیا ہے۔ آسٹریلیا میں بیٹھ کر اتنا وقیع کام کرنا افضل رضوی کا لاثانی کارنامہ ہے۔ کتاب ہمارے سامنے اقبال کی فکر رسا اور منازل فکر و فن طے کرتی چلی جاتی ہے۔ میرے عزیز دوست پروفیسر فرید الدین بقائی مرحوم نے اس تصنیف کو طبع کر کے اقبال اور اُردو کا نام بلند کر دیا ہے۔ کراچی یونی ورسٹی کے سابق پروفیسر اور دورِ طالب علمی میں سب سے کم عمری اور کم مدت میں ڈاکٹریٹ کرنے والے پروفیسر معین الدین عقیل نے کہا کہ اس کتاب کا مطالعہ میرے لیے نیا اور پُر کشش تھا۔ اقبال کی مقبولیت کوکہاں کہاں اور کس کس مقام تک رسائی حاصل نہیں، افضل رضوی پیشہ ورانہ طور پر سائنس کے شعبوں اور تدریس سے منسلک ہیں لیکن وہ علم و ادب سے اس قدر قریب ہیں کہ اقبال ان کے ذہن و فکر اور ان دل چسپیوں میں اس طرح شامل ہیں کہ وہ ان کی تعلیمات کو مزید عام کرنے کے منصوبے بنا کر کامیاب بھی ہو سکتے ہیں۔ کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ افضل رضوی نے کلام اقبال کا لفظ لفظ مطالعہ کیا ہے جس میں فارسی کلام کی بخیہ گری بھی شامل ہے۔ اس کاوش کو منظر عام پر لانے والے افراد مبارک باد کے مستحق ہیں۔ جامعہ کراچی شعبۂ اُردو کے سابق پروفیسرڈاکٹر یونس حسنی نے کہا کہ افضل رضوی خود سائنس کے آدمی ہیں وہ نباتات اور ان کے خواص سے واقف ہیں اسی واقفیت نے کلام اقبال میں نباتات کی معنویت تلاش کرنے میں ان کی مدد کی۔ ان کی کتاب میں ۲۶ نباتات زیر قلم آئی ہیں۔ ان سب کا انھوں نے تجزیہ کیا ہے۔ ایک ادیب، قلم کار اور سائنس داں کی حیثیت سے ان کو پرکھا اور پیش کیا ہے۔ اقبال نے جن پھولوں کا تذکرہ بکثرت کیا ہے وہ سب خون رنگ ہیں۔ گل، لالہ، ارغوان اور دیگر بہت سے پھول سرخ ہوتے ہیں یہ سرخی خوں آشامی اور جدوجہد کی علامت بھی ہے اور نجد و حجاز کی سخت آب و ہوا میں جہد مسلسل کی داستان بھی۔ علامہ اقبال کا رویہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ پھولوں کلیوں کے ذریعے اپنے فلسفے کی نمو کرتے ہیں۔ ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ ایک بڑا دقیق اور محنت طلب مطالعہ تھا جسے تحقیق کے تقاضوں اور تنقیدی شعور کے ساتھ خوب صورتی سے انجام دیا گیا۔ اس پر افضل رضوی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ وائس چانسلر بقائی میڈیکل یونی ورسٹی پروفیسر زاہدہ بقائی کی نمایندگی کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ مصنف افضل رضوی نے تحقیق کے ساتھ ساتھ قلم کا بھی حق ادا کیا ہے۔ ان کی آیندہ کتاب کی طباعت بھی ہمارے لیے ایک بڑا اعزاز ہوگی۔ کتاب پر اظہارِ خیال کرنے والوں میں رضوان صدیقی بھی شامل تھے۔ انھوں نے پوری کتاب کا ایک سرجن کی طرح پوسٹ مارٹم کیا اور بتایا کہ کس پھول کا کتنی مرتبہ تذکرہ آیا ہے ۔اس کے لیے کیا کیا استعارے اور پیرایہ اظہار اختیار کیا گیا ۔ اُردو لغت بورڈ کے ڈاکٹر شاہد ضمیر نے بھی اپنا مضمون پڑھا ۔ اس موقع پر محبان بھوپال کی بانی اور چیئرپرسن محترمہ شگفتہ فرحت نے بھی تقریب کے اجرا کو اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا: فورم علم و ادب اور کتب اور صاحبان کتاب کی عزت افزائی کرتا رہا ہے اور آیندہ بھی اس طرح کی خوب صورت تقاریب کا انعقاد ہوتا رہے گا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر انیس زیدی نے وسیع المطالعہ شخص کے طور پر انجام دیے اور تقریب دوسرے حصے کی نظامت اویس ادیب انصاری نے انجام دئیے۔ آخر میں کراچی یونی ورسٹی گریجویٹس فورم کینیڈا کراچی چیپٹر کی ڈائریکٹر سلمیٰ خانم نے اظہار تشکر کرتے ہوئے مستقبل میں بھی اچھی پروگراموں کی نوید سنائی۔ اس موقع پر مہمانوں کو پھول اور تحائف اشتیاق طالب، فرحت محسن، اقبال احمد خان، زہین عالم، سید ناصر علی، شہانہ جاوید نے پیش کیے۔ قریب میں بڑی تعداد میں ادیب و شاعر، علمی شخصیات موجود تھی جب کہ نمایاں افراد میں محمود العزیز، عثمان دموہی، پروفیسرشاہین حبیب، وقار شیرانی، وقار زیدی، رونق حیات، شائستہ فرحت، عارف انصاری، فرحت اللہ قریشی اور دیگر موجود تھے۔
٭ ’’نئی بریل پرنٹنگ مشین‘‘ کی افتتاحی تقریب
نیشنل بک فائونڈیشن کی ایک تقریب میں شہر کی معتبر شخصیات اور کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ شامل قریب ہوئے۔ دراصل نابینا افراد کی بک ریڈنگ کے سلسلے میں ’’نئی بریل پرنٹنگ مشین‘‘ کی افتتاحی تقریب اس لیے بھی اہمیت کی حامل رہی ہے کہ این بی ایف کا یہ ایک مثبت اقدام تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی مشیر وزیر اعظم برائے ادب و تاریخی ورثہ عرفان صدیقی تھے۔ وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن، ایم ڈی انعام الحق جاوید، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، عامر اشرف اور مبین مرزا نے اظہار خیال کیا۔ پروف ریڈر عرفان ریاض نے تلاوت کی جب کہ ثمینہ رحمٰن نے نعت رسول پیش کی۔
ڈاکٹرانعام الحق جاوید نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی کمپوٹرائز سیریل مشین عرفان صدیقی صاحب اور انجینئر عامر حسن کی خصوصی توجہ سے فراہم کی گئی۔ نئی بریل مشین ایک گھنٹے میں تین سو (300) صفحات تیار کرے گی۔ بصارت سے محوم افراد کو کتاب فراہم کرنے کا ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا ہے، ان افراد کو علامتی ہدیے پر کتب دی جائیں گی۔ این بی ایف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے قرآن مجید شایع کیا، انعام الحق جاوید نے کہا کہ میں جب بھی کراچی آتا ہوں، کتاب دوست افراد شاعر ادیب پوچھتے ہیں کہ شہر کتاب کا خواب کیا ہوا عرفان صدیقی اس سلسلے میں بتائیں گے میں وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن کا ممنون ہوں کہ کتاب دوستی کے لیے اسلام آباد سے کراچی آئے۔ اس موقع پر مبین مرزا نے کہا کہ انعام الحق جاوید نے کتاب کلچر کے فروغ کے لیے غیر معمولی کردار انجام دیا ہے اور عرفان صدیقی نے سرپرستی کی ہے ۔این بی ایف کے اعداد و شمار کو دیکھیںتو محسوس ہوگا کہ کتاب کلچر کا فروغ کس قدر ہوا ہے۔ بلائنڈ ایسوسی ایشن کے عامر اشرف نے کہا کہ یہ بریل مشین این بی ایف کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور حکومت پاکستان کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے، ہر زبان میں اس کا لٹریچر موجود ہے۔ بریل مینجمنٹ کمیٹی باقاعدہ تشکیل دی گئی کہ نابینا افراد کے لیے کتابیں شایع کی جائیں این بی ایف اور بلائنڈ کے معاملات کے سلسلے میں وزیر اعظم سے ملاقات چاہتے ہیں۔ بریل والوں کے مسائل آج تک حل نہیں ہو سکے، اس کی لکھائی اور پروف ریڈنگ مشکل ہے، ان کے اسٹاف کو پروموشن نہیں دیا جاتا ۔
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم وائس چانسلر ضیاء الدین یونی ورسٹی نے اس موقع پر کہا کہ ٹیکنالوجی کے آگے جانے کا زمانہ ہے۔ یہ وزارتیں پہلے بھی تھیں لیکن عرفان صدیقی کی وجہ سے تمام ادارے فعال ہو گئے اکادمی ادبیا، ڈکشنری بورڈ اور این بی ایف آخری سانسیں لے رہے تھے۔ انھوں نے اقبال اکیڈمی کے مسئلے کو بھی حل کیا، اسے اہمت دی آج وہ اپنے قدموں پر کھڑی ہوگئی۔ ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔ عرفان صدیقی کو اللہ ہمت اور استقامت دے۔ وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ مشیر وزیر اعظم عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ مجھے بیوروکریٹ نہیں بلکہ فیسیلیٹ کرنے والا چاہیے۔ 12 محکمے ہمارے پاس ہیں، جس میں ایک این بی ایف ہے۔ ہم بلائنڈ ایسوسی ایشن کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ خصوصی طور پر انعام الحق جاوید اور ان کی کاوشوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اسی طرح کئی مشینیں یہاں لگائی جائیں گی۔
آخر میں مشیر وزیر اعظم ادبی و تاریخی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا کہ شہر کے ادیبوں، دانشوروں نے رونق بخشی اور ہماری عزت افزائی کی۔ پیرزادہ قاسم نے بڑی محبت کے ساتھ کلمات تحسین کہے۔ انھوں نے کہاکہ مزید مشینیں لانے کے لیے ساڑھے تین کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انعام الحق جاوید بڑی کاوش کر رہے ہیں۔ عقیل عباس جعفری ہماری نئی ٹیم کے ممبر ہیں۔ انھوں نے قومی اُردو لغت جو 22 ہزار صفحات پر مشتمل تھی، پوری ڈکشنری نیٹ پر لے آئے ہیں، باضابطہ افتتاح صدر گرامی کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ قائد اعظم اکیڈمی کا حال دیکھ کر افسوس ہوا تھا اب خواجہ رضی حیدر نے اسے سنبھالا ہے۔ بہتری کی طرف آ رہے ہیں۔ کتاب کلچر فروغ ا رہا ہے، 106 نئی کتابیں شایع ہوئی ہیں، جو کروڑوں روپوں میں فروخت ہوئی ہیں۔ اکادمی ادبیات کی شاخوں کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس نئے مالی سال میں اکیڈمی کی پانچ شاخیں قائم ہوں گی۔ یہ شاخیں دادو، مظفر آباد، گلگت اور فاٹا میں قائم کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں 10کروڑ روپے کی منظوری دی ہے ۔جگہ کا انتظار ہے، بہر حال یہ ادارے پھل پھول رہے ہیں، ان کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 50 کروڑ روپے سابق وزیر اعظم نے دیے تھے، جسے ہم نے انویسٹ کر دیا ہے۔ بہر حال جو ہمارے دائرہ کار میں ہے اسے پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں بلائنڈ ایسوسی ایشن کے عامر اشرف کو بلینک چیک دے رہا ہوں وہ اگر وزیر اعظم کے پاس جائیں گے تو بھی انھوں نے مجھے ہی کہنا ہے۔قارئین یہ ایک بھرپور تقریب تھی قبل از عرفان صدیقی نے باقاعدہ افتتاح کیا، نظامت کے فرائض معروف شاعر حنیف عابد نے انجام دیے۔
٭رسا چغتائی کی یاد میں مشاعرہ
گزشتہ دنوں ’’یادگارِ نور احمد میرٹھی‘‘ اور ’’ادارۂ فکرِ نو کراچی‘‘ کے زیرِ اہتمام بر صغیر کے صاحب اُسلوب شاعر جناب رسا چغتائی کی یاد میں مشاعرہ اور مذاکرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت معروف سینئر شاعر جناب رشید اثر نے کی۔ مہمانِ خصوصی کا منصب معروف شاعر و ادیب، اسلامی اسکالر اور قرآن انسائیکلوپیڈیا کے مولف جناب سعید الظفر صدیقی کے سپردہوا، اور مہمانانِ اعزازی کی مسند جناب اکرم کنجاہی اور حامد اسلام صاحب کے حصے میں آئی۔
نظامت جناب رشید خان رشید نے کی۔ دو نشستوں پر مبنی اس تقریب کا پہلا سیشن رسا چغتائی مرحوم پر تعزیتی ریفرنس ، مذاکرہ اور گفتگو تھا۔ مقررین میں جناب پروفیسر شاہدکمال، حامد اسلام اور استاد انصاری نے مرحوم کی یادوں اور باتوں کو شاملِ گفتگو کیا۔
اکرم کنجاہی صاحب جو کہ ایک معروف شاعر ہیں، رسا چغتائی مرحوم پر خصوصی مقررکے طورپر شریکِ محفل تھے۔ اکرم کنجاہی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں برمحل اور فی البدیع گفتگو کی، جس میں رسا چغتائی کی فکر ، انداز اور خیال و بیان کو پیش کیا۔
پروفیسر شاہد کمال درس و تدریس سے وابستہ ہونے کی بنا پرانھوں نے مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں پر دلچسپ گفتگو کی۔ دیگر مقررین نے بھی مرحوم پر عمدہ اظہارِ خیال کیا ۔
نشست کے دوسرے مرحلے میں مشاعرے کا آغازہوا اور نظامت کار جناب رشید خان رشید نے پانچ اشعار پڑھ کر اور اختصار کی تاکید کرکے شعرائے کرام کو دعوت کلام دی۔ اس تقریب میں مرحوم کی صاحب زادی ، مہک راشد نواسی اور دیگر فیملی کے لوگ شریک تھے۔ مرحوم کی نواسی نے جو کہ نورِ بصارت سے محروم ہے مگر انتہائی خوش گلو،مترنم آواز اور گائیکی کے فن و رموز اور سر تال سے واقفیت رکھنے اور خدا داد صلاحیتو ں کی حامل ہونے کے سبب رسا چغتائی صاحب کی غزل سنا کر سما باندھ دیا۔
محفلِ مشاعرہ میں جن شعرائے کرام نے اپنا کلام نذر سامعین کیا ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: جناب رشید خان رشید ، یاسرسعید صد یقی ، اسحاق خان اسحاق ، شاہ روم خان ولی , تنویر سخن ، شبیر احرم، محسن سلیم ، کشور عدیل جعفری، سعید احمد خان ،شاہد ا قبال شاہد، سخاوت علی نادر، یوسف چشتی ، ڈاکٹر نثار احمد نثار، محمد علی گوہر ، سلیم فوز ، استاد انور انصاری ، پروفیسر شاہد کمال، فیاض علی فیاض، اقبال خاور، اختر سعیدی ، وسیم ساغر، علی اوسط جعفری ، غلام علی وفا،آصف رضا رضوی ، ظفر محمد خان ظفر ، اکرم کنجاہی، سعید الظفر صدیقی اور رشید اثر۔


متعلقہ خبریں


قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

رواں دور میں سفید بال ہونا عمومی بات ہے اور مرد و خواتین دونوں ہی اس بات سے پریشان نظر آتے ہیں،کیونکہ سفید بال بڑھاپے کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ماہرین صحت قبل از وقت سفید بال امراض قلب کا عندیہ دیتے ہیں۔یونیورسٹی آف قاہرہ کے ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں 545 مردوں میں سفید بالوں اور دل کی بیماری کے خطرے کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ بالوں کی جتنی سفید رنگت زیادہ تھی اتنا ہی دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔ماہرین نے مردوں کو وارننگ جاری کر تے...

قبل از وقت سفید بال خطرناک بیماری کی علامت ہے، ماہرین

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

اوریکل کی ملازمین کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت، آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) نے ملازمین کی سوچ کو بدل رکھ دیا ہے اور ملازمین عام منیجروں کے مقابلے میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس والے روبوٹس ساتھی ملازمین کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ خوش ہیں، ایچ آر ٹیم کا کردار ملازمین کی بھرتی، ان کی تربیت اور ملازمین کو ادارے سے منسلک رکھنے کے لیے بھی تبدیل ہوا ہے۔ یہ سروے رپورٹ اوریکل اور فیوچر ورک پلیس نے کی جو کاروباری قائدین کی تیاری، ان کی ملازمتوں اور ملازمین کے دیگر...

مصنوعی ذہانت والے روبوٹس سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ، اوریکل رپورٹ

امریکا میں نظربند فلسطینی سائنسدان کی اسرائیل حوالگی کا خدشہ بڑھ گیا وجود - جمعرات 17 اکتوبر 2019

امریکا میں گھر پرنظربند فلسطینی سائنسدان عبدالحلیم الاشقر کو اسرائیل کے حوالے کیے جانے کا خدشہ بڑھ گیا ع،بدالحلیم الاشقر کی اہلیہ اسما ء مھنا نے مرکزاطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر کو امریکا میں گھر پرنظربند کیا گیا ہے ۔ ان کے حوالے سے امریکی حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ۔ خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت امریکا پروفیسر ڈاکٹر الاشقر کو امریکا کے حوالے کردے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر کے حوالے سے جاری تنازع کے حل میں کوئی پیش رفت نہیں...

امریکا میں نظربند فلسطینی سائنسدان کی اسرائیل حوالگی کا خدشہ بڑھ گیا

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام پر ترک حملے کے بعد امریکا نے ایکشن لیتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر...

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

برطانوی ملکہ الزبتھ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا، جنوری 2021 سے یورپی شہریوں کو برطانیہ کا ویزہ درکار ہو گا۔برطانوی ملکہ الزبتھ نے برطانوی پارلیمان سے خطاب کے دوران وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے تیار کیے گئے امیگریشن کے اس قانونی مسودے کو متعارف کرایا ہے جو یورپین یونین سے برطانیہ کی حتمی علیحدگی کے بعد نافذ ہو گا۔اس بل کے تحت یورپی ممالک کے شہریوں کیلئے آزادانہ طور پر برطانیہ آنے جانے کی سہولت جنوری 2021 سے ختم کر دی جائے گی اور ان پر برطانیہ آنے کیلئے ویزے اور دیگر...

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ وورتھ میں میں سفید فام پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ فورٹ وورتھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ روز پولیس آفیسر ایرن ڈین نے علاقہ میں معمول کے گشت کے دوران 28سالہ خاتون کو مشکوک سمجھتے ہوئے اس وقت کھڑکی کے باہر سے فائر کرکے ہلاک کر دیا جب وہ اپنے بھتیجے کے ہمراہ ویڈیو گیم کھیل رہی تھی ، مقا می پولیس نے گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دو پولیس افسروںکی جانب سے سرچ لائٹ کے ساتھ گھر کی کھڑ...

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں کردوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے ترکی کی جانب سے ان کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی سرحد پر بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے شام کی غیر مستحکم صورتحال اور وہاں سے اپنی باقی تمام فوج کو نکالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔اس سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج کو شمال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد افواج کو اس سرحدی علاقے سے نکالنا ہے۔ برطانیہ میں قائم سیرین آبزرو...

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کے شہر راس العین میں ترکی کے فضائی حملے میں شہریوں اور صحافیوں سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے۔آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمن نے بتایا کہ یہ حملہ شمالی شام کے علاقے القاشملی سے راس العین میں یکجہتی کے لیے آنے والے ایک گروپ پر کیا گیا۔شام میں کردوں کی نمایندہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز'ایس ڈی ایف' کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے "سویلین قافلے" پر حمل...

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

2017 تک تاشپولات طیپ ایک جانے پہچانے معلم اور سنکیانگ یونیورسٹی کے سربراہ تھے، ان کے دنیا بھر میں رابطے تھے جبکہ انھوں نے فرانس کی مشہور پیرس یونیورسٹی سے اعزازی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔لیکن اسی برس وہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے لاپتہ ہو گئے اور اس حوالے سے چینی حکام مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان کے دوستوں کا خیال ہے کہ پروفیسر طیپ کو علیحدگی کی تحریک چلانے کا ملزم قرار دیا گیا، ان پر خفیہ انداز میں مقدمہ چلا اور بعدازاں اس جرم کی پاداش میں انھیں سزائے موت دے دی گئی۔پروف...

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

تیونس میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید نے اپنے حریف نبیل القروی کو واضح اکثریت سے شکست دے دی ہے اور وہ ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔قبل ازیں تیونس کے موزیق ایف ریڈیو نے پولنگ کمپنی امرود کے ایگزٹ پول کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ صدارتی امیدوار قیس سعید نے 72.53 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ایک اور فرم سگما کنسلٹنگ کے ایگزٹ پول کے مطابق آزاد امیدوار قیس سعید نے اپنے حریف کے مقابلے میں بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے اور ...

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

کیلیفورنیا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں جانوروں کی پوستین یعنی بال والی کھال سے بنی چیزوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس امریکی ریاست کے شہری اب سنہ 2023 سے کھال سے بنے کپڑے، جوتے اور ہینڈ بیگز کی خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے۔جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔اخبار سان فرانسیسکو کرانیکل کے مطابق یہ قانون چمڑے اور گائے کی کھالوں پر لاگو نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ہرن، بھیڑ اور بکرے کی کھالوں کی خرید...

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

پنجاب میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، 2011 سے 2018 کے دوران صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 424 افراد غیرت کی بھینٹ چڑھے۔پنجاب پولیس کی جانب سے مرتب شدہ اعداد و شمار کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیگ سنگھ اور چنیوٹ کے علاقوں پر مشتمل فیصل آباد ریجن غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں سر فہرست رہا جہاں گزشتہ آٹھ سال کے دوران 527 افراد کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ سرگودھا ریجن میں سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے علاقے شامل ہیں، 338 مقدمات کے س...

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے

مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار