وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 04 فروری 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

٭ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کے لیے ایوارڈ
ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی بہ عنوان’’اُردو میں ترقی پسند تنقید کا تحقیقی مطالعہ‘‘لکھاتھا جس پر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی تھی،اب اس مقالے کو انجمن ترقی اردو،کراچی نے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے،جس پرڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو انجمن ترقی پسند مصنفین نے ایوارڈبرائے ۲۰۱۷ء سے نوازا ہے،ہم ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
٭جناب عقیل دانش کے اعزاز میں شعری نشست
سینئر شاعراور عمارت کار کے مدیر جناب حیات رضوی امروہوی کی رہائش گاہ پر گزشتہ دنوں برطانیہ سے تشریف ہوئے معروف شاعر جناب عقیل دانش کے اعزاز میں ایک مختصر سی شعری نشست کا انعقاد کیاگیا،جس کی صدارت پاکستان کے معروف شاعر جناب سرور جاوید نے کی اور نظامت کے فرائض میزبان مشاعرہ جناب حیات رضوی نے سر انجام دیے،اس محفل میں معروف قانون دان اور مشہورشاعر جناب مسلم شمیم بھی تشریف لائے مگر ناسازی طبیعت کی بنا پر محفل میں شرکت نہ کر سکے۔اس شعری نشست میں کلام نذر سامعین کرنے والے شعرامیں جناب خالد حسن رضوی،نجیب عمر،ڈاکٹر اختر ہاشمی،شاعرعلی شاعر ،سلمان صدیقی اور شمس الغنی شامل تھے،شعری نشست کا اختتام دعوت پُر ضیافت پر ہوا۔
٭ افضل رضوی کی کتاب
’’دَر برگِ لالہ و گل‘‘ کی تقریب اجرا
محبان بھوپال فورم اور بقائی میڈیکل یونی ورسٹی کے زیرِ اہتمام یونی ورسٹی آف کراچی گریجویٹس فورم کینڈا کراچی چیپٹر کے تعاون سے آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی دانش ور افضل رضوی کی کتاب ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ کی تقریب اجرا کا انعقاد مقامی کلب میں ہوا۔ تقریب کی صدارت جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کی۔ انھوں نے صدارتی خطاب میں کہا کہ افضل رضوی کی بیش بہا تحقیق پر سرسری گفتگو کتاب اور اس کے مصنف کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ علامہ اقبال کا پورا کلام توجہ اور غور و فکر کا طلب گار ہے۔ ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ پر ہمارے فاضل اساتذہ اور مقررین جو کچھ کہہ چکے یا اپنے مقالات میں پیش کر چکے ہیں اس سے علامہ کی فکر کا ایک اور دریچہ سامنے آیا ہے۔ آسٹریلیا میں بیٹھ کر اتنا وقیع کام کرنا افضل رضوی کا لاثانی کارنامہ ہے۔ کتاب ہمارے سامنے اقبال کی فکر رسا اور منازل فکر و فن طے کرتی چلی جاتی ہے۔ میرے عزیز دوست پروفیسر فرید الدین بقائی مرحوم نے اس تصنیف کو طبع کر کے اقبال اور اُردو کا نام بلند کر دیا ہے۔ کراچی یونی ورسٹی کے سابق پروفیسر اور دورِ طالب علمی میں سب سے کم عمری اور کم مدت میں ڈاکٹریٹ کرنے والے پروفیسر معین الدین عقیل نے کہا کہ اس کتاب کا مطالعہ میرے لیے نیا اور پُر کشش تھا۔ اقبال کی مقبولیت کوکہاں کہاں اور کس کس مقام تک رسائی حاصل نہیں، افضل رضوی پیشہ ورانہ طور پر سائنس کے شعبوں اور تدریس سے منسلک ہیں لیکن وہ علم و ادب سے اس قدر قریب ہیں کہ اقبال ان کے ذہن و فکر اور ان دل چسپیوں میں اس طرح شامل ہیں کہ وہ ان کی تعلیمات کو مزید عام کرنے کے منصوبے بنا کر کامیاب بھی ہو سکتے ہیں۔ کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ افضل رضوی نے کلام اقبال کا لفظ لفظ مطالعہ کیا ہے جس میں فارسی کلام کی بخیہ گری بھی شامل ہے۔ اس کاوش کو منظر عام پر لانے والے افراد مبارک باد کے مستحق ہیں۔ جامعہ کراچی شعبۂ اُردو کے سابق پروفیسرڈاکٹر یونس حسنی نے کہا کہ افضل رضوی خود سائنس کے آدمی ہیں وہ نباتات اور ان کے خواص سے واقف ہیں اسی واقفیت نے کلام اقبال میں نباتات کی معنویت تلاش کرنے میں ان کی مدد کی۔ ان کی کتاب میں ۲۶ نباتات زیر قلم آئی ہیں۔ ان سب کا انھوں نے تجزیہ کیا ہے۔ ایک ادیب، قلم کار اور سائنس داں کی حیثیت سے ان کو پرکھا اور پیش کیا ہے۔ اقبال نے جن پھولوں کا تذکرہ بکثرت کیا ہے وہ سب خون رنگ ہیں۔ گل، لالہ، ارغوان اور دیگر بہت سے پھول سرخ ہوتے ہیں یہ سرخی خوں آشامی اور جدوجہد کی علامت بھی ہے اور نجد و حجاز کی سخت آب و ہوا میں جہد مسلسل کی داستان بھی۔ علامہ اقبال کا رویہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ پھولوں کلیوں کے ذریعے اپنے فلسفے کی نمو کرتے ہیں۔ ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ ایک بڑا دقیق اور محنت طلب مطالعہ تھا جسے تحقیق کے تقاضوں اور تنقیدی شعور کے ساتھ خوب صورتی سے انجام دیا گیا۔ اس پر افضل رضوی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ وائس چانسلر بقائی میڈیکل یونی ورسٹی پروفیسر زاہدہ بقائی کی نمایندگی کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ مصنف افضل رضوی نے تحقیق کے ساتھ ساتھ قلم کا بھی حق ادا کیا ہے۔ ان کی آیندہ کتاب کی طباعت بھی ہمارے لیے ایک بڑا اعزاز ہوگی۔ کتاب پر اظہارِ خیال کرنے والوں میں رضوان صدیقی بھی شامل تھے۔ انھوں نے پوری کتاب کا ایک سرجن کی طرح پوسٹ مارٹم کیا اور بتایا کہ کس پھول کا کتنی مرتبہ تذکرہ آیا ہے ۔اس کے لیے کیا کیا استعارے اور پیرایہ اظہار اختیار کیا گیا ۔ اُردو لغت بورڈ کے ڈاکٹر شاہد ضمیر نے بھی اپنا مضمون پڑھا ۔ اس موقع پر محبان بھوپال کی بانی اور چیئرپرسن محترمہ شگفتہ فرحت نے بھی تقریب کے اجرا کو اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا: فورم علم و ادب اور کتب اور صاحبان کتاب کی عزت افزائی کرتا رہا ہے اور آیندہ بھی اس طرح کی خوب صورت تقاریب کا انعقاد ہوتا رہے گا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر انیس زیدی نے وسیع المطالعہ شخص کے طور پر انجام دیے اور تقریب دوسرے حصے کی نظامت اویس ادیب انصاری نے انجام دئیے۔ آخر میں کراچی یونی ورسٹی گریجویٹس فورم کینیڈا کراچی چیپٹر کی ڈائریکٹر سلمیٰ خانم نے اظہار تشکر کرتے ہوئے مستقبل میں بھی اچھی پروگراموں کی نوید سنائی۔ اس موقع پر مہمانوں کو پھول اور تحائف اشتیاق طالب، فرحت محسن، اقبال احمد خان، زہین عالم، سید ناصر علی، شہانہ جاوید نے پیش کیے۔ قریب میں بڑی تعداد میں ادیب و شاعر، علمی شخصیات موجود تھی جب کہ نمایاں افراد میں محمود العزیز، عثمان دموہی، پروفیسرشاہین حبیب، وقار شیرانی، وقار زیدی، رونق حیات، شائستہ فرحت، عارف انصاری، فرحت اللہ قریشی اور دیگر موجود تھے۔
٭ ’’نئی بریل پرنٹنگ مشین‘‘ کی افتتاحی تقریب
نیشنل بک فائونڈیشن کی ایک تقریب میں شہر کی معتبر شخصیات اور کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ شامل قریب ہوئے۔ دراصل نابینا افراد کی بک ریڈنگ کے سلسلے میں ’’نئی بریل پرنٹنگ مشین‘‘ کی افتتاحی تقریب اس لیے بھی اہمیت کی حامل رہی ہے کہ این بی ایف کا یہ ایک مثبت اقدام تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی مشیر وزیر اعظم برائے ادب و تاریخی ورثہ عرفان صدیقی تھے۔ وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن، ایم ڈی انعام الحق جاوید، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، عامر اشرف اور مبین مرزا نے اظہار خیال کیا۔ پروف ریڈر عرفان ریاض نے تلاوت کی جب کہ ثمینہ رحمٰن نے نعت رسول پیش کی۔
ڈاکٹرانعام الحق جاوید نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی کمپوٹرائز سیریل مشین عرفان صدیقی صاحب اور انجینئر عامر حسن کی خصوصی توجہ سے فراہم کی گئی۔ نئی بریل مشین ایک گھنٹے میں تین سو (300) صفحات تیار کرے گی۔ بصارت سے محوم افراد کو کتاب فراہم کرنے کا ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا ہے، ان افراد کو علامتی ہدیے پر کتب دی جائیں گی۔ این بی ایف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے قرآن مجید شایع کیا، انعام الحق جاوید نے کہا کہ میں جب بھی کراچی آتا ہوں، کتاب دوست افراد شاعر ادیب پوچھتے ہیں کہ شہر کتاب کا خواب کیا ہوا عرفان صدیقی اس سلسلے میں بتائیں گے میں وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن کا ممنون ہوں کہ کتاب دوستی کے لیے اسلام آباد سے کراچی آئے۔ اس موقع پر مبین مرزا نے کہا کہ انعام الحق جاوید نے کتاب کلچر کے فروغ کے لیے غیر معمولی کردار انجام دیا ہے اور عرفان صدیقی نے سرپرستی کی ہے ۔این بی ایف کے اعداد و شمار کو دیکھیںتو محسوس ہوگا کہ کتاب کلچر کا فروغ کس قدر ہوا ہے۔ بلائنڈ ایسوسی ایشن کے عامر اشرف نے کہا کہ یہ بریل مشین این بی ایف کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور حکومت پاکستان کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے، ہر زبان میں اس کا لٹریچر موجود ہے۔ بریل مینجمنٹ کمیٹی باقاعدہ تشکیل دی گئی کہ نابینا افراد کے لیے کتابیں شایع کی جائیں این بی ایف اور بلائنڈ کے معاملات کے سلسلے میں وزیر اعظم سے ملاقات چاہتے ہیں۔ بریل والوں کے مسائل آج تک حل نہیں ہو سکے، اس کی لکھائی اور پروف ریڈنگ مشکل ہے، ان کے اسٹاف کو پروموشن نہیں دیا جاتا ۔
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم وائس چانسلر ضیاء الدین یونی ورسٹی نے اس موقع پر کہا کہ ٹیکنالوجی کے آگے جانے کا زمانہ ہے۔ یہ وزارتیں پہلے بھی تھیں لیکن عرفان صدیقی کی وجہ سے تمام ادارے فعال ہو گئے اکادمی ادبیا، ڈکشنری بورڈ اور این بی ایف آخری سانسیں لے رہے تھے۔ انھوں نے اقبال اکیڈمی کے مسئلے کو بھی حل کیا، اسے اہمت دی آج وہ اپنے قدموں پر کھڑی ہوگئی۔ ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔ عرفان صدیقی کو اللہ ہمت اور استقامت دے۔ وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ مشیر وزیر اعظم عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ مجھے بیوروکریٹ نہیں بلکہ فیسیلیٹ کرنے والا چاہیے۔ 12 محکمے ہمارے پاس ہیں، جس میں ایک این بی ایف ہے۔ ہم بلائنڈ ایسوسی ایشن کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ خصوصی طور پر انعام الحق جاوید اور ان کی کاوشوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اسی طرح کئی مشینیں یہاں لگائی جائیں گی۔
آخر میں مشیر وزیر اعظم ادبی و تاریخی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا کہ شہر کے ادیبوں، دانشوروں نے رونق بخشی اور ہماری عزت افزائی کی۔ پیرزادہ قاسم نے بڑی محبت کے ساتھ کلمات تحسین کہے۔ انھوں نے کہاکہ مزید مشینیں لانے کے لیے ساڑھے تین کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انعام الحق جاوید بڑی کاوش کر رہے ہیں۔ عقیل عباس جعفری ہماری نئی ٹیم کے ممبر ہیں۔ انھوں نے قومی اُردو لغت جو 22 ہزار صفحات پر مشتمل تھی، پوری ڈکشنری نیٹ پر لے آئے ہیں، باضابطہ افتتاح صدر گرامی کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ قائد اعظم اکیڈمی کا حال دیکھ کر افسوس ہوا تھا اب خواجہ رضی حیدر نے اسے سنبھالا ہے۔ بہتری کی طرف آ رہے ہیں۔ کتاب کلچر فروغ ا رہا ہے، 106 نئی کتابیں شایع ہوئی ہیں، جو کروڑوں روپوں میں فروخت ہوئی ہیں۔ اکادمی ادبیات کی شاخوں کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس نئے مالی سال میں اکیڈمی کی پانچ شاخیں قائم ہوں گی۔ یہ شاخیں دادو، مظفر آباد، گلگت اور فاٹا میں قائم کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں 10کروڑ روپے کی منظوری دی ہے ۔جگہ کا انتظار ہے، بہر حال یہ ادارے پھل پھول رہے ہیں، ان کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 50 کروڑ روپے سابق وزیر اعظم نے دیے تھے، جسے ہم نے انویسٹ کر دیا ہے۔ بہر حال جو ہمارے دائرہ کار میں ہے اسے پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں بلائنڈ ایسوسی ایشن کے عامر اشرف کو بلینک چیک دے رہا ہوں وہ اگر وزیر اعظم کے پاس جائیں گے تو بھی انھوں نے مجھے ہی کہنا ہے۔قارئین یہ ایک بھرپور تقریب تھی قبل از عرفان صدیقی نے باقاعدہ افتتاح کیا، نظامت کے فرائض معروف شاعر حنیف عابد نے انجام دیے۔
٭رسا چغتائی کی یاد میں مشاعرہ
گزشتہ دنوں ’’یادگارِ نور احمد میرٹھی‘‘ اور ’’ادارۂ فکرِ نو کراچی‘‘ کے زیرِ اہتمام بر صغیر کے صاحب اُسلوب شاعر جناب رسا چغتائی کی یاد میں مشاعرہ اور مذاکرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت معروف سینئر شاعر جناب رشید اثر نے کی۔ مہمانِ خصوصی کا منصب معروف شاعر و ادیب، اسلامی اسکالر اور قرآن انسائیکلوپیڈیا کے مولف جناب سعید الظفر صدیقی کے سپردہوا، اور مہمانانِ اعزازی کی مسند جناب اکرم کنجاہی اور حامد اسلام صاحب کے حصے میں آئی۔
نظامت جناب رشید خان رشید نے کی۔ دو نشستوں پر مبنی اس تقریب کا پہلا سیشن رسا چغتائی مرحوم پر تعزیتی ریفرنس ، مذاکرہ اور گفتگو تھا۔ مقررین میں جناب پروفیسر شاہدکمال، حامد اسلام اور استاد انصاری نے مرحوم کی یادوں اور باتوں کو شاملِ گفتگو کیا۔
اکرم کنجاہی صاحب جو کہ ایک معروف شاعر ہیں، رسا چغتائی مرحوم پر خصوصی مقررکے طورپر شریکِ محفل تھے۔ اکرم کنجاہی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں برمحل اور فی البدیع گفتگو کی، جس میں رسا چغتائی کی فکر ، انداز اور خیال و بیان کو پیش کیا۔
پروفیسر شاہد کمال درس و تدریس سے وابستہ ہونے کی بنا پرانھوں نے مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں پر دلچسپ گفتگو کی۔ دیگر مقررین نے بھی مرحوم پر عمدہ اظہارِ خیال کیا ۔
نشست کے دوسرے مرحلے میں مشاعرے کا آغازہوا اور نظامت کار جناب رشید خان رشید نے پانچ اشعار پڑھ کر اور اختصار کی تاکید کرکے شعرائے کرام کو دعوت کلام دی۔ اس تقریب میں مرحوم کی صاحب زادی ، مہک راشد نواسی اور دیگر فیملی کے لوگ شریک تھے۔ مرحوم کی نواسی نے جو کہ نورِ بصارت سے محروم ہے مگر انتہائی خوش گلو،مترنم آواز اور گائیکی کے فن و رموز اور سر تال سے واقفیت رکھنے اور خدا داد صلاحیتو ں کی حامل ہونے کے سبب رسا چغتائی صاحب کی غزل سنا کر سما باندھ دیا۔
محفلِ مشاعرہ میں جن شعرائے کرام نے اپنا کلام نذر سامعین کیا ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: جناب رشید خان رشید ، یاسرسعید صد یقی ، اسحاق خان اسحاق ، شاہ روم خان ولی , تنویر سخن ، شبیر احرم، محسن سلیم ، کشور عدیل جعفری، سعید احمد خان ،شاہد ا قبال شاہد، سخاوت علی نادر، یوسف چشتی ، ڈاکٹر نثار احمد نثار، محمد علی گوہر ، سلیم فوز ، استاد انور انصاری ، پروفیسر شاہد کمال، فیاض علی فیاض، اقبال خاور، اختر سعیدی ، وسیم ساغر، علی اوسط جعفری ، غلام علی وفا،آصف رضا رضوی ، ظفر محمد خان ظفر ، اکرم کنجاہی، سعید الظفر صدیقی اور رشید اثر۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر