وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 04 فروری 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

٭ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کے لیے ایوارڈ
ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی بہ عنوان’’اُردو میں ترقی پسند تنقید کا تحقیقی مطالعہ‘‘لکھاتھا جس پر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی تھی،اب اس مقالے کو انجمن ترقی اردو،کراچی نے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے،جس پرڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو انجمن ترقی پسند مصنفین نے ایوارڈبرائے ۲۰۱۷ء سے نوازا ہے،ہم ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
٭جناب عقیل دانش کے اعزاز میں شعری نشست
سینئر شاعراور عمارت کار کے مدیر جناب حیات رضوی امروہوی کی رہائش گاہ پر گزشتہ دنوں برطانیہ سے تشریف ہوئے معروف شاعر جناب عقیل دانش کے اعزاز میں ایک مختصر سی شعری نشست کا انعقاد کیاگیا،جس کی صدارت پاکستان کے معروف شاعر جناب سرور جاوید نے کی اور نظامت کے فرائض میزبان مشاعرہ جناب حیات رضوی نے سر انجام دیے،اس محفل میں معروف قانون دان اور مشہورشاعر جناب مسلم شمیم بھی تشریف لائے مگر ناسازی طبیعت کی بنا پر محفل میں شرکت نہ کر سکے۔اس شعری نشست میں کلام نذر سامعین کرنے والے شعرامیں جناب خالد حسن رضوی،نجیب عمر،ڈاکٹر اختر ہاشمی،شاعرعلی شاعر ،سلمان صدیقی اور شمس الغنی شامل تھے،شعری نشست کا اختتام دعوت پُر ضیافت پر ہوا۔
٭ افضل رضوی کی کتاب
’’دَر برگِ لالہ و گل‘‘ کی تقریب اجرا
محبان بھوپال فورم اور بقائی میڈیکل یونی ورسٹی کے زیرِ اہتمام یونی ورسٹی آف کراچی گریجویٹس فورم کینڈا کراچی چیپٹر کے تعاون سے آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی دانش ور افضل رضوی کی کتاب ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ کی تقریب اجرا کا انعقاد مقامی کلب میں ہوا۔ تقریب کی صدارت جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کی۔ انھوں نے صدارتی خطاب میں کہا کہ افضل رضوی کی بیش بہا تحقیق پر سرسری گفتگو کتاب اور اس کے مصنف کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ علامہ اقبال کا پورا کلام توجہ اور غور و فکر کا طلب گار ہے۔ ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ پر ہمارے فاضل اساتذہ اور مقررین جو کچھ کہہ چکے یا اپنے مقالات میں پیش کر چکے ہیں اس سے علامہ کی فکر کا ایک اور دریچہ سامنے آیا ہے۔ آسٹریلیا میں بیٹھ کر اتنا وقیع کام کرنا افضل رضوی کا لاثانی کارنامہ ہے۔ کتاب ہمارے سامنے اقبال کی فکر رسا اور منازل فکر و فن طے کرتی چلی جاتی ہے۔ میرے عزیز دوست پروفیسر فرید الدین بقائی مرحوم نے اس تصنیف کو طبع کر کے اقبال اور اُردو کا نام بلند کر دیا ہے۔ کراچی یونی ورسٹی کے سابق پروفیسر اور دورِ طالب علمی میں سب سے کم عمری اور کم مدت میں ڈاکٹریٹ کرنے والے پروفیسر معین الدین عقیل نے کہا کہ اس کتاب کا مطالعہ میرے لیے نیا اور پُر کشش تھا۔ اقبال کی مقبولیت کوکہاں کہاں اور کس کس مقام تک رسائی حاصل نہیں، افضل رضوی پیشہ ورانہ طور پر سائنس کے شعبوں اور تدریس سے منسلک ہیں لیکن وہ علم و ادب سے اس قدر قریب ہیں کہ اقبال ان کے ذہن و فکر اور ان دل چسپیوں میں اس طرح شامل ہیں کہ وہ ان کی تعلیمات کو مزید عام کرنے کے منصوبے بنا کر کامیاب بھی ہو سکتے ہیں۔ کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ افضل رضوی نے کلام اقبال کا لفظ لفظ مطالعہ کیا ہے جس میں فارسی کلام کی بخیہ گری بھی شامل ہے۔ اس کاوش کو منظر عام پر لانے والے افراد مبارک باد کے مستحق ہیں۔ جامعہ کراچی شعبۂ اُردو کے سابق پروفیسرڈاکٹر یونس حسنی نے کہا کہ افضل رضوی خود سائنس کے آدمی ہیں وہ نباتات اور ان کے خواص سے واقف ہیں اسی واقفیت نے کلام اقبال میں نباتات کی معنویت تلاش کرنے میں ان کی مدد کی۔ ان کی کتاب میں ۲۶ نباتات زیر قلم آئی ہیں۔ ان سب کا انھوں نے تجزیہ کیا ہے۔ ایک ادیب، قلم کار اور سائنس داں کی حیثیت سے ان کو پرکھا اور پیش کیا ہے۔ اقبال نے جن پھولوں کا تذکرہ بکثرت کیا ہے وہ سب خون رنگ ہیں۔ گل، لالہ، ارغوان اور دیگر بہت سے پھول سرخ ہوتے ہیں یہ سرخی خوں آشامی اور جدوجہد کی علامت بھی ہے اور نجد و حجاز کی سخت آب و ہوا میں جہد مسلسل کی داستان بھی۔ علامہ اقبال کا رویہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ پھولوں کلیوں کے ذریعے اپنے فلسفے کی نمو کرتے ہیں۔ ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ ایک بڑا دقیق اور محنت طلب مطالعہ تھا جسے تحقیق کے تقاضوں اور تنقیدی شعور کے ساتھ خوب صورتی سے انجام دیا گیا۔ اس پر افضل رضوی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ وائس چانسلر بقائی میڈیکل یونی ورسٹی پروفیسر زاہدہ بقائی کی نمایندگی کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ مصنف افضل رضوی نے تحقیق کے ساتھ ساتھ قلم کا بھی حق ادا کیا ہے۔ ان کی آیندہ کتاب کی طباعت بھی ہمارے لیے ایک بڑا اعزاز ہوگی۔ کتاب پر اظہارِ خیال کرنے والوں میں رضوان صدیقی بھی شامل تھے۔ انھوں نے پوری کتاب کا ایک سرجن کی طرح پوسٹ مارٹم کیا اور بتایا کہ کس پھول کا کتنی مرتبہ تذکرہ آیا ہے ۔اس کے لیے کیا کیا استعارے اور پیرایہ اظہار اختیار کیا گیا ۔ اُردو لغت بورڈ کے ڈاکٹر شاہد ضمیر نے بھی اپنا مضمون پڑھا ۔ اس موقع پر محبان بھوپال کی بانی اور چیئرپرسن محترمہ شگفتہ فرحت نے بھی تقریب کے اجرا کو اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا: فورم علم و ادب اور کتب اور صاحبان کتاب کی عزت افزائی کرتا رہا ہے اور آیندہ بھی اس طرح کی خوب صورت تقاریب کا انعقاد ہوتا رہے گا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر انیس زیدی نے وسیع المطالعہ شخص کے طور پر انجام دیے اور تقریب دوسرے حصے کی نظامت اویس ادیب انصاری نے انجام دئیے۔ آخر میں کراچی یونی ورسٹی گریجویٹس فورم کینیڈا کراچی چیپٹر کی ڈائریکٹر سلمیٰ خانم نے اظہار تشکر کرتے ہوئے مستقبل میں بھی اچھی پروگراموں کی نوید سنائی۔ اس موقع پر مہمانوں کو پھول اور تحائف اشتیاق طالب، فرحت محسن، اقبال احمد خان، زہین عالم، سید ناصر علی، شہانہ جاوید نے پیش کیے۔ قریب میں بڑی تعداد میں ادیب و شاعر، علمی شخصیات موجود تھی جب کہ نمایاں افراد میں محمود العزیز، عثمان دموہی، پروفیسرشاہین حبیب، وقار شیرانی، وقار زیدی، رونق حیات، شائستہ فرحت، عارف انصاری، فرحت اللہ قریشی اور دیگر موجود تھے۔
٭ ’’نئی بریل پرنٹنگ مشین‘‘ کی افتتاحی تقریب
نیشنل بک فائونڈیشن کی ایک تقریب میں شہر کی معتبر شخصیات اور کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ شامل قریب ہوئے۔ دراصل نابینا افراد کی بک ریڈنگ کے سلسلے میں ’’نئی بریل پرنٹنگ مشین‘‘ کی افتتاحی تقریب اس لیے بھی اہمیت کی حامل رہی ہے کہ این بی ایف کا یہ ایک مثبت اقدام تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی مشیر وزیر اعظم برائے ادب و تاریخی ورثہ عرفان صدیقی تھے۔ وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن، ایم ڈی انعام الحق جاوید، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، عامر اشرف اور مبین مرزا نے اظہار خیال کیا۔ پروف ریڈر عرفان ریاض نے تلاوت کی جب کہ ثمینہ رحمٰن نے نعت رسول پیش کی۔
ڈاکٹرانعام الحق جاوید نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی کمپوٹرائز سیریل مشین عرفان صدیقی صاحب اور انجینئر عامر حسن کی خصوصی توجہ سے فراہم کی گئی۔ نئی بریل مشین ایک گھنٹے میں تین سو (300) صفحات تیار کرے گی۔ بصارت سے محوم افراد کو کتاب فراہم کرنے کا ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا ہے، ان افراد کو علامتی ہدیے پر کتب دی جائیں گی۔ این بی ایف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے قرآن مجید شایع کیا، انعام الحق جاوید نے کہا کہ میں جب بھی کراچی آتا ہوں، کتاب دوست افراد شاعر ادیب پوچھتے ہیں کہ شہر کتاب کا خواب کیا ہوا عرفان صدیقی اس سلسلے میں بتائیں گے میں وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن کا ممنون ہوں کہ کتاب دوستی کے لیے اسلام آباد سے کراچی آئے۔ اس موقع پر مبین مرزا نے کہا کہ انعام الحق جاوید نے کتاب کلچر کے فروغ کے لیے غیر معمولی کردار انجام دیا ہے اور عرفان صدیقی نے سرپرستی کی ہے ۔این بی ایف کے اعداد و شمار کو دیکھیںتو محسوس ہوگا کہ کتاب کلچر کا فروغ کس قدر ہوا ہے۔ بلائنڈ ایسوسی ایشن کے عامر اشرف نے کہا کہ یہ بریل مشین این بی ایف کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور حکومت پاکستان کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے، ہر زبان میں اس کا لٹریچر موجود ہے۔ بریل مینجمنٹ کمیٹی باقاعدہ تشکیل دی گئی کہ نابینا افراد کے لیے کتابیں شایع کی جائیں این بی ایف اور بلائنڈ کے معاملات کے سلسلے میں وزیر اعظم سے ملاقات چاہتے ہیں۔ بریل والوں کے مسائل آج تک حل نہیں ہو سکے، اس کی لکھائی اور پروف ریڈنگ مشکل ہے، ان کے اسٹاف کو پروموشن نہیں دیا جاتا ۔
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم وائس چانسلر ضیاء الدین یونی ورسٹی نے اس موقع پر کہا کہ ٹیکنالوجی کے آگے جانے کا زمانہ ہے۔ یہ وزارتیں پہلے بھی تھیں لیکن عرفان صدیقی کی وجہ سے تمام ادارے فعال ہو گئے اکادمی ادبیا، ڈکشنری بورڈ اور این بی ایف آخری سانسیں لے رہے تھے۔ انھوں نے اقبال اکیڈمی کے مسئلے کو بھی حل کیا، اسے اہمت دی آج وہ اپنے قدموں پر کھڑی ہوگئی۔ ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔ عرفان صدیقی کو اللہ ہمت اور استقامت دے۔ وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ مشیر وزیر اعظم عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ مجھے بیوروکریٹ نہیں بلکہ فیسیلیٹ کرنے والا چاہیے۔ 12 محکمے ہمارے پاس ہیں، جس میں ایک این بی ایف ہے۔ ہم بلائنڈ ایسوسی ایشن کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ خصوصی طور پر انعام الحق جاوید اور ان کی کاوشوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اسی طرح کئی مشینیں یہاں لگائی جائیں گی۔
آخر میں مشیر وزیر اعظم ادبی و تاریخی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا کہ شہر کے ادیبوں، دانشوروں نے رونق بخشی اور ہماری عزت افزائی کی۔ پیرزادہ قاسم نے بڑی محبت کے ساتھ کلمات تحسین کہے۔ انھوں نے کہاکہ مزید مشینیں لانے کے لیے ساڑھے تین کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انعام الحق جاوید بڑی کاوش کر رہے ہیں۔ عقیل عباس جعفری ہماری نئی ٹیم کے ممبر ہیں۔ انھوں نے قومی اُردو لغت جو 22 ہزار صفحات پر مشتمل تھی، پوری ڈکشنری نیٹ پر لے آئے ہیں، باضابطہ افتتاح صدر گرامی کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ قائد اعظم اکیڈمی کا حال دیکھ کر افسوس ہوا تھا اب خواجہ رضی حیدر نے اسے سنبھالا ہے۔ بہتری کی طرف آ رہے ہیں۔ کتاب کلچر فروغ ا رہا ہے، 106 نئی کتابیں شایع ہوئی ہیں، جو کروڑوں روپوں میں فروخت ہوئی ہیں۔ اکادمی ادبیات کی شاخوں کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس نئے مالی سال میں اکیڈمی کی پانچ شاخیں قائم ہوں گی۔ یہ شاخیں دادو، مظفر آباد، گلگت اور فاٹا میں قائم کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں 10کروڑ روپے کی منظوری دی ہے ۔جگہ کا انتظار ہے، بہر حال یہ ادارے پھل پھول رہے ہیں، ان کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 50 کروڑ روپے سابق وزیر اعظم نے دیے تھے، جسے ہم نے انویسٹ کر دیا ہے۔ بہر حال جو ہمارے دائرہ کار میں ہے اسے پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں بلائنڈ ایسوسی ایشن کے عامر اشرف کو بلینک چیک دے رہا ہوں وہ اگر وزیر اعظم کے پاس جائیں گے تو بھی انھوں نے مجھے ہی کہنا ہے۔قارئین یہ ایک بھرپور تقریب تھی قبل از عرفان صدیقی نے باقاعدہ افتتاح کیا، نظامت کے فرائض معروف شاعر حنیف عابد نے انجام دیے۔
٭رسا چغتائی کی یاد میں مشاعرہ
گزشتہ دنوں ’’یادگارِ نور احمد میرٹھی‘‘ اور ’’ادارۂ فکرِ نو کراچی‘‘ کے زیرِ اہتمام بر صغیر کے صاحب اُسلوب شاعر جناب رسا چغتائی کی یاد میں مشاعرہ اور مذاکرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت معروف سینئر شاعر جناب رشید اثر نے کی۔ مہمانِ خصوصی کا منصب معروف شاعر و ادیب، اسلامی اسکالر اور قرآن انسائیکلوپیڈیا کے مولف جناب سعید الظفر صدیقی کے سپردہوا، اور مہمانانِ اعزازی کی مسند جناب اکرم کنجاہی اور حامد اسلام صاحب کے حصے میں آئی۔
نظامت جناب رشید خان رشید نے کی۔ دو نشستوں پر مبنی اس تقریب کا پہلا سیشن رسا چغتائی مرحوم پر تعزیتی ریفرنس ، مذاکرہ اور گفتگو تھا۔ مقررین میں جناب پروفیسر شاہدکمال، حامد اسلام اور استاد انصاری نے مرحوم کی یادوں اور باتوں کو شاملِ گفتگو کیا۔
اکرم کنجاہی صاحب جو کہ ایک معروف شاعر ہیں، رسا چغتائی مرحوم پر خصوصی مقررکے طورپر شریکِ محفل تھے۔ اکرم کنجاہی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں برمحل اور فی البدیع گفتگو کی، جس میں رسا چغتائی کی فکر ، انداز اور خیال و بیان کو پیش کیا۔
پروفیسر شاہد کمال درس و تدریس سے وابستہ ہونے کی بنا پرانھوں نے مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں پر دلچسپ گفتگو کی۔ دیگر مقررین نے بھی مرحوم پر عمدہ اظہارِ خیال کیا ۔
نشست کے دوسرے مرحلے میں مشاعرے کا آغازہوا اور نظامت کار جناب رشید خان رشید نے پانچ اشعار پڑھ کر اور اختصار کی تاکید کرکے شعرائے کرام کو دعوت کلام دی۔ اس تقریب میں مرحوم کی صاحب زادی ، مہک راشد نواسی اور دیگر فیملی کے لوگ شریک تھے۔ مرحوم کی نواسی نے جو کہ نورِ بصارت سے محروم ہے مگر انتہائی خوش گلو،مترنم آواز اور گائیکی کے فن و رموز اور سر تال سے واقفیت رکھنے اور خدا داد صلاحیتو ں کی حامل ہونے کے سبب رسا چغتائی صاحب کی غزل سنا کر سما باندھ دیا۔
محفلِ مشاعرہ میں جن شعرائے کرام نے اپنا کلام نذر سامعین کیا ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: جناب رشید خان رشید ، یاسرسعید صد یقی ، اسحاق خان اسحاق ، شاہ روم خان ولی , تنویر سخن ، شبیر احرم، محسن سلیم ، کشور عدیل جعفری، سعید احمد خان ،شاہد ا قبال شاہد، سخاوت علی نادر، یوسف چشتی ، ڈاکٹر نثار احمد نثار، محمد علی گوہر ، سلیم فوز ، استاد انور انصاری ، پروفیسر شاہد کمال، فیاض علی فیاض، اقبال خاور، اختر سعیدی ، وسیم ساغر، علی اوسط جعفری ، غلام علی وفا،آصف رضا رضوی ، ظفر محمد خان ظفر ، اکرم کنجاہی، سعید الظفر صدیقی اور رشید اثر۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر