وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مسلمانوں کے باہمی حقوق کی اہمیت اور اُن کا فروغ

جمعه 02 فروری 2018 مسلمانوں کے باہمی حقوق کی اہمیت اور اُن کا فروغ

اسلام نے ویسے تو مسلمانوں کی باہمی معاشرتی و اجتماعی زندگی میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر بے شمار حقوق و فرائض مقرر کیے ہیں ، لیکن پانچ حقوق ان میں انتہائی قابل توجہ اور بڑی اہمیت کے حامل ہیں ، ہمارا آج کا موضوع انہیں پانچ حقوق کو اجاگر کرنا ہے۔چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے، رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ : ’ ’(ایک) مسلمان کے (دوسرے) مسلمان پر پانچ حق ہیں: (۱)سلام کا جواب دینا (۲)مریض کی عیادت کرنا (۳)جنازہ کے ساتھ جانا (۴) دعوت کا قبول کرنا (۵) چھینک کا جواب دینا۔‘‘اِس اجمال کی تفصیل ذیل میں لف و نشر مرتب کے طریقہ پر بیان کی جاتی ہے:
سلام کا جواب دینا:قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ’’ترجمہ:جب تمہیں کوئی شخص سلام کرے، تو تم اُسے اِس سے بھی بہتر طریقے پر سلام کرو یا (کم از کم) اُنہی الفاظ میں اُس (کے سلام) کا جواب دے دو۔ (النساء:۴ /۸۶) جس کامطلب یہ ہے کہ ویسے پسندیدہ بات تو یہ ہے کہ جن الفاظ میں کسی شخص نے سلام کیاہے اس سے بہتر الفاظ میں اس کا جواب دیا جائے ، مثلاً اگر اُس نے صرف ’’السلام علیکم‘‘کہا ہے تو اُس کے جواب میں ’’وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ‘‘ کہا جائے، اور اگر اُس نے ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ کہا ہے تو اُس کے جواب میں ’’وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ کہا جائے ، لیکن اگر بعینہٖ اُسی کے الفاظ میں جواب دے دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، البتہ کسی مسلمان کے سلام کا بالکل جواب نہ دینا گناہ ہے۔
حضرت انسص فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) نبی اکرم انے حضرت سعد بن عبادہ صسے اندر آنے کی اجازت لینے کے لیے فرمایا : ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ جواب میں حضرت سعدص نے آہستہ سے کہا ’’وعلیک السلام ورحمۃ اللہ‘‘ اور اِتنا آہستہ جواب دیا کہ حضور اسن نہ سکیں ، تین دفعہ ایسا ہی ہو،ا حضور اسلام فرماتے اور حضرت سعد صچپکے سے جواب دیتے ، اِس پر حضورا واپس جانے لگے، تو حضرت سعدص حضور اکے پیچھے گئے اور عرض کیا: ’’ یارسول اللہا! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! آپ کا ہر سلام میرے کانوں تک پہنچا، اور میں نے آپ کے ہر سلام کا جواب دیا ، لیکن قصداً آہستہ سے دیا، تاکہ آپ سن نہ سکیں ، میں نے چاہا کہ آپ کے سلام کی برکت زیادہ سے زیادہ حاصل کرلوں، پھر وہ حضور اکو اپنے گھر لے گئے، اور آپ کے سامنے تیل پیش کیا، حضورا نے وہ تیل نوش فرمایا اور نوش فرمانے کے بعد یہ دُعاء دی: ’’ترجمہ: تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں، اور تم پر ملائکہ رحمت بھیجیں، اور تمہارے یہاں روزہ دار افطار کریں۔‘‘
مریض کی عیادت کرنا:دوسرا حق مسلمان کا یہ ہے کہ اگر وہ بیمار ہوجائے تو اُس کی بیمار پرسی کی جائے، مریض کی عیادت اور اُس کی بیمار پرسی کرنے کا مقصد یہ ہے ، تاکہ اُس کے حق میں دُعاء ہوجائے، اُس کی حوصلہ افزائی ہوجائے ،وہ خوش ہوجائے اور اِس سے اُس کا مرض خفیف اور ہلکا ہوجائے۔
چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ ص فرماتے ہیں کہ: ’’ میں ایک مرتبہ بیمار ہوگیا، توحضورا اور حضرت ابوبکر صدیق صپیدل چل کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے، میں اُس وقت بے ہوش تھا، حضور انے وضو فرمایا، اور اپنے وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، جس سے مجھے افاقہ ہوگیا، میں ہوش میں آیا تو دیکھا کہ حضور اتشریف فرماہیں ۔‘‘
حضرت ابن عباس صفرماتے ہیں کہ: ’’ حضورا ایک بیمار دیہاتی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور آپؐ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب کسی بیمار کے پاس عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو (اُس کو یوں دُعاء دیتے ) کوئی ڈر کی بات نہیں، ان شاء اللہ! یہ بیماری (گناہوں سے )پاکی کا ذریعہ ہے۔‘‘
حضرت سلمان فارسی ص فرماتے ہیں : ’’کہ ایک مرتبہ حضور میری عیادت کرنے تشریف لائے ، جب آپؐ باہر جانے لگے تو فرمایا: ’’اے سلمان (ص)! اللہ تعالیٰ تمہاری بیماری کو دُور کرے اور تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے اور تمہیں دین میں اور جسم میں مرتے دم تک عافیت نصیب فرمائے۔‘‘
جنازے کے پیچھے چلنا:تیسرا حق مسلمان کا یہ ہے کہ جب وہ مرجائے تو اُس کے جنازے کے پیچھے جائے،جس طرح زندگی میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان کے ذمہ کچھ حقوق اداء کرنا ضروری ہوتے ہیں اسی طرح اُس کے مرجانے کے بعد بھی مسلمانوں پر اُس کا یہ حق ضروری اور فرضِ کفایہ ہوتا ہے کہ اُس کے جنازے کے پیچھے چل کر اُس کی نمازجنازہ ادا کی جائے۔
چنانچہ حضرت براء بن عازب صسے روایت ہے کہ: ’’ ہمیں رسول اللہ ا نے سات چیزوں کا حکم فرمایا: ’’(۱) جنازے کے پیچھے چلنے کا (۲)مریض کی عیادت کرنے کا (۳)دعوت قبول کرنے کا (۴)مظلوم کی مدد کرنے کا (۵)قسم پوری کرنے کا (۶) سلام کا جواب دینے کا(۷) چھینکنے والے کے جواب میں ’’یرحمک اللہ‘‘ کہنے کا۔
دعوت کا قبول کرنا:چوتھا حق مسلمان کا اُس کی دعوت قبول کرنا ہے، اِس کا مقصد بھی مسلمان کی دل داری اور اُس کی حوصلہ افزائی ہے۔ چنانچہ حضرت زیاد بن انعم الافریقی ؒ کہتے ہیں کہ : ’’ہم لوگ حضرت معاویہ ص کے زمانۂ خلافت میں ایک غزوہ میں سمندر کا سفر کر رہے تھے کہ ہماری کشتی حضرت ابو ایوب انصاری ص کی کشتی سے جا ملی، جب ہمارا دوپہر کا کھانا آگیا تو ہم نے اُنہیں (بھی کھانے کے لیے) بلابھیجا، اِس پر حضرت ابو ایوب انصاری صہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم نے مجھے بلایا ہے، لیکن میں روزہ سے ہوں،لیکن پھر بھی میں تمہاری دعوت ضرور قبول کروں گا، کیوں کہ میں نے حضور اقدس ا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ’’ مسلمان کے اپنے بھائی پر چھ حق واجب ہیں ، اگر اُن میں سے ایک بھی کام چھوڑے گا تو وہ اپنے بھائی کا حق واجب چھوڑنے والا ہو گا…(اُن میں سے ایک ہے کہ) جب وہ اُسے کھانے کی دعوت دے تو وہ ضرور اُسے قبول کرے… الخ۔‘‘
حضرت مغیرہ بن شعبہ صنے اپنی شادی موقع پر حضرت عثمان ص کو ولیمہ کی دعوت دی، اُس وقت حضرت عثمان امیر المؤمنین تھے، جب حضرت عثمان صولیمہ کھانے کے لیے تشریف لائے تو فرمایا کہ: ’’ میرا تو روزہ تھا، لیکن میں نے چاہا کہ آپ کی دعوت قبول کرلوں، اور آپ کے لیے برکت کی دُعاء کردوں(یعنی آنا ضروری ہے کھانا ضروری نہیں)۔‘‘
چھینک کا جواب دینا:پانچواں اور آخری حق مسلمان کا یہ ہے کہ جب اُسے چھینک آئے اور وہ اِس پر ’’الحمد للہ‘‘ کہے تو اُس کے جواب میں ’’یرحمک اللہ‘‘ کہنا چاہیے یہ واجب ہے۔ اِس سے ایک تو اُس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے رحمت کا سوال کیا جاتا ہے اور دوسرے اِس سے باہمی اُلفت و محبت اور بھائی چارگی کی بنیاد پڑتی ہے، اور اسلامی تعلیمات کا معاشرے میں فروغ ہوتا ہے ۔
چنانچہ حضرت ابو ہریرہ صسے روایت ہے کہ رسول اللہا کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی ، اُن میں سے ایک دوسرے سے (دُنیاوی لحاظ سے) زیادہ مرتبہ والا تھا ، بلند مرتبہ والے کو چھینک آئی اُس نے ’’الحمد للہ‘‘ نہیں کہا، حضور انے اُسے چھینک کا جواب نہ دیا، پھر دوسرے کو چھینک آئی اُس نے ’’الحمد للہ‘‘ کہا تو حضورا نے اُس کی چھینک کا جواب دیا، اِس پر اُس بلند درجہ والے نے کہاکہ : ’’مجھے آپؐ کے پاس چھینک آئی، لیکن آپ ؐنے میری چھینک کا جواب نہ دیا، اور اِسے چھینک آئی ، تو اِس کی چھینک کا جواب آپؐ نے دیا۔‘‘حضورا نے فرمایا: ’’اُس نے چھینکنے کے بعد اللہ کا نام لیا تھا، اِس لیے میں نے اللہ کا نام لے دیا، اور تم اللہ کو بھول گئے، تو میں نے بھی تمہیں بھلا دیا۔‘‘
حضرت ابو بردہص فرماتے ہیں کہ: ’’ میں حضرت ابو موسیٰ صکے پاس گیا ، وہ اُس وقت حضرت ام فضل بنت عباسص کے پاس اُن کے گھر میں تھے، مجھے چھینک آئی تو اُنہوں نے میری چھینک کا جواب نہ دیا، اور حضرت ام فضل ؓکو چھینک آئی تو حضرت ابو موسیٰ صنے اُن کی چھینک کا جواب دیا، میں نے جاکر اپنی والدہ کو ساری بات بتائی، جب حضرت ابو موسیٰ صمیری والدہ کے پاس آئے تو میری والدہ نے اُن کی خوب خبر لی، اور فرمایا کہ: ’’ میرے بیٹے کو چھینک آئی تو آپ نے اِس کا کوئی جواب نہ دیا، اور حضرت ام فضلؓ کو چھینک آئی تو آپ نے اُسے جواب دیا، تو حضرت ابو موسیٰ صنے میری والدہ سے کہا کہ: ’’میں نے حضور اقدس ا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ’’ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ ’’الحمد للہ‘‘ کہے، تو تم اُس کی چھینک کا جواب دو، اور اگر وہ ’’الحمد للہ‘‘ نہ کہے تو تم اُس کی چھینک کا جواب مت دو، اور تیرے بیٹے کو چھینک آئی اور اُس نے ’’الحمد للہ‘‘ نہیں کہا، اِس لیے میں نے اُس کی چھینک کا جواب نہیں دیا، اور حضرت ام فضلؓ کو چھینک آئی ،اور اُنہوں نے ’’الحمد للہ‘‘ کہا ، تو میں نے اُن کی چھینک کا جواب دیا۔‘‘ اِس پر میری والدہ نے کہا کہ: ’’تم نے اچھا کیا۔‘‘
مسلمانوں کے باہم ایک دوسرے کے ذمہ اِن حقوق و فرائض کی ادائیگی کا مقصد اور مطلب یہ ہے تاکہ مسلمان اپنی معاشرتی و اجتماعی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ خوب گھل مل کر رہیں، ہر مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی خوشی کو اپنی خوشی اور اُس کے دُکھ کو اپنا دُکھ سمجھے ، اور تمام مسلمان باہم شیر و شکر ہوکر اپنی زندگی گزاریں۔


متعلقہ خبریں


دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہزار سے تجاوز وجود - هفته 04 اپریل 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 59 ہزار 172 ہوگئی، 10 لاکھ 98 ہزار 762افراد عالمی وبا کا شکار ہوگئے ، چین میں کورونا سے ہلاک افراد کی یاد میں ایک دن کا سوگ منایا گیا ۔اٹلی میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 14 ہزار 681 ہوگئی۔ ایک لاکھ 19 ہزار 827افراد عالمی وبا کی لپیٹ میں ہیں۔ سپین میں کورونا سے 11 ہزار 198 افراد موت کے منہ میں چلے گئے ۔ فرانس میں اب تک 6 ہزار 507 افراد کورونا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔برطانیہ میں 3 ہزار 605 افراد جان سے گئے ۔ جرمنی میں 1275، چین م...

دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہزار سے تجاوز

کورونا کے بعد آنے والی وبائیں زیادہ ہلاکت خیز ہوسکتی ہیں،بل گیٹس وجود - هفته 04 اپریل 2020

مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کے بعد آنے والی وبائیں کہیں زیادہ ہلاکت خیز ہوسکتی ہے ۔ انہوں بیان میں نے کہا کہ کورونا قدرتی وبا ہے اور خوش قسمتی سے اموات کی شرح بھی کم ہے ۔ ا نہوں نے کہا کہ اگلی وبائیں قدرت کے ساتھ حیاتیاتی دہشت گردی سے بھی آسکتی ہیں۔خیال رہے کہ بل گیٹس نے 2015 میں بھی ایک عالمی وبا کے متعلق پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا دنیا اگلی وبا کیلئے تیار نہیں۔بل گیٹس نے پانچ سال قبل کہا تھا کہ وبا پوری دنیا پھیل سکتی ہے کیوں کہ تمام ممالک آپس می...

کورونا کے بعد آنے والی وبائیں زیادہ ہلاکت خیز ہوسکتی ہیں،بل گیٹس

اسیران کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر ڈیل کرنا چاہتے ہیں ،حماس وجود - هفته 04 اپریل 2020

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس)کے ترجمان فوزی برھوم نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جماعت کے سیاسی شعبے کے سربراہ یحییٰ السنوار نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کے لیے جو فارمولہ پیش کیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حماس اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کے لیے سنجیدہ ہے ۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ حماس اسیران کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر ڈیل کرنا چاہتی ہے ۔ یحییٰ السنوار کا فارمولہ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔خیال رہے کہ گذشتہ روز غزہ میں حماس کے سیاسی شعبے کے صدر یحی...

اسیران کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر ڈیل کرنا چاہتے ہیں ،حماس

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی بھارتی سازش، پاکستان کی شدید مذمت وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

ترجمان دفتر خاجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی حکومت کی تازہ ترین غیرقانونی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں مسترد کرتا ہے ۔ جموں وکشمیر تشکیل نو آرڈر2020ایک اور غیرقانونی بھارتی اقدام ہے جس کا مقصد بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر کے ڈومیسائل قوانین کو تبدیل کرنا ہے ۔ یہ بین الاقوامی قانون اور چوتھے جینیوا کنونشن کی صریحا خلاف ورزی ہے ۔ انہوںنے جاری بیان میں کہا کہ تازہ ترین بھارتی قدام بھی 5 اگست 2019کے بھارت کے ...

مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی بھارتی سازش، پاکستان کی شدید مذمت

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئوپر تشویش ہے ، ڈبلیوایچ او وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

صحت سے متعلق اقوام متحدہ کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھانوم نے کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئو پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کورونا سے نمٹنے کیلئے سب کو ملکر کوشش کرنا ہوگی۔ڈبلیو ایچ او کے ڈی جی تیدروس ادھا نوم نے جنیوا میں پریس بریفنگ کے دوران کہاکہ پچھلے ہفتے کورونا کے پھیلا میں تیزی دیکھی گئی جو ایک تشویشناک صورتحال ہے ۔اس مہلک وبا کو فوری طور پر سب کو مل کر روکنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر بڑا جانی نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مہلک وبا کے باعث ایک ہ...

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا ئوپر تشویش ہے ، ڈبلیوایچ او

کورونا وائرس، چین سے امدادی سامان لے کر طیارہ پاکستان پہنچ گیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2020

کا خصوصی طیارہ چین سے امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچ گیا۔پی آئی اے کی پرواز پی کے 8552 چین سے کورونا وائرس سے متعلق امدادی سامان لے کر اسلام آباد پہنچا۔ جہاز میں 20 کنٹینرز پر مشتمل امدادی سامان لایا گیا جس میں ٹیسٹنگ کٹس، گلوز اور ماسک شامل ہیں۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق کسٹمز کلیئرنس کے بعد سامان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے )حکام کے حوالے کر دیا گیا۔واضح رہے کہ پی آئی اے کا خصوصی طیارہ گذشتہ روز امدادی سامان لینے چین گیا تھا۔

کورونا وائرس، چین سے امدادی سامان لے کر طیارہ پاکستان پہنچ گیا

مقبوضہ جموں و کشمیر،سابق وزرا ئے اعلیٰ کی مراعات ختم وجود - بدھ 01 اپریل 2020

مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزرا اعلی کو حاصل خصوصی مراعات والے قانون کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 کے تحت اختیارات کے ذریعے منسوخ کر دیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مرکزی حکومت نے سٹیٹ لیجسلیٹر ممبرز پنشن ایکٹ 1984 کے سیکشن 3 کو منسوخ کر دیا ہے جس سے اب سابق وزرا اعلی کو ملنے والی مراعات حاصل نہیں ہوں گی۔اس سیکشن کے تحت سابق وزرا اعلی کو بغیر کرایہ سرکاری رہائش گاہ، مفت ٹیلیفون سروس، مفت بجلی، گاڑی، پٹرول اور طبی سہولیات ملتی تھیں۔ اس کے علاوہ ان کو سرکار...

مقبوضہ جموں و کشمیر،سابق وزرا ئے اعلیٰ کی مراعات ختم

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی وجود - بدھ 01 اپریل 2020

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی ،کورونا وائرس نے جہاں دنیا کے جدید ترین ممالک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے وہیں سپرپاور امریکا کی فوج بھی اس وائرس کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ۔کورونا وائرس کے باعث اب تک دنیا میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد کیسز امریکا سے سامنے آ چکے ہیں جب کہ امریکا میں اموات بھی چین اور اسپین سے زیادہ ہو گئی ہیں جہاں اب تک 4 ہزار سے زائد لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں وبا سے دو لاکھ...

طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے پر کورونا کی وبا تیزی سے پھیلنے لگی

امریکا میں کورونا سے دو پاکستانی جاں بحق وجود - بدھ 01 اپریل 2020

امریکی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس میں مبتلا دو پاکستانی جان کی بازی ہار گئے ۔ یک میڈیا رپورٹ کے مطابق انتقال ہونے والے سید عطاالرحمان کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے تھے جن کا تعلق کراچی سے تھا۔ان کے علاوہ کورونا سے جنگ لڑتے ہوئے پاکستانی امریکن روحیل خان بھی نیویارک میں دم توڑ گئے ۔ ریاست ٹیکساس میں بھی ایک پاکستانی ڈاکٹر اور تعمیراتی شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص میں بھی کورونا کی علامات پائی گئی ہیں اور دونوں کا تعلق بھی کراچی سے ہے ۔واضح رہے کہ امریکی ریاست نیو یارک کورونا...

امریکا میں کورونا سے دو پاکستانی جاں بحق

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا وجود - بدھ 01 اپریل 2020

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں جہاں طبی آلات کی قلت پیدا ہوگئی ہے ، وہیں طبی عملہ بھی کم پڑ گیا ہے جب کہ ہسپتالوں سمیت کئی دیگر جگہوں کو عارضی آئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ میں تبدیل کردیا گیا ہے لیکن اس باوجود کئی ممالک میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے ۔عام ہسپتالوں میں قرنطینہ سینٹرز بنانے اور وہاں پر دیگر مریضوں کے علاوہ زیادہ تر کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے سمیت دنیا بھر میں دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض پریشانیوں کا شکار ہیں، یہاں تک کہ امریکا اور برطانیہ جیسے مما...

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا

کورونا وائرس 202 ممالک تک پھیل گیا ،ہلاکتیں 42 ہزار سے تجاوز وجود - بدھ 01 اپریل 2020

کورونا وائرس نے 202ممالک میں پنجے گاڑ لئے ، دنیا بھر میں مرنے والوں کی تعداد 42 ہزار 156 ہو گئی ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کی مہلک وبا نے 202ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، اٹلی میں صورتحال سب سے خوفناک ہے جہاں 12448 افراد ہلاک اور 1 لاکھ 5 ہزار 7 سو92 افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔اسپین میں کورونا سے 8 ہزار چار سو چونسٹھ افراد ہلاک ہو گئے ۔ چین میں کرونا سے مرنے والوں کی تعداد 3 ہزار تین سو پانچ ہے ۔ جرمنی میں کورونا سے سات سو پچھتر افراد ہلاک، فرانس میں...

کورونا وائرس 202 ممالک تک پھیل گیا ،ہلاکتیں 42 ہزار سے تجاوز

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دیدیا وجود - بدھ 01 اپریل 2020

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس کو جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دے دیا۔ترجمان اقوام متحدہ نے کہا کہ کورونا وائرس سے دنیا کے ہر ملک کو عدم استحکام، بدامنی اور تنازعات کھڑے ہونے کا خطرہ ہے ۔انہوں نے بتایا کہ کورونا کے ثرات سے دنیا میں ڈھائی کروڑ افراد بیروزگار ہو جائیں گے ۔ا نہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک غریب ملکوں کی مدد کریں ورنہ وبا جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کا خدشہ ہے۔

اقوام متحدہ نے کورونا وائرس جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دیدیا