وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی ادبی ڈائری

اتوار 04 فروری 2018 کراچی کی ادبی ڈائری

٭ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کے لیے ایوارڈ
ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی بہ عنوان’’اُردو میں ترقی پسند تنقید کا تحقیقی مطالعہ‘‘لکھاتھا جس پر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی تھی،اب اس مقالے کو انجمن ترقی اردو،کراچی نے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے،جس پرڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو انجمن ترقی پسند مصنفین نے ایوارڈبرائے ۲۰۱۷ء سے نوازا ہے،ہم ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
٭جناب عقیل دانش کے اعزاز میں شعری نشست
سینئر شاعراور عمارت کار کے مدیر جناب حیات رضوی امروہوی کی رہائش گاہ پر گزشتہ دنوں برطانیہ سے تشریف ہوئے معروف شاعر جناب عقیل دانش کے اعزاز میں ایک مختصر سی شعری نشست کا انعقاد کیاگیا،جس کی صدارت پاکستان کے معروف شاعر جناب سرور جاوید نے کی اور نظامت کے فرائض میزبان مشاعرہ جناب حیات رضوی نے سر انجام دیے،اس محفل میں معروف قانون دان اور مشہورشاعر جناب مسلم شمیم بھی تشریف لائے مگر ناسازی طبیعت کی بنا پر محفل میں شرکت نہ کر سکے۔اس شعری نشست میں کلام نذر سامعین کرنے والے شعرامیں جناب خالد حسن رضوی،نجیب عمر،ڈاکٹر اختر ہاشمی،شاعرعلی شاعر ،سلمان صدیقی اور شمس الغنی شامل تھے،شعری نشست کا اختتام دعوت پُر ضیافت پر ہوا۔
٭ افضل رضوی کی کتاب
’’دَر برگِ لالہ و گل‘‘ کی تقریب اجرا
محبان بھوپال فورم اور بقائی میڈیکل یونی ورسٹی کے زیرِ اہتمام یونی ورسٹی آف کراچی گریجویٹس فورم کینڈا کراچی چیپٹر کے تعاون سے آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی دانش ور افضل رضوی کی کتاب ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ کی تقریب اجرا کا انعقاد مقامی کلب میں ہوا۔ تقریب کی صدارت جسٹس (ر) حاذق الخیری نے کی۔ انھوں نے صدارتی خطاب میں کہا کہ افضل رضوی کی بیش بہا تحقیق پر سرسری گفتگو کتاب اور اس کے مصنف کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ علامہ اقبال کا پورا کلام توجہ اور غور و فکر کا طلب گار ہے۔ ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ پر ہمارے فاضل اساتذہ اور مقررین جو کچھ کہہ چکے یا اپنے مقالات میں پیش کر چکے ہیں اس سے علامہ کی فکر کا ایک اور دریچہ سامنے آیا ہے۔ آسٹریلیا میں بیٹھ کر اتنا وقیع کام کرنا افضل رضوی کا لاثانی کارنامہ ہے۔ کتاب ہمارے سامنے اقبال کی فکر رسا اور منازل فکر و فن طے کرتی چلی جاتی ہے۔ میرے عزیز دوست پروفیسر فرید الدین بقائی مرحوم نے اس تصنیف کو طبع کر کے اقبال اور اُردو کا نام بلند کر دیا ہے۔ کراچی یونی ورسٹی کے سابق پروفیسر اور دورِ طالب علمی میں سب سے کم عمری اور کم مدت میں ڈاکٹریٹ کرنے والے پروفیسر معین الدین عقیل نے کہا کہ اس کتاب کا مطالعہ میرے لیے نیا اور پُر کشش تھا۔ اقبال کی مقبولیت کوکہاں کہاں اور کس کس مقام تک رسائی حاصل نہیں، افضل رضوی پیشہ ورانہ طور پر سائنس کے شعبوں اور تدریس سے منسلک ہیں لیکن وہ علم و ادب سے اس قدر قریب ہیں کہ اقبال ان کے ذہن و فکر اور ان دل چسپیوں میں اس طرح شامل ہیں کہ وہ ان کی تعلیمات کو مزید عام کرنے کے منصوبے بنا کر کامیاب بھی ہو سکتے ہیں۔ کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ افضل رضوی نے کلام اقبال کا لفظ لفظ مطالعہ کیا ہے جس میں فارسی کلام کی بخیہ گری بھی شامل ہے۔ اس کاوش کو منظر عام پر لانے والے افراد مبارک باد کے مستحق ہیں۔ جامعہ کراچی شعبۂ اُردو کے سابق پروفیسرڈاکٹر یونس حسنی نے کہا کہ افضل رضوی خود سائنس کے آدمی ہیں وہ نباتات اور ان کے خواص سے واقف ہیں اسی واقفیت نے کلام اقبال میں نباتات کی معنویت تلاش کرنے میں ان کی مدد کی۔ ان کی کتاب میں ۲۶ نباتات زیر قلم آئی ہیں۔ ان سب کا انھوں نے تجزیہ کیا ہے۔ ایک ادیب، قلم کار اور سائنس داں کی حیثیت سے ان کو پرکھا اور پیش کیا ہے۔ اقبال نے جن پھولوں کا تذکرہ بکثرت کیا ہے وہ سب خون رنگ ہیں۔ گل، لالہ، ارغوان اور دیگر بہت سے پھول سرخ ہوتے ہیں یہ سرخی خوں آشامی اور جدوجہد کی علامت بھی ہے اور نجد و حجاز کی سخت آب و ہوا میں جہد مسلسل کی داستان بھی۔ علامہ اقبال کا رویہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ پھولوں کلیوں کے ذریعے اپنے فلسفے کی نمو کرتے ہیں۔ ’’دَربرگِ لالہ و گل‘‘ ایک بڑا دقیق اور محنت طلب مطالعہ تھا جسے تحقیق کے تقاضوں اور تنقیدی شعور کے ساتھ خوب صورتی سے انجام دیا گیا۔ اس پر افضل رضوی مبارک باد کے مستحق ہیں۔ وائس چانسلر بقائی میڈیکل یونی ورسٹی پروفیسر زاہدہ بقائی کی نمایندگی کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ مصنف افضل رضوی نے تحقیق کے ساتھ ساتھ قلم کا بھی حق ادا کیا ہے۔ ان کی آیندہ کتاب کی طباعت بھی ہمارے لیے ایک بڑا اعزاز ہوگی۔ کتاب پر اظہارِ خیال کرنے والوں میں رضوان صدیقی بھی شامل تھے۔ انھوں نے پوری کتاب کا ایک سرجن کی طرح پوسٹ مارٹم کیا اور بتایا کہ کس پھول کا کتنی مرتبہ تذکرہ آیا ہے ۔اس کے لیے کیا کیا استعارے اور پیرایہ اظہار اختیار کیا گیا ۔ اُردو لغت بورڈ کے ڈاکٹر شاہد ضمیر نے بھی اپنا مضمون پڑھا ۔ اس موقع پر محبان بھوپال کی بانی اور چیئرپرسن محترمہ شگفتہ فرحت نے بھی تقریب کے اجرا کو اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا: فورم علم و ادب اور کتب اور صاحبان کتاب کی عزت افزائی کرتا رہا ہے اور آیندہ بھی اس طرح کی خوب صورت تقاریب کا انعقاد ہوتا رہے گا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر انیس زیدی نے وسیع المطالعہ شخص کے طور پر انجام دیے اور تقریب دوسرے حصے کی نظامت اویس ادیب انصاری نے انجام دئیے۔ آخر میں کراچی یونی ورسٹی گریجویٹس فورم کینیڈا کراچی چیپٹر کی ڈائریکٹر سلمیٰ خانم نے اظہار تشکر کرتے ہوئے مستقبل میں بھی اچھی پروگراموں کی نوید سنائی۔ اس موقع پر مہمانوں کو پھول اور تحائف اشتیاق طالب، فرحت محسن، اقبال احمد خان، زہین عالم، سید ناصر علی، شہانہ جاوید نے پیش کیے۔ قریب میں بڑی تعداد میں ادیب و شاعر، علمی شخصیات موجود تھی جب کہ نمایاں افراد میں محمود العزیز، عثمان دموہی، پروفیسرشاہین حبیب، وقار شیرانی، وقار زیدی، رونق حیات، شائستہ فرحت، عارف انصاری، فرحت اللہ قریشی اور دیگر موجود تھے۔
٭ ’’نئی بریل پرنٹنگ مشین‘‘ کی افتتاحی تقریب
نیشنل بک فائونڈیشن کی ایک تقریب میں شہر کی معتبر شخصیات اور کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ شامل قریب ہوئے۔ دراصل نابینا افراد کی بک ریڈنگ کے سلسلے میں ’’نئی بریل پرنٹنگ مشین‘‘ کی افتتاحی تقریب اس لیے بھی اہمیت کی حامل رہی ہے کہ این بی ایف کا یہ ایک مثبت اقدام تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی مشیر وزیر اعظم برائے ادب و تاریخی ورثہ عرفان صدیقی تھے۔ وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن، ایم ڈی انعام الحق جاوید، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، عامر اشرف اور مبین مرزا نے اظہار خیال کیا۔ پروف ریڈر عرفان ریاض نے تلاوت کی جب کہ ثمینہ رحمٰن نے نعت رسول پیش کی۔
ڈاکٹرانعام الحق جاوید نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی کمپوٹرائز سیریل مشین عرفان صدیقی صاحب اور انجینئر عامر حسن کی خصوصی توجہ سے فراہم کی گئی۔ نئی بریل مشین ایک گھنٹے میں تین سو (300) صفحات تیار کرے گی۔ بصارت سے محوم افراد کو کتاب فراہم کرنے کا ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا ہے، ان افراد کو علامتی ہدیے پر کتب دی جائیں گی۔ این بی ایف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے قرآن مجید شایع کیا، انعام الحق جاوید نے کہا کہ میں جب بھی کراچی آتا ہوں، کتاب دوست افراد شاعر ادیب پوچھتے ہیں کہ شہر کتاب کا خواب کیا ہوا عرفان صدیقی اس سلسلے میں بتائیں گے میں وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن کا ممنون ہوں کہ کتاب دوستی کے لیے اسلام آباد سے کراچی آئے۔ اس موقع پر مبین مرزا نے کہا کہ انعام الحق جاوید نے کتاب کلچر کے فروغ کے لیے غیر معمولی کردار انجام دیا ہے اور عرفان صدیقی نے سرپرستی کی ہے ۔این بی ایف کے اعداد و شمار کو دیکھیںتو محسوس ہوگا کہ کتاب کلچر کا فروغ کس قدر ہوا ہے۔ بلائنڈ ایسوسی ایشن کے عامر اشرف نے کہا کہ یہ بریل مشین این بی ایف کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور حکومت پاکستان کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے، ہر زبان میں اس کا لٹریچر موجود ہے۔ بریل مینجمنٹ کمیٹی باقاعدہ تشکیل دی گئی کہ نابینا افراد کے لیے کتابیں شایع کی جائیں این بی ایف اور بلائنڈ کے معاملات کے سلسلے میں وزیر اعظم سے ملاقات چاہتے ہیں۔ بریل والوں کے مسائل آج تک حل نہیں ہو سکے، اس کی لکھائی اور پروف ریڈنگ مشکل ہے، ان کے اسٹاف کو پروموشن نہیں دیا جاتا ۔
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم وائس چانسلر ضیاء الدین یونی ورسٹی نے اس موقع پر کہا کہ ٹیکنالوجی کے آگے جانے کا زمانہ ہے۔ یہ وزارتیں پہلے بھی تھیں لیکن عرفان صدیقی کی وجہ سے تمام ادارے فعال ہو گئے اکادمی ادبیا، ڈکشنری بورڈ اور این بی ایف آخری سانسیں لے رہے تھے۔ انھوں نے اقبال اکیڈمی کے مسئلے کو بھی حل کیا، اسے اہمت دی آج وہ اپنے قدموں پر کھڑی ہوگئی۔ ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔ عرفان صدیقی کو اللہ ہمت اور استقامت دے۔ وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ مشیر وزیر اعظم عرفان صدیقی نے کہا تھا کہ مجھے بیوروکریٹ نہیں بلکہ فیسیلیٹ کرنے والا چاہیے۔ 12 محکمے ہمارے پاس ہیں، جس میں ایک این بی ایف ہے۔ ہم بلائنڈ ایسوسی ایشن کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ خصوصی طور پر انعام الحق جاوید اور ان کی کاوشوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اسی طرح کئی مشینیں یہاں لگائی جائیں گی۔
آخر میں مشیر وزیر اعظم ادبی و تاریخی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا کہ شہر کے ادیبوں، دانشوروں نے رونق بخشی اور ہماری عزت افزائی کی۔ پیرزادہ قاسم نے بڑی محبت کے ساتھ کلمات تحسین کہے۔ انھوں نے کہاکہ مزید مشینیں لانے کے لیے ساڑھے تین کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انعام الحق جاوید بڑی کاوش کر رہے ہیں۔ عقیل عباس جعفری ہماری نئی ٹیم کے ممبر ہیں۔ انھوں نے قومی اُردو لغت جو 22 ہزار صفحات پر مشتمل تھی، پوری ڈکشنری نیٹ پر لے آئے ہیں، باضابطہ افتتاح صدر گرامی کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ قائد اعظم اکیڈمی کا حال دیکھ کر افسوس ہوا تھا اب خواجہ رضی حیدر نے اسے سنبھالا ہے۔ بہتری کی طرف آ رہے ہیں۔ کتاب کلچر فروغ ا رہا ہے، 106 نئی کتابیں شایع ہوئی ہیں، جو کروڑوں روپوں میں فروخت ہوئی ہیں۔ اکادمی ادبیات کی شاخوں کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس نئے مالی سال میں اکیڈمی کی پانچ شاخیں قائم ہوں گی۔ یہ شاخیں دادو، مظفر آباد، گلگت اور فاٹا میں قائم کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں 10کروڑ روپے کی منظوری دی ہے ۔جگہ کا انتظار ہے، بہر حال یہ ادارے پھل پھول رہے ہیں، ان کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 50 کروڑ روپے سابق وزیر اعظم نے دیے تھے، جسے ہم نے انویسٹ کر دیا ہے۔ بہر حال جو ہمارے دائرہ کار میں ہے اسے پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں بلائنڈ ایسوسی ایشن کے عامر اشرف کو بلینک چیک دے رہا ہوں وہ اگر وزیر اعظم کے پاس جائیں گے تو بھی انھوں نے مجھے ہی کہنا ہے۔قارئین یہ ایک بھرپور تقریب تھی قبل از عرفان صدیقی نے باقاعدہ افتتاح کیا، نظامت کے فرائض معروف شاعر حنیف عابد نے انجام دیے۔
٭رسا چغتائی کی یاد میں مشاعرہ
گزشتہ دنوں ’’یادگارِ نور احمد میرٹھی‘‘ اور ’’ادارۂ فکرِ نو کراچی‘‘ کے زیرِ اہتمام بر صغیر کے صاحب اُسلوب شاعر جناب رسا چغتائی کی یاد میں مشاعرہ اور مذاکرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت معروف سینئر شاعر جناب رشید اثر نے کی۔ مہمانِ خصوصی کا منصب معروف شاعر و ادیب، اسلامی اسکالر اور قرآن انسائیکلوپیڈیا کے مولف جناب سعید الظفر صدیقی کے سپردہوا، اور مہمانانِ اعزازی کی مسند جناب اکرم کنجاہی اور حامد اسلام صاحب کے حصے میں آئی۔
نظامت جناب رشید خان رشید نے کی۔ دو نشستوں پر مبنی اس تقریب کا پہلا سیشن رسا چغتائی مرحوم پر تعزیتی ریفرنس ، مذاکرہ اور گفتگو تھا۔ مقررین میں جناب پروفیسر شاہدکمال، حامد اسلام اور استاد انصاری نے مرحوم کی یادوں اور باتوں کو شاملِ گفتگو کیا۔
اکرم کنجاہی صاحب جو کہ ایک معروف شاعر ہیں، رسا چغتائی مرحوم پر خصوصی مقررکے طورپر شریکِ محفل تھے۔ اکرم کنجاہی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں برمحل اور فی البدیع گفتگو کی، جس میں رسا چغتائی کی فکر ، انداز اور خیال و بیان کو پیش کیا۔
پروفیسر شاہد کمال درس و تدریس سے وابستہ ہونے کی بنا پرانھوں نے مرحوم کی زندگی کے مختلف گوشوں پر دلچسپ گفتگو کی۔ دیگر مقررین نے بھی مرحوم پر عمدہ اظہارِ خیال کیا ۔
نشست کے دوسرے مرحلے میں مشاعرے کا آغازہوا اور نظامت کار جناب رشید خان رشید نے پانچ اشعار پڑھ کر اور اختصار کی تاکید کرکے شعرائے کرام کو دعوت کلام دی۔ اس تقریب میں مرحوم کی صاحب زادی ، مہک راشد نواسی اور دیگر فیملی کے لوگ شریک تھے۔ مرحوم کی نواسی نے جو کہ نورِ بصارت سے محروم ہے مگر انتہائی خوش گلو،مترنم آواز اور گائیکی کے فن و رموز اور سر تال سے واقفیت رکھنے اور خدا داد صلاحیتو ں کی حامل ہونے کے سبب رسا چغتائی صاحب کی غزل سنا کر سما باندھ دیا۔
محفلِ مشاعرہ میں جن شعرائے کرام نے اپنا کلام نذر سامعین کیا ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں: جناب رشید خان رشید ، یاسرسعید صد یقی ، اسحاق خان اسحاق ، شاہ روم خان ولی , تنویر سخن ، شبیر احرم، محسن سلیم ، کشور عدیل جعفری، سعید احمد خان ،شاہد ا قبال شاہد، سخاوت علی نادر، یوسف چشتی ، ڈاکٹر نثار احمد نثار، محمد علی گوہر ، سلیم فوز ، استاد انور انصاری ، پروفیسر شاہد کمال، فیاض علی فیاض، اقبال خاور، اختر سعیدی ، وسیم ساغر، علی اوسط جعفری ، غلام علی وفا،آصف رضا رضوی ، ظفر محمد خان ظفر ، اکرم کنجاہی، سعید الظفر صدیقی اور رشید اثر۔


متعلقہ خبریں


چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی وجود - بدھ 25 مارچ 2026

تنازعات کو طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے،چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں جنگ کے بجائے مذاکرات پر زور چین نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنگ کے بجائے بات چیت کو فوقیت دی جائے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارت خارجہ...

چین کا ایران کو امریکا سے مذاکرات کا مشورہ،پاکستان نے میزبانی کی پیشکش کردی

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم وجود - بدھ 25 مارچ 2026

  وزیراعظم پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان خطے کے امن و استحکام کے مفاد میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذ...

شہباز شریف کی جنگ کے خاتمے کیلئے جاری مذاکرات کی کاوشوں کا خیر مقدم

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 مارچ 2026

کوئی مذاکرات اور کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، کسی میں ہمت ہے تو جا کر عمران خان سے مذاکرات کرے، آپ پونے تین سال کسی کو جیل میں رکھ کر اب کہیں کہ ڈیل کرنا چاہتا ہوں، علیمہ خانم بانی پی ٹی آئی سے بشریٰ بی بی کی ملاقات،بہنوں اور وکلا کی ملاقات نہ ہوسکی،جیل انتظامیہ سے لیکر باتیں کرن...

جوچاہیں کرلیں ، سر نہیں جھکاؤں گا،عمران خان کا جیل سے پیغام

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا وجود - بدھ 25 مارچ 2026

مغازی پناہ گزیں کیمپ میں باپ کے سامنے بچیکے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزیں کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک فلسطینی شہری ...

اسرائیلی فوج نے فلسطینی 18 ماہ کے بچے کو سگریٹ سے داغ دیا

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان وجود - منگل 24 مارچ 2026

جنگ نے خلیج کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو متاثر کیا، ایندھن کی ممکنہ قلت کا خطرہ جیٹ فیول کی قیمت میں اضافے سے ایٔرلائن ٹکٹوں میں اضافے کا خدشہ ہے ایران پر اسرائیلی و امریکی جنگ کے نتیجے میں دنیا کی 20 بڑی ایٔر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق...

ایران، اسرائیل و امریکا جنگ،دنیا کی 20 بڑی ایئر لائنز کو 53 ارب ڈالرز کا نقصان

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی وجود - پیر 23 مارچ 2026

دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی...

اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ وجود - پیر 23 مارچ 2026

ایران تیل و گیس کی تنصیبات ، پانی صاف کرنیوالے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو نشانہ بنا سکتا ہے،ابرہیم ذوالفقاری ایران نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنیکیلئے اقدامات نہ کیے تو پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،صدر ٹرمپ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر...

بجلی کے نظام پر حملہ ہوا تو تباہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کا ٹرمپ کے بیان پر سخت انتباہ

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم) وجود - پیر 23 مارچ 2026

حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جبکہ عوام پر مہنگائی کے بم برسائے جا رہے ہیں غزہ کے بچے اور مجاہدین ملبے کے ڈھیروں میں عید منارہے ہیںاور ا ن کے حوصلے بلند ہیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت یکم شوال کو مقامی ہال میں روایتی عید ملن کا انعقاد ہوا جس میں مرکزی ،صوبائی اور کراچی کے ذ...

امریکہ، اسرائیل وبھارت کا اتحاد تثلیث خبیثہ ہے (حافظ نعیم)

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ) وجود - پیر 23 مارچ 2026

تیل کی مسلسل فراہمی کیلئے پرعزم ہیں، ہم ٹارگٹڈریلیف کی طرف جائیں گے، محمد اورنگزیب علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات سے توانائی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا خدشہ ہے،میڈیا سے گفتگو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عیدالفطر کے موقع پر اہل وطن کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملک میں استحکا...

حکومت نے پیٹرولیم پر 69 ارب کا بوجھ خود برداشت کیا( وزیر خزانہ)

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند وجود - پیر 23 مارچ 2026

سکیورٹی وجوہات کے باعث بانی پی ٹی آئی نمازعید ادا نہیں کر سکے،جیل ذرائع عید کی نماز کے دوران اپنے سیل میں ہی قیام کیا، بچوں سے ٹیلی فون پربات کی ملک بھر کی طرح اڈیالہ جیل میں بھی عید الفطر کی نماز ادا کی گئی۔جیل ذرائع کے مطابق عام قیدیوں نے عید نماز جیل کی جامع مسجد اور امام...

عمران خان کیلئے عید کے دن بھی جیل کے دروازے بند

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 20 مارچ 2026

پاکستان کیخلاف سرگرم دہشتگردوں اور ان کے نیٹ ورکس کا جہاں وجود ہوگا، انہیں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا، خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے فعال سفارتکاری کر رہا ہے چیف آف ڈیفنس فورس سے اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء کی ملاقات ، گمراہ کن پروپیگنڈا اور فرقہ...

پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا، فیلڈ مارشل

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا وجود - جمعه 20 مارچ 2026

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے با...

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

مضامین
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن وجود بدھ 25 مارچ 2026
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا آپریشن

ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری وجود بدھ 25 مارچ 2026
ایرانی صدر کے بیٹے کی ڈائری

کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے! وجود بدھ 25 مارچ 2026
کیا امریکہ اور اسرائیل ایران کی شرائط مان لیں گے!

مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری وجود منگل 24 مارچ 2026
مظلوم کی للکاراور مسلم اُمہ کی ذمہ داری

یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم وجود منگل 24 مارچ 2026
یوم پاکستان، مقبوضہ وادی میں سبز ہلالی پرچم

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر