وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 04 فروری 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

٭ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کے لیے ایوارڈ
ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی بہ عنوان’’اُردو میں ترقی پسند تنقید کا تحقیقی مطالعہ‘‘لکھاتھا جس پر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی تھی،اب اس مقالے کو انجمن ترقی اردو،کراچی نے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے،جس پرڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو انجمن ترقی پسند مصنفین نے ایوارڈبرائے ۲۰۱۷ء سے نوازا ہے،ہم ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
٭جناب عقیل دانش کے اعزاز میں شعری نشست
سینئر شاعراور عمارت کار کے مدیر جناب حیات رضوی امروہوی کی رہائش گاہ پر گزشتہ دنوں برطانیہ سے تشریف ہوئے معروف شاعر جناب عقیل دانش کے اعزاز میں ایک مختصر سی شعری نشست کا انعقاد کیاگیا،جس کی صدارت پاکستان کے معروف شاعر جناب سرور جاوید نے کی اور نظامت کے فرائض میزبان مشاعرہ جناب حیات رضوی نے سر انجام دیے،اس محفل میں معروف قانون دان اور مشہورشاعر جناب مسلم شمیم بھی تشریف لائے مگر ناسازی طبیعت کی بنا پر محفل میں شرکت نہ کر سکے۔اس شعری نشست میں کلام نذر سامعین کرنے والے شعرامیں جناب خالد حسن رضوی،نجیب عمر،ڈاکٹر اختر ہاشمی،شاعرعلی شاعر ،سلمان صدیقی اور شمس الغنی شامل تھے،شعری نشست کا اختتام دعوت پُر ضیافت پر ہوا۔
٭ افضل رضوی کی کتاب
’’دَر برگِ لالہ و گل‘‘ کی تقریب اجرا
محبان بھوپال فورم اور بقائی میڈیکل یونی ورسٹی کے زیرِ اہتمام یونی ورسٹی آف کراچی گریجویٹس فورم کینڈا کراچی چیپٹر کے تعاون سے آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی دانش ور افضل رضوی کی کتاب ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ کی تقریب اجرا کا انعقاد مقامی کلب میں ہوا۔ تقریب کی صدارت جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کی۔ انھوں نے صدارتی خطاب میں کہا کہ افضل رضوی کی بیش بہا تحقیق پر سرسری گفتگو کتاب اور اس کے مصنف کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ علامہ اقبال کا پورا کلام توجہ اور غور و فکر کا طلب گار ہے۔ ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ پر ہمارے فاضل اساتذہ اور مقررین جو کچھ کہہ چکے یا اپنے مقالات میں پیش کر چکے ہیں اس سے علامہ کی فکر کا ایک اور دریچہ سامنے آیا ہے۔ آسٹریلیا میں بیٹھ کر اتنا وقیع کام کرنا افضل رضوی کا لاثانی کارنامہ ہے۔ کتاب ہمارے سامنے اقبال کی فکر رسا اور منازل فکر و فن طے کرتی چلی جاتی ہے۔ میرے عزیز دوست پروفیسر فرید الدین بقائی مرحوم نے اس تصنیف کو طبع کر کے اقبال اور اُردو کا نام بلند کر دیا ہے۔ کراچی یونی ورسٹی کے سابق پروفیسر اور دورِ طالب علمی میں سب سے کم عمری اور کم مدت میں ڈاکٹریٹ کرنے والے پروفیسر معین الدین عقیل نے کہا کہ اس کتاب کا مطالعہ میرے لیے نیا اور پُر کشش تھا۔ اقبال کی مقبولیت کوکہاں کہاں اور کس کس مقام تک رسائی حاصل نہیں، افضل رضوی پیشہ ورانہ طور پر سائنس کے شعبوں اور تدریس سے منسلک ہیں لیکن وہ علم و ادب سے اس قدر قریب ہیں کہ اقبال ان کے ذہن و فکر اور ان دل چسپیوں میں اس طرح شامل ہیں کہ وہ ان کی تعلیمات کو مزید عام کرنے کے منصوبے بنا کر کامیاب بھی ہو سکتے ہیں۔ کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ افضل رضوی نے کلام اقبال کا لفظ لفظ مطالعہ کیا ہے جس میں فارسی کلام کی بخیہ گری بھی شامل ہے۔ اس کاوش کو منظر عام پر لانے والے افراد مبارک باد کے مستحق ہیں۔ جامعہ کراچی شعبۂ اُردو کے سابق پروفیسرڈاکٹر یونس حسنی نے کہا کہ افضل رضوی خود سائنس کے آدمی ہیں وہ نباتات اور ان کے خواص سے واقف ہیں اسی واقفیت نے کلام اقبال میں نباتات کی معنویت تلاش کرنے میں ان کی مدد کی۔ ان کی کتاب میں ۲۶ نباتات زیر قلم آئی ہیں۔ ان سب کا انھوں نے تجزیہ کیا ہے۔ ایک ادیب، قلم کار اور سائنس داں کی حیثیت سے ان کو پرکھا اور پیش کیا ہے۔ اقبال نے جن پھولوں کا تذکرہ بکثرت کیا ہے وہ سب خون رنگ ہیں۔ گل، لالہ، ارغوان اور دیگر بہت سے پھول سرخ ہوتے ہیں یہ سرخی خوں آشامی اور جدوجہد کی علامت بھی ہے اور نجد و حجاز کی سخت آب و ہوا میں جہد مسلسل کی داستان بھی۔ علامہ اقبال کا رویہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ پھولوں کلیوں کے ذریعے اپنے فلسفے کی نمو کرتے ہیں۔ ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ ایک بڑا دقیق اور محنت طلب مطالعہ تھا جسے تحقیق کے تقاضوں اور تنقیدی شعور کے ساتھ خوب صورتی سے انجام دیا گیا۔ اس پر افضل رضوی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ وائس چانسلر بقائی میڈیکل یونی ورسٹی پروفیسر زاہدہ بقائی کی نمایندگی کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ مصنف افضل رضوی نے تحقیق کے ساتھ ساتھ قلم کا بھی حق ادا کیا ہے۔ ان کی آیندہ کتاب کی طباعت بھی ہمارے لیے ایک بڑا اعزاز ہوگی۔ کتاب پر اظہارِ خیال کرنے والوں میں رضوان صدیقی بھی شامل تھے۔ انھوں نے پوری کتاب کا ایک سرجن کی طرح پوسٹ مارٹم کیا اور بتایا کہ کس پھول کا کتنی مرتبہ تذکرہ آیا ہے ۔اس کے لیے کیا کیا استعارے اور پیرایہ اظہار اختیار کیا گیا ۔ اُردو لغت بورڈ کے ڈاکٹر شاہد ضمیر نے بھی اپنا مضمون پڑھا ۔ اس موقع پر محبان بھوپال کی بانی اور چیئرپرسن محترمہ شگفتہ فرحت نے بھی تقریب کے اجرا کو اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا: فورم علم و ادب اور کتب اور صاحبان کتاب کی عزت افزائی کرتا رہا ہے اور آیندہ بھی اس طرح کی خوب صورت تقاریب کا انعقاد ہوتا رہے گا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر انیس زیدی نے وسیع المطالعہ شخص کے طور پر انجام دیے اور تقریب دوسرے حصے کی نظامت اویس ادیب انصاری نے انجام دئیے۔ آخر میں کراچی یونی ورسٹی گریجویٹس فورم کینیڈا کراچی چیپٹر کی ڈائریکٹر سلمیٰ خانم نے اظہار تشکر کرتے ہوئے مستقبل میں بھی اچھی پروگراموں کی نوید سنائی۔ اس موقع پر مہمانوں کو پھول اور تحائف اشتیاق طالب، فرحت محسن، اقبال احمد خان، زہین عالم، سید ناصر علی، شہانہ جاوید نے پیش کیے۔ قریب میں بڑی تعداد میں ادیب و شاعر، علمی شخصیات موجود تھی جب کہ نمایاں افراد میں محمود العزیز، عثمان دموہی، پروفیسرشاہین حبیب، وقار شیرانی، وقار زیدی، رونق حیات، شائستہ فرحت، عارف انصاری، فرحت اللہ قریشی اور دیگر موجود تھے۔
٭ ’’نئی بریل پرنٹنگ مشین‘‘ کی افتتاحی تقریب
نیشنل بک فائونڈیشن کی ایک تقریب میں شہر کی معتبر شخصیات اور کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ شامل قریب ہوئے۔ دراصل نابینا افراد کی بک ریڈنگ کے سلسلے میں ’’نئی بریل پرنٹنگ مشین‘‘ کی افتتاحی تقریب اس لیے بھی اہمیت کی حامل رہی ہے کہ این بی ایف کا یہ ایک مثبت اقدام تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی مشیر وزیر اعظم برائے ادب و تاریخی ورثہ عرفان صدیقی تھے۔ وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن، ایم ڈی انعام الحق جاوید، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، عامر اشرف اور مبین مرزا نے اظہار خیال کیا۔ پروف ریڈر عرفان ریاض نے تلاوت کی جب کہ ثمینہ رحمٰن نے نعت رسول پیش کی۔
ڈاکٹرانعام الحق جاوید نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی کمپوٹرائز سیریل مشین عرفان صدیقی صاحب اور انجینئر عامر حسن کی خصوصی توجہ سے فراہم کی گئی۔ نئی بریل مشین ایک گھنٹے میں تین سو (300) صفحات تیار کرے گی۔ بصارت سے محوم افراد کو کتاب فراہم کرنے کا ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا ہے، ان افراد کو علامتی ہدیے پر کتب دی جائیں گی۔ این بی ایف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے قرآن مجید شایع کیا، انعام الحق جاوید نے کہا کہ میں جب بھی کراچی آتا ہوں، کتاب دوست افراد شاعر ادیب پوچھتے ہیں کہ شہر کتاب کا خواب کیا ہوا عرفان صدیقی اس سلسلے میں بتائیں گے میں وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن کا ممنون ہوں کہ کتاب دوستی کے لیے اسلام آباد سے کراچی آئے۔ اس موقع پر مبین مرزا نے کہا کہ انعام الحق جاوید نے کتاب کلچر کے فروغ کے لیے غیر معمولی کردار انجام دیا ہے اور عرفان صدیقی نے سرپرستی کی ہے ۔این بی ایف کے اعداد و شمار کو دیکھیںتو محسوس ہوگا کہ کتاب کلچر کا فروغ کس قدر ہوا ہے۔ بلائنڈ ایسوسی ایشن کے عامر اشرف نے کہا کہ یہ بریل مشین این بی ایف کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور حکومت پاکستان کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے، ہر زبان میں اس کا لٹریچر موجود ہے۔ بریل مینجمنٹ کمیٹی باقاعدہ تشکیل دی گئی کہ نابینا افراد کے لیے کتابیں شایع کی جائیں این بی ایف اور بلائنڈ کے معاملات کے سلسلے میں وزیر اعظم سے ملاقات چاہتے ہیں۔ بریل والوں کے مسائل آج تک حل نہیں ہو سکے، اس کی لکھائی اور پروف ریڈنگ مشکل ہے، ان کے اسٹاف کو پروموشن نہیں دیا جاتا ۔
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم وائس چانسلر ضیاء الدین یونی ورسٹی نے اس موقع پر کہا کہ ٹیکنالوجی کے آگے جانے کا زمانہ ہے۔ یہ وزارتیں پہلے بھی تھیں لیکن عرفان صدیقی کی وجہ سے تمام ادارے فعال ہو گئے اکادمی ادبیا، ڈکشنری بورڈ اور این بی ایف آخری سانسیں لے رہے تھے۔ انھوں نے اقبال اکیڈمی کے مسئلے کو بھی حل کیا، اسے اہمت دی آج وہ اپنے قدموں پر کھڑی ہوگئی۔ ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔ عرفان صدیقی کو اللہ ہمت اور استقامت دے۔ وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ مشیر وزیر اعظم عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ مجھے بیوروکریٹ نہیں بلکہ فیسیلیٹ کرنے والا چاہیے۔ 12 محکمے ہمارے پاس ہیں، جس میں ایک این بی ایف ہے۔ ہم بلائنڈ ایسوسی ایشن کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ خصوصی طور پر انعام الحق جاوید اور ان کی کاوشوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اسی طرح کئی مشینیں یہاں لگائی جائیں گی۔
آخر میں مشیر وزیر اعظم ادبی و تاریخی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا کہ شہر کے ادیبوں، دانشوروں نے رونق بخشی اور ہماری عزت افزائی کی۔ پیرزادہ قاسم نے بڑی محبت کے ساتھ کلمات تحسین کہے۔ انھوں نے کہاکہ مزید مشینیں لانے کے لیے ساڑھے تین کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انعام الحق جاوید بڑی کاوش کر رہے ہیں۔ عقیل عباس جعفری ہماری نئی ٹیم کے ممبر ہیں۔ انھوں نے قومی اُردو لغت جو 22 ہزار صفحات پر مشتمل تھی، پوری ڈکشنری نیٹ پر لے آئے ہیں، باضابطہ افتتاح صدر گرامی کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ قائد اعظم اکیڈمی کا حال دیکھ کر افسوس ہوا تھا اب خواجہ رضی حیدر نے اسے سنبھالا ہے۔ بہتری کی طرف آ رہے ہیں۔ کتاب کلچر فروغ ا رہا ہے، 106 نئی کتابیں شایع ہوئی ہیں، جو کروڑوں روپوں میں فروخت ہوئی ہیں۔ اکادمی ادبیات کی شاخوں کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس نئے مالی سال میں اکیڈمی کی پانچ شاخیں قائم ہوں گی۔ یہ شاخیں دادو، مظفر آباد، گلگت اور فاٹا میں قائم کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں 10کروڑ روپے کی منظوری دی ہے ۔جگہ کا انتظار ہے، بہر حال یہ ادارے پھل پھول رہے ہیں، ان کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 50 کروڑ روپے سابق وزیر اعظم نے دیے تھے، جسے ہم نے انویسٹ کر دیا ہے۔ بہر حال جو ہمارے دائرہ کار میں ہے اسے پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں بلائنڈ ایسوسی ایشن کے عامر اشرف کو بلینک چیک دے رہا ہوں وہ اگر وزیر اعظم کے پاس جائیں گے تو بھی انھوں نے مجھے ہی کہنا ہے۔قارئین یہ ایک بھرپور تقریب تھی قبل از عرفان صدیقی نے باقاعدہ افتتاح کیا، نظامت کے فرائض معروف شاعر حنیف عابد نے انجام دیے۔
٭رسا چغتائی کی یاد میں مشاعرہ
گزشتہ دنوں ’’یادگارِ نور احمد میرٹھی‘‘ اور ’’ادارۂ فکرِ نو کراچی‘‘ کے زیرِ اہتمام بر صغیر کے صاحب اُسلوب شاعر جناب رسا چغتائی کی یاد میں مشاعرہ اور مذاکرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت معروف سینئر شاعر جناب رشید اثر نے کی۔ مہمانِ خصوصی کا منصب معروف شاعر و ادیب، اسلامی اسکالر اور قرآن انسائیکلوپیڈیا کے مولف جناب سعید الظفر صدیقی کے سپردہوا، اور مہمانانِ اعزازی کی مسند جناب اکرم کنجاہی اور حامد اسلام صاحب کے حصے میں آئی۔
نظامت جناب رشید خان رشید نے کی۔ دو نشستوں پر مبنی اس تقریب کا پہلا سیشن رسا چغتائی مرحوم پر تعزیتی ریفرنس ، مذاکرہ اور گفتگو تھا۔ مقررین میں جناب پروفیسر شاہدکمال، حامد اسلام اور استاد انصاری نے مرحوم کی یادوں اور باتوں کو شاملِ گفتگو کیا۔
اکرم کنجاہی صاحب جو کہ ایک معروف شاعر ہیں، رسا چغتائی مرحوم پر خصوصی مقررکے طورپر شریکِ محفل تھے۔ اکرم کنجاہی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں برمحل اور فی البدیع گفتگو کی، جس میں رسا چغتائی کی فکر ، انداز اور خیال و بیان کو پیش کیا۔
پروفیسر شاہد کمال درس و تدریس سے وابستہ ہونے کی بنا پرانھوں نے مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں پر دلچسپ گفتگو کی۔ دیگر مقررین نے بھی مرحوم پر عمدہ اظہارِ خیال کیا ۔
نشست کے دوسرے مرحلے میں مشاعرے کا آغازہوا اور نظامت کار جناب رشید خان رشید نے پانچ اشعار پڑھ کر اور اختصار کی تاکید کرکے شعرائے کرام کو دعوت کلام دی۔ اس تقریب میں مرحوم کی صاحب زادی ، مہک راشد نواسی اور دیگر فیملی کے لوگ شریک تھے۔ مرحوم کی نواسی نے جو کہ نورِ بصارت سے محروم ہے مگر انتہائی خوش گلو،مترنم آواز اور گائیکی کے فن و رموز اور سر تال سے واقفیت رکھنے اور خدا داد صلاحیتو ں کی حامل ہونے کے سبب رسا چغتائی صاحب کی غزل سنا کر سما باندھ دیا۔
محفلِ مشاعرہ میں جن شعرائے کرام نے اپنا کلام نذر سامعین کیا ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: جناب رشید خان رشید ، یاسرسعید صد یقی ، اسحاق خان اسحاق ، شاہ روم خان ولی , تنویر سخن ، شبیر احرم، محسن سلیم ، کشور عدیل جعفری، سعید احمد خان ،شاہد ا قبال شاہد، سخاوت علی نادر، یوسف چشتی ، ڈاکٹر نثار احمد نثار، محمد علی گوہر ، سلیم فوز ، استاد انور انصاری ، پروفیسر شاہد کمال، فیاض علی فیاض، اقبال خاور، اختر سعیدی ، وسیم ساغر، علی اوسط جعفری ، غلام علی وفا،آصف رضا رضوی ، ظفر محمد خان ظفر ، اکرم کنجاہی، سعید الظفر صدیقی اور رشید اثر۔


متعلقہ خبریں


طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم انہوں نے یہ بات ایک مرتبہ پھر دہرائی ہے کہ امریکی فوج تین چار دن میں افغانستان کو فتح کرسکتی ہے مگر میں ایک کروڑ افراد کو مارنا نہیں چاہتا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ میں ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی بات کررہا ہوں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے گزشتہ ماہ بھی ایسا ہی بیان دیا تھا جس پر افغان حکومت نے احت...

روایتی ہتھیاروں سے تین دن میں افغانستان فتح کرسکتے ہیں، صدر ٹرمپ

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت وجود - منگل 06 اگست 2019

اسرائیلی ریاست کی طرف سے سال 2018ء کے دوران فلسطینی بچوں کے وحشیانہ قتل عام کے واقعات کے باوجود اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کو بلیک لسٹ یعنی شیم لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت قرار دیا جا رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ تسلیم کرچکی ہے کہ اسرائیل سال 2018ء کے دوران بھی ماضی کی طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام میں ملوث رہا ہے مگر اس کے باوجود اقوام متحدہ نے صہیونی ریاست کے جرائم پر پردہ ڈال کر قا...

جنگی جرائم پراسرائیل کا نام بلیک لسٹ میں شامل نہ کرنا قابل مذمت

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

نامور ریسلر اور ہالی ووڈ اداکار ڈوین جانسن عرف ’دی راک‘ نے فوربس کی جانب سے جاری کردہ 2019 کی سب سے زیادہ کمانے والے ہالی ووڈ اداکاروں کی فہرست میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔جانسن نے رواں برس سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں کام کیا اور 89.4 ملین ڈالرز کمائے۔47 سالہ ایکٹر اور ریسلر نے ’فاسٹ اینڈ فیورس‘ فرنچائز کی فلم ’ہوبس اینڈ شاو‘ اور ’جمانجی دی نیکسٹ لیول‘ جیسی فلموں کے ذریعے سب سے زیادہ کمائی کی۔دوسری جانب دی راک کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 151 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ام...

دی راک نے 2019ء میں کمائی میں سب ہالی ووڈ اداکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا نے چین کو باضابطہ طور پر کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔ گزشتہ روز اہم کرنسیوں کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں ریکارڈ کمی نوٹ کی گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی نہ روکنے کے اقدام کو امریکا اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ میں چینی ردِ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی حکومت کے مطابق امریکا چینی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث چین کو حاصل ہونے والی غیر منصفانہ تجارتی مسابقت کے خاتمے کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کرے گا۔ ...

امریکا نے چین کو کرنسی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والا ملک قرار دے دیا

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین میں رومن آرتھوڈوکس چرچ کے ایک سرکردہ پادری بشپ عطا اللہ حنا نے امریکا میں اسرائیل کے دفاع کے لیے کام کرنیوالی ایک نام نہاد عیسائی تنظیم کو مشکوک قرار دیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عطا اللہ حنا نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا میں قائم عیسائی اتحاد برائے اسرائیل نامی تنظیم فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے جرائم اور دہشت گردی کا دفاع کررہی ہے۔ فلسطینی عیسائی برادری اس تنظیم سے مکمل لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔ ان کا کہنا کہ امریکی ح...

فلسطینی پادری نے اسرائیل کا دفاع کرنے والی عیسائی تنظیم مشکوک قرار دی

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید وجود - منگل 06 اگست 2019

انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورکہاہے کہ ناکہ بندی، رابطوں کے ذرائع منقطع کرنے اور پر امن مظاہروں پر پابندی نے کشمیری عوام کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے اب تک کشمیر میں انٹرنیٹ اور رابطوں کے دیگر ذرائع منقطع ہیں، بھارتی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیریو...

مقبوضہ کشمیر میں رابطوں کے ذرائع منقطع کیے جانے پرعالمی تنظیموں کی تنقید

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں وجود - منگل 06 اگست 2019

فلسطین کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ جولائی 2019ء میں اسرائیلی فوج اور دیگر صہیونی ریاستی اداروں کی طرف سے فلسطین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کیواقعات میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طورپر صحافتی حقوق کی 74 بار پامالی کی گئی۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت اطلاعات کے صحافتی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھنے والے شعبے کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں صحافیوں کی گرفتاریوں، ان کے گھروں پرچھاپوں، توہین آمیز طرزعمل، انہیں...

جولائی میں صہیونی حکام کی طرف سے صحافتی حقوق کی 74 پامالیاں

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ وجود - منگل 06 اگست 2019

امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر مزید 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین نے امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد امریکی اسٹاک رواں ہفتے کے پہلے روز سال کی کم ترین سطح پر بند ہوئی۔چین نے امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری روکنے کافیصلہ کیاہے اور ساتھ ہی ان پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا بھی عندیہ دیاہے۔چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی قدر میں مزید کمی کردی تھی۔تمام تر صورتحال میں امریکی اسٹاک ڈاو جونز میں سال کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہوئی، دن کے اختتا...

چین کا امریکی زرعی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ وجود - منگل 06 اگست 2019

افغانستان میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری امن مذاکرات کے حتمی سمجھوتے پر دستخط 13 اگست کو متوقع ہیں۔زاہد نصراللہ نے امریکی نشریاتی ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 13 اگست کو حتمی سمجھوتہ طے پا جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل افغان طالبان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا کے معاملے پر اختلافات دور ہو گئے ہیں۔مذاکرات کے دوران طالبان نے بھی امریکہ کو یہ یقین دہان...

امریکا،طالبان کے درمیان حتمی سمجھوتا 13 اگست کو متوقع ہے،پاکستانی سفیر کا دعویٰ

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی وجود - بدھ 31 جولائی 2019

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائرروی سندرام کی چھٹی جبکہ مائیکل گف اور جوئیل ولسن کو شامل کرلیا گیا۔انگلینڈ کے مائیکل گف اور ویسٹ انڈین جوئیل ولسن کو آئی سی سی الیٹ پینل آف امپائرز میں جگہ مل گئی، فیصلہ امپائرز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کیا،اس کے دیگر ارکان میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجے منجریکر، میچ ریفریز رنجن مدوگالے اور ڈیوڈ بون شامل ہیں۔گف 9ٹیسٹ، 59ون ڈے اور 14ٹی ٹوئنٹی میں ...

آئی سی سی الیٹ پینل سے واحد بھارتی امپائر کی چھٹی

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان وجود - منگل 30 جولائی 2019

سوڈان کی فوجی عبوری کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرھان نے کہا ہے کہ کسی ایک سوڈانی شہری کا قتل بھی قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔ لڑائی کا فوری اور موثر حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں فوج کی شمولیت صرف شراکت کے فارمولے کے تحت ہے۔شمالی کردفان ریاست کے الابیض شہر میں ہونے والے فسادات کا کوئی جواز نہیں۔ان فسادات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنرل البرھان نے کہا کہ الابیض شہر میں تشدد کے واقعات ناقابل قبول ہیں۔ بے گناہ شہ...

ملک و قوم کے مفاد میں اقتدار میں شراکت کا فیصلہ کیا،جنرل البرھان